کینیڈا: دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا


Farrukh saleem Canada

کینیڈا آنے کے بعد اکثر عمر رسیدہ لوگوں (جنہیں پیار سے سینئر سیٹیزنز کہتے ہیں ) کے میگزین اور رسائل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ تصویروں میں دیکھا کہ بوڑھے لوگ آرام دہ سینئرز ہوم میں مقیم ہیں، ٹی وی دیکھ رہے ہیں، چہل قدمی کے لئے جا رہے ہیں، علاج معالجے کی سہولت موجود ہے، بچوں کی کوئی محتاجی نہیں ہے۔ بڑھاپا، بڑھاپا نہیں بلکہ کوئی لطف اندوز ہونے کی چیز ہے۔ میرا خیال تھا کہ اگر زندگی رہی اور ہم یہاں رہے تو ہمارا بڑھاپا بھی شاندار ہو گا۔ حکومت کینیڈا نے یقیناً کچھ ایسا انتظام کر رکھا ہو گا کہ ادھر آپ سینئر سٹیزنز کی صف میں آئے اور ادھر تمام آسائشیں میسر۔ کیوں نہ ہو آخر کینیڈا ایک فلاحی مملکت ہے۔ جی 8 کلب کا ممبر ہے، اور فلاحی کاموں کی وجہ سے دنیا میں بڑا نام ہے۔

یہ خوش فہمیاں ابھی شاید کچھ دن اور چلتیں کہ ایک دن مجھے سرکار کی طرف سے ایک خط موصول ہوا۔ اس خط میں کینیڈا پنشن پلان سے متعلق کچھ عام معلومات اور میری ذاتی پنشن سے متعلق تفصیلات تھیں۔ مثلاً یہ کہ میری آمدنی میں سے کینیڈا پنشن پلان کے تحت کتنی رقم کاٹی گئی ہے؟ اور میں ریٹائرمنٹ کے بعد کتنی پنشن کا حقدار ہوں گا؟ ان کے حساب کے مطابق اگر میں اسی طرح کام کرتا رہا اور میری آمدنی کا یہی اوسط رہا تو ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ لینے کی صورت میں مجھے 70 ڈالر ماہانہ کی (خطیر) پنشن ملے گی اور اگر میں 65 سال کی عمر میں ریٹائر ہوتا ہوں تو 110 ڈالر ماہانہ کے حساب سے پنشن ملے گی۔

میں نے اس کاغذ کو ایک دو دفعہ غور سے پڑھا۔ میرا خیال تھا کہ سرکار کے حساب کتاب میں کچھ غلطی ہے۔ بھلا اتنی معمولی رقم میں کیسے گزارا ہو سکتا ہے؟ پھر میں نے سوچا کہ پنشن کی رقم تو شاید اتنی ہی ہو لیکن ہو سکتا ہے سرکار نے کچھ دوسرے کھاتے کھول رکھے ہوں جہاں سے سینئرز کو کم ازکم ڈیڑھ دو ہزار ماہانہ ملتا ہو۔ میں نے اپنے آپ کو دلاسا دے تو دیا لیکن سچی بات یہ تھی کہ میرے دل میں خلش سی پیدا ہو گئی کہ اگر کوئی ایسا کھاتہ نہ ہوا تو ریٹائرمنٹ کے بعد کیا ہو گا؟ یہاں تو مکان کا کرایہ /مورگیج اور گاڑی کا انشورنس ہی زندگی بھر چلتا رہتا ہے۔ دیکھا جائے تو اب ہم ویسے بھی ساری کشتیاں جلا چکے ہیں۔

خیر امیدو بیم کی کیفیت کے ساتھ معلومات جمع کرنی شروع کیں۔ سرکار کی ویب سائٹ دیکھیں، ان اداروں سے رابطہ کیا جو سینئرز کے لئے کام کرتی ہیں، لوگوں سے بات کی، لائبریری سے اس موضوع پر فلائر اور کتابچے دیکھے، میگزین دیکھے۔ لیکن جوں جوں میری معلومات بڑھ رہی تھیں، میرے خوابوں کے محل زمیں بوس ہوتے چلے گئے۔

ایک دن میں دفتر میں اپنے کام میں مشغول تھا۔ میڈم (میری باس) میرے پاس سے گزرتے ہوئے رکیں اور کہنے لگیں

”ہم لوگ تین چار دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر معمر شہریوں کا ایک منصوبہ شروع کر رہے ہیں۔ اس منصوبہ کی ویب سائٹ تو بہرحال آپ ہی بنائیں گے، لیکن اگر آپ اس کام میں ادارے کی نمائندگی بھی کر لیں تو الگ سے کسی منتظم کو رکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی، ویسے بھی اس پر منصوبہ میں اتنے پیسے ہیں بھی نہیں“

”مجھے کوئی اعتراض نہیں، بلکہ مجھے خوشی ہو گی“
انہوں نے اطمینان کی سانس لی۔ ”ٹھیک ہے میں آپ کا نام شامل کر دیتی ہوں“

خود میرے پاس اپنا کام بہت تھا لیکن میرے فوری طور پر ہاں کرنے کی دو وجوہات تھیں۔ پہلی وجہ تو یہی تھی کہ مجھے اب صحیح طور سے پتہ چل سکے گا کہ معمر امیگرنٹ کا کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور میں خود سینئر ہو کر کہاں کھڑا ہوا ہوں گا؟ میرے حساب سے میری پیشہ ورانہ انجینئر کی شخصیت پر ایک سماجی کارکن کا رنگ غالب آ رہا تھا۔

آج معمر شہریوں کے پروجیکٹ کی پہلی میٹنگ تھی۔ میزبان ادارے کے نمائندے کی حیثیت سے میٹنگ کا سارا انتظام بھی میرے ذمے تھا۔ اس میٹنگ میں ساؤتھ ایشین کمیونٹی کے علاوہ، چائینیز، سپینش، کینیڈین افریقن اور دیگر کمیونٹی کے نمائندے شرکت کر رہے تھے۔ ان سب کا مشترکہ مسئلہ سینئرز (بزرگ) کی پنشن اور اس سے جڑے ہوئے مسائل تھے۔

معمر شہریوں کی اصطلاح کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے، جن کی عمر 55 سے 65 سال کے درمیان یا اس سے زیادہ ہو۔ صرف صوبہ انٹاریو میں اس وقت 15 لاکھ سے زیادہ ایسے لوگ آباد ہیں جو کینیڈا کی سینئرز کی تعداد کا 40 فیصد ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2028 تک معمر افراد کی تعداد دوگنی ہو جائے گی۔

موجودہ پالیسی کے مطابق وہ تمام بزرگ حضرات جن کو ان کے بچوں نے امیگریشن پر بلایا ہے صرف اس وقت پنشن کی درخواست دینے کے اہل قرار پاتے ہیں، جب ان کا کینیڈا میں قیام دس سال اور عمر 65 سال ہو جائے۔ اگر یہ دو شرائط پوری نہیں ہوتیں تو چاہے وہ کینیڈا کے شہری ہی کیوں نہ ہو جائیں پنشن کے حقدار نہیں ہوتے۔

بیشتر امیگرنٹ بزرگ تو اس معیار پر ہی پورے نہیں اترتے، اس لئے وہ ان مراعات سے قطعی محروم رہتے ہیں۔ اس عمر میں نوکری تو ویسے بھی نہیں ملتی، اس لئے ان کے پاس سوائے سرکاری ویلفیئر پر جانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

لوگوں کو توقع نہیں کرنی چاہیے کہ ان کو آتے ہی کینیڈا پنشن ملنی شروع جائے گی۔ بہت مناسب۔ اگر قانون سب کے لئے یکساں ہوں تو شاید ہم خود کو تسلی دے لیں لیکن عملی طور پر ایسا ہے نہیں۔ مثال کے طور پر ایک شخص فرانس یا جرمنی جیسے ملک سے 64 سال کی عمر میں کینیڈا آیا، کینیڈا کی شہریت بھی نہیں ملی ہے، فقط ایک سال بعد پنشن کا حقدار ہو جاتا ہے۔ جب کہ ہم میں سے کافی لوگوں کو کینیڈا آئے ہوئے سات آٹھ سال ہو گئے ہیں، محنت کی، سرکار کو ٹیکس دیا سیٹیزن شپ لئے ہوئے بھی مدتیں ہو گئی ہیں لیکن ابھی تک پنشن سے محروم ہیں۔ انہیں پنشن لینے کے لئے 10 سال کا عرصہ پورا کرنا ہو گا۔

اس کی قانونی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کینیڈا نے 46 ممالک سے سوشل سکیورٹی کے دوطرفہ معاہدے کر رکھے جن کی وجہ سے ان ممالک سے آنے والے امیگرنٹ کا ان کے اپنے ملک میں کام کرنے کا زمانہ بھی کینیڈا میں کام کرنے کے برابر سمجھا جاتا ہے اور اس طرح وہ آنے کے فوراً بعد اگر 65 سال کے ہیں تو پنشن کے حقدار ہو جاتے ہیں۔ ان 46 ممالک میں زیادہ تر یورپ اور لاطینی امریکہ کے ممالک شامل ہیں، ایشیاء سے فقط فلپائن، انڈیا اور کوریا شامل ہیں۔

معمر لوگوں کی میٹنگ کے شرکاء یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ قوانین میں اس طرح کی دیگر رکاوٹیں بھی موجود ہیں، جس کی وجہ سے کافی سینئرز پنشن اور دیگر مراعات سے محروم ہو جاتے ہیں، ان قوانین کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو یکساں مراعات اور سہولتیں مل سکیں۔

میٹنگ کے شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ یہاں سڑکوں پر بینر لے کر کھڑے ہونے، شور شرابا کرنے، اخباری بیانات دینے، متعلقہ وزیر سے ایک آدھ دفعہ ملاقات کرنے اور وزیر کے بیان دینے سے مسئلہ کا حل نہیں نکلتا۔ یہاں پر ہر مسئلہ کے لئے

اگلی چند میٹنگ کے بعد یہ طے ہوا کہ موجودہ قانون میں ترمیم کے لئے کم ازکم دس ہزار عرضداشت (پیٹیشن) اکٹھی کی جائیں اور کسی ممبر پارلیمنٹ کے توسط سے اسے اسمبلی میں نجی بل کی شکل میں پیش کیا جائے۔ اس طرح موجودہ قوانین

قانون سازی ہوتی ہے۔ ہمیں اس قانون کو بدلوانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

سب سے پہلے مل جل کر عرضداشت کا مضمون تیار کیا گیا، تمام شرکاء سے اس کی منظوری لی گئی اور یہ بھی طے ہوا کہ مختلف کمیونٹی کے نمائندے اسے اپنی زبان میں ترجمہ کر کے اپنی کمیونٹی تک پہنچائیں گے اور عرضداشتپر لوگوں کے دستخط حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہماری عرضداشت بہت سادہ تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ سینئرز کو ملنے اولڈ ایج سیکورٹی کی اہلیت کے معیار کو دس سال سے کم کر کے تین سال کر دیا جائے۔

دس ہزار عرضداشت جمع کرنا آسان کام نہیں تھا لیکن بہرحال اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ضروری تھا۔ میری ذمہ داری تھی کہ میں تمام نمائندوں سے رابطہ رکھوں اور ان کے درمیان ایک پل کا کردار انجام دوں اور دس ہزار عرضداشت جمع کرنے میں جو بھی رکاوٹیں ہیں ان کو دور کرنے میں مدد دوں۔

میرے لئے اب یہ ادارہ کا پروجیکٹ ہی نہیں، ذاتی طور پر معاشرہ کی اہم ذمہ داری تھی جو مجھے احسن طریقے سے پوری کرنی تھی۔ مجھے اس بات سے بڑی تقویت ملتی تھی جب دوسری کمیونٹی کے بوڑھے بوڑھے لوگ ملتے تھے اور بتاتے تھے کہ وہ کس طرح لوگوں سے مل کر عرضداشت جمع کر رہے ہیں۔ اس عرضداشت کے ساتھ ان لوگوں کے خواب اور تمنائیں جڑی ہوئیں تھیں۔ کسی کا خیال تھا کہ پنشن شروع ہوتے ہی وہ اپنے پوتے پوتیوں کا جیب خرچ باندھ دے گا، ان کو اپنے ساتھ آئس کریم کھلانے لے جائے گا۔

اس وقت تو اپنے خرچے کے لئے اولاد کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ ایک عمر رسیدہ جوڑے کا ارادہ تھا کہ وہ پیسے ہاتھ میں آتے ہی اپنے وطن کا چکر لگائے گا۔ ان لوگوں کو یہاں آئے ہوئے چھ سال سے زیادہ ہو گئے ہیں، وہاں پورا خاندان ہے، گزشتہ سالوں میں کئی اموات ہو چکی ہیں لیکن جہاز کے ٹکٹ کے لئے پیسے کہاں سے لائیں، بیٹے سے کیسے کہیں اس نے انہیں یہاں بلایا ہے، سارا خرچہ اٹھا رہا ہے، اس کا ہاتھ بھی تنگ ہے۔

ہر ایک کی اپنی الگ کہانی تھی۔ میں بھی آہستہ آہستہ ان کی کہانیوں میں کس طرح غیر محسوس طور پر شامل ہوتا چلا گیا، مجھے اس کا احساس بہت بعد میں ہوا۔

لوگوں کے جوش و خروش کے سہارے پہلی تین ہزار عرضداشت تو دو تین ہفتوں میں جمع ہو گئیں لیکن اس کے بعد گاڑی رکنے لگی۔ ہم نے مختلف زبانوں میں نکلنے وائے مقامی اخباروں میں اپیلیں شائع کیں، چھوٹے چھوٹے مضامین شائع کیے انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کی امیگرنٹ سینئرز کو اولڈ ایج سکیورٹی ملنے سے ان کو کچھ معاشی آزادی حاصل ہو جائے گی۔ ان کی سماجی تنہائی دور کرنے میں میں مدد ہو گی کیونکہ وہ بس ٹکٹ خرید سکیں گے اور اپنے دوستوں سے ملنے جا سکیں گے، سماجی تقریبات میں حصہ لے سکیں گے۔ اگر کوئی بالغ اولاد یہ سمجھتی ہے کہ اس کے والدین کا ساتھ رہنا مشکل ہو سکتا ہے، تو وہ اولڈ ایج سکیورٹی کی وجہ سے یا تو بڑی رہائشی جگہ لینے میں مدد دے سکتے ہیں یا والدین خود ایک علیحدہ رہائش کرایہ پر لے سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس تمام تگ و دو کے بعد بھی ہم لوگ بمشکل دو ہزار عرضداشتوں کا اضافہ کرسکے۔

میں نے ایک جدول (ورک شیٹ) بنالی تھی۔ جب لوگ ای میل، فون یا فیکس سے مجھے بتاتے تھے کہ انہوں نے مزید کتنی عرض داشت جمع کی ہیں تو میں اسے اپنے جدول میں درج کر لیتا تھا۔

ابھی تک ہماری ساری کاوشیں ٹورانٹو اور ملحقہ شہروں تک محدود تھیں لیکن جب ایک دن کسی نے یہ کہا کہ بھئی یہ اولڈ ایج سکیورٹی تو مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لئے یہ صرف صوبہ انٹاریو تک محدود نہیں ہے، ہمیں پورے کینیڈا سے پیٹیشن جمع کرنی چاہئیں۔ بات بہت مناسب اور بر وقت تھی۔ تمام لوگوں نے اس پر اتفاق کیا اور ایک نئے جذبے سے مصروف کار ہو گئے۔ اس حکمت عملی سے تعداد بڑھنے لگی۔ 6 ہزار، سات ہزار، آٹھ ہزار، نو ہزار لیکن دس ہزار کا عدد ابھی بھی کافی دور تھا یا شاید ہم ہی بے صبرے ہو چلے تھے۔ نو ہزار نو سو تیس پر گاڑی کافی دیر تک اٹک رہی کہ ایک دم سے برٹش کولمبیا سے 8 سو عرضداشت کی خوشخبری موصول ہوئی۔ وہ مارا! لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

ایک خاتون ممبر آف پارلیمنٹ سے پہلے ہی بات ہو چکی تھی جو اس سلسلے میں ایک نجی بل پیش کرنے کے لئے تیار تھیں۔ جب ہاؤس آف کامن (وطن عزیز کی قومی اسمبلی سمجھ لیں ) بل پیش کیا گیا، اس وقت تک ہمارے پاس 13 ہزار سے زیادہ عرضداشت جمع ہو چکی تھیں اور مزید آ رہی تھیں۔ ہم سب لوگ خوش ہوئے جب پہلی اور دوسری رائے شماری سے کامیابی سے گزر گیا اور اب اسے تیسری اور آخری رائے شماری کے لئے پیش ہونا تھا۔ اب تک کی کارروائی دیکھتے ہوئے ہم لوگ بہت مطمئن تھے کہ یہ بل آسانی سے پاس ہو جائے گا۔ میں ذاتی طور پر پر اعتماد تھا کہ اب اس بل کے پاس ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہیں۔

انسان سوچتا کچھ ہے ہوتا کچھ ہے۔ اس بل پر تیسری رائے شماری سے پہلے ہی نئے الیکشن کا اعلان ہو گیا اور ہاؤس آف کامن غیر موثر ہو گیا۔ حکومت چلی گئی اور اس کے ساتھ بزرگوں کے خواب اور اس میں لپٹی ہوئی تعبیریں بھی ساتھ لے گئی۔

کچھ عرصے تک تو مجھے سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ میرا اس بل سے کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں تھا لیکن اس میں میرا دل بہرحال اٹکا ہوا تھا۔ جب ان سینئرز کے فون آتے جن کو ابھی تک صورت حال کا علم نہیں تھا، میرا دل بیٹھنے لگتا کہ میں ان کو یہ خبر کیسے سناؤں۔ کچھ لوگ تو خبر سنتے ہی گنگ سے ہو جاتے۔ مجھ سے زیادہ کون جان سکتا تھا کہ ان کے دل کے نہاں خانوں میں کیا طوفان برپا ہو چکا ہے۔

دوسری حکومت آ گئی لیکن اس کے بعد یہ بل دوبارہ کبھی پیش نہیں ہو سکا اور نہ ہی اس کا امکان ہے۔
احساس تو چراغ جلاتے ہی ہو گیا
دنیا میرے حساب سے بڑھ کر خراب ہے

Facebook Comments HS