کھڑکی اور میں


کمرے میں ہوا، روشنی اور صدا کا واحد رابطہ کھڑکی ہے۔ کمرے کا دروازہ ٹی وی لاونج میں کھلتا ہے جو لائٹ نہ جلنے کے باعث اندھیرا میں ڈوبا رہتا ہے۔ گھر کے وسط میں ٹی وی لاونج کی موجودگی جزیرے کے مانند ہوتی ہے۔ پہلے پہل یہاں گہما گہمی رہتی تھی۔ جب سے دنیا سمٹ کر موبائل فون میں آ گئی ہے۔ یہاں آمد و رفت کم کم دیکھنے میں آتی ہے۔ عقبی گھر کی دو منزلہ تعمیر کے نتیجے میں کمرہ سورج کی روشنی سے محروم ہو گیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ سورج کی ایک کرن طلوع آفتاب کے بعد سرہانے سے سفر شروع کرتی ہوئی آہستہ آہستہ پاؤں تک پہنچتی تھی۔ وہ چند لمحے میری آنکھوں میں ٹھہرتی تھی اور میں ان چند لمحوں کے لیے روزانہ اس کا انتظار کرتا تھا۔ بعد میں لمحہ بہ لمحہ اس کا تعاقب جاری رہتا تھا۔ کرن کے غائب ہونے کے بعد کچھ دیر افسردگی طاری رہتی تھی پھر میں نارمل ہو جاتا تھا۔ اب دو منزلہ عمارت کی وجہ سے یہ خاص نظارہ یادوں کا حصہ بن کر رہ گیا ہے۔

بدلتے ہوئے موسموں کا نظارہ اب بھی جاری ہے۔ سارے موسم کھڑی سے اپنی آمد کی خبر دیتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہوتی ہے۔ بارش، شدید سردی، گرمی اور حبس سمیت موسم کے سارے پیغامات کھڑکی کے ذریعے پہنچتے ہیں۔ ہر موسم کا اپنا ذائقہ ہوتا ہے۔ اپنی موجودگی میں احساس تک نہیں دلاتا ہے اور عدم موجودگی میں شدت سے یاد اتا ہے۔ کچھ پتا نہیں چلتا ہے کہ کون سا موسم سب سے اچھا ہے۔ موسم باتوں کی طرح ہوتا ہے۔ ایک بات کے دو مختلف ردعمل ہو سکتے ہیں۔ خوشی کی بات پر آنسو بہنے لگتے ہیں اور غم میں ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ میں ایک موسم کے دو الگ الگ ذائقوں سے آشنا ہوں۔ صرف کھڑکی میری رازداں ہے اور جانتی ہے کہ میں کن کیفیات سے گزرتا ہوں۔

اپنے بستر پر لیٹے لیٹے میں ارد گرد کے گھروں کے بارے میں سنائی دینے والی آوازوں کی بدولت خاصی آگاہی رکھتا ہوں۔ پچھواڑے میں اونچے والیم میں گیتوں کی صدا آتی رہتی ہے۔ جب کبھی گیت بند ہوتے ہیں تو دو نوجوان لڑکیوں کی گفتگو کے کچھ الفاظ مجھ تک پہنچتے ہیں۔ جنھیں میں باہم جوڑ کر معنی اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور اکثر ناکام رہتا ہوں۔ دائیں جانب گھر کی دیوار کمرے سے سانجھی ہے۔ میں گھر میں اکثر اوقات ہونے والی لڑائی سے بخوبی آگاہ ہوں۔

دولت کی فراوانی گھروں میں لڑائی کا سبب بن جاتی ہے۔ بچوں کی تربیت میں کوتاہی کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور والدین کو کمپرومائز کرنا پڑتا ہے۔ کالونی میں ہونے والی شادی کا کمرے میں بیٹھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ باجہ، شہنائی اور ڈھول کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور اس دوران میں پٹاخے چلائے جاتے ہیں۔ کچھ برسوں سے پٹاخوں کی جگہ فائرنگ کی جانے لگی ہے۔ پہلے پہل میں فائر اور پٹاخے کی آواز میں امتیاز کر سکتا تھا۔

افسوس اب یہ امتیاز ممکن نہیں رہا ہے۔ شادی بیاہ کے علاوہ رات کے پچھلے پہر ایسی آوازوں سے دل ڈوبنے لگتا ہے البتہ اب یہ آوازیں معمول کا حصہ بن گئی ہیں۔ پرندوں کی آوازوں سے میں گہری دلچسپی رکھتا ہوں اور بغیر دیکھے بتا سکتا ہوں کہ کون سا پرندہ چہچہا رہا ہے۔ کھڑکی کے باہر ایک چڑیا نے گھونسلا بنا رکھا ہے۔ میں گھونسلا بنانے کے ابتدائی مرحلے، چڑیا کے بچوں کی چوں چوں اور پہلی پرواز سے مکمل با خبر ہوں۔ باہر کی دنیا میں یہ میرا سب سے مضبوط رابطہ ہے۔

دو منزلہ عمارت کی تعمیر سے پہلے اذان کی آواز سنائی دیتی تھی۔ گھڑی دیکھے بغیر اوقات کا پتا چل جاتا تھا۔ اب عموماً گھڑی دیکھ کر اوقات کا علم ہوتا ہے۔ کبھی کبھی غوغائے سگاں سے پریشان ہوتا ہوں مگر بہت جلد ان آوازوں کے حصار سے نکل آتا ہوں اور میری سماعت ان آوازوں کو سننے سے انکار کر دیتی ہے۔ میں عرصہ دراز سے روشنی، ہوا اور صدا سے لطف اندوز ہوتا رہا ہوں۔ اب ان تینوں سے رفتہ رفتہ محروم ہو رہا ہوں۔ روشنی، موسم اور صدا میں بتدریج کمی ہو رہی ہے۔ روشنی ماند پڑ گئی ہے۔ موسموں کی تبدیلی کا احساس نہیں ہے اور آوازوں سے آشنائی ختم ہو رہی ہے۔ یہ میرا احساس ہے یا حقیقت میں ایسا ہی ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ دنیا نئے فیز میں داخل ہو گئی ہے۔ صرف میں ابھی تک پرانے زمانے میں جینے کا خواہاں ہوں۔

مجھ سے ملنے کے لیے دوست آتے ہیں اور تا دیر گزرے وقتوں کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔ ہم نے زندگی کے خوبصورت دنوں کو ریستورانوں اور ہوٹلوں کی نذر کر دیا ہے۔ جہاں چائے کے کپ میں کئی طوفان آئے اور گزر گئے۔ ہم وہاں گفتگو میں مصروف رہے۔ سیاست، مذہب، ادب سمیت دیگر موضوعات پر مکالمہ جاری رہا۔ اب میں ایسے مکالمے سے قاصر ہوں۔ میں اکیلا ہوں اور صرف کھڑکی کے ذریعے بیرونی دنیا سے رابطے میں ہوں۔

 

Facebook Comments HS