اور پھر سی ایس ایس کا رزلٹ آ گیا!


2023 کے سی ایس ایس کے امتحانات کا فائنل رزلٹ چند دن پہلے آیا اور سوشل میڈیا پر ایلوکیٹ ہونے والی نئی ”سیلبریٹیز“ سامنے آئیں۔ آج ایک فیلو نے بتایا کہ اس کا تیس سالہ کزن جو گزشتہ پانچ سال تیاری کے اس ”سفر“ کو دے چکا تھا جب 2023 میں گیارہ مضامین میں اچھے نمبروں کے باوجود ایک مضمون میں پاس نہ ہو سکا تو نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو گیا اور ہسپتال میں دنوں تک داخل رہا۔ یہ صرف ایک کیس ہے۔ مختلف شہروں کی لائبریریوں میں کئی ”دیوانے“ اور ”دیوانیاں“ ملیں گی جو اپنی نیند اور صحت کا بالکل بھی خیال کیے بغیر دن رات کئی مہینوں اور سالوں انھی بارہ مضامین کی تیاری پر قربان کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر چھ دن میں بارہ پیپر ہوتے ہیں۔ وہ ایک علیحدہ ٹارچر کا فیز ہے۔

امتحان پاس کرنے والوں کو ہماری جانب سے بھی دلی مبارکباد آخر ان کی بہت محنت شامل ہے اس میں۔ اعتراض ہمیں اس اسٹینڈرڈ پر ہے جو ہر سال اڑھائی سو سے تقریباً چار سو تک لوگوں کو سیلبریٹ اور ”دنیا کے کامیاب ترین افراد“ بنا کر پیش کرتا ہے اور کیسے یہ سی ایس ایس کی ”بتی“ کے پیچھے دھکے سے لگا دیے گئے ہزاروں امیدوار نفسیاتی اذیت سے گزرتے ہیں۔

بیس سے تیس سال کی عمر زندگی کا ایک انتہائی اہم فیز ہے۔ اس میں کریئر اور ذاتی زندگی کے حوالے سے کئی موڑ آتے ہیں جو ہمارا وقت اور سنجیدگی مانگتے ہیں۔ ایسے میں ایک ایسے امتحان کو کئی سالوں تک کے لیے اپنے گلے ڈال لینا اور اس کے علاوہ کچھ بھی پروڈکٹیو کرنے سے قاصر رہنا ایسی زیادتی ہے جو نہ چاہتے ہوئے بھی انجانے میں نوجوان اپنے آپ کے ساتھ کرتے ہیں۔

ہمارے تعلیمی ادارے ڈگری دے کر نوجوانوں کو اپنے سر سے جب دفع کرتے ہیں تو مارکیٹ میں یہ لوگ ”Pk“ کی طرح پہنچتے ہیں جو کسی سیارے سے ایک انجان گولے پر آیا تھا اور کسی چیز سے واقف نہ تھا۔ ہمارے تعلیمی ادارے اور مارکیٹ علیحدہ علیحدہ دائروں میں تیر رہے ہیں۔ ایک یونیورسٹی کا ”لائق“ اسٹوڈنٹ مارکٹ میں انتہائی نالائق بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں رٹے کے رواج ”Cramming Culture“ کی وجہ سے تخلیقی صلاحیتیں آخری سانسوں پر ہیں۔ نوجوانوں کو ایسا ماحول ہی نہیں ملتا کہ وہ سوچ سکیں کہ ملازمت کے علاوہ وہ اپنے شوق کے حساب سے کیسا سٹارٹ لے سکتے ہیں؟

پاکستان میں 64 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں کی ہے۔ کتنوں کو نوآبادیاتی آقاؤں کے متعارف کردہ اس ”اعلیٰ سروسز“ میں شمولیت کی بتی کے پیچھے لگائیں گے؟

ایک غیر لچکدار بیوروکریٹک ڈھانے میں ایک غیر لچکدار اینٹ بن کر جب آپ بھی لگ جائیں گے تو معاشرتی فلاح اور تبدیلی کے لیے آپ کیسے ہی ”ہیرو“ ہیں؟ ایسی غیر لچکدار اینٹیں ایک سسٹم کو قائم رکھنے کے لیے ہوتی ہیں۔ معاشرے کے آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کو بہت کچھ اور درکار ہے!

ہمارے تعلیمی اداروں، حکومت اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسے مواقع فراہم کرنے چاہئیں جن سے طالب علم اپنی صلاحیتیں پہچان سکیں اور اپنی طرح کی ملازمتوں اور سٹارٹ اپس پر کام کر سکیں۔ ایسے امتحان کو حد سے زیادہ گلاریفائی کرنے کی بجائے ہمیں انکیوبیشن سینٹر کے فروغ پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بہت سے ٹیلنٹ رکھنے والے نوجوان لوگ ہیں جنہیں مواقع نہیں ملتے۔ نئے اور اہم آئیڈیاز پر کام کرنے اور نئے سٹارٹ اپس  کو جگہ دینے کی ضرورت ہے۔

میں اعتراف کرتی ہوں کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے میری سول سروسز کے امتحان میں دلچسپی رہی مگر اس دلچسپی کو میں نے ”جنون“ نہیں بنایا۔ میرے دوسرے خواب اور کاوش اس دلچسپی سے زیادہ بڑے ہیں۔

سی ایس ایس جیسے امتحانات آپ اپنی خوشی اور مرضی سے دینا چاہیں تو ضرور دیں۔ آپ کا حق ہے کہ آپ مختلف مواقع جانچیں مگر ان امتحانات اور ان میں کامیاب ہونے والوں کو حد سے زیادہ ”بلند و بالا مقام“ عطا کرنا ایک نقصان دہ بے وقوفی ہے!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments