جدید مری کا معمار کرنل جان پاول
جب مری میں انگریز نے قبضہ کیا تو وہاں پر اچھے اور شاندار ہوٹل بھی بنائے گئے۔ وہی پر کمرشل اور رہائشی زمین کی خرید و فروخت کا کام بھی شروع ہوا۔ جان پاول کے والد پاول فرینک مری کی زمینوں کی خرید و فروخت کے بانی تھے اور انہی کی خریدی ہوئی زمینوں پر جان پاول نے ہوٹل بنائے اور خوب نام کمایا۔ لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جان پاول نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایک ہوٹل ویٹر کے طور پر کیا تھا۔ جان پاول نے خوب محنت کر کے پیسہ کمایا اور اپنے ہوٹل بنا لیے اور جلد ہی ایک اہم شخصیت کے طور اُبھر کر سامنے آ گئے۔
جان پاول 1867 ء سے لے کر 1937 ء تک مسلسل میونسپل کمیٹی مری کے ممبر اور وائس پریزیڈنٹ رہے۔ ایک انگریز افسر کی طویل ترین سروس کا یہ ریکارڈ مثالی ہے وہ تقریباً پون صدی اس اہم عہدے پر فائز رہے۔ لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ نے اس عہدے پر بیس سال کام کیا ہے۔ مجھے بھی یہی درست لگ رہا ہے کیونکہ اُن کی قبر پر لکھا ہوا ہے کہ اُن کی عمر 82 سال اور 6 ماہ تھی اور وہ 13 جولائی 1938 ءکو فوت ہوئے تھے اگر اُس حساب سے دیکھا جائے تو کیا وہ دس سال کی عمر میں میونسپل کمیٹی میں شامل ہوئے تھے؟ خیر جو بھی تھا لیکن اُن کے بارے میں بہت کچھ سُنا اور پڑھا ہے وہ مری شہر کے اولین آباد کاروں میں سے تھے۔
اس دوران وہ مری میں بلا شبہ سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ ابھی اُن کی سروس مزید جاری رہنے کا امکان تھا کہ 1936 ء میں راولپنڈی کے انگریز ڈپٹی کمشنر کُتھبرٹ کنگ سے بعض معاملات شدید اختلافات کے باعث وہ مستعفی ہو گئے۔ اور فوراً برطانیہ روانہ ہو گئے اور جاتے جاتے اپنے تمام معیاری ہوٹل ایک درجن کے قریب اپنی محل نما کوٹھیاں مری کے ایک ممتاز ہندو تاجر کرپا رام کو دے گئے۔ اس مثالی اور طویل سروس کی وجہ سے گورنمنٹ آف برطانیہ نے آپ کو لیفٹیننٹ کرنل کا اعزازی عہدہ دیا تھا مری کے مقامی لوگوں وہ جان ڈگری کے نام سے مشہور تھے۔
مری کی تعمیر و ترقی میں کرنل جان پاول نے شاندار کردار ادا کیا۔ ان کی بے مثال خدمات کی کہانی خاصی طویل ہے کرنل صاحب بہت شریف اور غریب پرور انسان تھے۔ وہ مری کی عوام کے ہمدرد اور غمگسار ساتھی تھے۔ انگریز حکام میں واحد ایسے افسر تھے جنہیں غریبوں کی تکالیف کا احساس تھا وہ پورے خلوص اور لگن کے ساتھ غریب کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے رہے۔ اُس وقت مری کے دور دراز علاقوں سے مری تک آمدورفت بہت مشکل تھی مواصلات اور ڈاک کا نظام بھی نہ ہونے کے برابر تھا لوگ پیدل سفر کر کے دو سے تین دن میں مری اور پنڈی پہنچتے تھے۔
پھر اُن میں یہاں رہنے سہنے کے لیے بھی اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہ تھی۔ کرنل صاحب کو اہل علاقہ کی اس تکلیف کا شدید احساس تھا۔ اس عوامی تکلیف کو دیکھتے ہوئے 1929 ءمیں مسلم ریسٹ ہاؤس تعمیر کروایا جہاں دود دراز سے آئے ہوئے لوگوں کو مفت قیام کی سہولت دی جاتی۔ 1883 ء میں مختلف مکتب فکر کے مقامی اکابرین نے میونسپل کمیٹی مری کو ایک یاداشت ارسال کی کہ مری میں روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کا رُجحان بڑھتا جا رہا ہے جو عوام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اس پر نظر رکھی جائے جلانے کی لکڑی بہت مہنگی ہے۔ اس لئے اس کا بھاؤ پانچ من فی روپیہ کی جگہ دس من فی روپیہ مکرر کیا جائے۔ لیکن میونسپل کمیٹی کو اُس دور میں بھی غربت اور محدود وسائل کا مسئلہ درپیش تھا۔ چنانچہ چھ من فی روپیہ ریٹ مقرر کیا گیا۔ اس زمانے میں میونسپل کمیٹی خود ایک روپے میں گیارہ من چونا خریدا کرتی تھی۔ خالص دودھ ایک آنہ فی سیر ملتا تھا۔ اس پر بھی جان پاول نے ملاوٹ والے دودھ پر سخت پابندی لگائی ہوئی تھی۔
بہر حال جان پاول کے کارناموں کی فہرست تو بہت طویل ہے میونسپل کمیٹی کے پرانے اہم ریکارڈز اور تاریخی دستاویزات پر اُن کے دستخط اُن کی شاندار خدمات کے گواہ ہیں۔ موجودہ ٹاؤن ہال کی تعمیر 1929 ء کو جب مکمل ہوئی تو اس کو جان پاول سے منسوب کیا گیا اور اُس کا نام، پاول ہال، رکھا گیا کیونکہ یہ انہی کی محنت کا نتیجہ تھا۔ جو آج کل مال روڈ پر جناح ہال کے نام سے جانا جاتا ہے۔
کرنل جان پاول مقامی پہاڑی زبان بہت روانی سے بولتے تھے۔ جس وجہ سے وہ عوام کے مسئلہ کو باخوبی سمجھ جاتے تھے۔ وہ ہر صبح شہر کے معائنے کے لیے نکلتے تھے اور مختلف دکانوں پر لگی ریٹ لسٹ چیک کرتے عوام سے ملتے اُن سے گپ شپ کرتے اور اُن کے مسائل سُنتے اور انھیں حل کرتے تھے۔ نئی تعمیرات پر بہت سخت قانون لاگو تھے قدرتی ماحول کا خیال بھی کیا جاتا اور بلڈنگ کوڈ کی نگرانی بھی کی جاتی تھی۔
کرنل جان پاول برطانیہ تو چلے گئے لیکن بہت جلد اُن کو مری کی یادیں ستانے لگی اور وہ چند ماہ بعد ہی واپس مری آ گئے اور ساتھ ہی اپنے گھر والوں کو کہا کہ میں نے جس شہر میں اپنی پوری زندگی گزاری ہے دفن بھی وہاں ہی ہونا چاہتا ہوں۔ آپ 1937 ء کو واپس مری آ گئے اور اپنے پرانے ملازم اکبر خان کے ساتھ رہنے لگے اور پرانے وقت اور لوگوں کو یاد کرنے لگے۔ آپ 1938 ء میں 82 سال کی عمر میں وفات پا گئے ان کی آخری رسومات میں بلا تفریق مذہب ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور اُن کو الوداع کہا۔ کرنل جان پاول کو موٹر ایجنسی مری کے قریب گورا قبرستان میں دفن کیا گیا۔ کرنل جان پاول کا ایک بیٹا برٹش آرمی میں لیفٹیننٹ جنرل تھا باپ کی وفات کے بعد اُن کے ملازم اکبر خان اور اُس کے بچوں کو پیسے اور خطوط بھجواتا رہا۔
کرنل جان پال کے بارے میں مری کے مقامی لوگوں میں اب بھی بہت ساری کہانیاں مشہور ہیں۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ جان پاول کی کسی نے گردن اتار دی تھی جس سے اُن کی موت واقع ہو گئی تھی۔ اور اب اُن کی روح راتوں کو سڑکوں پر پھرتی ہے اور اپنا کٹا ہوا سر اُن کے ہاتھ میں ہوتا ہے کبھی وہ گھوڑے پر ہوتے ہیں اور اکثر لوگوں سے سگریٹ مانگتے ہیں مقامی لوگوں میں وہ جان ڈگری اور سر کٹا انگریز کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں


