لندن کے مئیر: جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے


لیبر پارٹی کے امیدوار پاکستانی نژاد برطانوی شہری صادق خان نے لگاتار تیسری بار لندن میئر منتخب ہو کر برطانوی سیاست میں نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ان سے پہلے برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن دو بار لندن کے میئر بنے تھے۔ صادق خان کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ ان کے والد بس ڈرائیور تھے۔ صادق خان نے مخالف کنزرویٹو ٹوری پارٹی کی خاتون امیدوار سوزین ہال کو پونے تین لاکھ ووٹوں سے شکست دی۔ برطانوی سیاست میں پاکستانی نژاد اور مسلمان ہونے کے ناتے یہ کامیابی انتہائی حیران کن ہے۔

صادق خان نے انسانی حقوق کے وکیل کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا، 2005 میں ٹوٹنگ کے لیے لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے، 2016 میں لندن کے پہلے مسلمان میئر بنے 2021 میں انہوں نے جمائما سمتھ کے بھائی جن کی عمران خان سپورٹ کر رہے تھے کو شکست دی۔ لندن کا مئیر برطانوی وزیراعظم کے بعد سب سے طاقتور عہدہ ہے۔ میئر کے الیکشن میں صادق خان کے خلاف اس قدر منفی اور زہریلی مہم چلائی گئی کہ خود برطانوی سفید فام لکھاری، سوشل ایکٹوسٹ اور سیاسی کارکن بھی چلا اٹھے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے نام لے کر کئی بار صادق خان کے بارے میں نامناسب کمنٹس دیے۔ معتدل سیاست دان ہوئے کے باوجود اسلامو فوبیا کی کمپین کا صادق خان ہمیشہ نشانہ بنتے رہے، حالانکہ وہ مختلف کمیونیٹیز اور مذاہب کے لوگوں کو ساتھ ملا کر چلتے رہے۔

صادق خان نے جیت کے بعد اپنی تقریر میں بتایا کہ کس طرح انہیں سوشل میڈیا پر ٹرول کیا جاتا، دھمکیاں ملتیں، گھر کے باہر مظاہرے کر کے ان کے بچوں کو خوفزدہ کیا گیا۔ حکمران پارٹی کے شدت پسندوں نے فیس بک گروپوں میں خوب زہر اگلا۔ انہوں نے نہ رکنے والی منفی مہم کا سامنا کیا اور خوف کا جواب حقائق، نفرت کا جواب امید اور تقسیم کی کوششوں کا جواب اتحاد سے دیا۔

ہار ہو جاتی ہے جب مان لیا جاتا ہے
جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے

صادق خان نے غزہ میں سیز فائر کے لیے جرآت سے آواز بلند کی، حالانکہ ان کی جماعت لیبر پارٹی ہچکچاہٹ کا شکار تھی۔ اسرائیل نواز حلقوں میں بھی اس لیے انہیں تنقید کا سامنا رہا۔ کہ انہوں نے لندن میں فلسطین حامی مظاہروں کی اجازت دی۔ صادق خان ہمیشہ یہود دشمن رویوں کی مذمت کرتے رہے اور انہوں نے کئی ممتاز جیوش لیڈروں سے ملاقاتیں بھی کیں تاکہ ردعمل میں یہودی آبادی کو نقصان نہ پہنچے۔ صادق خان نے لندن کی لوئر مڈل اور لوئر کلاس کے لئے کئی اہم منصوبوں پر عمل کیا۔

کم آمدنی والوں کے لئے سستے گھر بنانا۔ مہنگائی کے باوجود بسوں اور میٹرو کے کرایہ میں اضافہ نہ ہونے دینا، سکول کے بچوں کو فری لنچ دینا، اس بار انہوں نے 7 سے 11 سال کے بچوں کو بھی اس میں شامل کیا ہے، جس پر ایک ارب پاؤنڈ (ساڑھے تین سو ارب روپے ) سالانہ خرچ آئے گا۔ بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد بھارتی نژاد وزیراعظم رشی سنک پر جنرل الیکشن جلد از جلد منعقد کرانے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

صادق خان نے اپنے دور اقتدار میں سستی رہائش، نقل و حمل اور سماجی انضمام جیسے اہم مسائل پر توجہ مرکوز کی، انہوں نے فضائی آلودگی سے نمٹنے، عوامی نقل و حمل کو بہتر بنانے اور شہر میں تنوع اور شمولیت کو فروغ دینے کے لیے پالیسیاں نافذ کیں۔ درپیش چیلنجوں سے نمٹنے اور اقتصادی ترقی نے ان کی حمایت میں اضافہ کیا۔ برطانوی سیاست میں اس بار لندن اور جڑواں شہروں کے میئرز انتخابات میں اسلاموفوبیا کا عنصر انتخابی مہم کے دوران نمایاں رہا، اس بات کا اندازہ ویسٹ مڈلینڈ کے انتخابات سے لگایا جا سکتا ہے جہاں ایک 36 سالہ مسلم نوجوان سولسٹر احمد یعقوب نے بطور آزاد امیدوار محض چار ہفتوں کی انتخابی مہم کے بعد 69000 ووٹ حاصل کیے، جو یقیناً حیران کن ہے۔

احمد یعقوب کی انتخابی مہم کا بیانیہ پرو فلسطین تھا، انہوں نے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کو موضوع بنا کر مہم چلائی جسے بے حد سراہا گیا۔ لیبر پارٹی رہنما کیرسٹارمر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ غزہ و فلسطین میں جاری جارحیت پر کھل کر بات نہیں کر سکے جس کی وجہ سے مسلم ووٹرز نے ان پر عدم اعتماد کیا دلچسپ طور پر صادق خان اپنی پارٹی کے واحد شخص ہیں جنہوں نے غزہ میں جنگ بندی پر کھل کر بات کی، انہیں اسی لیے فلسطین حامی ہونے کا الزام بھی دیا جاتا ہے۔

فلسطینیوں پر ظلم کے خلاف مسلم کمیونٹی کے ساتھ ساتھ غیر مسلم کمیونٹی نے بھی لندن کے تمام بڑے احتجاجوں میں شرکت کی، اس کی بنیادی وجہ غزہ میں غیر انسانی سلوک تھا، بے گناہ بچوں خواتین بوڑھوں کو نشانہ بنانا، عبادت گاہوں، مقدس مقامات اور ہسپتالوں پر بمباری نے غیر مسلم کمیونٹی کو بھی سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا، یہی وجہ ہے کہ برطانیہ یورپ سمیت امریکہ اس وقت غزہ حمایت احتجاجوں کی زد میں ہیں۔ اس صورتحال کے بعد یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلاموفوبیا کا بیانیہ اب غیر مسلم ریاستوں کے عوام پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے اور بلاتفریق لوگ درست اور غلط کی تفریق حقائق کی بنیاد پر کر رہے ہیں، صادق خان کی جیت کو بھی اس بیانیہ سے جوڑا جا رہا ہے جو درست ہے۔

تاہم وہ انٹرنل برطانوی سیاست میں اس بات کے قائل نہیں کہ وہ صرف مسلم کمیونٹی کے میئر ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ بلاتفریق ہر شہری کے نمائندہ ہیں۔ صادق خان بہترین ایڈمنسٹریٹر کے طور پر اپنی پارٹی اور برطانیہ سیاست میں آگے بڑھ رہے ہیں، ان کے گزشتہ اقدامات نے لندن کو نیا شہر بنا دیا ہے، ٹرانسپورٹ، کونسلز ہاؤسز، عوامی تحفظ، معاشی استحکام، ثقافت و سیاحت، امن عامہ، تعلیم و صحت کے شعبوں میں انہوں نے بہترین حکمت عملی سے کام کیا۔

لندن کی سیاست میں سرکار سے گھر لینے والے شہریوں کے لیے رہائش کا بندوبست سب بڑا مسئلہ ہوتا ہے، اسی بیانیہ پر سیاسی جماعتیں سیاست کرتی ہیں، صادق خان نے گزشتہ دونوں ادوار میں اسے فوکس کر کے کام کیا جو ان کی جیت کی وجہ بنا۔ اب اس وقت ان کے لیے سب بڑا چیلنج امن عامہ ہے۔ بڑا شہر ہونے کی وجہ سے لندن میں کرائم ریٹ بھی اسی تناسب سے ہے، چوری ڈکیتی اور قتل کی وارداتوں کو یہاں کنٹرول کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، لندن جو کسی وقت محفوظ ترین سمجھا جاتا تھا اس وقت ٹیکنالوجی کے استعمال اور بہترین پولیسنگ کے باوجود بھی خطرے سے باہر نہیں ہے۔

صادق خان نے اپنی انتخابی مہم میں لندن کے شہریوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ لندن کو محفوظ شہر بنائیں گے، ایک لاکھ سے زائد مزید پولیس بھرتیوں اور گشت بڑھا کر ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔ چالیس ہزار کونسلز گھروں کی تعمیر، سکولز میں مفت میل اور ٹرانسپورٹ کے کرائے برقرار رکھیں گے۔ عالمی سطح پر مہنگائی نے برطانیہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ اور کھانے پینے کی اشیاء، براہ راست متاثر ہوئی ہیں، جن کی قیمتیں برقرار رکھنا ان کی صلاحیتوں کا امتحان ہو گا۔

صادق خان شہر کی فضا، پانی صاف اور تمام ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک گاڑیوں پر شفٹ کرنا چاہ رہے ہیں۔ انہوں نے ماحولیاتی آلودگی پر جرمانوں کی طرح بھی ڈالی ہے، سپیشل زون بنائے گئے ہیں جہاں ایسی گاڑیوں پر جرمانے ہوں گے۔ صادق خان کا ایک خواب یہ بھی ہے کہ لندن کے تاریخی دریا ٹیمز کے پانی کو صاف کر کے اسے سوئمنگ کے قابل بنائیں۔ 115

پاکستان سے تعلق رکھنے والے شخص کی ایسی غیر معمولی کامیابیاں، برطانیہ میں مقیم لاکھوں تارکین وطن باشندوں، خصوصا پاکستانیوں کے لئے بڑی انسپائریشن کا باعث کیسے نہ ہوں؟

ہمارے حکمران نہ جانے کب ہمارے بلدیاتی نظام کو مضبوط اور موثر بنائیں گے۔ نون لیگ، پی پی پی اور تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں بلدیاتی اداروں کے عملاً مخالف ہیں۔ لندن میٹروپولیٹن کا بجٹ بیس بلین پاونڈ یعنی پچیس ارب ڈالر ہے۔ یہ ایک شہر کے بلدیاتی ادارے کا بجٹ ہے۔ ٹرانسپورٹ اسی کے تحت چلتی ہے اور پولیس کا نظام بھی یہی دیکھتا ہے۔

Facebook Comments HS