بھولنے والوں نے کیا کیا نہیں بھولا ہو گا
صاحبو! ہماری بھولنے کی عادت اب اپنے دوسرے فیز میں داخل ہو گئی ہے۔ جب تلک ہم چھڑے چھانٹ زندگی گزار رہے تھے، بال بچوں کا ساتھ نہیں تھا تو اس کی فیوض و برکات سے ہم اکیلے ہی مستفید ہوتے تھے، مگر جب سے بفضلِ تعالیٰ ایک علیحدہ گھر کنبے کے کفیل بنے ہیں اس عادت کے ثمرات سبھی تک برابر پہنچ رہے ہیں۔
گھر میں مہمانوں کی آمد پر کچھ سودا سلف لانے کے لیے گھر سے نکلے تو خیال آیا کہ اے ٹی ایم مشین سے پیسے بھی لے لیں مبادا خریداری میں رقم کم پڑ جائے۔ علاقے کی واحد اے ٹی ایم مشین پر پہنچے تو خاصا رش تھا۔ خیر ہم بھی لائن میں لگ گئے۔ ایک دو لوگوں نے لائن توڑ کر آگے آنے کی کوشش کی تو ہم نے انھیں اس فعلِ قبیح سے باز رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا، گویا کچھ وقت کے لیے وہاں موجود افراد کو نظم و ضبط سکھانے کی اضافی ذمہ داری بھی ہم نے اپنے سر لے لی تھی۔
مگر جب ہمارا اپنا نمبر قریب آیا اور جیب کو ٹٹولا تو وہ بالکل خالی تھی۔ ہم اپنا پرس، اے ٹی ایم کارڈ سمیت گھر ہی چھوڑ آئے تھے۔ طویل انتظار کے بعد بے نیل و مرام لوٹنا کسی بڑے امتحان سے کم نہیں تھا۔ مگر اس سے بڑا امتحان تو گھر پر وقوع پذیر ہونا تھا، جہاں شدت سے ہمارا انتظار کیا جا رہا تھا۔ خیر گھر پہنچ کر جس زجر و توبیخ کا سامنا کرنا پڑا وہ ایک علیحدہ قصہ ہے
جب ہم نئے نئے سرکاری محکمہ میں ملازم ہوئے تو ہمیں تنخواہ بنک اکاؤنٹ کے ذریعے نہیں بلکہ دستی انداز میں ملا کرتی تھی۔ بڑے سے رجسٹر پر دستخط انگوٹھا کے بعد ہی یہ عمل مکمل ہوتا تھا۔ ضلعی ہیڈ کوارٹر میں موجود دفتر میں ضلع بھر کے ملازمین مہینے کے پہلے 10 دنوں میں تنخواہ وصولی کے لیے جاتے تھے۔ ہم بھی ایک دن علی الصبح تیار ہو کر گھر سے 70 کلومیٹر دور تنخواہ لینے کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں کئی لوگوں سے سلام دعا ہوئی۔
تلمبہ اڈہ سے میاں چنوں کی ویگن میں سوار ہو کر میاں چنوں پہنچے پھر وہاں سے بڑی بس کے ذریعے خانیوال پہنچے۔ بس سے اتر کر رکشہ لیا اور دفتر میں داخل ہو گئے۔ دفتر پہلی منزل پہ تھا اور ہم سیڑھیاں چڑھ رہے تھے کہ اچانک ہمارے قدم رک سے گئے، ایک خیال بجلی کے کوندے کی طرح دماغ میں لپکا کہ آج تو اتوار ہے اور چھٹی ہے۔ اب اوپر جانے کا فائدہ تھا نہ نیچے اترنے کی سکت۔ حیرانی تھی کہ 70 کلومیٹر کے سفر میں ملنے والے متعدد لوگوں میں سے کسی ایک نے بھی نہیں بتایا کہ آج اتوار ہے، مگر انہیں بھی کیا معلوم کہ ہم دفتر تنخواہ لینے جا رہے ہیں۔
ہمیں اختتامی تاریخ سے محض ایک دن پہلے پتہ چلا کہ نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ میں سب انسپکٹر کی سیٹیں آئی ہوئی ہیں۔ لہٰذا ایک ہی روز میں میں تمام ضروری ڈاکومنٹس بمعہ درخواست تیار کر کے اسلام آباد ٹی سی ایس کرنا تھے تاکہ آخری تاریخ کو شام پانچ بجے سے قبل دفتر پہنچ جائے۔ سارا دن کی کھپ کھپ کے بعد ہم دونوں دوست درخواستیں تیار کرنے کا عمل مکمل کر چکے تھے اور دن ڈھلنے سے کچھ پہلے اپنے گاؤں تلمبہ سے میاں چنوں کی طرف روانہ ہوئے کہ ٹی سی ایس کا دفتر ٹی چوک میاں چنوں میں واقع تھا۔
انڈا باڈی کوسٹر میں تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی، خیر جیسے تیسے ہم دونوں سوار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور ہمیں کھڑے ہونے کی جگہ مل گئی۔ دو علیحدہ علیحدہ فائلز کو ایک خاکی لفافے میں بند کر کے ہم نے بغل میں دبا رکھا تھا۔ اس دوران نجانے کیا سوجھی کہ ہم نے وہ ڈاکومینٹس سیٹ پر بیٹھے ایک بھلے مانس سے نوجوان کے حوالے کر دیے، جس نے بلا تردد انھیں اپنی گود میں رکھ لیا۔ میاں چنوں ٹی چوک کو اتر کر ہماری نگاہیں ٹی سی ایس کے دفتر کی طرف اٹھیں تبھی دوست نے پوچھا کہ فائلز کہاں ہیں؟
”اوہ فائلز تو سواری کی گود میں ہی رکھی رہ گئیں۔“ دوست نے کھا جانے والی نگاہوں سے ہمیں دیکھا۔ ہم نے فی الفور اپنے دوست سے کہا ”عزیزم یہ دنگا فساد اور جھگڑے کا محل نہیں ہے، جلدی چلو پہلے فائلیں تلاش کرتے ہیں۔“ کوسٹر اڈا پر پہنچ کر رک گئی تھی، ذرا سی تلاش کے بعد ہمیں کنڈکٹر بھی مل گیا۔ اس سے استفسار کیا، بس کا کونا کونا کھنگال ڈالا مگر ہماری فائلز نہ ملیں۔ نامعلوم سواری ہماری نوکری کی فائلیں لے کر انجان سفر پر روانہ ہو چکی تھی۔
واپسی کے سفر میں میرے دوست نے مجھ سے منہ پھیرے رکھا، کوئی بات چیت نہ کی۔ بندہ پوچھے ابھی تو درخواست ہی دی جا رہی تھی، آگے سو مراحل درپیش تھے، ہم کسی اور مرحلے میں بھی تو فیل ہو سکتے تھے، اس میں اتنا ناراض ہونے والی کیا بات تھی۔


