عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کو ساتواں جنم مبارک ہو!
صد شکر کہ ایک بار پھر سوشل میڈیا کے کذاب راویوں کو دھول چاٹنی پڑی اور لالہ نیازی کی سناؤنی حسبِ سابق جھوٹ نکلی۔ یوں وہ نہ صرف ان دورغ گوؤں اور فتنہ پروروں کی مذموم کوششوں کے باوجود دنیا میں ایک بار پھر اپنا وجود ثابت کرنے میں ثابت قدم رہے بلکہ اپنی موت کی خبر کی بنفس نفیس تردید بھی کی۔ ہم تہہ دل سے انھیں ساتویں جنم کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ عالم ارواح سے شکمِ مادر اور وہاں سے عالم حیات تک تین جنم ہم سب گزار چکے ہیں مگر لالہ نیازی کو قوم نے چار بار مزید موت و حیات سے گزارا ہے۔
گویا سناؤنی نہ ہوئی45، 46 والا رزلٹ ہوا۔ سچ ہے جب قوم کو کرنے کے کسی کام سے کام نہ رہے تو وقتے خوش گزرے کی خاطر ایسی خبریں داغنے میں وقت کا ضیاع مرغوب قومی مشغلہ ہے۔ یادش بخیر لالہ عطا اللہ کے گیت ہماری اولین سماعتوں کا حصہ ہیں اور ہم ان کو سن سن کر بڑے ہوئے۔ اگر خالق اور ملک الموت نے موقع دیا تو خیر سے اگست میں وہ 73واں کیک کاٹیں گے۔ ان کے والد گانے بجانے کو برا جانتے تھے لہٰذا لالہ کو اس شوق سے باز رہنے کی تاکید کرتے تھے۔ مگر لالہ نے موسیقی کے ساتھ شدید قسم کے معاشقے بھی شروع کر لیے جن کی پاداش میں گھر نکالا ملا اور وہ کراچی چلے گئے۔ ٹرک چلائے، مزدوری کی، پھر لاہور آ کر ہوٹل میں بیرا گیری کرتے رہے۔ یہاں رکشہ بھی چلایا مگر گانے کا شوق نہ چھوڑا۔ پہلی بار ریڈیو بہاولپور سے موقع ملا۔ ان کا ایک گیت فیصل آباد کے چودھری رحمت علی (رحمت گرامو فون والے ) نے سنا اور متاثر ہو کر خود انھیں ملنے گئے۔ بعد ازاں چار کیسٹ البم ریلیز کیے جو سپر ہٹ رہے اور لالہ پوری دنیا میں مشہور ہو گیا۔
80ء کی دہائی میں ٹی وی، ریڈیو، لاؤڈ سپیکر اور ٹیپ ریکارڈر پر ہر طرف نیازی کی آواز گونجتی تھی۔ عاشق مزاجی کے موجب کثرت ازواج کے متہم بھی ہوئے۔ ان کی پہلی تین شادیاں علٰیحدگی پر ختم ہوئیں۔ 1985ء میں فلمسٹار بازغہ سے بیاہ کیا جس سے تین بچے ہوئے۔ بازغہ اب لندن میں رہائش پذیر ہے جبکہ خان صاحب پانچویں بیوی اور ایک بچی کے ساتھ لاہور میں مقیم ہیں۔ لالہ سیاست سے بھی علاقہ رکھتے رہے۔ بھٹو صاحب کی حمایت کی پھر عمران خان کے ساتھی رہے۔
پی ٹی آئی کا مشہور ترانہ ”بنے گا نیا پاکستان“ نے تو پوری قوم کو رقصاں کیے رکھا۔ قرائن بتاتے ہیں کہ شاید نئے پاکستان کی کامل تکمیل تک لالہ راہی ملک عدم ہونا ہی نہیں چاہتے۔ قوم نے صرف لالہ ہی نہیں بلکہ شاکر شجاع آبادی، ڈاکٹر قدیر خان اور سیدی پرویز مشرف کے جعلی انتقالاتِ پڑ ملالات کو بھی کثرت سے وائرل کیا۔ اب ان کی سناؤنی کی سچی خبر کا ایک ہی پیمانہ باقی بچا ہے کہ مستقبل قریب یا بعید میں جب لالہ خود اپنے مرنے کی خبر کی تردید نہ کرے تو خبر کی صداقت کا استنباط کر لیا جائے۔
لالہ نے پچاس ہزار گیت گائے اور چھ سو کیسٹ ریلیز ہوئے۔ وہ گائکِ ہفت زبان تھے۔ اس بنا پر ان کا نام گنیز بک آف ریکارڈ میں درج ہوا۔ لگتا ہے اب سب سے زیادہ بار موت کی جعلی خبروں کا شکار ہونے پر بھی ان کا نام لکھا جائے گا۔ اپنے گیتوں میں کئی بار مرے، کئی بار جنازے اٹھے اور کئی بار قبر نشین ہوئے۔ یہ گانا کسے یاد نہیں، ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا، ۔ تاہم اس پیش گوئی کا فاصلہ طویل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی گائی ہوئی غزل کا یہ شعر پچپن میں بار بار سنتے تھے،
اس نے شادی کا جوڑا پہن کر صرف چوما تھا میرے کفن کو بس اسی دن سے جنت کی حوریں مجھ کو دلھا بنائے ہوئے ہیں۔
تاہم خدا۔ فرشتے اور حوروں کو تا حال ایسا منظور نہیں ہے۔ موت بر حق ہے مگر موت کی ناحق خبر گرم کرنا بھی عملِ ناقص و مکروہ ہے۔ یقیناً وہ اپنی موت کی آئے روز کی خبروں سے تنگ آ چکے ہوں گے اور اپنا گایا یہ شعر گنگناتے ہوں گے،
کیوں مجھے موت کے پیغام دیے جاتے ہیں یہ سزا کم تو نہیں ہے کہ جیئے جاتے ہیں۔
کچھ حاسدوں کا کہنا ہے کہ موت کا فرشتہ کئی مرتبہ جان کنی کی خاطر آیا لیکن اسے لالہ کی دکھ درد بھری ریاض ہمراہ آواز کی تاب نہ لاتے ہوئے لوٹنا پڑا۔ وہ دکھ بھری آواز اور دردناک انداز رکھنے والے منفرد مغنی ہیں۔ ایک ڈرامے میں امان اللہ نے جگت لگائی، میرا بچہ ہویا تاں میں اس دا ناں عطا اللہ رکھا ں گا، کل نوں مر جائیے تاں بچھے کوئی رون والا تے ہووے، مگر جلنے والے کا منہ کالا، ۔ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی صدی کا بہترین لوگ فنکار ہے جس نے غزل کی گائیکی میں بھی نام کمایا۔ وہ اس پائے کے انسان اور فنکار ہیں جن کے متعلق یہ شعر سولہ آنے صادق آتا ہے،
عمر اتنی تو عطا کر میرے فن کو خالق
میرا دشمن میرے مرنے کی خبر کو ترسے
یہی وجہ ہے کہ اب تک لالہ کی وائرل ہونے والی تمام سناؤنیاں ضعیف، موضوع اور من گھڑت نکلیں ہیں، قوم سے التماس ہے کہ موت نے ہر حال میں آ لینا ہے مگر مرنے تک انھیں سکون سے زندہ رہنے کی مہلت دے دیں۔


