ناول ’کبڑا عاشق‘ کا تعارف و جائزہ
کبڑا عاشق فرانسیسی کلاسیکی ناول ’ہنچ بیک نوٹرے ڈیم ڈی پیرس‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ اس ناول کی پہلی اشاعت 1831 میں ہوئی۔ ہم نے جس ایڈیشن کا مطالعہ کیا ہے اس کے 132 صفحات ہیں۔ جتنا عمدہ یہ ناول ہے اتنا ہی غیر معیاری اس کا سر ورق ہے۔ ناول کے جائزہ سے پہلے ہم ناول کے تخلیق کار کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
انقلابی سوچ کے مالک وکٹر ہیوگو ( 26 فروری 1802۔ 22 مئی 1885 ) فرانسیسی ادب کے عظیم ادیب، شاعر، ڈرامہ نویس اور نامور سیاست دان تھے۔ وہ اپنے رومانوی انداز تحریر کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ اُنہیں اُن کے عہد کا سب سے عظیم فرانسیسی ادیب گردانا جاتا ہے۔ ہیوگو کے والد جنرل جوزف لیو پولڈ ہیوگو نپولین کی فوج میں شامل تھے اور ہیوگو اُن کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔
ہیوگو نے بطور وکیل تربیت حاصل کرنے کے بعد ادبی دنیا میں قدم رکھا۔ ویسے تو ان کا سارا کام ہی قابل قدر ہے مگر بین الاقوامی سطح پر ان کی وجہ شہرت ’لے میزرابل‘ اور ’ہنچ بیک آف نوٹرے ڈیم‘ ہی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’ہرنائی‘ اور کرامویل ’جیسے شہرہ آفاق ڈرامے بھی تحریر کیے ہیں۔
انہیں موسیقی سے بھی گہرا لگاؤ تھا اور وہ اپنے شعری مجموعوں کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں۔ باپ کے فوج میں ہونے کی وجہ سے ہیوگو نے بچپن سے ہی ملکوں ملکوں اور شہروں شہروں وقت گزارا۔ مختلف مقامات کا سفر کرنے اور معاشروں کو قریب سے دیکھتے رہنے کی وجہ سے ان کا مشاہدہ بڑھتا چلا گیا، جس کی وجہ سے اُن کا ادبی سفر بھی آسان ہو گیا۔
اس ناول کے مترجم سعادت حسن منٹو ہیوگو کے بارے میں اپنے تاثرات کچھ یوں بیان کرتے ہیں : ’جس چیز نے ہیوگو کے دماغ کو حد سے زیادہ پریشان کیا، جس مسئلے نے ہیوگو کی نیند حرام کر دی، جس قانون نے اس کے قلم کو اعجاز بخشا وہ سزائے موت کا خونی فتوی تھا۔‘
وہ مزید لکھتے ہیں : ’کتاب کا اندازِ تحریر پڑھنے والوں کے دماغ سے گزر کر اُن کے دل پر منقش ہو جاتا ہے۔ کتاب فی الحقیقت ایک بین الملّی المناک داستان ہے۔ قانون دان طبقہ اور فطرت انسانی سے دل چسپی لینے والے حضرات کو چاہیے کہ وہ اس کتاب کا ضرور مطالعہ کریں۔ ‘
دستویئفسکی ہیوگو کے بارے میں اپنے تاثرات یوں قلم بند کرتے ہیں : ’بے شک ہیوگو نے جو کچھ بھی لکھا ہے اس میں سب سے زیادہ حقیقت اور سچائی ہے۔ ‘
آئیے اب اس ناول کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ کُبڑا عاشق وکٹر ہیوگو کا ایک بے مثال کام ہے جو محبت، جذبات اور انسانی فطرت میں پائی جانے والی پیچیدگیوں کی تشریح کرتا ہے۔ یہ ناول پندرہویں صدی عیسوی کے پیرس کے پسِ منظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ ناول کی کہانی کُبڑے قاسمیدو کے گرد گھومتی ہے۔ وہ ایک بگڑا ہوا کُبڑا ہے جو نوٹرے ڈیم کے گرجا گھر کے راہب کلوڈے فرولو کا خدمت گار ہے اور گھنٹا ٹاور میں مقیم ہے۔
قاسمیدو پیدائشی طور پر ریڑھ کی ہڈی کی خرابی اور مسخ شدہ چہرے کی وجہ سے لوگوں کا ناپسندیدہ ہے اور وہ اسے خوفناک مخلوق تصور کرتے ہیں۔ لیکن ظاہری بدصورتی کے باوجود باطنی طور پر وہ ایک ہمدرد کردار ہے جو انسانی تعلق اور افہام و تفہیم کا متمنی ہے۔ وہ خوبصورت خانہ بدوش ایمرلڈا کی محبت میں گرفتار ہے۔
ہیوگو نے اُس دور میں قاسمیدو کے کردار کو جس نئے ڈھنگ سے متعارف کروایا اس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ لوگوں میں اچھائی تلاش کرنے کے لیے انہیں ظاہری شکل و صورت سے ہٹ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایمرلڈا کا کردار سطحی پن کے خطرات اور ان نقصانات کا بھی عکاس ہے جو لوگوں کو ان کی ظاہری شکل یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر پرکھتا ہے۔ اس کردار کی خوبصورتی لوگوں کو متوجہ کرتی ہے لیکن اس سے بڑھ کر وہ ایک ہمدرد شخصیت ہے اور دوسروں سے بھلائی کرنا اس کی قابل تعریف خصوصیت ہے۔
ایک طرف سب ایمرلڈا کو پانا چاہتے ہیں تو دوسری طرف قاسمیدو اپنے جذبات میں بہک جاتا ہے بغیر کسی انجام کی پروا کیے۔ ہیوگو اس ناول میں یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ کس طرح اچھے اور تباہ کن اثر و رسوخ کے لیے محبت ایک طاقت بن سکتی ہے۔ علاوہ ازیں وہ یہ بھی باور کروانا چاہتا ہے کہ محبت کا جذبہ انسان کو ہیرو بھی بنا سکتا ہے اور ولن بھی۔
ہیوگو کا انداز تحریر جذبات سے بھرپور ہے۔ جہاں وہ پندرہویں صدی کے پیرس کی منظر کشی کرتا ہے وہیں ناول کے کرداروں پر بھی خوب محنت کرتا ہے اور ان کے جذبات کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ ناول میں علامتوں اور استعاروں کا استعمال اس میں وسعت کا باعث ہے۔ مزید برآں اس میں انسانی تعلقات کی اہمیت اور بے لگام جذبات سے پیدا ہونے والے خطرات کی عکاسی بھی کی گئی ہے۔
بہرکیف کبڑا عاشق ایک شاہکار ناول ہے۔ ہیوگو نے قاسمیدو کے کردار کے ذریعے ظاہری خوبصورتی کی نوعیت اور لوگوں میں اچھائی ڈھونڈنے کے لیے جسمانی شکل و صورت سے ہٹ کر ایسی انسانی خصوصیات کو پہچاننے کی ضرورت پر زور دیا ہے جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ متاثر کُن ناول انسانی جذبات کو ایک نئے ڈھنگ سے دیکھنے کی ترغیب دلاتا ہے۔


