تین شاعر ایک خیال


ساحر لدھیانوی۔ احمد فراز اور مسرور انور اپنے عہد کے بے مثال شاعر تھے جنہوں نے روایتی شاعری کے علاوہ فلمی شاعری میں بھی خوب نام کمایا۔ یہ سب اپنی اپنی جگہ ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ میری اس تحریر کا مقصد کیسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا ہرگز نہیں بلکہ ان تینوں کے خیالات کا اظہار ایک ہی موضوع پر پیش کرنا ہے جس سے اختلاف ممکن ہے۔

فراز کی نظم ”پیغام بر“ واقعی کمال ہے اور آج کے تناظر میں پوری اترتی ہے۔ فراز کی شاعری ہمیشہ سے میرے دل سے بہت قریب رہی خاص طور سے ان کی نظم ”محاصرہ“ آمریت کے دور میں لکھا جانے والا ایک انقلابی پیغام ہے۔ اسی طرح فراز کے بے شمار غزلیں نہ صرف رومان انگیز ہیں بلکہ عہد حاضر کے سماجی دشواریوں۔ طبقاتی جدوجہد اور فکری جمود پر بھی کاری وار کرتی نظر آتی ہیں۔

فراز کی نظم ”پیغام بر“ میں نے پڑھی اور یہ بات بہت دیانتداری سے کہوں گا کہ یہی موضوع اور تقریباً یہی بات اسی زمین میں ساحر برسوں پہلے اپنی کئی نظموں اور غزلوں میں کر چکے تھے۔ فراز نے اپنی نظم پیغام بر میں ریت کے ٹیلوں اور سایہ ابر گریزاں کی اصطلاح کو اس طرح استعمال کیا۔

ریت کے تپتے ہوئے ٹیلوں پہ ایستادہ ہو تم سایۂ ابرِ رواں کو دیکھتے رہنا تمہارا جزوِ دیں۔
اسی موضوع اور انہی اصطلاحات کو ساحر نے کس انداز سے اپنے ایک شعر میں رقم کیا۔
” ریگزاروں میں بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ سایہ ابر گریزاں سے مجھے کیا لینا۔ “
فراز نے ”پیغام بر“ میں کہا۔
من و سلویٰ کے لئے دامن کشا قحط خوردہ زار و بیمار و حزیں۔
ساحر نے یہی بات برسوں پہلے اس طرح کی تھی۔
من و سلوی کا زمانہ جا چکا۔
بھوک اور آفات کی باتیں کریں۔

میرے کہنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ میں کسی بھی طور فراز کو ادبی سرقہ کا مرتکب ٹھہراتا ہوں۔ اکثر شاعر دوسرے شاعر کے خیالات اور موضوع سے متاثر ہو کر اسی زمین میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسا اساتذہ کی شاعری میں بھی ہوا ہے۔ لیکن یہ بات بھی ضرور کہوں گا کہ فراز کی بہت سی نظموں اور غزلوں میں ساحر کا رنگ ضرور نظر آتا ہے۔

ادبی سرقے کی ایک بڑی مثال فلمی گیت نگار مسرور انور کا مشہور گانا جو فلم دوراہا میں شامل تھا اور اسے مرحوم احمد رشدی نے کیا خوب گانا اور بہت ہٹ بھی ہوا۔ اس کے چند بول کچھ اس طرح تھے۔

” جب پیار میں دو دل ملتے ہیں میں سوچتا ہوں ان کا بھی کہیں میری طرح انجام نہ ہو ان کا بھی جنوں ناکام نہ ہو۔“

مسرور انور نے اس گیت میں ساحر کی پوری کی پوری لائن اور مصرعے ہی چھاپ دیے جو میرے نزدیک یقیناً ادبی خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔

اب دیکھیں ساحر نے اسی خیال کو اپنی ایک طویل نظم ”پرچھائیاں“ میں کس خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔
” سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے۔
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے۔
آج جب ان پیڑوں کے سائے تلے پھر دو سائے لہرائے ہیں۔
پھر دو دل ملنے آئے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں
ان کا بھی اپنی ہی طرح انجام نہ ہو۔
ان کا بھی جنوں نا کام نہ ہو۔
انکے بھی مقدر میں لکھی۔ ایک خون میں لتھڑی شام نہ ہو۔
سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے۔

ساحر کی نظم ”پرچھائیاں“ اردو ادب اور خاص طور پر ترقی پسند ادب کا سرمایہ ہے جو جنگ عظیم دوئم کے پس منظر میں لکھی گئی ہے جب ہندوستانی جوان گورا فوج میں بھرتی ہو ہو کر بدیس جا رہے تھے۔ ایک ایسے سفر پر جہاں سے واپسی کم کم ہی ہوتی۔ ان گھبرو جوانوں کے جانے کے بعد جو افتاد ان کی بستیوں۔ کھلیانوں اور سماج پر پڑی اور جب نوخیز بچیوں کی عزت سرعام نیلام ہونے لگی تو حساس شاعر تڑپ اٹھا اور اس نے جنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کا جو نقشہ کھینچا وہ امن پسند تحریک کا ترانہ بن گیا۔

پرچھائیاں ایک بے حد دلگداز۔ رومان انگیزی کے ساتھ معاشرتی جبر اور غربت و افلاس۔ قحط اور بے روزگاری کی کچھ اس طرح کی تصویر پیش کرتی ہے کہ پڑھنے والا شاعر کے ساتھ اس کرب میں غیر محسوس طریقے سے از خود شامل ہو جاتا ہے۔ ساحر نے ”پرچھائیاں“ میں اپنے قلم کو ایک مصور کے برش سے تبدیل کر دیا اور حالات کے کینوس پر ایسی منظر کشی کی کہ پڑھنے اور دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ ساحر نے جنگ سے پہلے کی منظر کشی کتنی کومل انداز میں کی اور اس میں ہمارے دیہاتی معاشرے کی کیسی عکاسی کی ہے۔ ملاحظہ ہو۔

وہ لمحے کتنے دلکش تھے۔ وہ گھڑیاں کتنی پیاری تھیں۔
وہ سہرے کتنے نازک تھے۔ وہ لڑیاں کتنی پیاری تھیں۔
بستی کی ہر ایک شاداب گلی۔ خوابوں کی جزیرہ تھی گویا۔
ساحر کے اس قطع میں رومانویت اپنے عروج
پر نظر آتی ہے۔
میرے پلنگ پہ بکھری ہوئی کتابوں کو۔ ادائے عجز و کرم سے اٹھا رہی ہو تم۔
سہاگ رات جو ڈھولک پہ گائے جاتے ہیں۔
دبے سروں میں وہی گیت گنگنا رہی ہو تم۔

اور پھر اچانک مغرب میں طبل جنگ بج اٹھا، اور دوسری جنگ عظیم اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ دنیا پر مسلط کردی گئی۔ حالات بدلے تو ساحر کی نظم کا منظر نامہ بھی تبدیل ہوا۔ ساحر کا کمال ہے کہ انہوں نے اپنی نظم کو ایک کہانی کی طرح بیان کیا اور وہ اکثر فلیش بیک میں چلے جاتے ہیں جیسے کوئی اپنے بیتے دنوں کو بس یونہی یاد کر لیتا ہو۔ لیکن فوراً وہ ایک جھری جھری لے کر دوبارہ اسی وحشت و بربریت کے موضوع پر آ جاتے ہیں اور پھر ایک ماہر جراح کی طرح حالات کی کچھ ایسی نشتر زنی کرتے ہیں کہ سامراجی قوتوں اور استعمار کا مکروہ چہرہ کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ جنگ عظیم کے شروع ہوتی ہی پر امن بستیوں پر وحشت اور بربریت کے مہیب سائے لہرانے لگے اسے ساحر نے محسوس کیا اور کس خوبصورتی سے بیان کی۔

ناگاہ لہکتے کھیتوں سے ٹاپوں کی صدائیں آنے لگیں
بارود کی بوجھل بو لے کر پچھم سے ہوائیں آنے لگیں
تعمیر کے روشن چہرے پر تخریب کا بادل پھیل گیا
ہر گاؤں میں وحشت ناچ اٹھی۔ ہر شہر میں جنگل پھیل گیا۔
اور پھر جب جنگ کی وجہ سے معاشی بدحالی
نے قحط کی شکل اختیار کرلی تو شاعر نے اپنے خیالات کو ان الفاظ میں بیان کیا۔
دھول اڑنے لگی بازاروں میں۔ بھوک اگنے لگی کھلیانوں
میں ہر چیز دکانوں سے اٹھ کر۔ روپوش ہوئی تہ خانوں میں
بد حال گھروں کی بدحالی۔ بڑھتے بڑھتے جنجال بنی مہنگائی بڑھ کر کال بنی ساری بستی کنگال بنی

افلاس زدہ دہقانوں کے۔ ہل بیل بکے۔ کھلیان بکے جینے کی تمنا کے ہاتھوں جینے کے سب سامان بکے کچھ بھی نہ رہا جب بکنے کو۔

جسموں کی تجارت ہونے لگی۔
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں۔

انہی دنوں بنگال میں ”مصنوعی قحط“ پڑا ساری اجناس اور پیداوار جنگی محاذوں پر بھیج دی گئیں جس کے نتیجے میں لاکھوں انسان لقمہ اجل بنے تو ساحر چیخ اٹھا۔

پچاس لاکھ گلے فسردہ گلے سڑے ڈھانچے نظام زر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔
جنگ کے دوران ساحر نے گھر گھر موت کو ناچتے دیکھا اور کہ اٹھا۔
تمھارے گھر میں قیامت کا شور برپا ہے محاذ جنگ سے ہرکارہ تار لایا ہے۔
کہ جس کا ذکر تمہیں جاں سے پیارا تھا وہ بھائی نرغہ دشمن میں کام آیا ہے۔

شاعر کی محبوبہ بھی زمانے کے ہاتھوں رسوا ہوئی۔ اس کی بھی عصمت بہت سی دوسری دوشیزاؤں کی طرح تار تار ہوئی تو اس کے لہجے کی تلخی مزید بڑھی۔ وہ شکوہ کرتا تو کس سے۔ بس اپنی بے بسی پر یہی کہ پایا۔

تم آ رہی ہو سر عام بال بکھرائے ہزار گونہ ملامت کا بار اٹھائے ہوئے۔
ہوس پرست نگاہوں کی چہرہ دستی سے بدن کی جھینپتی عریانیاں چھپائے ہوئے۔
لیکن ان تمام آلام کے باوجود شاعر مایوس نہیں ہوا اور آنے والی نسل کے لیے یوں دعاگو ہوتا ہے۔
ہمارا پیار حوادث کی تاب لا نہ سکا
مگر انہیں تو مرادوں کی رات مل جائے۔
ہمیں تو کشمکش مرگ بے اماں ہی ملی انہیں تو جھومتی گاتی حیات مل جائے۔

پچھلی جنگ کی تباہ کاریوں کو دیکھ چکنے کی بعد ساحر کو ایک انجانے خوف نے آ لیا وہ آئندہ لڑی جانے والی جنگ کی ممکنہ ہولناکیوں سے دنیا کو خبردار کرتا ہے۔

کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے
تو اِس دمکتے ہوئے خاک داں کی خیر نہیں۔
جنوں میں ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاوٗں سے
زمیں کی خیر نہیں آسماں کی خیر نہیں۔

ساحر۔ فراز اور گیت نگار مسرور انور پر میری یہ تحریر ایک تقابلی مضمون تصور کیا جاسکتا ہے اور اس سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ساحر اور فراز اردو ادب کا سرمایہ ہیں جبکہ مسرور انور کا مقام ادب میں کہیں بہت نیچے ہے لیکن ان کی فلمی شاعری سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

بدقسمتی سے ہمارے یہاں فلم انڈسٹری زوال پذیر ہوئی اور اسی کے ساتھ فلمی شاعری بھی اور پھر اتنی گری کہ گیت کے نام پر لچر اور بے ہودہ تک بندی جیسے ”آ سینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے“ سن کر بھی کسی کو سمع خراشی کی شکایت نہیں ہوئی۔

کیا یہی ادبی زوال نہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments