عورتیں اور زندگی کا مختلف دائرہ


گزشتہ دنوں انقرہ یونیورسٹی، ترکیے کی بین الاقوامی اردو کانگریس میں بطور مہمان مقرر آن لائن شرکت رہی اور ”اردو ادب میں عورت کے تصور“ پر بات کر کے لگ بھگ انہی باتوں کو دہرایا جو اس موضوع پر میں گاہے ماہے کرتا آیا ہوں۔ میں نے باقی مقررین کو بھی توجہ سے سنا، اچھا لگا اور شدت سے احساس ہوا کہ بعض باتوں کو دہرایا جانا بہت اہم ہو جاتا ہے۔ یاد رہے اس کانگریس کا اہتمام انقرہ یونیورسٹی، ترکیہ میں صدر نشین شعبہ اُردو آسمان بیلن اوزجان نے کیا تھا جنہیں حکومت پاکستان نے اردو زبان و ادب کے فروغ اور علمی خدمات پر ستارہ امتیاز سے نواز رکھا ہے۔

وہ پاکستان کے علاوہ ہندوستان کے علمی اور ادبی حلقوں اور تعلیمی اداروں سے رابطے میں رہتی ہیں۔ میرے ہاں بھی تشریف لا چکی ہیں ؛ شاید اسی رابطے کے سبب انہوں نے مجھے بھی اس کے افتتاحی سیشن میں اپنے خیالات کے اظہار کا بہ اصرار کہا ؛ خیر مجھے اچھا لگا کہ ہم اردو ادب کے حوالے سے یہاں کی عورت کا مطالعہ کر رہے تھے۔ اردو ادب میں عورت کا مطالعہ پہلے پہل مردوں کے قلم سے اور ان کے متشکلہ تصور سے ہوا۔ انیسویں صدی کے بنگال کی رشندری، رشید النسا، رقیہ سخاوت حسین اور رشید النسا کی بیٹی نثار کبریٰ، جو بہار کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ تھی، سے لے کر آج تک کی لکھنے والیوں کا ذکر بھی ہوا اور وہ کیسے لکھنے کے لیے جگہ بنا پائیں اور مردوں سے کیسے مختلف ہوئیں، اس پر بھی بات ہوئی۔

جب میں یہ باتیں سن رہا تھا تو رہ رہ کر میرا دھیان تئیس چوبیس برس پہلے شائع ہونے والی بین الاقومی شاعری کے تراجم پر مشتمل اپنی کتاب ”سمندر اور سمندر“ کی کچھ نظموں کی طرف چلا گیا تھا۔ ایسی نظمیں جو عورتوں کی نفسیات کو سمجھنے میں اہم ہو سکتی ہیں۔ انقرہ یونیورسٹی کی کانفرنس میں پڑھے گئے مقالات تو اپنے وقت پر سامنے آتے رہیں گے، اس نشست میں جی چاہتا ہے کہ وہ نظمیں آپ کی نذر کروں جن میں عورت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پہلی دو نظمیں ولیم وارنگ کونی کی ہیں جن کی کتاب ”پزلز“ میں یہ نظمیں موجود ملیں گی۔ ولیم وارنگ کونی 6 مئی 1906 ء کو واشنگٹن ڈی سی میں پیدا ہوئے۔ اپنے آبائی شہر کی ہاورڈ یونیورسٹی اور پینسلوینیا کی لنکونن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی دوسری جنگ عظیم میں بطور آرمی ٹیکنیکل سرجنٹ حصہ لے کر تین تمغے پائے۔ جس کتاب سے یہ نظمیں لی گئی ہیں وہ 1960 ء میں نیدرلینڈ سے شائع ہوئی تھی۔ نظمیں ملاحظہ ہوں۔ ان میں اگرچہ ہمارے ہاں کی عورت نہیں ہے مگر کیا ہمارے ہاں کی عورت کے مقدر میں بھی یہی تنہائی اور یہی الجھنیں نہیں ہیں؟ عورت کے یوں تنہا ہو جانے میں مردوں کے اس سماج کا کتنا حصہ ہے اور خود عورت کا کتنا شاید یہ نظمیں پڑھنے کے بعد کچھ تخمینہ لگانے میں کامیاب ہو جائیں :

ولیم وارنگ کونی کی پہلی نظم:اوکلاہوما کی لڑکی

میں ایک لڑکی سے واقف ہوں جو اوکلا ہوما کی ہے /جس کا چہرہ بہت دلکش ہے /اور جس کے بدن کی تراش اور قوسیں دلفریب ہیں / جو بہت ذہین ہے / اور جس کے بنک اکاؤنٹ میں بہت سی دولت ہے / اوکلا ہوما کی اس لڑکی کے پاس تین ”ز“ ہیں / زیور حسن، زیر کی اور زر/اس کے پاس وہ سب کچھ ہے / جس کی تمنا دس میں سے نو آدمی کرتے ہیں / ایک لڑکی جسے میں جانتا ہوں اور وہ اوکلا ہوما کی ہے / وہ ہر ہفتے (کم از کم ) تین گھنٹے کے لئے / ایک ماہر نفسیات سے مشورہ کرتی ہے / اس لئے کہ وہ اکیلی ہے

ولیم وارنگ کونی کی دوسری نظم:عورتیں اور کچن

کوئی کچن اتنا بڑا نہیں ہوتا جو دو عورتوں کے لئے ہو/ اگر آپ کچن تعمیر کریں شہر جتنا بڑا/ اور کھلی کھلی سڑکوں جیسا/پھر بھی یہ دو عورتوں کے لئے چھوٹا پڑ جائے گا/ وہ دو عورتیں دو بہنیں بھی ہو سکتی ہیں / دو سہیلیاں بھی/ وہ ساس اور بہو بھی ہو سکتی ہیں / اور ایک دوسرے کے لئے اجنبی بھی/ یا پھر ایک نوکرانی اور دوسری وہ (مالکن) جس کے لئے وہ کام کرتی ہے / اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا/ ایک گھر جس میں دو عورتیں ہوں / ہمیشہ دو کچن مانگتا ہے / ایک ڈانس ہال بہت سی عورتوں کے لئے ایک ہی کافی ہے /ایک خرید و فروخت کے مرکز کا تہ خانہ متعدد عورتوں کے لئے ایک ہو سکتا ہے / مگر کچن کا معاملہ الگ ہے / ہر کچن کے دروازے پر ایک نشان ہوتا ہے / ”صرف ایک عورت کے لئے“

Villiam Waring Cuney

میں نے اپنی اس کتاب میں مغربی ایشیا اور مشرقی یورپ کے درمیان واقع آذر بائیجان کے عوامی شاعر رسول رضا کی نظمیں بھی ترجمہ کی تھیں۔ رسول رضا 1910 ء کو جیو کچائی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں آذربائیجان کی شاعری کو قدیم لفظیات اور روایتی علامتوں کے بوجھ سے آزاد کرنے والے اور ایک نئی شاعری کے تخلیق کار کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔ رسول رضا کی ساری عمر باکو میں گزری جہاں وہ تخلیقی کام کے ساتھ ساتھ قومی اور سماجی امور سے بھی وابستہ رہے۔

میں نے ان کی جو نظمیں ترجمہ کی تھیں ان میں سترہ حصوں پر مشتمل ایک طویل تر نظم ”سمندری گیت“ ہے جس پر انہیں ریاستی انعام بھی ملا تھا۔ نظم اپنے اندر انسانوں کے دکھ کی سمندر جتنی وسعت لئے ہوئے ہے۔ یہاں میں رسول رضا کی بجائے ان کی شاعرہ شریک حیات نگیار راف بیلی کی نظم کا ترجمہ پیش کر رہا ہوں۔ وہ شاید پہلی آذر بائیجانی شاعرہ ہیں جس کے کلام کو روسی زبان میں ترجمہ کر کے ماسکو سے شائع کیا گیا تھا۔ وہ اپنی شاعری میں ایک ماں محبت کرنے والی بیوی اور اپنے ملک کی ایک حساس شہری کی حیثیت سے مخاطب رہیں۔ نگیار راف بیلی ایک عورت ہونے کے ناتے سمجھتی تھیں کہ ان کی زندگی کا دائرہ اس دائرے سے بہت مختلف ہے جو مردوں کا ہے۔

نگیار راف بیلی کی کچن کے لئے پہلی نظم

اگر میں ایک خاتون نہ ہوتی/ میرا واسطہ نہ پڑتا/ تلنی سے، چینی کے برتنوں سے، کفگیروں سے / میں پہاڑوں کے بیچ طلوع کا نظارہ کرتی/اور سمندری ہوائیں اپنے پھیپھڑوں میں اس قدر کھینچ لیتی کہ وہ بھر جاتے / میں ساحل پر گھنٹوں ان کہی مسرت کے بیچ ٹھہرتی/ اپنی چھاتی سے میدانی ہواؤں کو خارج کرتے ہوئے /اور چپکے چپکے /انتہائی سہولت سے /باغیچوں کی سمت، غنودہ گیت ترتیب دیتی/ مگر۔ /میں خود کو کتنا دیگر پاتی ہوں اس طعام گاہ میں / تا ہم/ میرے اندر شاعری کی کچھ عطا ابھی ہے

نگیار راف بیلی کی کچن کے لئے دوسری نظم

نظمیں ہیں /جو خوب صورت دلوں کے لئے وقف ہیں / بہار کے پھولوں کے لئے /خزاں کے جھڑتے پتوں کے لئے / نظمیں ہیں جو معنون ہیں / جدائی کی کسک کے لئے / وصل کی سرخوشی کے لئے /ایک دوشیزہ کے خوب صورت چہرے کے لئے / پھر کیوں کچھ منسوب نہیں ہے / کھولتی سماوار کے نام /نظمیں کیوں نہیں لکھی جا سکتیں / جو صاف رکابیوں کے لئے ہوں /کچھ چاہتے ہیں کہ ان کے کھانوں میں مناسب نمک ہو/اور کچھ چاہتے ہیں کہ نمک سرے سے ہو ہی نہیں / بعض ٹماٹر کی چٹنی پسند کرتے ہیں /اور بعض کچے ٹماٹر/ ایک کو گوشت بالکل ناگوار گزرتا ہے / دوسرا اپنے کھانوں میں پیاز اور لہسن کو برداشت نہیں کرتا/لہٰذا / مجھے تمام دن وہیں کھڑے رہنا پڑتا ہے / پونچھتے ہوئے، /بھونتے ہوئے، /پکاتے ہوئے / کچھ ہیں کہ عمدہ نشستوں پر متمکن ہیں / اور کچھ کی قسمت میں یہی ہے کہ وہ طعام گاہوں میں رکابیاں صاف کریں / اوہ ہاں! /بعض اوقات ایک عام سا کچن/ عمدہ رہائشی علاقوں کی طعام گاہوں سے / بہت زیادہ صاف ستھرا ہو سکتا ہے / اگر میں نہ دیکھوں کہ جب/گیس کے چولہے پر پیاز بھن رہے ہوتے ہیں / تو وہ جل کر راکھ ہو جائیں / اور کھانے کا ستیا ناس ہو جائے / مگر (اور) کون ہے کہ ادھر دیکھے / کہ (جب) پکانے والی (خود) چولہے پر جل رہی ہوتی ہے / کیا وہ جل کر کوئلہ نہیں ہو جاتی/ (مگر) کون پکانے والی کا خیال رکھتا ہے / کیا وہ کہ جس کا دل پوری طرح بے اضطراب نہیں ہے؟ /اے پکانے والی! /شکوہ نہ کر/ادھر دیکھ/ ایسی جرات نہ کرنا کہ پیاز جل کر راکھ ہو جائیں / کہ یہ تو کھانے کو ذائقہ اور خوشبو دیتا ہے

نگیار راف بیلی کی کچن کے لئے تیسری نظم

اگر ایک پھلواری ایک نظم کی تحریک ہو سکتی ہے / تو پھر کچن کیوں نہیں / ایک چولہا، بالکل اسی طرح/جس طرح کہ ایک پھول/اور ایک آلودہ تلنی بھی ایسے بر عکس جیسا کہ کانٹے کے نام/نظم ہو سکتی ہے / ( اس لئے کہ ) شاعرانہ خیالات تو بے شمار ہوتے ہیں / اتنے بے شمار کہ جتنا تم دنیا کا مشاہدہ کرتے چلے جاؤ/ایک شاعر کی آنکھ سے

نگیار راف بیلی کی کچن کے لئے چوتھی نظم

اپنے کچن کی چھوٹی سی کھڑکی سے / میں سال کے چاروں موسم دیکھتی ہوں / گرما، سرما، بہار، خزاں /میں ان کے اصل چہرے دیکھتی ہوں / گرمیوں میں ایک لمبے پاپلر کی شاخیں / کھڑکی کے پاس ہی/رفتہ رفتہ شگوفوں سے بھر جاتی ہیں / تب پتے نمودار ہوتے ہیں /اور وہ سبز فراک پہن لیتا ہے / مدہم مدہم ہوائیں چلتی ہیں / شاخیں سرگوشیاں کرتی ہیں / بہار میں پیڑجھکے ہوئے مگر وقار سے کھڑے رہتے ہیں / خزاں میں ہوائیں اس کی چھاتی پر گھونسوں کی طرح چلتی ہیں / اور وہ دکھ سے زرد ہو جاتا ہے / تب سردی آتی ہے / اور درخت کی شاخیں عریاں ہو جاتی ہیں / میرا دل لبھانے کو کہیں سبزے کی دھجی تک نہیں ہوتی/ ننگا درخت /اکیلا اپنے دکھ کے ساتھ/برف اور یخ سردی کے لئے اپنی چھاتی ننگے کیے / بچ رہنے کی امید کے خلاف امید/باندھے رکھتا ہے /یہاں تک کہ بہار آجاتی ہے

نگیار راف بیلی کی کچن کے لئے آخری نظم

ایک رحیم دل کے ساتھ/ایک دماغ جو مستحکم ہو اپنے ہونے کی گہرائی کے ساتھ/ تمہارے خواب نہیں مریں گے / تمہاری سوچیں دھندلی نہیں ہوں گی/ اگر تمہاری روح میں ایک متبرک کرن ہے / اسے ایک دیے کی مانند تھامے رکھو/ اور اپنے چھوٹے کچن سے / تم اس قابل ہو جاؤ گی/ کہ اس عظیم دنیا کو دیکھ سکو۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).