حکمرانوں کی بے تدبیریاں


شیخ سعدی کی ایک حکایت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بار شکار کے دوران نوشیرواں نے اپنے ایک ملازم کو قریبی گاؤں سے نمک لانے کو کہا اور تاکید کی کہ پیسے دے کر لانا۔ لوگوں نے کہا اتنے سے نمک سے کیا ہو گا؟ نوشیرواں نے کہا کہ ظلم کی بنیاد دنیا میں رکھی گئی تو تھوڑا سا ہی تھا پھر جو بھی آیا اس میں اضافہ کرتا گیا اور ظلم اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اگر بادشاہ عوام کے باغ سے ایک سیب کھائے گا تو اس کے نوکر پورے باغ کو جڑوں سمیت اکھاڑ لیں گے اگر بادشاہ پانچ انڈوں کا ظلم جائز سمجھے تو اس کے سپاہی ہزاروں مرغ سیخوں پر چڑھا دیں گے۔

حکمرانوں کی ذرا سی غفلت قوم کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے اس کا بہت ہی شاندار تجزیہ اس حکایت میں کیا گیا ہے بزرگ فرماتے ہیں معمولی گناہ اس لئے نہیں کرنا چاہیے کہ معمولی ہے اس سے کیا ہو گا کیونکہ کبھی معمولی آگ سے پورا گھر جل سکتا ہے اور چھوٹی سی نیکی کو اس لئے نہ چھوڑنا چاہیے کہ یہ تو چھوٹی سی ہے اس سے کیا ہو گا کیونکہ کبھی پانی کا ایک گھونٹ پیاس سے مرنے والے کی جان بچا لیتا ہے۔ ہمارے حکمران چنگاری کو شعلہ بنانے کی خاصی مہارت رکھتے ہیں۔ معاملات میں تساہل سے کام لینا ان کا معمول ہے۔ جس کے نتیجے میں :

اچانک ٹوٹ پڑتی بجلیاں ہیں میرے خرمن پر
برا دن اپنے آنے کی خبر ہونے نہیں دیتا

آزاد کشمیر میں عوام کے جذبات و احساسات کاجو لاوا طویل عرصے سے دہک رہا تھا ایک بہت بڑے دھماکے کے ساتھ پھٹ پڑا۔ ایک سال سے آزاد کشمیر کے لوگ سراپا احتجاج تھے مگر کسی نے ان کی بات نہ سنی تو معاملات اس نہج تک پہنچے۔ 8 مئی 2023 کو راولاکوٹ میں آٹے کے بحران پر لوگ سڑکوں پر نکلے پونچھ عوامی ایکشن کمیٹی بنائی گئی۔

تاہم اگست 2023 میں بجلی کے بل زیادہ آنے پر راولاکوٹ سے شروع ہونے والی یہ تحریک پورے کشمیر میں پھیل گئی۔ حکومت نے بجلی بلز میں پروٹیکٹڈ اور ان پروٹیکٹڈ کی دو نئی اصطلاحات متعارف کروائیں جن کے تحت 200 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کو دوگنا بل وصول ہوا۔ حکومت کے اس اقدام کے خلاف مظفرآباد میں طلبا نے احتجاج شروع کیا جس میں تاجر بھی شامل ہو گئے۔ ادھر پونچھ میں ایکشن کمیٹی نے آٹے کے ساتھ ساتھ بجلی کو بھی موضوع بحث بنا لیا جس کے بعد میرپور بھی اس میں شامل ہو گیا۔ 5 ستمبر 2023 کو پونچھ اور میرپور ڈویژنز میں بھی بھرپور شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہوا جس کے بعد تینوں ڈویژنز کی عوامی ایکشن کمیٹیوں نے مظفرآباد میں 17 ستمبر کو مشترکہ اجلاس میں جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی۔

اس عمل کو سول نافرمانی قرار دیتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کے خلاف حکومت نے دہشت گردی کی ایف آئی آرز درج کیں۔ کریک ڈاؤن شروع ہوا اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ اس کے نتیجے میں مظفرآباد میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہوئیں۔ جب احتجاج وسیع ہوا تو اسے ڈنڈے کے زور پر روکنے کی کوشش کی گئی۔

بجلی کے حوالے سے 19 دسمبر 2023 کو طے ہوا کہ وفاق سے پیداواری لاگت پر بات کر کے معاملات طے کیے جائیں گے۔ اس اتفاقِ رائے کی دستاویز پر ایکشن کمیٹی کے ارکان کے علاوہ حکومتی کمیٹی کے چیئرمین فیصل ممتاز راٹھور، وزیر قانون میاں عبدالوحید نے بھی دستخط کیے تھے، مگر اس پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے لیے نو وزرا پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی۔ مذاکرات کے کئی دور ہوئِے جن میں حکومت کے سامنے یہ دس مطالبات رکھے گئے۔

•آٹے پر گلگت بلتستان کے مساوی سبسڈی دی جائے۔

•بجلی کا ٹیرف کشمیر میں منگلا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے پیدا ہونے والی بجلی کی پیداواری لاگت کے مطابق مقرر کیا جائے۔

•حکمران طبقے اور افسر شاہی کی غیر ضروری مراعات کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
•طلبا یونینز پر لگی پابندی ختم کی جائے اور انتخابات کا انعقاد کروایا جائے۔
•کشمیر بنک کو شیڈولڈ کیا جائے۔
•بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز اور اختیارات دیے جائیں۔
•کشمیر میں سیلولر کمپنیوں اور انٹرنیٹ سروسز کو معیاری کیا جائے۔
•کشمیر میں پراپرٹی ٹرانسفر ٹیکس کو کم کیا جائے۔
•کشمیر میں احتساب بیورو کو فعال کیا جائے اور ایکٹ میں تصحیح کی جائے۔
• مقامی ووڈ انڈسٹری کو فعال بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق 4 فروری 2024 کو حکومت نے بجلی کے نرخوں کے علاوہ باقی تمام مطالبات تسلیم کرتے ہوئے ایک نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا۔ مگر تین ماہ گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا جو احتجاج کی وجہ بنا۔

پوری دنیا میں سول سوسائٹی کے لوگ احتجاج کرتے ہیں۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ جوں ہی آپ کوئی مطالبات کریں تو ایجنٹ ہونے کا الزام لگ جاتا ہے اور خاموش کروا دیا جاتا ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی میں کشمیر کے دس اضلاع سے تین تین لوگ مرکزی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی میں شامل کیے گئے ہیں۔ یہ 30 رکنی کمیٹی ہے جس میں تاجر، وکلا، سول سوسائٹی، کونسلرز اور طلبا شامل ہیں۔

بنیادی طور تحریک کا زیادہ زور چار مطالبات پر رہا، آٹے پر سبسڈی، بجلی پیداواری لاگت پر فراہمی، پراپرٹی ٹیکس میں کمی اور حکمران طبقے کی مراعات اور پروٹوکول کو ختم کیا جائے۔ دشمنوں کو موقع تب ہی ملتا ہے جب اپنوں کے درمیان فاصلے ہوں۔ آج عالمی میڈیا بھی آزاد کشمیر کے مظاہروں کو اہمیت دے رہا ہے اور بھارتی میڈیا کی تو گویا لاٹری نکل آئی ہے وہ ہر واقعہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ تاہم حکومتی سطح پر اس حوالے سے خاموشی ایک بڑی غفلت تھی۔

یہ سیاسی سوچ کے فقدان اور فکری بصیرت کی کمی کا نتیجہ ہے۔ یہ احتجاجی تحریک جس طرح شروع ہوئی، وہ واضح کر رہا تھا کہ عوام مہنگائی اور مہنگی بجلی سے تنگ ہیں۔ حکومت کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ عوامی جذبات کو عملی اقدامات سے ٹھنڈا کرے، نہ کہ طاقت کے استعمال سے دبانے کی کوشش کرے جو اکثر مزید نقصان کا باعث بنتی ہے۔ آزاد کشمیر میں جو کچھ ہوا، اسے بے تدبیری کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے؟ آزاد کشمیر کی حکومت نے یہ سمجھ لیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاملہ خودبخود ٹھنڈا ہو جائے گا۔

حالانکہ عوامی تحریکوں کا موڈ بتا دیتا ہے کہ جلد سرد ہونے والی ہیں یا تادیر چلیں گی۔ جو تحریک عوامی سطح پر چلتی ہے۔ اسے جلد ختم کرنا معاملے کو حل کیے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ آزاد کشمیر میں بے چینی کو ہر ایک نے دیکھا مگر نظر نہیں آیا تو صرف حکمرانوں کو جو اسے پولیس اور انتظامیہ کے سپرد کر کے خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے۔

آزاد کشمیر کی بدحواس پولیس اتنی احتیاط بھی نہیں کر سکی کہ معصوم طالبات کو ہی آنسو گیس کی زد میں آنے سے بچا لے۔ لا تعداد ایسی ویڈیوز دیکھی جا سکتی ہیں جن میں کہیں پولیس والے بہیمانہ تشدد کر رہے ہیں تو کہیں عوام پولیس والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جب لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال انتظامیہ کے ہاتھوں سے نکل جائے تو پھر لیت و لعل سے کام لینے یا حکمرانوں کے خول میں بند رہنے کی بجائے، باہر نکل کر بڑے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

حسرت بھری آنکھوں سے دیکھو نہ مری جانب
بجھتی ہوئی چنگاری بن جاتی ہے شعلہ بھی

عوامی احتجاج کو ریاستی طاقت سے کچلنے کی کوشش کی جائے یا لوگوں کی شکایات کا فوری ازالہ نہ کیا جائے تو ایسی تحریکیں ہائی جیک ہوجاتی ہیں اور کشمیر جیسے حساس ترین علاقے میں تو اس بات کا امکان مزید بڑھ جاتا ہے۔ لہٰذا سیاسی قیادت نے اب دباؤ میں جو کچھ کیا اگر یہ وقت پر کر لیا جاتا تو آج جو سبکی ہوئی وہ نہ ہوتی ہمارے حکمرانوں کو پیاز اور جوتے دونوں کھانے میں شاید مزہ آتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments