انڈیا اور پاکستان میں شادی کے بغیر اکٹھے رہنے کا رجحان


انٹر نیٹ اور موبائل فون کے عام ہونے سے پہلے راقم جب اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کا طالب علم تھا تو وہاں ہمیں اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کی ایک ریسرچ سٹڈی پڑھائی گئی۔ اس میں دعوٰی کیا گیا کہ لوگوں کی مذہب کے ساتھ وابستگی اور ان کے دیگر سخت عقائد کے معاملے میں میڈیا ان کے اذہان میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا۔

آج گیارہ مئی 2024 کو اکبر شیخ اکبر اس نتیجہ پہ پہنچا ہے کہ سوشل میڈیا کی صورت میں جس ”خوفناک بلا“ کا اس وقت دنیا کو سامنا ہے تو یونیسکو ریسرچ سٹڈی کو اپنے اس دعوٰی میں اب لچک لانا ہو گی۔ سوشل میڈیا نہ صرف عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد کو کسی حد تک لامذہب کرتا جا رہا ہے بلکہ اس نے صدیوں سے چلے آنے والے معاشرے کے روایتی رسم و رواج، معاشرتی پابندیوں اور ٹیبوز کو بھی ہلا کر رکھا دیا ہے جس کی تازہ مثال انڈیا اور پاکستان میں شادی کے بغیر لڑکوں اور لڑکیوں میں اکٹھے رہنے کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔

انڈیا اور پاکستان میں نوجوان نسل کی سرگرمیوں پہ نظر رکھنے والے سول سوسائٹی، این جی اوز، ماہرین نفسیات اور میڈیا کے ذرائع بتا رہے ہیں کہ انڈیا میں تو شادی کے بغیر اکٹھے رہنے والے جوڑوں کی تعداد لاکھوں میں چلی گئی ہے اور بمبئی، کلکتہ اور نئی دہلی اس سلسلہ میں سب سے آگے ہیں البتہ پاکستان میں یہ تعداد ہزاروں یا سینکڑوں میں ہے اور روز بروز اس میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں اس طرح کا رجحان اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں سب سے زیادہ ہے تاہم فیصل آباد، حیدر آباد، ملتان اور دیگر شہر بھی اس کی لپیٹ میں آنا شروع ہو چکے ہیں۔

اپنے بہاول پور میں بھی کم عمر لیلٰی مجنوں اور ہیر رانجھے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اور ایک دوسرے سے کندھا جوڑے شہر کے کمرشل علاقوں میں فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کی طرف جاتے نظر آرہے ہوتے ہیں۔ ان لیلٰی مجنوؤں کو کون سمجھائے کہ صرف یونیورسٹی کی ڈگری اور خالی عشق سے پیٹ نہیں بھرتا۔ زندگی کے معاشی سکون کے لیے ہنر اور اسکلز سیکھنا پڑتی ہیں۔ اب کیا کیا جائے کہ کم عمر عاشقوں کا عشق مرشد ہوتا ہے۔

عشق ایسا مرض ٹھیک ہووے ہی نہیں
نسخہ ہر حکیم کا پھانک کر دیکھ لیا
سارے منظر تیرے اندر اکبر میاں
اِک نظر دل میں جھانک کر دیکھ لیا

انڈیا کے کئی نوجوان جوڑے تو اب یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ بغیر کسی جھجک کے اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ شادی کے بغیر اکٹھے رہ رہے ہیں۔ دراصل انڈیا کی آبادی میں بہت زیادہ اضافہ ہو جانے کی وجہ سے وہاں کی حکومت، سول سوسائٹی، این جی اوز اور غربت کی وجہ سے جہیز نہ دے سکنے والے والدین بھی اس رجحان کی خاموش حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

شادی کے بغیر اکٹھے رہنے والے ان نوجوان جوڑوں کا مائنڈ سیٹ یہ بھی ہے کہ فی الحال وہ اولاد پیدا کرنے جیسے ”جھنجھٹ“ میں بھی نہیں پڑنا چاہتے۔ اپنے ملتان میں ایک صاحب نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ کسی کام کے سلسلہ میں ایک دن کے لیے گھر سے باہر جا رہے ہیں تو نلکے پہ چولہے کی راکھ سے برتن دھوتی بیوی نے غصّے سے کہا ”اِ نہاں لوندہاں سِکداں دا خرچہ تیڈا پِیو ڈے تے ویسی“ (ا ِ ن پیارے پیارے بچوں کا خرچہ تیرا باپ دے کے جائے گا کیا) ۔

Facebook Comments HS