مردے کی آنکھیں کھلی تھیں
اچھا، بھلا، پڑھا لکھا، خوبرو، بہت سوں سے اچھا کردار و روزگار، میل ملاپ والا اڑتیس سالہ، چھے بچوں کا باب۔ احساس ذمہ داری داری محسوس کرتے ہوئے ڈبل ڈیوٹی تو اس نے تیسرے بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع کردی تھی، رات کو کبھی گھر آ جاتا کبھی وہاں ہی روکھی سوکھی لے کر سر چھپا لیتا۔
مل مالک نے مزدورں کی بھلائی کے لیے خدا خوفی کرتے ہوئے تیزابی پانی کے اخراج والی طرف ایک لمبا سا ڈھارا جانوروں کے باڑے کی طرز کا بنایا ہوا تھا، مچھر مکھی ویسے ہی ڈبل شفٹ والوں سے دور رہتے ہیں۔ تیزابی بدبو کی وجہ سے ویسے بھی مچھر وغیرہ ڈھارے میں کم ہی آتا تھا۔
آج گھر سے نکلتے وقت رات کو آنے کا کہہ کر گیا تھا، رات کو آنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ پانچ سالہ بیٹی کی سالگرہ تھی اور وہ کیک کی شدید ضد کر رہی تھی، اسی سے رات گھر آنے کا وعدہ کر رہا تھا۔ گھر سے نکلتے وقت بیگم بیگم نے بجلی اور گیس کے بل بھی پکڑا دیے یہ کہتے ہوئے کہ ”پچھلے ماہ بھی جمع نہیں ہو سکے تھے، اب نہ ہوئے تو کاٹ دیں گئے“ ۔
رات کو نہیں آیا، گھر والوں نے سوچا تھک ہار کے وہاں ہی سو گیا ہو گا۔ اس کے دماغ میں کوئی اور ریل چل رہی تھی، اس کا پتہ تو تب چلا جب الصبح گاؤں حرکت میں آئی۔
آج رات اچھو کام سے واپس تو آیا پر گھر نہیں، اپنے ہی گاؤں سے تین فرلانگ دور شیشم کا درخت جہاں کبھی بچپن میں سارا سارا دن کھیلا کرتا تھا، اسی شیشم کے درخت کے ساتھ لٹک کر اس نے خود کشی کر لی۔
گردن، بازو ٹانگیں لٹک گئے، نیلے نیلے پاؤں زمین سے سات فٹ اوپر، ایڑیاں جڑی ہوئیں، پاؤں مخالف سمتوں میں گھوم گئے، آنکھیں بند کرنے والا وہاں تھا کوئی نہیں، کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
اللہ جانے رات کس وقت کا وقوعہ تھا، عام طور پر دوسری شفٹ رات بارہ بجے ختم ہوتی ہے، شفٹ کے خاتمے کے بعد ہی ہوا ہو گا، اندھیرے کی وجہ سے اس کو کچھ نظر آیا نہ وہ کسی کو ۔
چونکہ اس کی آنکھیں کھلی تھیں لو لگی تو اس نے دیکھا۔
گاؤں میں حرکت شروع ہو گئی، لوگ دھیرے دھیرے بستی کے چاروں طرف اپنے اپنے موہاڑ (طرف) نکلنے لگے۔ وہ دیکھتا رہا کب کوئی میری طرف آئے، مجھے دیکھے، پھر دوڑتا، ڈرتا، ہانپتا، کانپتا گاؤں کی طرف جائے یہ بتانے کے لیے کہ ”اچھو! نے خود کشی کر لی ہے“ ۔
وہی ہوا جب پہلے بندے کی نظر اچھو کی لٹکی لاش پر پڑی، وہ ایک دم ڈر کے مارے لوٹا، چند ہی قدم دوڑا تھا، سوچنے لگا دیکھوں تو سہی ’ہے کون‘ ؟ واپس مڑا، قریب پہنچا ’اوہ۔ اچھو! تم‘ وہ اس کا محلے دار اور ہم عمر یہ تھا۔
اچھوں نے دیکھا کہ یہ کہتے ہی اس کا محلے دار، گاؤں والوں کو بتانے کے لیے دوڑ پڑا۔ کوئی فرلانگ کے قریب بھاگا، اس کو اپنے دیکھے ہوئے پر سے یقین اٹھ گیا، سوچا ضرور آنکھوں نے کوئی سپنا دیکھا ہے، اچھو ایسا نہیں، ایک دم رک گیا۔ اپنے سے سوال کرتا ہے، واقع ہی کوئی لٹکا ہوا تھا؟ مرا ہوا تھا؟ اچھو ہی تھا؟ ایک بار پھر دیکھتا ہوں۔ سہ بارا شیشم کے درخت کی طرف دوڑ پڑا۔
پھر اور قریب آ کر دیکھا، چاہا کہ ہاتھ لگا کے دیکھوں، ڈر گیا، مڑ کے گاؤں کا رخ کر لیا۔ تھوڑا سفر کرتا، واپس مڑ کے دیکھتا، جیسے اس کو ڈر تھا کہ لٹکا ہوا درخت سے اتر کر چلا نہ گیا ہو یا ایسا نہ ہو کہ اتر کر میرے پیچھے نہ لگ جائے۔ کھلی آنکھوں کی وجہ سے اچھو یہ سارا کچھ دیکھ رہا تھا۔
اچھو لٹکا لٹکا سوچنے لگا، اب میرے گھر والوں کو پتہ چلے گا، کیا گزرے گا میرے بوڑھے باپ پر جو ابھی ابھی نماز پڑھ کے آیا ہو گا، اچانک موت کی خبر سے کہیں مر ہی نہ جائے۔
اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے ”خیر کوئی بات نہیں، اس پر جو گزرتی ہے گزر لے، جو ہوتا ہے ہو لے، مجھ پر بھی گزرتی تھی، مجھے بھی ہوتا تھا، جب ابا کہتا تھا ’کھانسی رات بھر سونے نہیں دیتی، دوائی لے دو ‘ ۔ میں کہتا تھا میرے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں، اگر یکم کو سیٹھ نے تنخواہ دی تو دوائی لے دوں گا، ورنہ دس کے بعد ۔
میں اتنی سی بات کون سا سوکھے (آسان) سانسوں کہہ لیتا تھا، یہ کہتے ہوئے میری بھی جان نکلتی تھی۔ والد میری خودکشی پر دکھی ہوتا ہے تو ہو لے، میرے دوائی نہ لانے سے پہلے بھی تو وہ دکھی رہتا تھا۔
آنکھوں کے سامنے باپ والی کہانی چل ہی رہی تھی کہ ایک دم اس کو ماں یاد آ گئی۔ اس کی عمر، جوڑوں کے درد، اکیلے بیٹے کا صدمہ، ساتھ چھوٹے چھوٹے پوتے پوتیاں، جوان بہو، ہر ایک کے حال اور مستقبل کے دکھوں کی بڑی جلد والی پوری پوری ایک ایک کتاب۔
سب کچھ سوچ سوچ کر مرنے لگا، پھر اپنے آپ سے کہتا ہے ”یہ سب کچھ تو میں نے خود کشی سے پہلے ہی سوچ لیا تھا، اب اس کے لیے پریشان ہونا کیا معنی، ’ساتھ ہی کہتا ہے جو بھی ہے“ سب سہ لیں گے پر سفید بالوں والی بڑھیا، اب نہیں بچے گی ”۔
پھر اچھو کو یکے بعد دیگرے اپنے گھر والے سارے یاد آنے شروع ہو گئے۔ بہت پریشان، وہ مرنے کے بعد بھی ہر کسی کا سامنا کرنے سے ڈرتا تھا پھر سب کی محرومیوں کو یاد کر کے اپنے کو حوصلہ دینے کی کامیاب اور کچھ ناکام کوششیں کرتا، ان کوششوں میں ایک یہ بھی تھی کہ ”زندگی میں بھی میں ان کی ضروریات پوری نہ کر سکنے کی وجہ سے ان کے سامنے سے کتراتا رہا ہوں، انکے گڈیاں پٹولے (بیٹیوں کے کھلونے ) ہی تھے جو ہولے ہولے بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے میری قوت خرید سے باہر ہو گئے“ ۔
اپنے کو سمجھانے کی ساری کوششوں میں ناکام ہی رہا۔ اس ناکامی کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی تھا۔ کیونکہ وہ ایک بہادر آدمی تھا اسی لیے تو اہل خانہ کی سب محرومیوں کی وجہ اپنے آپ ہی کو ٹھہراتا تھا، درمیان میں کبھی کبھی سرکار کو کوس دیتا، پھر نالی اپنی طرف کر کے آخری فائر یہ کہہ کے کر دیتا کہ اگر ”سرکار بے حس تھی تو میں نے کیوں نہ احتجاج کیا؟ حقوق کے لیے کیوں نہ بولا؟ میں پڑھا لکھا تھا، میرے ساتھ دوسروں کا بھی بھلا ہوتا؟
کیوں نہ میں نے ڈنکی لگا لی؟ مرنے سے ڈرتا تھا، آج بھی تو مرا ہوں، ہو سکتا ہے ڈنکی کامیاب ہوتی، باپ کی کھانسی ٹھیک کروا لیتا، بچے محکوموں والے سکولوں سے اٹھا کے حاکموں والے سکولوں میں داخل کروا لیتا، بیٹیوں کے لیے ولائتی گڈیاں پٹولے لے آتا، چلو کوئی بات نہیں اب وقت ختم ہو گیا ہے۔ چلو میرے لیے نہ سہی ہو سکتا ہے دوسروں کے لیے ’سب کا اللہ مالک ہے‘ والی بات صحیح ہو۔
اپنوں کے سامنے شرمندگی سے بچنے کے لیے اس کی دلیری رکاوٹ تھی، بزدل ہوتا تو گھر کی محرومیاں کو کسی اور کے کھاتے ڈال کر خود لمبا جیتا، خود کشی کی شرمندگی سے بھی بچا رہتا۔
گھر کے افراد کا غائبانہ نظارہ اس کی کھلی آنکھوں کے سامنے ابھی مکمل ہوا ہی تھا کہ گاؤں سے لوگ نکل کر اس کی لٹکی ہوئی لاش کی طرف بڑھنے لگے۔
اس نے دیکھا جو گاؤں سے باہر سب سے پہلے نکلا وہ اس کی ماں تھی، اس کے پیچھے پیچھے اس کی بیوی، بچے، باپ اور ان گنت لوگ۔ موقع واردات پر سب سے پہلے اس کی بیوی پہنچی، جو اس کی لاش پر سب سے بعد میں پہنچا وہ وہی تھی جو گھر سے سب سے پہلے نکلی یعنی ’ماں‘ ۔
بوڑھی بے چاری، الجھے سفید بال، چلتی کیا؟ کمزور ٹانگیں اور اوپر سے آنسوں کا ہاڑ اسے کچھ نظر ہی نہیں آنے دے رہا تھا، راستے میں دو تین بار گری، کئی بار گرتے گرتے بچی، کھیتوں میں تقسیموں کو اوپر بیٹھ کر پار کرتی۔
’ اچھو‘ نے دیکھا، ماں پہنچ گئی، کچھ بولی نہ روئی، آنسو سارے تو راستے میں بہا آئی تھی، دیدے پھاڑے، ٹیڑھی میڑھی کھڑی رہی، چادر تو کہیں راستے میں ہی، پتہ نہیں گھر سے نکلتے وقت لی بھی تھی یا نہیں۔
پلوں میں بات گاؤں سے نکل کے چلوکے (چاروں طرف) میں پھیل گئی۔ اردگرد کے دیہات نے جائے واردات کا رخ کرنا شروع کر دیا۔
بیوہ، بچے مرحوم کے بہن بھائیوں کی حالت زار بس کیا بتائیں۔ لاش تو زمین سے سات فٹ اونچی تھی، بس سارے لواحقین شیشم کے تنے سے لپٹ لپٹ کے دھاڑ رہے تھے، سالگرہ والی اور اس سے بڑی کے ہاتھ منہ کیک سے بھرے ہوئے تھے، وہ کھڑیں کھڑیں بے دھیانی میں کسی کسی وقت میٹھے ہاتھوں کو چاٹنا شروع کر دیتیں۔
اچھو نے محسوس کیا، چھوٹیوں کو کوئی پتہ نہیں کیا ہوا ہے، وہ اپنی ماں اور بڑے بہن بھائیوں کو روتا ہوا دیکھ کر روتیں تھیں۔ سالگرہ والی بیٹی نے روتی ہوئی ماں کو کئی بار کہا ”گھر چلیں، کیک سارا ختم نہیں ہوا، میں نے کھانا ہے“ ۔
باپ کسی کی مدد سے موقع پر پہنچ تو گیا، جاتے ہی اسی منحوس کھانسی کا دورہ پڑا جس کی دوا خرید نہ سکنے کی سکت کا بھی اس منحوس گھڑی میں حصہ تھا۔ پہنچتے ہی کٹی ہوئی گندم کے کانٹوں والے کھیت میں لیٹ گیا، بہت سوں نے شور کیا ”نیچے کانٹے ہیں“ اسے کوئی اثر نہ ہوا وجہ بے ہمتی یا شاید اس کو ان کانٹوں کی چبھن کی نسبت ایک بہت بڑا کانٹا چبھ چکا تھا۔
آج کے سارے کانٹے اس کانٹے کے آگے ہیچ تھے، لیٹے لیٹے لٹکی لاش پر نظر ڈالی، وہ نظر لمحے سے زیادہ نہیں تھی، منہ سے کچھ بڑبڑایا پھر دوسری طرف موڑ لیا۔ باپ کی بڑبڑاہٹ کو اچھو نے اس کے ہونٹوں کی حرکت سے سمجھ لیا، وہ کہ رہا تھا ”میری باری تم نے لے لی“ ۔
مرحوم اچھوں نے ایک نظر سارے مجمعے پر ڈالی، چھ سات شیشم کے تنے سے لپٹے نظر آئے، سوچتا ہے یہ پتہ نہیں کیوں رو رہے ہیں، چلو چھوٹے ناسمجھ ہیں وہ پریشان رہیں، بڑوں کو تو پتہ ہے، میں ان کے لیے مفید نہیں، دو دو ڈیوٹیاں نبھائیں پھر بھی ان کی ضروریات پوری نہ کر سکا۔ کیا بیٹیاں بھول گئیں ہیں کہ میں نے فیس نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیم روک لی تھی، بلکہ ان کی پڑھنے کی ضد پر ان کو ڈانٹا بھی تھا، کئی ماہ وہ مجھ سے چھپ چھپ کے روتیں بھی رہیں، پھر بھی ان کو آج رونا آ رہا ہے؟
اچھو کی نظر، غم سے نڈھال، چادر بغیر، موسم اور غیر محرم تماش بین مردوں کی موجودگی سے بے نیاز اپنی بیوی پر گئی۔ اس کو بہت ترس آیا، اس نے چاہا کاش میں اس کو گلے لگا کر رو سکوں، اس کو سب کچھ بتا سکوں۔ کاش میں اس کو خود کشی سے پہلے بتا دیتا، اپنی وہ ساری مجبوریاں سنا دیتا جن کا اس کو کچھ کچھ اندازہ ہے۔ کچھ اندازہ کروا دیتا۔
پھر دل کو سمجھانے لگ گیا، چلو اگر یہ نہیں کر سکا تو کوئی بات نہیں، میرے مشورے و فیصلے کون سا درست ہوتے ہیں۔ اگر درست ہوتے تو میں زندگی میں ایک کامیاب آدمی کار، کوٹھی والا بن کر سامنے آتا، بچوں کو اعلی تعلیم دلواتا۔ اچھا ہی ہوا ان کو مشورے دے کر نہیں مرا، ہو سکتا ہے کہ یہ اپنی عقل سے کام لے کر اپنے لیے کچھ بہتر کر لیں، اتنا بہتر کافی ہے کہ ان کو خود کشی نہ کرنی پڑے۔
جاری ہے


