خیبر پختون خواہ کے طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچایا جائے
پاکستان میں بد قسمتی سے ہر شعبہ تنزلی کا شکار ہے۔ ہمارا نظام تعلیم جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث صرف کاغذی ڈگریاں ہی تقسیم کر رہا ہے۔ دنیا میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی سب سے زیادہ تعداد پاکستان میں ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ جس کی بڑی وجہ تعلیم کا حکومتی ترجیحات میں شامل نہ ہونا ہے۔
خیبر پختون خواہ کے مختلف کالجز میں زیر تعلیم طلبہ بھی عدم توجہی کی ایسی ہی صورت حال سے دو چار ہیں۔ یونیورسٹی آف پشاور سے ملحقہ کالجز میں امتحانات کا بروقت انعقاد نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ پہلا سمیسٹر مکمل ہونے کے طلبہ سرکاری و حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کر کے امتحانات کے انعقاد کے لیے عرضیاں کر رہے ہیں۔
ایڈورڈز کالج پشاور میں زیر تعلیم قانون کے طالب علم دانیال اشفاق نے بتایا کہ نومبر 2023 میں ان کے پہلے سمیسٹر کا آغاز ہوا جس کے اختتام پر رواں سال فروری میں امتحان ہو جانا چاہیے تھا۔ فروری کے آخر میں کالج سے فارغ ہوئے تھے۔ گزشتہ اڑھائی مہینوں سے وہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے امتحانی شیڈول جاری ہونے کے منتظر ہیں۔ لیکن امتحانات کا انعقاد تو درکنار تاحال تاریخ کا اعلان بھی ممکن نہیں ہو سکا۔ ایک دوسرے طالب علم قاضی اظہر داوڑ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی آف پشاور میں مختلف شعبوں کے امتحانات بر وقت لیے جا چکے ہیں وہاں زیر تعلیم طلبہ کا مارچ میں دوسرے سمیسٹر کا آغاز بھی ہو چکا جس کا ڈیڑھ ماہ بعد اختتام ہو جائے گا اور جون کے آخر میں امتحانات متوقع ہیں۔ اس طرح جامعہ پشاور کے طلبہ اور ملحقہ کالجز میں زیر تعلیم طلبہ میں امتیاز برتا جا رہا ہے۔
جامعہ پشاور سے الحاق شدہ مختلف کالجز کے طلبہ امتحانات میں تاخیر کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔ جن میں گورنمنٹ ڈگری کالج حیات آباد، گورنمنٹ کالج پشاور، ایڈورڈز کالج، فرنٹیئر لاء کالج، اسلامیہ لاء کالج، مردان لاء کالج، شپیریئر سائنس کالج اور جناح لاء کالج جیسے نامی گرامی تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں۔ دانیال اشفاق نے یہ بھی بتایا کہ ہر طالب علم نے 70 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے تک فی سمیسٹر فیسیں ادا کر رکھی ہیں۔
ایڈورڈز کالج میں لاء، کمپیوٹر سائنس، انگلش، بزنس ایڈمنسٹریشن اور پولیٹیکل سائنس کے شعبوں کے سینکڑوں طلبہ امتحان میں غیر معمولی تاخیر کے باعث بے چینی کا شکار ہیں۔ امتحانات میں تاخیر کے اس سلسلے کا آغاز کورونا کی وبائی صورتحال میں لاک ڈاؤن کے باعث ہوا تھا۔ جس کے بعد امتحانات وقت پر نہ ہونے سے الحاق شدہ کالجز کے طلبہ کو ڈگری مکمل کرنے میں دو سال تک تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ طلبہ نے احتجاج بھی کیے جس کے نتیجے میں آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
متاثرہ طلبہ نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے استدعا کی کہ جامعہ پشاور کی انتظامیہ کو امتحانات میں غیر معمولی تاخیر سے پیدا ہونے والے گیپ کو کور کرنے اور یونیورسٹی و ملحقہ کالجز میں زیر تعلیم تمام طلبہ کے امتحانات ایک ہی وقت پر لینے کا پابند بنایا جائے۔ عدالت عالیہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو امتحانات کی تاریخ مقرر کر کے اس مسئلہ کو فوری حل کرنے کا حکم بھی جاری کیا جس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے جمعیت طلباء اسلام یونیورسٹی کیمپس پشاور کے صدر محمود صالح نے کہا کہ ان کی تنظیم متاثرہ طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے۔ طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ پشاور کی انتظامیہ کی بے پرواہی کے باعث طلبہ کا وقت ضائع ہو رہا ہے کیوں کہ پشاور یونیورسٹی سے منسلک کالجز میں امتحانات تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔ جمعیت طلباء اسلام یونیورسٹی کیمپس پشاور جامعہ پشاور کی انتظامیہ سے جلد از جلد امتحانات کے انعقاد کا مطالبہ کرتی ہے بصورت دیگر طلبہ احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔
جامعہ پشاور کے پبلک انفارمیشن افسر سے معلومات تک رسائی کے ایکٹ کے تحت بذریعہ ای میل اس حوالے سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم دس دن گزرنے تک انہوں نے جواب ارسال نہیں کیا۔
متاثرہ طلبہ کے ایک گروپ نے اعلٰی تعلیم کے صوبائی وزیر سے ملاقات کی جس میں مینہ خان نے طلبہ کو مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ بہت جلد جامعہ پشاور کے وائس چانسلر سے ملاقات کر کے امتحانات کے انعقاد کے متعلق معاملات کا جائزہ لیا جائے گا اور طلبہ کے وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ طلبہ نے جامعہ پشاور کے اسسٹنٹ رجسٹرار سے بھی ملاقات کی طلبہ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ کچھ مالی مشکلات کے باعث امتحانات تاخیر کا شکار ہیں اور چند کالجز نے ابھی تک فارم بھی ارسال نہیں کیے۔
متاثرہ طلبہ کے والدین بھی امتحانات میں تاخیر کے باعث پریشانی میں مبتلا ہیں ان کے مطابق تعلیم پر آنے والے اخراجات کو بہت مشکل سے پورا کرتے ہیں۔ پھر مقررہ وقت پر بچوں کے امتحانات کا انعقاد ممکن نہ ہونا تشویش میں مبتلا کرنے والا امر ہے۔ حکومت اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ فوری طور پر امتحانات کا انعقاد کر کے بچوں کی پریشانی کا ازالہ کریں۔


