لوک سبھا انتخابات کا چوتھا فیز


بھارت میں لوک سبھا ( لوئر ہاؤس ) انتخابات کا چوتھا مرحلہ آج 13 مئی کو انجام کو پہنچا۔ گزشتہ ہفتے 7 مئی کو تیسرے فیز کے دوران موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گاندھی نگر کے حلقے میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

الیکشن کے چوتھے مرحلے کے دوران مشہور ویٹرن اداکار شترو گھن سنہا اویسٹ بنگال کے علاقے آسانسول سے میدان میں اتریں گے۔ جبکہ ساؤتھ میں تلنگانہ سے مجلس اتحاد المسلمین کے اویس الدین اویسی کے چناؤ پر بھی مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کی گہری دلچسپی ہے۔ اویسی اس سے پہلے چار مرتبہ یہاں سے الیکشن جیت چکے ہیں اور 2022 میں انہیں ”بہترین پارلیمنٹرین“ قرار دیا گیا تھا۔ ادھر سابق بھارتی کرکٹر یوسف پٹھان بہرام پور حلقے سے (ٹی ایم سی) کی جانب سے قسمت آزمائیں گے۔ ہماچل پردیش کے منڈی حلقے سے مشہور بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔

2019 میں ہوئے لوک چناؤ کے برعکس اس مرتبہ ووٹر ٹرن آؤٹ قدرے کم ہے، جس نے بی جے پی اتحاد این ڈی اے کے ”400 پار ’کے دعوے پر شک کا سایہ ڈال دیا ہے۔ دوسری جانب مودی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر میں ہونے والا یہ پہلا الیکشن ہے۔

مذکورہ انتخابات میں تقریباً 13.4 ملین اوورسیز بھارتی اپنے ووٹ رجسٹریشن کے بعد بھارت آ کر الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔

موجودہ لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی اتحاد جواہر لعل نہرو کے تین مرتبہ انتخابات جیتنے کا ریکارڈ برابر کر کے مودی کو وزارت عظمیٰ کے پتھ پر بٹھانے کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ اس کوشش میں پرائم منسٹر مودی۔ ہر ممکن حربے اور جتن سے ووٹرز کا دل جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مودی گورنمنٹ بین الاقوامی سطح پر بھارت کے بڑھتے اثر و رسوخ، معاشی بڑھوتی کی تیز شرح اور عوام کو دیے جانے والے مراعاتی پیکجز کی بڑی چرچا کر رہے ہیں۔ اس بار الیکشن مہم کے دوران مودی دَل! 800 سو ملین غریب اور پسماندہ ترین بھارتیوں کو مفت اناج اور خواتین کے لیے 1250 روپے ماہانہ کیش دینے کا اعلان کر چکا ہے۔

ادھر کانگریس بھی عوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے انہی خطوط پر خواتین کی ماہانہ کیش پیمنٹ میں اضافے کے علاوہ بے روزگار بھارتی نوجوانوں کے تین ملین جابز اور اپرنٹس شپ ٹریننگ کے مواقعوں کا اعلان کر چکی ہے۔ جنتا کو رجھانے کی یہ دوڑ ریجن ٹو ریجن درپیش مدعوں کے گرد گھومتی ہے۔

لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی اتحاد ( این ڈی اے ) اپنے روایتی مذہبی بنیاد پرستی کے نعرے کو بھی پوری شد و مد کے ساتھ دہرائے چلا جا رہا ہے۔ ایودھیا میں رام مندر کی نامکمل عمارت کے افتتاح سے نریندر مودی نے پاپولسٹ ہندوتوا کارڈ کھیل کر ہندو اکثریتی ووٹ کو اپنی جانب راغب کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔

یاد رہے کہ بی جے پی اقتدار میں شاندار واپسی کے بعد مذہبی بنیادوں پر تخصیص کی وجہ بننے والے شادی اور وراثت کے قوانین کو بدلنے کا عندیہ دے چکے ہیں، جس وجہ سے مسلمان اور دیگر قبائلی اقلیتوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ بھارت میں سب سے بڑی مسلم اقلیت ( 204 ملین) بنیاد پرست ہندو سیاست کے ہاتھوں زخم خوردہ ہے۔ گاؤ رکشا اور ”لو جہاد“ کی آڑ میں مسلم کمیونٹی کے خلاف متعصبانہ سلوک اور ”موب لانچنگ“ کے واقعات تواتر سے ہوتے رہے ہیں۔

بی جی پی اور دیگر رائیٹ ونگ شدت پسند تنظیموں کی جانب مسلمانوں کے علاوہ کریسچنز اور سکھوں کے بارے بھی سخت گیر جذبات پائے جاتے ہیں اور اسی بنیاد پر انتخابی حلقہ بندیوں کی چھیڑ چھاڑ کے ذریعے اقلیتی ووٹوں کو غیر موثر کی منظم کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔

جاری الیکشنز کے دوران بھی متنازعہ سٹیزن ترامیمی ایکٹ کا معاملہ اہمیت کا حامل ہے، اس قانون کے تحت ہندووں، سکھوں، کریسچنز اور بدھسٹ کے ساتھ مسلمانوں سے الگ برتاؤ پر مسلم اقلیت میں پریشانی پائی جاتی ہے۔

80 فیصد ہندوؤں کے اکثریتی ووٹ کی طاقت کے بد مست تصور نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت، بھارت کے تکثیری سیکولر تشخص کو زبردست دھچکا لگایا ہے۔ بی جے پی کا سیاسی فلسفہ بھارت کو (اکثریتی) آٹو کریٹیک ماڈل کی جانب دھکیل رہا ہے، صورت حال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ انتخابی دنگل میں مودی کی مدمقابل! راہول گاندھی کی کانگریس بھی کھل کر دائیں بازو کی سیاست کی مخالفت سے اعراض برت رہی ہے۔ وجہ یہاں بھی وہی ہے! ہندو اکثریت کی خوشنودی اور ووٹ حاصل کرنا۔

4 جون کو حتمی نتائج کے اعلان کے بعد بھارت کے حکمران اتحاد کا فیصلہ ہو جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ مودی اپنی جیت کی ہٹ ٹرک کرنے میں کامیاب ہوں گے یا کسی غیر متوقع کامیابی کی صورت میں کانگریس اتحاد (انڈیا) فتحیاب ہو کر مودی کی جیت کو بریک لگانے میں کامیاب ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS