گندم اور کپاس کا بحران: کسان رُل گیا
حکومت گندم کی فصل سرکاری نرخوں پر خریدنے میں ناکام رہی ہے جس نے ملک کے ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہلچل پیدا کردی ہے گندم کی خریداری نہ کر کے حکومت نے نہ صرف کسانوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے بلکہ آنے والے دنوں میں کپاس کی کاشت بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، حکومت کی پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے کسان رُل گیا ہے۔
جب پاکستانی گندم مارکیٹ میں تیار ہو کر آ چکی تھی اس وقت امپورٹڈ گندم کا آخری جہاز پاکستانی بندرگاہ پہ لنگر انداز ہوا اس وقت سندھ کی گندم مارکیٹ میں آ چکی تھی لیکن حکومت نے وہ گندم نہیں خریدی پھر پنجاب اور دیگر صوبوں کی گندم بھی نہیں خریدی حکومت نے بیانات کی حد تک ٹارگٹ سیٹ کیا اور بیانات کی حد تک باردانہ بھی تقسیم کر دیا مگر کسان کی گندم اس کے کھیت میں رلتی رہی اس وقت کسانوں کے پاس کپاس سمیت اگلی فصل کے لیے بیج، کھاد، سپرے اور دیگر زرعی سامان خریدنے کے لیے پیسے ہی نہیں ہیں۔
دوسری طرف فروری مارچ میں درجہ حرارت میں غیر متوقع کمی نے گندم کے پکنے اور اس کی کٹائی میں تاخیر کی وجہ سے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کپاس کی کاشت کے لئے زمین تیار نہیں۔
پاکستان ہر سال مجموعی طور پہ اسی سے نوے لاکھ بیلز پیدا کرتا ہے، لیکن موجودہ حالات میں تقریباً دس لاکھ بیلز مزید کم پیدا ہونے کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے، یعنی حکومت کے سیٹ کردہ ٹارگٹ سے پچاس لاکھ بیلز کم۔ جبکہ پاکستانی ٹیکسٹائل شعبے کی ضرورت ایک کروڑ تیس لاکھ بیلز سے زیادہ ہے یہ ایک بہت بڑا فرق ہے جس کا سامنا ٹیکسٹائل سیکٹر کو کرنا پڑے گا۔ اور اس فرق کو ختم کرنے اور اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کپاس کی پچاس لاکھ بیلیں برآمد کرنی پڑیں گی جبکہ پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ہے جس کی زراعت تباہی کے دہانے پہ ہے۔
2022 میں بھی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ملک میں تقریباً بیس لاکھ بیلز کم پیدا ہوئیں تھیں دوسرا کرونا نے بھی ٹیکسٹائل سیکٹر کو بہت زیادہ متاثر کیا تھا، کرونا اور بے وقت بارشوں کی وجہ سے پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر پہلے ہی سکڑ چکا ہے اور تقریباً پچاس لاکھ کے قریب مزدور اس وقت بے روزگار ہوئے تھے۔
پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر جی ڈی پی کا تقریباً 8 فیصد پورا کرتا ہے اگر کپاس کی کاشت بروقت نہ ہوئی اور حکومت کا سیٹ کردہ ٹارگٹ حاصل نہ ہوا تو پہلے سے ہی دباو کا شکا ر جی ڈی پی اور سکڑ جائے گی، پاکستانی روپے پر دباؤ بڑھے گا، مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا خاص طور پر ٹیکسٹائل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔
جہاں کپاس کمی کی وجہ سے ٹیکسٹائل سیکٹر متاثر ہو رہا ہے وہیں کاٹن سیڈ آئل جو کہ ایک عام خوردنی تیل ہے، کپاس کی خراب فصل کوکنگ آئل کی درآمدات میں بھی اضافہ کرے گی جو اضافی غذائی افراط زر کا باعث بنے گی۔
اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو پاکستان کو کپاس کی مجموعی طور پہ چالیس سے پچاس لاکھ بیلز اور کاٹن سیڈ کی کمی کا سامنا کرنے پڑے گا جس کو درآمد کرنے پہ کروڑوں ڈالر کا خرچہ آئے گا اور پاکستان کے درآمدی بل میں مزید اضافہ ہو گا۔
دوسری طرف اگر بات کی جائے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کیوں تباہ ہو رہا ہے تو جہاں موسمیاتی تبدیلی اور گندم کی خریداری کی وجہ سے کپاس کی فصل تاخیر کا شکار ہے وہیں شوگر ملز کی بہتات نے بھی کپاس کی پیداوار کو متاثر کیا ہے کیونکہ جب شوگر ملز میں اضافہ ہوا تو کسانوں نے کپاس کاشت کرنا کم کر دی ہے اور گنا کاشت کر شروع کر دیا ہے کیونکہ کپاس کو سپورٹ پرائس نہیں ملتی جبکہ گنے کو بہت جلدی سپورٹ پرائس مل جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملتان، رحیم یار خان، ڈی جی خان، خانیوال، بہاولپور، بہاولنگر، مظفر گڑھ سمیت کئی علاقے جہاں کپاس کاشت کی جاتی تھی، آج وہاں ہزاروں ایکڑ گنا کاشت جاتا ہے، اس کے علاوہ اندرون سندھ کے ایریا میں بھی جہاں پہلے کپاس کاشت ہوتی تھی وہاں بھی گنا کاشت کیا جا رہا ہے جس سے کپاس کا کاشت کار بے حال ہو رہا ہے اور پاکستان کاٹن برآمد کرنے والے ملک سے درآمد کرنے والا بن گیا ہے۔
حکومت کو فوری طور پر یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا اسے کپاس کے بڑھتے ہوئے بحران سے بچنا ہے یا نہیں، کیونکہ پاکستان پہلے سے ہی مشکلات سے دوچار معیشت ہے جس کے لئے یہ نیا چیلنج ہو گا اس کے علاوہ کسان بھی مزید تباہ ہو گا اور پاکستان کی زراعت پہلے ہی تباہ ہو چکی ہے مزید تباہ ہو گی۔


