پاکستان میں ’الیکٹریکل اسکوٹرز‘ کا سونامی


الیکٹریکل اسکوٹر کو پہلی دفعہ دو ہزار دس میں کمبوڈیا میں دیکھا تھا۔ دیکھنے میں ’اسٹائلو‘ ، استعمال میں آسان، وزن میں ہلکی اور رنگوں میں رنگین۔ پچھلی طرف ایک چھوٹی سی ’ڈگی‘ جو سامان رکھنے کے لئے کارآمد۔ علاوہ ازیں پاؤں ٹکانے کو پائیدان۔ جس کی وجہ سے ٹانگوں اور پیروں میں تھکن نہیں اترتی۔ اور تین پہیوں کی بدولت توازن بھی بہتر ہے۔ اور اہم ترین یہ کہ بجلی یعنی بیٹری سے چلتی تھیں۔ شور تو کوئی ہے ہی نہیں۔ پاس سے گزریں تو پتہ نہ چلے۔ جس سے کم ازکم ہوا اور شور کی ماحولیاتی آلودگی میں کمی میں کوئی حصہ داری تو ہو گی۔

اور سب سے بڑی بات خواتین اور لڑکیوں کے لئے انھی خصوصیات کی وجہ سے زیادہ آسان بھی ہے۔ شاید اسی لئے اس ملک میں خواتین کی بھاری اکثریت اسی کو سفر کے لئے ترجیح دیتی ہے۔ تب یہ سوچ آئی تھی کہ پاکستان میں ان کا رجحان ہونا چاہیے۔ جہاں ون۔ ٹو۔ فائیو، اور یاماہا جیسی موٹر سائیکلوں کو تو صنف نازک کسی وقت دور سے سلام کرتی تھیں۔ اگر یہ ہوں تو رکشوں، چنگی چی، ناکافی، غیر معیاری پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ اور ساتھ ہی روز روز کے معاشی، جذباتی استحصال میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے جنسی ہراسانی کے ان تلخ تجربات میں بھی کمی آئے جو ہر روز گاڑیاں اترتے، چڑھتے، ڈرائیوروں، مسافروں کے ہاتھوں اور نظروں سے سہتی ہیں۔ اور ہمارے ماحول پر اس کا مثبت اثر ہو گا۔

برسوں بعد دو ہزار بیس میں، الیکٹریکل اسکوٹر پاکستان میں دیکھی۔ ایک خاتون سعودیہ سے آئیں۔ شوہر دیار غیر میں ہی تھا۔ بیوی کی آسانی کے لئے وہ ایسا اسکوٹر اسے خرید کر دے گیا۔ تب قیمت ایک لاکھ تک تھی۔ خاتون چلانا نہیں جانتی تھی۔ لیکن دو دن میں پر اعتماد ہو گئیں۔ پہلے بچے کو چھوڑنے کراٹے کی تربیتی کلاس کے لئے رہائشی کالونی کے اندر آنے جانے لگیں۔ پھر نوکری کی، تو خوفزدہ تھیں کہ مرکزی شاہراہ اور ٹریفک میں کیسے جاؤں گی لیکن پھر کسی دوست کے ہمت بندھانے پر وہ بھی ہو گیا اور وہ آج تک وہ اپنی اس دوست کے مشورہ کے لئے شکر گزار ہے۔

آہستہ آہستہ اس رجحان کو فروغ ملا۔ اکا دکا نظر آنے والی موٹر سائیکلوں میں اضافہ ہو گیا۔ لڑکیوں کو تو آسانی ہوئی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ نوجوان بچے بھی اس پر گھومتے ملنے لگے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑی سڑکوں پر آٹھ سے بارہ، چودہ سال تک کے بچے الیکٹریکل اسکوٹرز پر ہجوم بنانے لگے۔ وقت بے وقت ایک دوسرے سے موٹر پر دوڑیں لگاتے ہیں۔ رات کو پوش رہائشی علاقوں میں تو یہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ آرام کے پہر، شب کے نو سے بارہ کے دوران ہوہو کار کرتے۔ بچے تیز رفتاری سے بائیک پر ہواؤں میں اڑتے۔ بڑے گاڑیوں، پیدل چلنے والوں کے درمیان بائیک بھگاتے۔ جن میں سے زیادہ کے پاؤں بھی ابھی تک پورے پائیدان تک نہیں آتے۔ بازو کو پوری طاقت سے پورا کھول کر ہینڈل کو قابو کرتے۔ نہ ٹریفک قوانین کی الف، ب کی سمجھ۔ نہ ’روڈ سینس‘ ۔ نہ ’ٹریفک لینز‘ سے آگاہی۔ نہ ہارن بجانے سے واقفیت، نہ بریک لگانے، رفتار کم زیادہ کرنے کی معلومات، نہ کسی حادثے کی صورت اس سے نمٹنے کے طریقے کا پتہ، نہ ڈرائیونگ لائسنس نہ کسی ذمہ داری کا احساس۔ بس ایک اسکوٹر ہوتا ہے۔ جس پر ہیلمٹ کے بغیر بیٹھ کر وہ دنیا مافیا سے بے نیاز، بس ہوا کے دوش پر، ہاتھ باندھے یا کھولے مگن ہوتے ہیں۔ ٹریفک کے بہاؤ میں خلل ڈالتے ہیں۔ جو ان کو بھی بچانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور خود کو بھی۔ اور پیدل چلنے والے انھیں دیکھ دیکھ کر الگ ہولتے رہتے ہیں۔

دوسری جانب والدین اس سے غافل کہیں یا بے پرواہ۔ لکیر کے فقیر بن کر اندھا دھند تحفتا یہ الیکٹریکل اسکوٹرز بچوں کو لے کے دے رہے ہیں۔ ناک اونچی رکھنے اور ’اسٹیٹس کو‘ کا ٹھپا لگانے کو پندرہ سو سے پچیس سو واٹ تک کے یہ بم ان کو خرید کر دے رہے ہیں۔ دو، تین لاکھ کا خرچہ بھی انھیں کچھ زیادہ نہیں لگتا۔ اور پٹرول کا بکھیڑا بھی نہیں۔ اور چارجنگ کا کیا؟ کتنے کے یونٹس لگ جائیں گے۔ ورنہ جہاں بجلی شمسی نظام سے منسلک ہے، وہاں تو یہ فکر بھی نہیں۔

لیکن لطف، مزے، مستی اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور دکھاوے سے زیادہ کئی ایسے پہلو ہیں۔ جنھیں ہم اپنی غیر سنجیدگی میں نظر انداز کر رہے ہیں :

اٹھارہ سال سے کم عمر کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہوتا۔

پچاس سی سی سے کم والی الیکٹرک اسکوٹر، بائیسکل کے خانے میں آتی ہے۔ جس کی وجہ سے لائسنس اور نمبر پلیٹ بھی نہیں لگتی۔ یعنی منصوبہ سازی اس خاص پہلو پر چپ ہے۔ جس کا بھرپور فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ سبھی موٹر سائیکل کے فوائد سائیکل والے قوانین میں لے رہے ہیں۔

چونکہ پچاس سی سی سے کم والی موٹر سائیکلیں رجسٹر کرنے کی کوئی قانونی ضرورت نہیں، اس لئے چوری کی صورت میں کوئی ٹریکنگ سسٹم بھی نہیں۔

مرکزی شاہراہوں اور ٹریفک میں یہ اگر داخل ہوں تو حد رفتار اور باقی کیا قوانین لاگو ہوں گے، اس پر بھی خاموشی ہے۔

اور اگر اس صورت حال میں کوئی حادثہ ہوا تو قصور وار یقیناً والدین اور بچے خود ہیں۔

ہیلمٹ پہننا تو ابھی ہمارے ون۔ ٹو۔ فائیو کے ڈرائیوروں کو مشکل ہے، کجا کہ یہ شوقین بچے اس بات پر آمادہ و آگاہ ہوں۔

ہر سال روڈ حادثات میں ستر فیصد حادثے موٹر سائیکلوں کے ہوتے ہیں۔ جس کے دوران اموات میں اضافہ ہر سال پچھلے سالوں سے زیادہ ہے۔

خود سوچئے، اس طرح کے حالات میں کیا یہ عقلمندانہ ہے کہ والدین بچوں کو الیکٹریکل اسکوٹرز تک اتنی آسان رسائی دیں۔ دنیا بھلے جو بھی کرے، خود تو اپنے بچوں کو آگ میں نہ جھونکیں۔ سڑک پر چلتی ٹریفک میں بچوں کا گاڑی چلانا، تفریح نہیں، جرم ہے۔ غیر قانونی ہے۔ خود ان کو کسی تلخ حادثے کا شکار کر سکتا ہے۔ اس لئے اس وقت رونے سے بہتر ہے، اب سمجھیں۔ اور خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو قانون پر عملدرآمد سکھائیں۔ کیونکہ ایسی بیوقوفیاں اور غفلتیں بہادری کے زمرے میں نہیں آتیں۔

Facebook Comments HS