نو مئی اور پاکستان


نو مئی 2023 کے زخم وجود ارض پاک ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ پر آج بھی تازہ ہیں۔ اور نہ جانے کب تک یہ زخم تازہ اور رستے ہی رہیں گے۔ کیوں کہ جو زخم عیاں دشمن سے ملتے ہیں وہ زخم وقت گزرنے اور دشمن سے بدلہ لے کر مندمل ہو جاتے ہیں۔ مگر نو مئی کے زخم تو عیاں دشمن نے موقع غنیمت جان کر پوشیدہ عناصر کو سامنے لاتے ہوئے لگائے۔ ان زخموں کو وجود ارض ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ پر لگانے تک کا سفر عیاں اور اوجھل و پوشیدہ دشمنوں نے کیسے طے کیا جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ طاقت و حکمرانی کا حصول ہمیشہ سے ہی باعث فساد رہا ہے۔ ماضی قریب میں وجود ارض ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے دشمنوں و مخالفوں نے ہمیشہ پاکستان کے جغرافیائی و نظریاتی حدود کی حفاظت کرنے والے ذمہ داران اداروں اور عوام الناس کے درمیان قائم ”جاں و روح“ کے رشتے کی حساسیت کو جانتے اور سمجھتے ہوئے کمزور کرنے کے لئے نو مئی کروایا اور ارض پاک ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے جغرافیائی و نظریاتی حدود کے ذمہ داران اداروں اور عوام الناس کے درمیان نہ صرف خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی بلکہ سازشی، اقتدار کی ہوس میں تمام حدود و قیود پھلانگنے والے سیاست دانوں کا استعمال کرتے ہوئے عوام الناس اور سیکیورٹی اداروں کو آمنے سامنے لا کر کھڑا کرنے کی مذموم ترین کوشش نو مئی کو کی۔ نو مئی کو کیے جانے والے مذموم و مکروہ ترین اقدامات میں احتجاج کی صورت میں بظاہر اقتدار کا حصول مگر در حقیقت افواج پاکستان کو ایک مخصوص منصوبہ بندی کے تحت عوام الناس کے ساتھ دست و گریبان کرنا تھا۔ ماضی میں چلتے ہیں۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں عوام الناس اور سیکیورٹی فورسز کے اتحاد نے اپنے سائز سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا مگر 71 میں آپس کے اختلافات و سیاست دانوں کی تلخیوں و نفرتوں کے باعث اسی بھارت نے مشرقی پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے متحدہ پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور گویا اپنی دانست میں 65 کا بدلہ چکایا۔ 1971 کے واقعات میں افواج اور عوام الناس کے درمیان قائم رشتے کو کمزور کر دیا گیا تھا جو کہ یقینی طور پر چوٹ کھائے ”دشمن“ کی ایما پر ہو رہا تھا۔ عوام الناس اور افواج کے رشتے کو کمزور کر کے ”متحدہ پاکستان“ کو تقسیم کر دیا گیا۔ دشمنان پاکستان یہ بات اچھے طریقے سے سمجھ چکے ہیں کہ دوبدو جنگ میں افواج پاکستان اپنے عوام الناس اور وطن کی محبت میں ہارنے سے زیادہ شہید ہونے کو ترجیح دیتے ہیں جو کہ ”دشمن“ کے لئے باعث خوف ہے۔ اسی لئے دشمنان پاکستان کی تازہ ترین پلاننگ افواج پاکستان اور عوام الناس میں دراڑ پیدا کرنے کی ہے کہ پاکستان کے داخلی معاملات کو مستحکم ہونے سے روکا جا سکے اور عوام الناس اور افواج پاکستان کو اندرونی خلفشار اور محاذ آرائی پر مجبور کر دیا جائے تاکہ افواج پاکستان کے مورال کو کم کیا جا سکے اور دشمنان ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ان کمزور داخلی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو بیرونی محاذوں اور عالمی ذرائع ابلاغ میں ہزیمت کا باعث بنا سکیں۔ دشمنان اسلام جیسے کہ ہنود و یہود اور عالمی طاقتیں جیسے کہ نصارا کے ورلڈ آرڈرز اور اسلام دشمنی کی راہ میں حائل ”رکاوٹ“ جدید ترین افواج اور فورسز کے ساتھ ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے، اگر پاکستان کے پاس فورسز اور جدید جنگی ٹیکنالوجی موجود نہ ہوتی تو کب کا ہمارا حشر عراق، لیبیا، شام، فلسطین وغیرہ وغیرہ جیسا ہو چکنا تھا۔ ہمارے مشرق میں موجود اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگانے والی بی جے پی دو مرتبہ الیکشنز جیتنے کے بعد تیسری دفعہ الیکشن جیتنے کا سوچتے ہوئے اکھنڈ بھارت کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے خدانخواستہ ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کو ہڑپ کرنا چاہتی ہے مگر افواج پاکستان و عوام الناس کا باہمی تعلق ازلی، ”بزدل دشمن“ کو سامنے سے وار کرنے کی بجائے لومڑی جیسی چالاکی سے کام لیتے ہوئے ”نو مئی“ جیسے حساس واقعات کروانے کے لئے کام کرتا ہے۔ جو بھی افواج پوری دنیا میں اپنے دشمنان سے لڑتی ہیں واحد اپنی عوام الناس و وطن کی محبت میں گرفتار ہو کر لڑتی ہیں۔ اور اسی محبت کو ختم کرنے کے لئے نو مئی کروایا گیا۔ نو مئی کو کروانے کے لئے باقاعدہ آغاز سوشل میڈیا کے میدان میں کیا گیا۔ مخصوص سیاسی جماعت نے حکومت نہ ملنے کی صورت میں سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں، ریاستی اداروں کی پالیسیوں، اور خاص طور پر سیکیورٹی اداروں کو جاں بوجھ کر مخصوص انداز میں پراپیگنڈا کا نشانہ بنایا تاکہ عوام الناس کی عوامی رائے عامہ کو افواج پاکستان کے خلاف ہموار کیا جا سکے۔ پہلے یہ میدان سوشل میڈیا پر سجایا گیا اور پھر منصوبہ بندی کرتے ہوئے باقاعدہ نو مئی کو افواج پاکستان کی تنصیبات اور خاص طور پر شہداء کی یادگاروں اور ریاستی اموروں کے اہم اداروں پر حملہ کروایا گیا۔ املاک کو جلایا گیا، حتی کہ ارض پاک ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے وجود کو ہر طریقے سے چوٹ و زخم پہنچایا گیا۔

یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ افواج پاکستان نے عوام الناس اور افواج پاکستان کو آمنے سامنے لا کر کھڑا کرنے کی گھٹیا، خطرناک، مذموم و مکروہ ترین سازش کو سمجھتے اور جانتے ہوئے کسی بھی ردعمل دینے سے گریز کیا اور چند سو بلوائیوں اور مظاہرین کے روپ میں سازشی عناصر کو کوئی ردعمل نہ دیتے ہوئے ”گہری ترین سازش“ کو ناکام بنا دیا۔

نو مئی کے سازشی عناصر پوری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔ تمام قانونی تقاضے نظام عدل نے پورے کر کے ذمے داران کا تعین کرتے ہوئے مذموم، گھٹیا، خوفناک و مکروہ سازش کے ذمہ داران کا تعین کر کے عدل و انصاف کے تحت منطقی انجام تک لے کر جانا چاہیے۔ اس ضمن میں ماضی قریب سے ایک مثال امریکہ میں کیپیٹل ہل پر ہونے والے بلوے و دھاوے کی ہے۔ امریکہ کے نظام انصاف نے مجرمان کو کٹہرے میں لا کر سزا و جزا کے عمل کو مستحکم کیا۔ اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے داخلی سلامتی و داخلی خود مختاری کے اہم ترین معاملے ”نو مئی“ کو نظام انصاف کو ہنگامی بنیادوں پر دیکھنا اور طے کرنا چاہیے تاکہ نو مئی کے رستے زخموں کو مندمل ہونے کا موقع مل سکے اور ہماری صفوں میں موجود اتحاد باہم و یگانگت کے دشمنوں و سازش بننے والے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اور آج بھی سوشل میڈیا پر ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے جغرافیائی و نظریاتی حدود کی حفاظت کرنے والے ذمہ داران اداروں کے خلاف زہر اگلنے والے اور ریاست پاکستان کے نظریاتی وجود کے مخالفین کو قانون و آئین کی حدود و قیود میں لایا جا سکے۔

 

Facebook Comments HS