برہنہ حالت میں واپسی


ارشمیدس نہانے کے لئے ٹب میں داخل ہوا اور اسی لمحے اس پہ ایک بڑا راز آشکار ہوا۔ اس نے دیکھا کہ جیسے ہی اس کا جسم ٹب میں داخل ہوا، ٹب میں موجود پانی کی سطح کچھ بلند ہو گئی وہ اسی حالت میں ’یوریکا، یوریکا‘ (میں نے پا لیا، میں نے پا لیا) کا نعرہ لگاتا ہوا گلی میں دور تک دیوانہ وار دوڑتا چلا گیا۔ خوشی کے عالم اسے بالکل احساس نہیں رہا کہ وہ مکمل طور پہ بے لباس ہے۔

وہ ایک یونانی ماہر تعمیرات، حساب دان، معمار اور موجد تھا جسے زمانہ قدیم کا سب سے عظیم ریاضی دان مانا جاتا ہے اور اسے اب تک کی انسانی تاریخ کے سب سے بلند رتبہ ماہرین ریاضی میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کو کئی ایجادات کا موجد گردانا جاتا ہے جو آج بھی مستعمل ہیں (جیسے ارشمیدس پیچ: سکریِو) ۔ دائرہ کا رقبہ جاننے کے لئے پائی کی قدر 3.14 کا سہرا بھی اس کے سر باندھا جاتا ہے۔

اس وقت کے بادشاہ ہئیرو دوم نے تاج بنوانے کے لیے ایک کاریگر کو خالص سونا فراہم کیا۔ جب تاج بادشاہ کو پیش کیا گیا تو اسے شک ہوا کہ سنار نے خالص سونے کی جگہ ایک کم مایہ دھات کا استعمال کیا ہے اور اس پر خالص سونا، کم مقدار میں صرف ہوا ہے۔ اور خالص سونے کی زیادہ تر مقدار کو ہتھیا لیا ہے۔ بادشاہ نے ارشمیدس سے تاج کو نقصان پہنچائے بغیر اس معمے کو سلجھانے کا کوئی طریقہ وضع کرنے کا حکم دیا۔ مشہور ہے کہ ارشمیدس کچھ دن تک اس مسئلے کے بارے میں سوچتا رہا اور ایک دن غسل کرنے کے لئے جب وہ پانی میں اترا تو اس نے محسوس کیا کہ پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے کیونکہ پانی کے جس حصے پر اس نے قدم رکھا تھا، اس جگہ کے وزن کو اس نے اپنے جسم کے وزن سے بدل دیا تھا وہ سمجھ گیا کہ اس اصول کو تاج کی کثافت معلوم کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

گلی میں برہنہ حالت میں بھاگتے چلے جانا غالباً اس زمانے میں بہت زیادہ معیوب بات نہیں تھی۔ آج ہم جو اولمپکس کے مقابلے دیکھتے ہیں، قدیم اولمپکس کے بہت سے پہلو اسی طرح کے ہیں، لیکن کم از کم ایک قابل ذکر فرق ہے کہ آج، تمام اولمپیئن کپڑے پہنتے ہیں۔ قدیم یونانی ایتھلیٹس کے لیے، عریانیت قومی وردی کا کام کرتی تھی، جو ان کے فارسی حریفوں کے لیے جان بوجھ کر اس کے برعکس تھی، جو روایتی طور پر اسے برہنہ دکھائی دینے کے لیے سجاوٹ کے خلاف سمجھتے تھے۔

عریاں ہو کر مقابلہ کرنا بھی سٹیٹس کو ظاہر کرنے کے طریقے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ مؤرخ ڈونالڈ کائل کے مطابق، ”آثار قدیمہ یونان میں، کھیل کے لیے مکمل طور پر برہنہ ہونا مردانہ پن، نسل، حیثیت، آزادی، استحقاق، اور جسمانی خوبیوں کا ایک مضبوط ابلاغ بن گیا تھا۔“ کچھ کھلاڑی برہنہ پرفارم کرنے کو اپنے دیوتا زیوس کو خراج تحسین پیش کرنا بھی سمجھتے تھے۔ درحقیقت، الفاظ ”جمنازیم“ اور ”جمناسٹک“ دونوں یونانی لفظ ”جمنیشن“ سے نکلے ہیں، جس سے مراد برہنہ ہو کر تربیت یا ورزش کرنے کی جگہ ہے۔

برہنہ ہو کر مقابلہ کرنا یونانی روایت بن گیا، یہ ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ 1200 قبل مسیح میں ایتھنز کے کھلاڑیوں کو لنگوٹی پہن کر مقابلہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مختلف اسکالرز کے مطابق، پہلا برہنہ حریف 720 قبل مسیح میں 15 ویں اولمپیاڈ میں نمودار ہوا۔ میگارا کے آرسیپس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ریس کے دوران اپنا لنگوٹ کھو بیٹھا، اس وقت وہ سب سے آگے تھا، وہ رکا نہیں اور اسی حالت میں وہ فتح کی طرف بھاگتا چلا گیا۔ اولمپیا میں یونانیوں میں سب سے پہلے اسے برہنہ حالت میں تاج پہنایا گیا۔ اس سے پہلے تمام کھلاڑی اسٹیڈیم میں کمر بند ہوتے تھے۔ جدید اولمپکس میں، چیزیں تھوڑی بہت بدل گئی ہیں، اور اب حریف لباس پہنتے ہیں۔ اگرچہ شاذ و نادر مواقع پر ، کچھ جدید رنرز اب بھی جوتے پہنے بغیر مقابلے میں حصہ لیتے ہیں۔

776 قبل مسیح میں ہونے والے پہلے مقابلے میں صرف ایک ہی مقابلہ ہوا تھا 630 فٹ کی دوڑ جسے ”اسٹیڈ“ کہا جاتا ہے، یہ مقابلہ ایلس کے کوروبس نامی باورچی نے جیتا۔ (نام ”اسٹیڈیم“ اسٹیڈ سے ماخوذ ہے، جو قدیم یونان میں 630 فٹ کی پیمائش کی ایک معیاری اکائی بھی تھی۔ ) سونے کے تمغے کے بجائے، کوروبس کو ایک سیب سے نوازا گیا۔ سیب متعدد یونانی افسانوں میں ایک مقدس علامت تھا۔ ساتویں اولمپیاڈ کے آغاز سے، فاتحین کو زیتون کے پھولوں سے بنی چادر دی گئیں، یہ روایت 393 عیسوی میں ایونٹ کے بند ہونے تک جاری رہی۔

کسی بھی مقابلے میں پہلی تین پوزیشنوں کو طلائی، چاندی اور کانسی کے تمغے دیے جانے کا رواج سینٹ میسوری میں 1904 کے اولمپکس میں شروع کیا گیا۔ 2024 ء کے اولمپکس مقابلے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں کھیلے جائیں گے اور اب سے کچھ ہفتے پہلے تک جیولین تھرو کے مقابلے کے لئے ہمارے ٹاپ کے کھلاڑی کے پاس پریکٹس کے لئے بین الاقوامی معیار کا نیزہ بھی نہیں تھا۔ ایک اور کھلاڑی اب بھی ان مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے بغیر جیولین کے مشق کر رہا ہے۔ ہماری ہاکی ٹیم ان مقابلوں حصہ لینے کے اہل ہی نہیں رہی۔ ہماری حالت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس دفعہ بھی پاکستان نے ان کھیلوں کی قدیم روایت کے مطابق عریاں حالت میں ہی واپسی کرنا ہے۔ مادر زاد برہنہ حالت میں واپسی۔

Facebook Comments HS