آزاد کشمیر میں احتجاج: کیا کھویا کیا پایا
سوموار 13 مئی 2024 کی خونی شام آزاد کشمیر میں عوام کے احتجاج کے خاتمے اور چار نوجوان لوگوں کی شمعِ زندگی گل کرنے اور بیسیوں کے زخمی ہونے کی خبر کے ساتھ، ایک شبِ ماتم میں بدل گئی۔ ً
یہ احتجاج کب شروع ہوا اور اس کے مقاصد کیا تھے اس پر کل ایک تحریر لکھی تھی جو اس لنک پر پڑھی جا سکتی ہے۔
مختصراً یہ کہ اس احتجاج کے بڑے مقاصد میں آٹے اور دیگر خورد و نوش کی چیزوں پر سبسڈی، کشمیر کو بجلی، منگلا سے پیدا کی جانے والی بجلی کی پیداواری لاگت پر مہیا کرنا، آزاد کشمیر میں بجلی پیدا کرنے والے پراجیکٹس کا کنٹرول آزاد کشمیر حکومت کے حوالے کرنا، اور آزاد کشمیر کی اشرافیہ، ججز، دیگر اور بیوروکریسی کی غیر ضروری مراعات کو ختم کرنا وغیرہ وغیرہ شامل تھے۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے ایک تیس رکنی عوامی ایکشن کمیٹی بنائی گئی تھی جسے شوکت نواز میر لیڈ کر رہے تھے۔
کمیٹی گزشتہ کئی ماہ سے اس معاملے پر حکومت سے بات چیت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ گزشتہ فروری میں کچھ معاملات پر اتفاق بھی ہوا اور حکومت نے اس حوالے سے ایک نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا تھا مگر اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ اس حوالے سے کمیٹی نے حکومت کو مارچ تک کی آخری ڈیڈ لائن دی تھی مگر حسبِ روایت، حکومت نے اس بات کو سنجیدہ نہ لیا اور عوامی مطالبات دھرے کے دھرے ہی رہے۔ اسی اثنا میں 10 مئی کو ڈڈیال کے مقام پر ایک پرامن مظاہرے کے دورن اسسٹنٹ کمشنر ڈڈیال نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس سے حملہ کروایا۔ جس پر مظاہرین نے مشتعل ہو کر اے سی صاحب کو پکڑ لیا، ان کے کپڑے پھاڑ دیے اور مار پیٹ بھی کی۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کرنے کی کال کے ساتھ مظفر آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کر دیا۔ راستے میں پڑنے والے ہر شہر میں اس لانگ مارچ کا بہترین استقبال ہوا۔ قافلہ مظفرآباد کے قریب پہنچا تو حکومت کو ہوش آیا اور اس نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور شروع کیا جو ناکام ہو گیا۔ اس اثنا میں مظفرآباد اور دیگر جگہوں پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوتی رہیں۔
مشتعل عوام نے اپنے ہاتھ چڑھنے والے پولیس والوں کو بہت مارا۔ عوام کے اس سیلاب کو روکنے کے لئے پاکستان سے ایف سی اور رینجرز کے دستے منگوائے گئے۔ جو پہلے کوہالہ کی جانب سے مظفرآباد آنے کی کوشش کرتے رہے مگر مقامی مظاہرین کی کھڑی کی ہوئی رکاوٹوں کی وجہ سے برار کوٹ والے راستے، اور بذریعہ ہیلی کاپٹر مظفرآباد پہنچے۔ رینجرز اور مظاہرین کے درمیان تصادم سے چار نوجوان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ بیسیوں زخمی ہو گئے۔ اس پر بپھرے ہوئے مظاہرین نے رینجرز کی کچھ گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
ایک طرف تو یہ سب چل رہا تھا جب کہ دوسری جانب حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور چلا جس میں حکومت نے دو مطالبات مان کر نوٹیفیکیشنز جاری کر دیے جن کے مطابق آٹے کی قیمت پچاس روپے فی کلو اور بجلی کی قیمتیں صارفین کی کیٹیگریز کے حساب سے گھریلو استعمال کے تین روپے سے چھے روپے فی کلو واٹ ہاور اور کمرشل استعمال کے لئے دس روپے اور پندرہ روپے فی کلو واٹ ہاور مقرر کر دی گئیں۔ اشرافیہ کی مراعات میں کمی کے بارے میں یہ طے پایا کہ حکومت ایک کمیشن بنائے گی جو اس معاملے پر غور و خوض کر کے اپنی سفارشات مرتب کرے گا۔ اور یوں احتجاج کال آف کر دیا گیا۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اس سارے قصے میں کس نے کیا کھویا کیا پایا اور اس میں کس کے لئے کیا اسباق پوشیدہ ہیں۔ شروعات مثبت چیز سے کرتے ہیں۔
اس ساری تحریک میں، ہمارے خیال میں سب سے زیادہ خوش آئند چیز یہ ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی تاریخ ملا کر بھی دیکھیں تو ایسا شاید پہلی بار ہوا ہے کہ عوام ہر طرح کی سیاسی وابستگیوں، علاقائی تعصبات، گروہی مفادات، اور عقیدہ و نظریات سے بالا تر ہو کر فقط اپنے حق کے لئے اکٹھے ہوئے اور بہت بڑی تعداد میں ہوئے۔ آزاد کشمیر کے دس اضلاع میں سے کوئی دو تین اضلاع ہی ایسے ہیں جہاں اس تحریک کے اثرات نمایاں نہیں ہوئے ورنہ میرپور سے لے کر دارالحکومت یعنی مظفرآباد تک ہر ضلعے کے عوام نے اس کارِ خیر میں بھرپور حِصہ ڈالا۔ ایسا پہلی بار ہوا کہ لوگ کسی شیرِ کشمیر، فرزندِ کشمیر، نام نہاد مجاہدِ اول، یا غیر ریاستی سیاسی پارٹیوں کے گماشتوں کے پیچھے نہیں نکلے، بلکہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لئے میدانِ عمل میں سیسہ پلائی دیوار بن کے اترے۔ ان کے جذبے، اور ہمت کو سلام۔ سیلیوٹ اور بہت سا خراجِ تحسین۔
دوسری قدرے کم درجہ اچھی بات یہ رہی کہ اس مشکل راہ کہ مسافر، منزل نہ سہی مگر نشانِ منزل پانے میں بہرحال کامیاب ہوئے۔ ان کے سب مطالبات تو پورے نہ ہو سکے (ان میں سے کچھ تو منطقی بنیادوں پر پورے کیے بھی نہیں جا سکتے تھے۔ جیسا کہ آزاد کشمیر میں بجلی پیدا کرنے والے پراجیکٹس کا انتظام و انصرام ریاستی حکومت کے حوالے کرنا یا یا ریاست کو ٹیکس فری علاقہ قرار دینا) ، مگر دو بہت اہم معاملات یعنی آٹے پر سبسڈی اور بجلی کے نرخوں کی کمی کے حوالے سے عوام کو ریلیف دیا جا چکا ہے۔ ترمیم شدہ نرخوں کے لئے باقاعدہ نوٹیفیکیشنز بھی جاری ہو چکے ہیں اور اس سب کے لئے درکار فنڈز کی مد میں پاکستان نے کشمیر کو 23 ارب روپے دینے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے جس کے لئے سب متعلقہ لوگ قابلِ تعریف و ستائش ہیں۔ ویل ڈن۔
تیسری اور ہماری نظر میں آخری اچھی بات یہ رہی کہ لانگ مارچ میں آنے والوں کا راستے میں پڑنے والے ہر شہر کے لوگوں نے دل کھول کر استقبال کیا۔ ان کے لئے دل اور گھروں کے دروازے کھول دیے اور ان کے ساتھ شامل ہو کر مظفر آباد کا رخ کر کے ریاستی سطح پر عوامی یک جہتی، فکری ہم آہنگی اور عملیت پسندی کا مظاہرہ کیا۔ اس بات پر ان سب کو سیلیوٹ کرنا بنتا ہے۔ زندہ باد۔
یہ تو تھی چند اچھی باتیں، مگر اس سارے ہنگام میں کچھ برا بلکہ بہت برا بھی ہوا۔ ریاست اور حکومتِ پاکستان کا طرزِ عمل تو خیر غلط تھا ہی، خود احتجاج لیڈ کرنے والوں سے بھی کوتاہیاں ہوئیں جس کی وجہ سے مطلوبہ مقاصد مکمل طور پر حاصل نہ ہو سکے۔ پہلے حکومتِ آزاد کشمیر اور پاکستان کی بات کرتے ہیں۔
آزاد حکومت (جو کہ بالکل بھی آزاد نہیں ہے ) نے اس سارے معاملے کو نمٹانے میں مجرمانہ غفلت، لاپرواہی، اور سنگ دلی کا مظاہرہ کیا۔ پہلے اس معاملے کو درکار توجہ نہ دی، تحریک کو انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ اور پر امن مظاہرین پر تشدد کا مظاہرہ کر کے انہیں تشدد آمیز کارروائیوں پر مجبور کر دیا۔ حکومت، اور متعلقہ افسران کو سوچنا چاہیے تھا کہ عوام یہ جنگ پوری ریاست کے باشندوں کے لئے لڑ رہی ہے، مطالبات پورے ہونے کی صورت میں آزاد کشمیر کی پولیس اور دیگر محکموں کے ملازمین بشمول ان کے اعلی افسران، بھِی کم نرخ آٹے اور بجلی سے مستفید ہوتے۔
ویسے بھی یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے حکومت کے خلاف احتجاج کر سکے۔ ایسا کرنے سے عوام کو روکنا ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عوام کو احتجاج سے روکنا جلتی پر تیل کا کام کر جاتا ہے، اور عوام بھی وائیلنس پر اتر آتی ہے، جیسا کہ اس کیس میں ہوا بھی۔ لوگوں نے پولیس والوں کو مارا پیٹا، حکومت کی گاڑیاں جلائیں۔ یہ سب کچھ انتہائی غلط ہوا۔ نہیں ہونا چاہیے تھا مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس فساد کو ہوا حکومت کے غلط اقدامات نے ہی دی۔
حکومت کو مظاہرے کے پہلے دن ہی عوامی ایکشن کمیٹی کو انگیج کر کے ان سے بات چیت کے بعد ان کے جائز مطالبات پورے کر دینا چاہئیں تھے۔ مگر افسوس کے ایسا ہو نہ سکا۔ اس کی بجائے حکومت نے پاکستان سے رینجرز اور ایف سی کی فورسز منگوا لیں۔ انہی رینجرز نے مظاہرین پر سٹریٹ فائرنگ کر کے چار جوان شہید کر دیے اور بیسیوں زخمی۔ ردِ عمل کے طور پر عوام بپھر گئے اور انہیں نے رینجرز کی کچھ گاڑیاں نذرِ آتش بھی کیں۔ رینجرز والے معاملے پر آزاد کشمیر گورنمنٹ کے علاوہ حکومتِ پاکستان کی بھی سنگین غلطی ہے کہ انہیں کسی بھی صورت میں ریاست کے عوام پر ایکشن کے لئے کوئی غیر ریاستی فورس نہیں بھیجنا چاہیے تھی۔
آزاد کشمیر کی حکومت نے اگر درخواست کی بھی تھی تو انہیں صاف جواب دے دینا چاہیے تھا کہ یہ معاملہ نازک ہے۔ پوری دنیا کا میڈیا اس معاملے کو دیکھ رہا ہے، سو ہم یہ رسک نہیں لے سکتے۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ پاکستان کو کشمیریوں سے کیا مطلب؟ انہیں تو بس کشمیر چاہیے وہ بھی شاید سری نگر اور گل مرگ میں ڈی ایچ اے کی سوسائٹیز بنانے کے لئے۔ سو، رینجرز آئے انہوں نے ایکشن کیا اور پھر جو ہوا وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
آزاد کشمیر کے معصوم اور نہتے احتجاج کنندگان پر رینجرز کی طرف سے بالکل سیدھی فائرنگ نہایت قابل مذمت ہے۔ خاص طور پر کہ جب کہ آزاد کشمیر نہ صرف ایک نہایت ایک پر امن علاقہ ہے بلکہ یہ وہ ریاست ہے جہاں کبھی دہشت گردی، یا پاکستان مخالف سرگرمیاں دیکِھنے کو نہیں ملیں، اگرچہ پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے کرتوتوں کی وجہ سے کشمیر کی نوجوان نسل کو پاکستان سے بہت سی شکایات پیدا ہو چکی ہیں، پھر بھی ابھی تک وہ پاکستان کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے۔
اس کے باوجود کشمیری مظاہرین پر رینجرز کی جانب سے طاقت کا بہیمانہ استعمال انتہائی قابل افسوس ہے۔ ان کی اس کارروائی نے نہ صرف کشمیری عوام کو شدید مشتعل کیا بلکہ کشمیری نوجوان نسل کی پاکستان بیزاری میں بھی شدید اضافہ کیا۔ ویسے بھی، جہاں تک ہمارے علم میں ہے، آزاد کشمیر میں ایف سی یا رینجرز کی آزاد کشمیر میں تعیناتی کے حوالے سے آزاد کشمیر کے قوانین میں کوئی شق موجود نہیں ہے سو یہ عمل ویسے ہی خلافِ قانون ہو جاتا ہے۔
ہندوستان نے اس موقع سے خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے اس معاملے کو پوری دنیا میں اچھالا۔ دیگر انٹرنیشنل میڈیا بھی اس معاملے کو فوکس کیے رہا۔ اس سے پاکستان کی بین الاقوامی طور پر ایک بار پھر سبکی ہوئی ہے۔ پاکستان اب کس منہ سے کشمیریوں کا وکیل ہونے کا دعوی کر سکتا ہے؟ کبھی پاکستانی میڈیا سری نگر میں بی ایس ایف کی کارروائیوں کی خبریں چلاتا تھا، کل ہندوستانی میڈیا آزاد کشمیر کے عوام پر پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں کی فوٹیجز چلا رہا تھا اور ایک عام کشمیری جو پاکستان سے نفرت با ہر حال نہیں کرتا تھا، یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اس کے لئے انڈیا اور پاکستان میں کیا فرق رہا؟
وہ کیسا آزاد ہے جو اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے اور جد و جہد کرنے کو آزاد نہیں، اپنا سیاسی بیانیہ دینے کو آزاد نہیں۔ انڈین زیرِ انتظام کشمیر میں تو آزادی کی تحریک میں شامل لوگوں یا ان کے حامیوں پر ظلم و ستم ہوتے رہے ہیں۔ مگر اس طرف والے کشمیر میں اپنا بنیادی حق مانگنے پر ہی لاشیں گرا دی گئیں۔ پاکستان سے کشمیر کا بس ایک ہی سوال ہے :
مجھ پہ غیروں نے ستم ڈھائے کوئی بات نہیں
تو تو اپنا تھا، جڑھا تجھ پہ کیوں اغیار کا رنگ
اس معاملے پر فریقین کی غلطیوں کے بیان میں چند گزارشات عوامی ایکشن کمیٹی کی کوتاہیوں کے حوالے سے، بہت ادب کے ساتھ۔ عرض ہے کہ خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔
آزاد کشمیر کے تقریباً تین چوتھائی حصے میں چلنے والی اس تحریک کو مینیج کرنا ایک بہت مشکل کام تھا۔ ایسے کام کے لئے بہت اچھی پلاننگ درکار ہوتی ہے جس میں ہر طرح کے عواقب و عوامل کو زیرِ نظر رکھ کر ہر سیچویشن کو پہلی ہی سوچ اس کے مطابق اپنا لائحہ عمل ترتیب دینا پڑتا ہے۔ بہترین کوآرڈینیشن اور لاجسٹکس کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ پوری تحریک کو کسی ایک چین آف کمانڈ کے نیچے لایا جاتا ہے تاکہ مختلف علاقوں میں جمع ہونے والے لوگ اپنی اپنی کرنے کے لئے آزاد نہ ہوں۔
مگر یہاں پلاننگ کافی کمزور لگی۔ مظفر آباد لانگ مارچ کی صدا تو دے دی گئی مگر آنے والے مہمانوں کے قیام و طعام کے لئے کوئی خاص انتظامات نہیں تھے۔ ہوٹل بند ہونے کی وجہ گاڑیوں والے لوگ یا تو رات ہی کو واپس ہو لئے، یا اپنے گاڑیوں میں ہی وقت گزارنے پر مجبور ہوئے۔ میرپور وغیرہ سے آنے والے جو لوگ گاڑیوں کے بغیر تھے، وہ مجبوراَ مسجدوں میں، یا کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہوئے۔ بازار اور ہوٹل بند ہونے کی وجہ سے کثیر تعداد میں لوگوں کو کھانے کی فراہمی بھی نہ ہو سکی۔
اہلِ مظفرآباد نے بھی کچھ مستثنیات کے علاوہ اس سلسلے میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کیا۔ ہمارے بہت محترم عبدالبصیر تاجور ان مستثنیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنا نوزائیدہ موٹل (سی موٹل) مہمانوں کے لئے فری آف کاسٹ کھول دیا جس میں مقدور بھر لوگوں کو ٹھہرایا، اور ان کی خوراک کا انتظام کیا۔ مگر ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملیں۔ یہ تو تھے انتظامی معاملات میں کچھ نقائص۔ مطالبات کے حوالے سے بھی ہماری نظر میں وہ نہیں ہوا جو ہو سکتا تھا۔
بجلی کے بلز کے حوالے سے ابھِی ریلیف تو ملا ہے مگر اس ریلیف کو مستقل جاری رکھنے کے لئے جو سبسڈی درکار ہو گی وہ ہمیشہ تو ملنے سے رہی۔ اصل کامیابی تب ہوتی جب حکومتِ پاکستان سے آزاد کشمیر حکومت یہ منوا لیتی کہ پاکستان کشمیر کو فراہم کرنے والی بجلی منگلا کی فی یونٹ پیداواری لاگت کے حساب سے مہیا کرے گا۔ تاکہ آزاد حکومت اس نرخ پر اپنے آپریشنل اخراجات ایڈ کر کے عوام کو ایک مناسب نرخ پر بجلی فراہم کر سکتی۔
مگر ایسا نہ ہو سکنے کی وجہ سے قرینِ قیاس یہی ہے کہ بجلی کے تبدیل شدہ ریٹس تب تک ہی رہیں گے جب تک تئیس ارب روپے کی رقم ختم نہیں ہو جاتی۔ سو اگرچہ بجلی کے نرخوں کا کم ہونا تحریک کی ضمنی کامیابی تو ہے، مگر یہ مسئلے کا پائیدار یا مستقل حل نہیں۔ کشمیر کو لوڈ شیڈنگ فری زون ڈیکلیئر کرانے کا مطالبہ بھِی کہیں پیچھے ہی رہ گیا۔ اسی طرح موبائل سروسز کی بہتری اور کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں میں ایس سی او کی مناپلی ختم کرنے کی کوئی بات معاہدے بھی میں شامل نہیں۔
احتجاج کے دوران شہید ہونے والے چار نوجوانوں اور زخمیوں کی قربانیوں کو قطعی نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ایکشن کمیٹی کو مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ گولی چلانے والے رینجرز اور انہیں شوٹنگ کا آرڈر دینے والوں کر گرفتار کر کے ان کے خلاف ایف آئی آر رجسٹر کرنے تک احتجاج جاری رہے گا۔ اب الٹا ان زخمیوں بیچاروں کے ورثا کو حکومت کی طرف سے مقدمہ بازیاں بھگتنا پڑ سکتی ہیں۔
لبِ لباب یہ ہے کہ ایکشن کمیٹی مذاکرات میں اتنی کامیاب نہیں رہی جتنا وہ اس صورتِ حال میں ہو سکتی تھی کہ اس کے پیچھے پوری ریاست کی پبلک کھڑی تھی۔ اب شاید اس درجے کا احتجاج کم از کم مظفر آباد میں ممکن نہیں ہو گا کہ دوسرے شہروں سے آنے والوں کا احتجاج کے لئے مظفرآباد آنے کا تجربہ کچھ زیادہ خوش گوار نہیں رہا اور بہت سے لوگ اہلِ مظفرآباد سے نالاں ہو کر واپس گئے ہیں۔ ایسا ہر گِز نہیں ہونا چاہیے تھا۔
آخر میں اس سارے معاملے سے نکلنے والے نتائج اور کچھ سفارشات پر بھی بات کر لیتے ہیں۔
طاقت ہر مسئلے کا حل نہیں، خاص طور پر جب مقابل نہتے عوام ہوں اور ان کے مطالبات جائز بھی ہوں۔
آزاد کشمیر کے اندرونی مسائل میں حکومتِ پاکستان کی بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت، خاص طور پر آزاد کشمیر حکومت کی غلط کاریوں کو تحفظ دینے کی کوششیں کشمیری عوام میں پاکستان بیزاری بڑھانے کا باعث بنے گیں۔ اس سے پاکستان کو باز رہنا چاہیے۔ خاص طور پر غیر ریاستی فورسز کو کشمیر عوامی احتجاج کر روکنے کے لئے استعمال کرنے سے ہر حال میں اجتناب کرنا چاہیے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کا کشمیر پر موقف بین الاقوامی فورمز پر مزید کمزور ہو گا، بلکہ ہندوستان کو بھِی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا موقع ملے گا۔
آزاد کشمیر حکومت اپنے شاہانہ اخراجات پر نظرثانی کر کے انہیں مناسب حد تک کم کرے۔ ایک متنازعہ خطے کی عبوری حکومت کو، جس کا اپنا ریونیو بیس بھی بہت بڑا نہ ہو، اپنی چادر دیکھ کے پاؤں پھیلانا چاہئیں اور حکومتی اشرافیہ اور افسرشاہی کو میسر بے تحاشا مراعات کو کم کرنا چاہیے۔
آزاد کشمیر میں ہائیڈرو الیکٹریسٹی جنریشن کا پوٹینشل اٹھارہ ہزار میگا واٹ ہے جو ریاست کی ضرورت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر حکومت اپنے ہائیڈرو پاور پلانٹس لگانے پر سرمایہ کاری کرے۔ اس سلسلے میں پترینڈ پاور پراجیکٹ کے ماڈل پر پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ شراکت داری کی بنیاد پر بھی کام کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کشمیر نہ صرف اپنی مقامی ضرورت پوری کر سکتا ہے بلکہ اضافی بجلی پاکستان کو بیچ کر منافع بھی کما سکتا ہے۔
آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور سیلولر سروسز پر ایس کام کی اجارہ داری ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورنہ یہ معاملہ بھی نوجوانوں کے دلوں میں پاکستان اور اس کے اداروں کے لئے نفرت کا سبب بن سکتا ہے۔ پاکستان اور پاکستانی اداروں سے بیزاری کم کرنے کے لئے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ کشمیر کا کوئی علاقہ کشمیریوں کے لئے نو گو ایریا نہ رکھا جائے۔
آزاد کشمیر کی حکومت کو مکمل با اختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ جو اپنے علاقے کی ترقی کے لئے کسی بھی کام کرنے کے لئے پاکستان کی اجازت کی محتاج نہ ہو۔
پاکستان میں طاقت اور فیصلہ سازی کے اصل ذمہ داران کو آزاد کشمیر کے دیرینہ اور بنیادی مسائل کا ادراک کر کے اس خطے کے لوگوں کی آئینی اور معاشی خودمختاری اور شخصی آزادی کے لئے کوئی موزوں اور قابل عمل آئینی فریم ورک کشمیریوں کی مشاورت کے ساتھ بنانا ہو گا۔ کشمیریوں سے بالا بالا، کشمیر کے متعلق کوئی بھی فیصلہ، کشمیری عوام کو پاکستان سے مزید دور لے جانے کا سبب بنے گا جس سے اجتناب ضروری ہے۔
کچھ گزارشات عوامی احتجاج کے منتظمین اور مظاہرین کی خدمت میں۔
احتجاج ہر انسان کا بنیادی حق ہے مگر ہر احتجاج پرامن رہنا چاہیے۔ ہر حال میں۔ یاد رکھیں کہ احتجاج کے دوران کسی کی جان لینا، یا مار پیٹ کرنا ایک تو غیر قانونی عمل ہے، دوسرے اس سے آپ کا کیس بھی کمزور ہو جاتا ہے۔
جب بھی بڑی سطح پر احتجاج کی منصوبہ بندی کریں، تو اس کے تمام پہلوؤں پر ہر طرح سے غور و فکر کریں تمام ضروریات، انتظامات، مطلوبہ فنڈنگ اور حمایت کے لئے کیے جانے والے مطلوبہ اقدامات کی فہرست بنائیں اور ہر کام کے لئے ٹیمز بنائیں جو ان اقدامات کی ذمہ دار ہوں۔ ورنہ احتجاج زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتا۔
حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہایت قابل، تاریخ سے واقف، حکومتی نظام سے واقف، آئینی ماہرین، اور ماہرینِ ابلاغ کو بھِی اپنِی ٹیم میں شامل رکھیں۔ حکومتی مذاکراتی پارٹی میں عام طور پر بیوروکریٹس اور سیاست دان ہوتے ہیں جنہیں فریقِ مخالف کو قانونی اور انتظامی موشگافیوں میں الجھانے کا فن آتا ہے جس کی وجہ سے اکثر دوسرا فریق اپنے اصل مطالبات سے بہت کم پر راضی ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اس کیس سے واضح ہے۔
حرفِ آخر کے طور پر اس تحریک میں لقمہِ اجل بن جانے والے چاروں نوجوانوں کے والدین اور ورثا کے ساتھ اظہارِ افسوس اور تعزیت۔ ان کے لئے صبر کی دعا اور شہدا کی روحوں کو سلام۔ علاوہ ازیں زخمی ہونے والے سویلینز اور پولیس والوں کے ساتھ بھی اظہارِ ہمدردی اس امید کے ساتھ کہ ان کے زخم جلد ہی بھر جائیں گے۔
چلتے چلتے کشمیر کا بڑے بھائی یعنی پاکستان سے شکوہ میری ایک غزل کی صورت پیشِ خدمت ہے۔
جب سے بدلا ہے میرے دشمنِ عیار کا رنگ
بدلا بدلا ہے کیوں آخر میرے دل دار کا رنگ
بے حسی موتیا صورت ہے کیوں آنکھوں میں تِری
سرخ کیوں ہو گیا آخر میرے اشجار کا رنگ
اس قدر خون بہا دے چکے کشمیر کے لوگ
خوں چکاں یوں ہی نہیں ہے میرے گلزار کا رنگ
بھیج کر لشکری روندی گئی کیوں میری زمیں
میرے اپنوں نے دکھایا مجھے تلوار کا رنگ
بھائی یوسف کے کیوں یاد آئے جو تیرا سوچا؟
اے بڑے بھائی، یہ کیا ہے تیرے کردار کا رنگ
بھائی کو بھائی سے کاٹا، مجھے توڑا، پھوڑا
کتنا بے رنگ ہے اس جرم سے انکار کا رنگ
مجھ پہ غیروں نے ستم ڈھائے کوئی بات نہیں
تو تو اپنا تھا، جڑھا تجھ پہ کیوں اغیار کا رنگ
فقط اپنوں پہ ہی چلتا ہے ٹرِگر تیرا
ہم نے دیکھا ہے ستم گر، تیرے ہتھیار کا رنگ
کچھ جواں سال شہیدوں کی صدا ہے مظہر
ہم نے گلشن کو دیا خون سے مہکار کا رنگ
| مظفر بخاری مظہر |


