تسخیر قمر کے تناظر میں پاکستان کے حالات کا عکاس ایک افسانہ


پاکستان کے معروف ادیب و صاحب طرز افسانہ نگار غلام عباس کئی شاہکار افسانوں کے خالق ہیں۔ بہت سی دیگر صلاحیتوں کے ساتھ وہ ایک اعلیٰ پائے کے ترجمہ نویس بھی تھے۔ روسی اور یورپی ادب کے شہ پاروں کے علاوہ انھوں نے ایوب خان کی کتاب ”فرینڈز ناٹ ماسٹرز“ کا اردو زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ غلام عباس کے افسانوں میں صداقت، واقعیت اور حقیقت پسندی کا وہ جوہر جھلکتا ہے جو افسانہ نگاری کی جان ہوتا ہے۔ ان کے کردار ہماری روز مرہ زندگی اور معاشرے ہی کے چلتے پھرتے اور جیتے جاگتے کردار ہیں۔

ہمارے معاشرے کے خدو خال کو تاریخ و تہذیب اور معاشرت سے متعلق علمی کتابیں بھی اس طرح پیش نہیں کرتیں جس طرح غلام عباس کے افسانے پیش کرتے ہیں۔ کئی سال پہلے غلام عباس کا ایک افسانہ بعنوان ”دھنک“ پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں بجا طور پر پاکستان کے مستقبل کے حالات کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ یہ ناولٹ 1969 میں لکھا گیا جسے پڑھ کر کوئی بھی قاری مصنف کی مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ قیام پاکستان سے ہی ملک میں مذہب کے نام پر منافقت کا آغاز ہو گیا تھا۔

قتل عام و فسادات کے بعد ہم نے ملک تو حاصل کر لیا لیکن جلد ہی یہ ”پاک ملک۔“ اپنوں کی فرقہ پرستی اور شدت پسندی کی نظر ہو گیا۔ مختلف عہد میں ریاست کے طاقتور طبقات نے اقتدار پر قابض رہنے کے لئے عوام کا مذہبی استحصال شروع کیا جس کے نتائج آج بھی پاکستان کی عوام بھگت رہے ہیں۔ پاکستان نے۔ ”تسخیر قمر“ کے لئے حال ہی میں ایک مشن چین کے تعاون سے بھیجا جو کامیابی سے چاند پر تحقیق کر رہا ہے۔ اس مشن پر بعض لوگوں کی بے جا تنقید اور استہزائیہ کلمات کے تناظر میں یہ افسانہ پاکستانی قوم کی اکثریت کی درست نفسیاتی عکاسی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

تسخیر قمر کے حوالے سے اس افسانے میں پاکستان میں اعتدال پسند اور رجعت پسند قوتوں کے مابین محاذ آرائی کا خوب نقشہ کھینچا گیا ہے۔ افسانے کے مندرجات کے مطابق ایک نیا ملک ہونے کے باوجود پاکستان سائنسی ترقی میں اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ پاکستان کا پہلا خلا پیما کیپٹن آدم خان سکنہ ضلع جھنگ چاند کی سطح پر اترنے والا ہے اور اس عظیم کامیابی کو دیکھنے کے لئے حکومت پاکستان کی دعوت پر آئے ہوئے دنیا کے تمام براعظموں کے سفیر، سائنس دان، مفکر اور صحافی اس تقریب کا احوال بچشم خود دیکھنے اور سننے کے لئے ہوٹل موہنجوداڑو کی اکہترویں منزل پر موجود ہیں۔

پوری دنیا انسانی ترقی کے اس عظیم کارنامے پر دادو تحسین پیش کر ہی ہے لیکن ”علماء حضرات“ نے تسخیر قمر کو کفر و الحاد کا شاخسانہ قرار دے کر ملک میں ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ پاکستانی خلانورد کے چاند کی سطح پر اترنے کی کامیاب مہم کے ساتھ ہی مولویوں کی وہ تحریک شروع ہوئی جو اس کامیابی کو ”غیر اسلامی“ قرار دیتی ہے۔ سینکڑوں جانوں کے ضیاع کے بعد ملاؤں کا ملک پر قبضہ ہو جاتا ہے۔ لیکن مختلف فرقوں کے ملا حصول اقتدار کی جنگ میں باہم برسرپیکار ہو جاتے ہیں۔

مختلف مذہبی فرقوں جنھیں افسانہ نگار نے سبز پوش، نیلی پوش، سفید پوش، سیاہ پوش اور سرخ پوش سے علامتی تشبیہ دی ہے کے درمیان قیامت کارن پڑتا ہے۔ بالا آخر سبز پوشوں کا نمائندہ امیر المؤمنین منتخب ہو جاتا ہے اور مجلس شوریٰ میں باقی فرقوں کے نمائندے اطاعت امیر کا عہد کرلیتے ہیں۔ ملک کی زمام کار ملتے ہی امیر المؤمنین نے پچھلی حکومت کے انتظامی امور کے طریقے منسوخ کر دیے۔ تمام سکول، کالج، یونیورسٹیاں اور مروجہ طریقہ تعلیم موقوف ٹھہرے اور اس کی بجائے مسجدوں سے ملحق دینی مدرسے قائم کر دیے گئے جہاں صرف شرعی علوم کی تعلیم دی جانے لگی اور قومی زبان عربی قرار دے دی گئی۔

غیر مسلموں کو ذمی قرار دینے کے ساتھ ان پر جزیہ لگایا گیا۔ احکام شرعیہ کو انجام نہ دینے پر دُروں کی سزا مقرر کی گئی۔ عورتوں کے لئے تعلیم کا اہتمام بس اس قدر کیا گیا کہ وہ اصول خانہ داری یا بنیادی حساب کتاب لکھنے کے قابل ہو جائیں۔ مغربی کھیل کرکٹ، سنوکر، بیڈمنٹن، گولف پر پابندی لگا کر نیزہ بازی، شہ سواری، تیر اندازی کو از سر نو زندہ کیا جانا منصب ریاست قرار پایا۔ ڈاکٹروں اور سرجنوں کے پیشے پر پابندی لگا دی گئی اور ان کی بجائے طب یونانی اور جراحی کو حکومت کی سرپرستی اور نصاب تعلیم میں شامل کرنے کے ساتھ نرس کا پیشہ موقوف کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

شہر میں بلند عمارتوں کی اتنی منزلوں کو جائز سمجھا گیا جو جامع مسجد کے گنبد و مینار سے نیچی تھیں۔ باقی منزلوں کو منہدم کر دیا گیا۔ عہد حاضر کی جدید سہولیات و ایجادات ریڈیو، ٹیلی ویژن، کیمرے وغیرہ کی فروخت پر پابندی اور ٹوتھ پیسٹ اور دانتوں کے برش کی بجائے مسواک کے استعمال پر زور دیا گیا کہ اس سے ”فصاحت بڑھتی ہے“ ۔ کسب معاش میں شراب، عصمت فروشی، گُھڑ دوڑ، سٹہ بازی، لاٹری، بینک انشورنس، انعامی بانڈ اور سوُد وغیرہ ممنوع قرار پائے۔

شہروں اور قصبوں کے تھیٹر اور سینما گھروں کو درسگاہوں اور یتیم خانوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ داڑھی رکھنا فرض اور لباس سادہ یا عربی لباس زیب تن کرنے کا حکم دیا گیا۔ ادب اور شعر و شاعری پر پابندیاں عائد کر دی گئیں اور عاشقانہ غزلوں، نظموں اور گیتوں کو ادب سے ہی خارج کر دیا گیا کیونکہ ان سے ملک کی بہو بیٹیوں کے خیالات پر بُرا اثر پڑنے کا احتمال تھا۔ البتہ حمد، نعت، رجز، مرثیہ و سلام اور قومی لوریوں کو شاعری میں افضل ترین درجہ دیا گیا۔

ناول، افسانے اور ڈرامے چُونکہ من گھڑت ہوتے ہیں اس لئے معاشرے میں ان کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ مصوری، سنگ تراشی اور موسیقی وغیرہ کو فنون لہو و لعب قرار دے کر ان کی بھی کلی طور پر ممانعت کر دی گئی۔ ملاؤں کی حکومت کا پہلا سال ہر پاکستانی کے لئے بڑا صبر آزما ثابت ہوا۔ انھوں نے خدا اور رسول کے نام پر عوام سے جو بھی قربانی مانگی انھوں نے دریغ نہ کیا۔ نماز کے اوقات میں مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوتیں۔ لوگ اپنے عزیزوں اور دوستوں سے مادری زبان کی بجائے ٹوٹی پھوٹی عربی میں ہمکلام ہوتے۔

یوں تو سبھی فرقے ایک خدا اور رسول کو برحق سمجھتے تھے لیکن جب عقائد اور تقویٰ کا سوال پیدا ہوا تو رفتہ رفتہ انتشار اور کشیدگی کی فضا پیدا ہونے لگی۔ امیر مملکت کی شہادت کے بعد ہنگامہ کشت و خون برپا ہو گیا۔ ان کے پیروکار سبز پوش غیظ و غضب سے دیوانے ہو گئے۔ وہ ”القصاص“ ، ”القصاص“ چلاتے ہوئے سرخ پوشوں کے محلوں کی طرف چڑھ دوڑے۔ ہر طرف تلواریں چلنے لگیں۔ آہ و بکا، فریاد و فغاں کی صدائیں اٹھنے لگیں۔ رفتہ رفتہ رنگوں کی کوئی قید نہ رہی۔

نیلے، پیلے، سیاہ، سفید مار دھاڑ میں شامل ہو گئے۔ کچھ لوگوں نے مسجدوں پر یورش کی۔ بعض شقی گھروں میں گھس گئے اور عورتوں کی بے حرمتی کرنے لگے۔ عورتیں روتی پیٹتی اور بچے بلکتے تھے۔ اسی اثناء میں بازار میں ایک لاش کو لے کر تمام فرقے الزام تراشی کرنے لگے کہ ان کا بندہ فلاں فرقے نے مار دیا وہ تو بھلا ہو کسی ذی شعور نے جلد ہی اس کی شناخت کر لی کہ مرنے والا اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا کوئی سکھ تھا ورنہ اس معرکے میں نجانے کتنے لوگوں کی جان جاتی۔

پاکستان کے دشمن شاید اسی موقع کی تاک میں تھے۔ ابھی ہنگامہ کشت و خون برپا تھا کہ فضا میں ایسی آوازیں گونجنے لگیں جیسے بمبار طیاروں کے اڑنے اور ٹینکوں کے چلنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ یہ طیارے اور ٹینک پاکستانی عساکر کے نہ تھے۔ ملاؤں کی حکومت کے عروج پر کسی بیرونی حملے کے ساتھ ہی اس افسانے کا اختتام ہوتا ہے۔ ملاؤں کے روایتی ہتھیاروں کے مقابلے میں ٹیکنالوجی جیت جاتی ہے۔ ملک تباہ برباد ہو جاتا ہے اور ہر طرف خاک اڑنے لگتی ہے۔

عرصہ دراز بعد کچھ غیر ملکی سیاح اونٹوں پر سوار ہوٹل موہنجوداڑو کے کھنڈرات کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک عورت نے اونچی اور خراش دار آواز میں اپنے ساتھ والے مرد سے کہا، ڈک۔ یہاں کا منظر کتنا دلفریب ہے۔ چاروں سیاح گردنیں گھما گھما کر گرد و پیش کا منظر دیکھنے لگے۔ گائیڈ نے کھنکار کر انھیں اپنی طرف متوجہ کیا، پھر وہ ریت پر ایک خاص جگہ جہاں کچھ کھنڈر پتھروں کی صورت پڑے تھے اشارہ کر کے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہنے لگا: ”صاحب، یہی وہ جگہ ہے جہاں غنیم کے حملے سے پہلے ہوٹل موہنجوداڑو ہوا کرتا تھا جس کی اکہتر منزلیں تھیں اور جہاں پہلی مرتبہ پاکستانی خلا پیما نے چاند سے ریڈیو پر پیغام بھیجا تھا۔

” ہم آج بھی سائنسی ترقی کے بغیر نشاط الثانیہ کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اگر سائنسی سوچ پر توہمات اور خرافات غالب آ جائیں تو ترقی یافتہ قومیں برباد ہو جاتی ہیں۔ غلام عباس کا یہ افسانہ اس بات کا غماز ہے کہ جب سیاست و مذہب باہم دست و گریباں ہوتے ہیں تو ایک خوش حال اور ترقی یافتہ ملک کا کیا حال ہوتا ہے۔ گو الحمد للہ افسانے میں پیش کی گئی صورتحال سے تو پاکستان ابھی تک دو چار نہیں ہوا لیکن معاشرے میں پھیلی ہوئی مذہبی شدت پسندی اور ہمارے سائنس مخالف رویے ہمیں کسی وقت بھی ایسے حالات سے دوچار کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال اور عراق، افغانستان، نائیجریا اور صومالیہ سمیت کئی مسلم ممالک میں مذہبی انتہا پسندوں کی پھیلائی ہوئی دہشت کے تناظر میں ہمیں مسلم معاشروں میں سائنسی طرز فکر اور مذہبی اعتدال پسندی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم افسانے میں پیش کیے افسوسناک حالات سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔

 

Facebook Comments HS