بابر کا امتحان
بابر اعظم آئر لینڈ، زمبابوے، افغانستان سے شکست کھانے والے پہلے پاکستانی کپتان بن گئے ہیں۔ بابر اعظم کی بطور کپتان واپسی کچھ زیادہ خوش گوار ثابت نہیں ہوئی۔
پہلے نیوزی لینڈ کی بی ٹیم سے سیریز 2۔ 2 سے برابر رہی اور اب آئرلینڈ کے خلاف پہلے ٹی ٹونٹی میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اگر بابر اعظم کی کپتانی پر نظر ڈالی جائے تو بابر اعظم اب تک 2 ایشاء کپ، 2 ٹی ٹونٹی کپ اور ایک ورلڈ کپ (50 اوورز) میں پاکستان کی کپتانی کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ جس میں انہوں نے 2 ٹورنامنٹ کے فائنلز میں رسائی حاصل کی لیکن ٹیم کو فائنل میں کامیاب نہیں کروا سکے۔
یہاں پر میں اس بات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم جائزہ لیں گے بطور کپتان آپ کا کیا کام ہوتا ہے؟ کپتان کا بنیادی کام حکومت عملی بنانا ہوتا ہے۔ بطور کپتان بابر اعظم کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو وہ ریکارڈز کے لحاظ سے تو قابل تعریف ہے لیکن مشکل حالات میں پریشر میں آ جاتے ہیں۔ جس کے باعث درست فیصلے نہیں کر پاتے۔ کپتان کو مشکل حالات میں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اگر ٹونٹی ورلڈ کپ کے فائنل پر نظر ڈالی جائے انگلینڈ کے خلاف تو پاکستانی بلے باز پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 140 رنز سکور کرنے میں بھی ناکام رہے اور بالرز کو ڈیفینڈ کرنے کے لیے ایک مضبوط اسکور فراہم کرنے میں نا کام رہے۔
بعد ازاں پاکستانی بولرز نے اہم کردار ادا کیا اس میچ میں جان ڈال دی لیکن شاہین آفریدی میچ کے سب سے اہم موڑ پر انجرڈ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے مواقع پر بابر اعظم کے ناقدین نے اس کا ذکر کرنا تو ضروری سمجھا کہ بابر اعظم بطور کپتان نا کام ہو گئے ہیں لیکن پاکستان کے 13 سال بعد فائنل میں رسائی کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔
میرے نزدیک ہمیں موجودہ دن کے اعداد شمار کو دیکھتے ہوئے تبصرہ اور تنقید کرنی چاہیے۔ تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ مقصد قومی ٹیم اور کھلاڑی کی بہتری ہونا چاہیے۔ بطور کرکٹ تجزیہ نگار اور مبصر ہمیں چاہیے کہ ہمیں سنجیدہ رہتے ہوئے اپنی رائے دلیل کے ساتھ پیش کرنی چاہیے۔
بابر اعظم کے پاس اگلے ماہ شروع ہونے والا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ جیت کر کارکردگی سے ناقدین کو جواب دیں۔ یہ تو وقت بتا سکے گا کہ وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

