مالکوں کے دیس میں
ہم نے لندن میں بھائی رحیم شاہ کی معیت میں دریائے تھیمز کے کنارے پندرہ کلومیٹر کی مٹر گشت کی۔ دلچسپیوں کی کیا روداد سنائیں ہم۔ مبلغ چھ گھنٹے تک ہمارا اور دریا کا ساتھ رہا لیکن دل ہے کہ مانتا نہیں، والی کیفیت اب بھی ہے۔ ایک طرف دریا کی روانی اور اس میں کشتیوں کی بہار، دوسری طرف انواع و اقسام دریا دل گوریوں کی فراوانی اور تیسری طرف ہماری لاغر کمریا کی پشیمانی، جو اَب کوئی سربستہ راز نہیں رہا۔ بندہ دریا کی روانی کو تکتا جائے یا خوبرو خواتین کے خالی خولی دیدار سے فری میں استفادہ کرتا جائے یا لبِ دریا واقع میکدوں، میخانوں، ریستورانوں اور دیگر رنگینیوں سے لطف اندوز ہوتا جائے۔
اسی کنفیوژن میں بندے کی ذات کبھی چلتا جائے، کبھی رکتا جائے۔ کبھی گم ہوتا جائے، کبھی گم صم ہوتا جائے اور قادر لم یزل کی نیرنگیوں کو دیکھ کر ہکا بکا ہوتا رہ جائے۔ ہاں اس پیدل ’فٹیک‘ سے ایک بات تو طے ہو گئی کہ گھومنے پھرنے سے نظر کو سُرور اور دل کو تسکین ملے تو پھر بندہ چلتا جائے، جسم کا کوئی حصہ تھکاوٹ کا انڈیکیٹر نہیں دے گا۔
ہزاروں برس قدیم اور لگ بھگ دو سو میل طویل یہ دریا شہر کے عین وسط میں گزرتا ہے لیکن دونوں اطراف چال چلن جاری و ساری رکھنے کے لئے دو سو کے قریب پل قدموں تلے پڑے ہیں۔ تاریخ کے تناظر میں یہ دریا لندن کے ’آگاڑ بگاڑ‘ اور بناؤ سنگھار کا چشم دید گواہ ہے۔ ایک دنیا اس کو شہر کی زندگی اور خوب صورتی کی علامت سمجھتی ہے۔ اس کے ایک طرف لندن کا سب سے بڑا کاروباری مرکز واقع ہے۔ اس دریا پر قائم 150 سالہ بزرگ ”ٹاور برج“ اب بھی جوان ہے جسے بہ وقتِ ضرورت بحری جہازوں کے گزرنے کے لئے بھی کھولا جا سکتا ہے۔ اس کے نیچے بلیک وال ٹنل نامی، نامی گرامی سرنگ بھی گزرتی ہے۔ اس دریا کے پانی سے فصلوں کی آب پاشی کے علاوہ لندن کی بڑی آبادی بھی استفادہ کرتی ہے۔
ہزاروں سیاح روزانہ اس دریا کی دیدار کے لئے ٹڈی دل کی طرح نکل پڑتے ہیں اور گھومتے گھامتے ہر دم ہر قدم پہ کھاتے پیتے اور بھنگڑا ڈالتے نظر آتے ہیں۔ بدنام زمانہ پیرس اور نیک نام زمانہ لندن عاشقوں اور معشوقوں کے شہر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ محبت کے مرض میں سرشار کُڑیاں جب سینہ تھان کر دریائے تھیمز کی زیارت کرنے نکلتی ہیں تو کنارے کے ساتھ آہنی ریلینگ میں محبوب کے نام پر قفل یعنی تالہ لگا کر چابی دریا کی بے رحم موجوں کی طرف پھینکتی ہیں۔ سرِ راہ پیار کی پیاس بجھانے والے نین سکھ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اس حرکت بابرکت کے باعث ان کی محبت تاحیات جاری رہے گی۔ کتنے ضعیف الاعتقاد ہیں یہ گورے اور گوریاں بھی۔ اس پیار کی تالہ بندی کے عمل کے بعد پھر بھی پھنسنے والا موڈ بنا کر گھومتی پھرتی ہیں۔
آپس کی بات ہے اگر یہاں بھی ہمارے جیسے ملک کے ڈاکوؤں کا راج ہوتا تو یہ منظر کیسا ہوتا۔
مرا عشق منظر عام پر ترا حسن پردۂ راز میں
یہی فرق روز ازل سے ہے ترے ناز میرے نیاز میں
نہ حقیقتوں سے مجھے غرض نہ قدم ہے میرا مجاز میں
کہ میں ہوں تلاش جمال میں کہ میں ہوں تجسسِ ناز میں





Well Articulated and very well written .Perfect writing ✍️ keep it up Brother.
Your book (Gilgith sai Gawadar tak ka safar) is also a great encyclopedia