آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں رائج نظام کا تقابلی جائزہ


وفاق پاکستان کے زیر انتظام خطہ گلگت بلتستان کو ایک آئینی نظام کے بجائے صدارتی حکم ناموں کے ذریعے چلانے کی بنیادی وجہ تنازعہ کشمیر بتلایا جاتا ہے۔

بادی النظر میں یہ دلیل نہ صرف سطحی اور بے بنیاد ہے بلکہ یہ منطق تنازعہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 80 میں تجویز کردہ نظام اور با اختیار لوکل اتھارٹیز کے تصور کا صریحا نفی کرتی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے 17 جنوری 2019 کو سول ایوی ایشن اتھارٹی بنام سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان وغیرہ نامی مقدمہ میں ایک تاریخی فیصلہ صادر کیا اور تنازعہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مہر ثبت کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو نہ صرف متنازعہ ریاست جموں اینڈ کشمیر کا حصہ قرار دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس فیصلہ میں واضح طور پر یہ لکھا ہے ”جیسا کہ نوٹ کیا گیا ہے کہ دو خطوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے پاکستان پر ذمہ داریاں عائد ہیں کیونکہ 1948 میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈیا و پاکستان نے ان علاقوں کے لیے لوکل اتھارٹیز یعنی مقامی حکام کی موجودگی کو تسلم کیا ہے (جو کہ حکومت پاکستان سے یکسر مختلف ہے ) یہاں ہم صرف گلگت بلتستان کے بارے میں فکر مند ہیں چونکہ یہ خطہ پاکستان میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس لئے اس خطہ کو متنازعہ ریاست جموں اینڈ کشمیر کا حصہ سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ علاقہ ہمیشہ سے پاکستان کے انتظامی کنٹرول میں رہا ہے“ ۔

تنازعہ کشمیر پر اس ریاستی بیانیہ کی مزید وضاحت کے لیے سپریم کورٹ نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 257 کا حوالہ دیتے ہوئے اس فیصلہ کے پیراگراف پندرہ میں لکھا ہے کہ ”آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان دونوں کے لئے جو صورت حال ابھر کر سامنے آئے گی اور بقیہ سابقہ ریاست کے لیے بھی اس امنگ کا اظہار آئین پاکستان کے شق 257 میں شامل کیا گیا ہے، جس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں گے تو پاکستان اور مذکورہ ریاست کے درمیان تعلقات مذکورہ ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق متعین ہوں گے“ ۔

اقوام متحدہ کی قرارداد میں تسلیم کی گئی لوکل اتھارٹیز کی بنیاد پر حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کو ایک آئین یعنی عبوری ایکٹ 1974، صدر، وزیراعظم، جھنڈا، ترانہ، قانون ساز اسمبلی کے ساتھ داخلی خودمختاری اور شناخت دی اور وہاں سٹیٹ سبجیکٹ رول کا قانون تاحال بحال رکھا ہے۔

جبکہ دوسری طرف گلگت بلتستان میں لوکل اتھارٹیز کی موجودگی تسلیم کرنے کی بجائے حکومت پاکستان نے اس خطے میں پہلے ایف سی آر کا کالا قانون نافذ کیا پھر آرڈر پر آرڈر کے ذریعے اس خطہ پر حکومت کر رہی ہے۔

اس کھلے تضاد کا مکمل ادراک کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی راہ میں مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں رکاوٹ ہیں ہے تو پھر آزاد جموں اینڈ کشمیر کو کن بنیادوں پر داخلی خودمختاری اور ایک بہتر آئینی نظام دیا گیا ہے؟ حالانکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں اور آئین پاکستان کے تحت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حیثیت بالکل ایک جیسی ہے۔

اس سوال کا جواب ہمیں آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 1974 کے صفحہ نمبر 1 میں ملتا ہے جس میں آزاد کشمیر کو با اختیار بنانے کی مندرجہ زیل وجوہات بیان کی گئی ہیں۔

ریاست جموں و کشمیر کے علاقوں کا ایک حصہ اگرچہ لوگوں نے آزاد کروایا ہے جو اس وقت آزاد جموں اینڈ کشمیر کے نام سے پہچانا جاتا ہے، لیکن ریاست جموں اینڈ کشمیر کی حیثیت کا تعین ریاست کے عوام کی آزادانہ مرضی کے مطابق اقوام متحدہ کی زیر نگرانی اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈیا و پاکستان کی قراردادوں میں وضع کیا گیا آزادانہ اور شفاف جمہوری طریقے سے بذریعہ استصواب رائے فیصلہ ہونا باقی ہے۔

اس لئے ریاست آزاد کشمیر کی حکومت اور قانون ساز اسمبلی کو مزید با اختیار بنانے کے مقصد یہ ہے کہ آزاد کشمیر حکومت اور قانون ساز اسمبلی کے منتخب نمایندے بھرپور طریقے سے اپنی قانون سازی اور ایگزیکٹو اختیارات حسب ضرورت اچھی حکومت، سماجی و معاشی ترقی اور خاص کر آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کی مستقل بنیادوں پر فلاح عامہ کے لیے استعمال کریں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور UNCIP کی قراردادوں کے تحت اقوام متحدہ کی زیر نگرانی بذریعہ آزاد و شفاف جمہوری طریقے سے حق استصواب رائے اور حق خود ارادیت حاصل کرنے کے ہمارے مقصد کو مزید اگے بڑھانے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

اس لئے جب تک ریاست جموں اینڈ کشمیر کی حیثیت کا تعین نہیں ہوتا، جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے تب تک آزاد کشمیر حکومت اور وہاں کے انتظام و انصرام کو بہتر کرنا ضروری ہے۔

چنانچہ اقوام متحدہ کی کمیشن برائے انڈیا و پاکستان کی قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے حکومت پاکستان آزاد کشمیر ایکٹ 1970 کی مجوزہ معطلی اور دوبارہ نافذ کرنے کی اجازت دیتی ہے اور ریاست آزاد کشمیر کے صدر کو اختیار دیتی ہے کہ وہ موجودہ بل کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں متعارف کرائے تاکہ وہ اسے پاس کریں۔

اس طرح آزاد جموں اینڈ کشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974 کو حکومت پاکستان کی منظوری سے آزاد کشمیر اسمبلی نے اکثریتی رائے سے منظور کیا اور صدر آزاد کشمیر نے منظوری دی اور اس ایکٹ کو نافذ کر کے آزاد کشمیر کو داخلی خودمختاری دی گئی۔

دوسری طرف حکومت پاکستان کی منسٹری آف کشمیر افیئرز نے S۔ R۔ O نمبری 704 ( 1 ) / 2018 کے تحت گلگت بلتستان میں صدارتی حکم نامہ لاگو کرنے کی بنیادی وجہ یہ بتلائی ہے ”اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر نے وزیر اعظم پاکستان کے مشورے پر حکومت گلگت بلتستان آرڈر 2018 کا نفاذ کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتا ہے، کہ اس حکم نامہ کا مقصد گلگت بلتستان میں سیاسی امپاورمنٹ اور اچھی حکومت مہیا کرنا ہے۔

مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اس لئے آزاد جموں وکشمیر عبوری ایکٹ 1974 اور گلگت بلتستان صدارتی حکم نامہ 2018 کا تقابلی جائزہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں لاگو نظام میں موجود واضح فرق کا تجزیہ کیا جا سکے۔

1۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے نظام میں پہلا واضح بنیادی فرق آئین اور حکم نامہ کا ہے۔ Black، s لا ڈکشنری کے مطابق آئین کسی قوم کا بنیادی اور نامیاتی قانون ہوتا ہے جو انفرادی شہری حقوق اور شہری آزادیوں کی مکمل ضمانت دیتا ہے جبکہ آرڈر سے مراد ایک حکم نامہ ہوتا ہے، جس کے تحت نافذ کیا گیا قانون یک طرفہ اور جمہوریت کی بنیادی روح کے خلاف ہوتا ہے، لہذا آرڈر انسانی بنیادی انفرادی شہری حقوق اور شہری آزادیوں کی ضمانت نہیں دے سکتا ہے۔

2۔ آزاد جموں و کشمیر میں مہا راجہ ہری سنگھ کا بنایا ہوا قانون ”سٹیٹ سبجکٹ رول تا حال نافذ ہے جیسا کہ آزاد جموں وکشمیر کے آئین کے آرٹیکل 2 میں لکھا ہے کہ

” State Subject means a person for the time being residing in Azad۔ Jammu and Kashmir or Pakistan who is a State Subject، as defined in the late Government of the State of Jammu and Kashmir۔ Notification No۔ I۔ L/ 84، dated the 20 th April، 1927، as amended from time to time۔“

دوسری طرف گلگت بلتستان میں نافذ کسی بھی قانون میں سٹیٹ سبجکٹ رول کا ذکر تک نہیں ہے، درحقیقت سال 1974 میں ہی گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کا قانون معطل کیا گیا ہے اور تاحال معطل ہے اور ایک ڈپٹی سیکرٹری برائے حکومت پاکستان کے دستخط سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن نمبر LA۔ Res۔ 9 ( 1 ) / 76 مورخہ 12 جون 1978 میں یہ لکھا گیا ہے کہ

Nautor Rules mean Government Khalisah Land and Berune Line Land.

یعنی گلگت بلتستان کی تمام بنجر اراضی کو خالصہ سرکار قرار دیا گیا ہے، حالانکہ آزاد کشمیر میں ایسا کوئی قانون سرے سے موجود نہیں نہ ہی پاکستان کے چار صوبوں میں بھی اس طرح کا کوئی نوآبادیاتی قانون موجود نہیں ہے۔ خالصہ سرکار کی وجہ کی گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں کو اپنی اراضی پر حق ملکیت حاصل نہیں ہے۔

3۔ گلگت بلتستان میں لاگو صدارتی حکم نامہ 2018 میں باشندہ ریاست کی بجائے لفظ شہری استعمال کیا گیا ہے مثلاً آرڈر 2018 میں باشندہ ریاست کی بجائے آرٹیکل 2 (b ) میں شہری کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے۔

2 (b) Citizen means a person who has a domicile or resident of Gilgit Baltistan and who is a citizen under the Pakistan Citizenship Act، 1951 (ll of 1951 ) ۔

شہریت کے اس قانون کے تحت آزاد کشمیر کے برعکس گلگت بلتستان میں قانونی طور پر غیر مقامی افراد کے لئے آباد کاری کے دروازے کھول دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے یہاں ڈیموگرافی تیزی سے بدل رہی ہے جبکہ آزاد جموں وکشمیر میں غیر ریاستی باشندے نہ تو زمین خرید سکتے ہیں نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ وہاں باشندہ ریاست کا قانون نافذ العمل ہے۔

4۔ جی بی آرڈر 2018 کے شیڈول چار کے تحت گریڈ 17 سے 21 تک تمام ملازمتوں میں پاکستان کے شہریوں کے لئے کوٹہ مقرر کیا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان کے شہریوں کے لئے گلگت بلتستان میں 17 گریڈ میں 18 فیصد جبکہ 18 گریڈ میں 30 فیصد اور 19 گریڈ میں 40 فیصد جبکہ گریڈ 21 میں 60 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں اس طرح کا کوئی قانون سرے سے موجود نہیں۔

5۔ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے آرٹیکل 64 کے تحت گلگت بلتستان میں واقع کوئی بھی زمین جو حکومت گلگت بلتستان کی ملکیت ہو وہ ایسی اراضی حکومت پاکستان کو منتقل کر سکتی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ ان دنوں گلگت بلتستان میں گیسٹ ہاؤسز اور دیگر اراضی ایک پرائیویٹ کمپنی کو لیز پر دینے کی وجہ سے عوام میں سخت تشویش پائی جاتی ہے آنے والے دنوں میں اس تنازعہ پر گلگت بلتستان میں احتجاج شروع ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں۔

6۔ آزاد کشمیر ایکٹ 1974 کے آرٹیکل 33 کے تحت آئین کے شق نمبر 33، اور 56 میں ترمیم سے قبل حکومت پاکستان سے اجازت لینا لازمی ہے البتہ آئین کے دیگر تمام شقوں میں ترمیم کرنے کا مکمل اختیار آزاد کشمیر اسمبلی کو حاصل ہے جبکہ گلگت بلتستان کے ممبران اسمبلی کے پاس آرڈر 2018 میں ترمیم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے نہ ہی جوڈیشل ریویو کا اختیار ہے۔

7۔ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے آرٹیکل 118 ( 2 ) کے تحت گلگت بلتستان کی اعلی عدلیہ کو بھی اختیار نہیں کہ وہ آرڈر 2018 کی validity پر سوال کریں۔

8۔ آئین پاکستان کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان اور تمام صوبوں کے ہائی کورٹس میں جج صاحبان کی تقرری جوڈیشل کمیشن کے ذریعے عمل میں لائی جاتی ہے جبکہ گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ اور چیف کورٹ میں ججوں کی تعیناتی وزیراعظم پاکستان کرتا ہے۔

9۔ آزاد کشمیر کے برعکس آرڈر 2018 کے تحت گلگت بلتستان میں تمام تر اہم معاملات سے متعلق اختیارات وزیراعظم پاکستان کو تفویض کیے گئے ہیں جو گلگت بلتستان کونسل کے چیئرمین ہیں۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے منتخب نمایندوں کے پاس جی بی آرڈر 2018 کے ایک شق میں بھی ترمیم کرنے کا اختیار نہیں ہے نہ ہی اس حکم نامہ کے بنانے میں ان کی رائے لے گئی ہے۔ علاوہ ازیں گلگت بلتستان چیف کورٹ یا سپریم اپیلٹ کورٹ میں آرڈر 2018 کو چیلنج بھی نہیں کیا جا سکتا ہے جو کہ ایک المیہ ہے۔

اس تقابلی جائزے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر دونوں خطے ریاست پاکستان کے زیر انتظام علاقے ہیں مگر آزار کشمیر کو مقامی خودمختار حکومت اور داخلی خودمختاری دینے سے مسئلہ کشمیر متاثر نہیں بلکہ مضبوط ہوتا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں لوکل اتھارٹیز کو تسلیم کرنے اور آئینی حقوق دینے سے مسئلہ کشمیر متاثر ہونے بہانہ بنایا جاتا ہے جو کہ گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ ایک نوآبادیاتی فریب اور دھوکہ ہے۔

بقول عزیز علی داد ”گلگت بلتستان میں متعارف کروائی گئی تمام تر تبدیلیاں اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو محض التوا میں رکھنے کی ایک مشق کی تشکیل ہے جس کا مقصد اس خطے میں جمہوری اداروں کی تشکیل کے آڑ میں درحقیقت وفاقی حکومت کا گلگت بلتستان میں گرفت کو برقرار رکھنا ہے۔

یہ تمام حکم نامے درحقیقت اس خطے کی شناخت کے بحران کو برقرار رکھنے کے حلیے بہانے ہیں، لہذا اس طرح کے جمہوری دھوکے کی نسبت ایک عمرانی معاہدہ کے ذریعے معاشرے میں بہتر طور پر حکومت کی جا سکتی ہے۔ ”

چنانچہ پائیدار حل یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں مزید نوآبادیاتی طرز کے آرڈر پر آرڈر لاگو کرنے کی بجائے تا تصفیہ تنازعہ کشمیر گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی آزاد کشمیر طرز پر لوکل اتھارٹیز کے تحت مکمل داخلی خودمختاری دی جائے اور فوری طور پر سٹیٹ سبجکٹ رول بحال کیا جائے تاکہ گلگت بلتستان کے باسیوں میں پائی جانے والی پچھتر سالہ احساس محرومی کا بروقت خاتمہ ہو سکے اور خطہ میں امن و امان برقرار رہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments