گاربیج مین


یوں تو یہ کام کرتے کرتے دہائیاں بیت چکی تھیں مگر اکرم کبھی اتنی بے زاری کا شکار نہیں ہوا تھا جتنا گزشتہ چند دنوں سے بے زار ہونے لگا تھا۔

بہرحال وہ بھی اسی سماج کا حصہ تھا جس میں زندہ رہنے کے لیے کوئی ایسی عینک نہیں بنی تھی جس کو لگا کر وہ اپنی حد نظر صرف ان لوگوں تک محدود کر سکے جو اس جیسے دکھتے ہیں یا اس کی طرح جیتے ہیں، یا جن کا طرز زندگی ہو بہو اس جیسا ہو۔

اس کی حد نظر بد قسمتی سے اتنی ہی وسیع ہے جتنی اوپر والے نے ہر انسان کی رکھ دی ہے۔ جوں جوں وہ کچرے کی ریڑھی اس پوش علاقے کی گلیوں میں گھسیٹتے جاتا اس کا دل گھٹتا۔ شاید اپنے خیالات میں وہ اتنا غرق تھا کہ اسے بالے کی آواز سنائی نہیں دی۔
بالا اور وہ صبح کمیٹی سے اپنی اپنی ریڑھی لے کر اکٹھے کام پر جایا کرتے تھے۔ جب تک راستے الگ نہ ہوتے دونوں باتیں کرتے جاتے تھے۔

بالا جانتا تھا کہ اکرم کا دل اب لوگوں کا کچرا اکٹھا کرتے کرتے تھکنے لگا ہے لہذا وہ اسے یاد کروانا فرض سمجھتا تھا کہ تو پاگل ہے! تیرے ماں باپ نے تجھے بھکاری بننے کی ذلت سے بچایا، ورنہ تیرا خاندان نسل در نسل بھکاری رہتا۔ جن کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا اور جو جھونپڑی سر پر اٹھائے قریہ قریہ گھومتے رہتے!

اوئے تو باز آ جا! بالا کہتا۔

پچھلے ہفتے بھی تیری کسی نے کمیٹی میں شکایت کی تھی کہ تو بڑی دیر سے فارغ ہوا تھا اور سارے ملازم کچرا اکٹھا کر کے چھٹی کر چکے تھے۔ نوکری نہیں کرے گا تو کھائے گا کہاں سے؟ کھلائے گا کہاں سے۔

کامی! تو بندہ بن جا۔

بالے کی تقریر گویا کامی کی سماعت سے ٹکرائی ہی نہیں اور وہ سامنے ایک بڑے سے بنگلے کے باہر موجود باغیچے کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا وہ دیکھ۔

بالا اشارہ غلط سمجھا اور بنگلے سے نکلتی ہوئی میم کو دیکھنے لگا۔
توبہ کر توبہ! بالا کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا۔
تو پاگل ہے، یعنی تیری اداسی کی وجہ یہ ہے۔
اوئے الو کے پٹھے میم نہیں، وہ پھول دیکھ۔ اندھے وہ سامنے۔
ان کا کیا دیکھوں بھائی؟
تو جانتا ہے مجھے ان کی خوشبو نہیں آتی۔ میری ناک میں گندی بو سما گئی ہے۔
تو جانتا ہے اس پیارے بنگلے میں رہنے والے لوگ بہت گندے ہیں۔
تیرا ان سے کیا لینا دینا بھائی۔ ہے بالکل ہے، میرا ہی تو لینا دینا ہے۔

ان کا گند میں اٹھاتا ہوں اور تجھے پتا ہے میں جب ان کی گھنٹی بجاتا ہوں تو یہ ناک پر کپڑا رکھ کے اپنا گند ایسے دیتے جیسا ان کا ہو ہی نا۔

ایک دن میں نے کہا بی بی جی اپنی ٹوکری کا کچرا ایک شاپر میں ڈال کہ گرہ لگا کہ رکھ دیا کریں۔ اس نے میری بہت بے عزتی کی اور کہتی آخر تم لوگ پیسے کس چیز کے لیتے ہو؟ تجھے پتا ہے، ان کے گندے پیڈز دیکھ کر سوچتا ہوں کہ میری بیوی ہوتی تو اسے سمجھاتا کہ سلیقے سے ضائع کرے۔

بالا قدرے افسردہ ہو گیا اور کہنے لگا یہ نخرے ہمیں زیب نہیں دیتے۔
آج تو باتوں میں لگا کر اپنے ساتھ مجھے بھی مروائے گا۔

کیوں زیب نہیں دیتے؟ کیا بڑے عہدے داران جب کسی کو کچھ خفیہ چیز دیتے دلاتے ہیں تو اسے لفافے میں ڈال کر نہیں دیتے؟ کیا اہم معلومات نہیں چھپاتے؟ تو یہ کیوں اپنا گند چھپا کر شاپر میں ڈال کر نہیں دیتے؟

یار مہنگائی بھی تو دیکھ نا۔ کامی کو آگ سی لگ گئی۔ تجھے پتا ہے تو جن گھروں کے لئے مہنگائی کی وکالت کر رہا میں ہر دوسرے دن ان کے گھر کے آگے سے منگوائے ہوئے کھانے کے آرڈرز کے بچے کچے ڈبے اٹھاتا ہوں۔

چل اچھا دفع کر نا۔ کچھ امیر لوگ اچھے بھی تو ہوتے ہیں۔
ہاں، اگلی گلی میں ایک گھر ہے۔ پچھلے ہفتے اوپر والوں کی ڈسٹ بن بارش میں پڑی رہی

اس کے اندر بچوں کے پیمپرز، اور باسی کھانوں کی رات بھر پانی میں بھیگے رہنے کی کچھ ایسی بو تھی کہ مجھے الٹی آ گئی۔

شرمندہ ہونے کے بجائے وہ میم کہتی اسی لئے یہ ملک ترقی نہیں کرتا کہ لوگ اپنے کام سے پیار نہیں کرتے! سالی۔

تو بتا میں کتنی لگن سے کام کرتا تھا شروع میں؟
بتا نا! بالا سوچ میں کھو گیا۔ اب کامی کی باتیں اس کی طبیعت پر بوجھ ڈالنے لگی تھیں۔
اچھا سن تو۔ وہ تو کہہ رہا تھا نا کہ کچھ اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں، ہاں ہوتے ہیں۔

جب وہ میم مجھے باتیں سنا رہی تھی تو ساتھ والی باجی نے وہ سن لیں اور وہ باجی اچھی ہے ویسے۔ شاید وہ سمجھ گئی تھی کہ میری طبیعت خراب ہے۔
اس نے مجھ سے پوچھا بھائی پانی دوں آپ کو؟ میں نے سر ہلایا۔
دیکھ کتنی اچھی بات ہے۔ بالا خوشی سے بولا۔
ہاں! شاید۔ پتہ نہیں

وہ جب اندر گئی نا تو مجھے آواز آئی رضیہ باہر بھائی کو پانی کا ایک گلاس دے دو اور اس پر انگریزی میں لکھ دو ”گاربیج مین“

کامی! ہو سکتا ہے تعریف کی ہو اس نے؟
میں نہیں مانتا
میں انگریزی نہیں جانتا مگر اس کے انداز میں فاصلہ تھا، بہت فاصلہ
ذات کا، عہدے کا، کچرے کا
تو چاہتا کیا ہے؟
میں؟
میں لوگوں کے گھروں کے بھید جاننا نہیں چاہتا۔
ہیں؟
مطلب

میں چاہتا ہوں جیسے یہ اپنے اوپر لباس کا، سرخی، پاؤڈر کا بھیس پہنے بھلے دکھتے ہیں ایسے ہی اپنے گند کو چھپا کر دیں۔ ورنہ مجھے ان کی شکلیں بہت بھیانک دکھائی دیتی ہیں۔

کامی تو پاگل ہو گیا ہے، ہم کچرا اٹھاتے ہیں یہی ہمارا کام ہے۔ وہ کھلا ہو یا بند کیا فرق پڑتا ہے۔
بالے! صرف یہی ہماری پہچان نہیں ہے
ہم بھی انسان ہیں، ہماری حسیات ویسے ہی متاثر ہوتی ہیں جیسے عام انسانوں کی۔
ہاں تو جو مٹھی بھر اچھے لوگ ہیں وہ عزت بھی تو کرتے ہیں ہماری برادری کی۔
وہ باجی بھی تو تجھے کچرے والا نہیں کہتی نا پاگل! کچرا بھی سلیقے سے دیتی ہیں۔
وہ کیا بھلا سا نام دیا تھا باجی نے تجھے؟
گاربیج مین۔ گار پیچ یہی تھا نا۔
اسی لئے کہ وہ تیری عزت کرتی ہیں۔
یہ امیر لوگ جب خوش ہوتے ہیں نا تو انگریزی میں تعریف کرتے ہیں۔
چل اب آگ برس رہی آسمان سے۔ کام مکا
میرا سوہنا گاربی۔ گاربیج مین، کامی
ہاں وہی۔

Facebook Comments HS