بشپ جان جوزف کا شدت پسندی کے خلاف احتجاج


جان جوزف 15 نومبر 1932 کو خوش پور، تحصیل سمندری ضلع فیصل آباد کے مسیحی گھرانے میں پیدا ہوئے انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بطور کاہن مذہبی خدمت کو اپنایا اور 9 جنوری 1984 سے 1998 تک کیتھولک ڈایوسیس آف فیصل آباد میں بطور بشپ فائز رہے۔ اُن کی انصاف اور امن سے متعلق معاملات پر مبنی تحریروں کا مجموعہ ”ایک پرامن جدوجہد“ شائع ہوا جس کی اشاعت میں فادر خالد رشید عاصی نے معاونت کی۔ آفتاب الیگزینڈر مغل اور پیٹر جیکب نے بشپ جان جوزف کے مشورے پر پاکستان میں اہانت دین کے قوانین کے اثرات اور مقدمات پر مبنی کتاب تحریر کی۔

انہوں نے پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے خدمات سر انجام دیں جن میں مسیحی اور مسلمان آبادی کو ملانے کے لئے سمندری شہر کے قریب نہر پر پل تعمیر کروانا اور مسلم کرسچن رابطہ کمیشن کے قیام کے ذریعے مختلف مذاہب کے علماء اور مذہبی رہنماؤں میں روابط استوار کرنا جیسے اقدامات شامل ہے۔

پشپ جان جوزف اپنی آنکھوں میں انقلابی روشنی، ذہن میں منصوبہ بندی، دل میں قوم کا درد اور ہونٹوں پر آزادی کا نغمہ لیے پھرتے تھے۔ انہوں نے سینکڑوں پریشان حال لوگوں کے حقوق کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیا۔ خواہ وہ بھٹہ مزدوروں کی گھروں سے بے دخلی کا معاملہ ہو یا بے آسرا خواتین کے لیے پناہ گاہ قائم کرنا۔ انہوں نے 1992 میں قومی شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شامل کرنے کے خلاف ملک گیر تحریک کی سربراہی کی۔

بائبل مقدس کی کتاب یوحنا باب 10، آیت 11 کے مطابق ”اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں کے لئے اپنی جان قربان کرتا ہے“ اور بشپ جان جوزف نے 26 برس قبل مذہبی منافرت کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنی لازوال قربانی پیش کی اور اچھے چرواہے کا اعزاز حاصل کیا۔

بشپ جان جوزف نے 6 مئی 1998 کو ساہیوال کی عدالت کے سامنے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا جہاں ایک بے گناہ مسیحی نوجوان ایوب مسیح کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ بشپ جان جوزف نے اپنی جان قربان کر کے مذہب کے نام پر نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد پر توجہ دلانے کی کوشش کی۔ ان کی قربانی ناانصافی اور امتیازی قوانین کے خلاف احتجاج کی علامت ہے۔

اگرچہ قائد اعظم نے 11 اگست 1947 کے خطاب میں مساوات اور رواداری پر مبنی ریاستِ پاکستان کا خاکہ پیش کیا تھا مگر نفرت کے کاروبار سے وابستہ گروہوں نے شہریوں کے درمیان مذہب اور فرقے کی بنیاد پر تقسیم کو تقویت دی۔ پاکستان میں 80 کی دہائی میں اہانت دین سے متعلق جرائم کے حوالے سے سخت قوانین متعارف کروائے گئے جس کی وجہ سے ملک میں عدم برداشت اور انتہا پسندی بڑھی۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ بعض بااثر عناصر سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کی من چاہی تشریح کرتے ہیں، تکفیر کے قوانین کا غلط استعمال کرتے ہیں اور پالیسی سازی پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں، تاہم ریاست بے حس اور بے بس ہے اور معاشرہ بڑی حد تک ریاست کی غلط پالیسیوں کی قیمت سے بے خبر ہے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ اہانت دین کے مقدمات میں بااثر گروہ عدالتوں پر بھی دباؤ بڑھاتے ہیں جن کی وجہ سے جھوٹے الزامات کا سامنا کرنے والے ملزمان کو انصاف نہیں مل پاتا جبکہ بااثر گروہوں کی پشت پناہی کی وجہ سے پرتشدد کارروائیوں میں ملوث مجرمان رہا ہو جاتے ہیں۔

گو کہ پاکستان میں 96 فیصد سے زائد شہری مسلمان ہیں مگر بعض مذہبی قوتیں اپنی سیاست چمکانے کے لیے مذہب کو سیاسی نعرہ اور شہرت کے لیے استعمال کرتی ہیں، ایسی قوتیں یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت کے باوجود ملک میں اسلام کو شدید خطرات لاحق ہیں اور وہی قوتیں مذہبی شخصیات کی حرمت کی ضامن ہیں اور پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے اسلامی نظام حکومت کا نفاذ نا گریز ہے۔ اگرچہ مذہبی قوتیں وفاقی و صوبائی حکومت بنانے میں ہمیشہ نا کامیاب رہی ہیں مگر حکومت میں نہ ہونے کے باوجود بھی مذہبی قوتوں کا حکومتی پالیسیوں میں خاصا عمل دخل ہے جس کی واضح مثال تمام درسی کتب میں مذہبی مواد کی بھرمار ہے۔ حتیٰ کہ پنجاب علماء بورڈ کو قانون سازی کے ذریعے درسی کتب کے مواد کی منظوری کا اختیار دیا گیا ہے۔ اقلیتوں اور خواتین کے حقوق سے متعلق مثبت مسودہ قانون کی مخالفت کرنا اور محروم طبقات کے خلاف تشدد کی کارروائیوں میں ملوث عناصر کی حمایت کرتا ایسی قوتوں کا خاصا ہے۔

مذہبی سیاسی جماعتوں سے وابستہ بیشتر افراد کی وجہ شہرت تکفیر کی شکایات کا اندراج ہے۔ کسی فرد پر تکفیر کے الزام کا عموماً پختہ ثبوت پیش نہیں کیا جاتا اور فرض کر لیا جاتا ہے کہ الزام کا سامنا کرنے والے شخص نے ضرور گستاخی کی ہو گی۔ شاذ و نادر اگر ثبوت سامنے آ بھی جائے تو بظاہر مشکوک اور خود ساختہ معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد ذاتی عناد کی بنیاد پر مخالف شخص سے بدلہ لینا مقصود ہوتا ہے۔ مذہبی گروہوں کا دوہرا معیار تکفیر کے قوانین کے غلط استعمال کی روک تھام میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔

یہ گروہ کسی فرد پر الزام کے ردعمل میں ماورائے عدالت قتل اور اقلیتی آبادی کے خلاف ہجوم کی پر تشدد کارروائیوں کی مذمت تو کرتے ہیں مگر تکفیر کے قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قانونی و انتظامی اصلاحات متعارف کروانے کی مخالفت کرتے ہیں حتیٰ کہ تکفیر کے مقدمہ میں اگر قانون کے مطابق عدالتیں کسی ملزم کو ضمانت دے دیں یا بری کر دیں تو یہ گروہ جج صاحبان کے خلاف نفرت آمیز مہم چلانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

ادارہ برائے سماجی انصاف کی سالانہ رپورٹ ”انسانی حقوق کا جائزہ“ میں قوانین تکفیر کے غلط استعمال کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں جس کے مطابق تکفیر کے قوانین کے تحت 1987 سے 2023 کے دوران 2449 ملزمان کو نامزد کیا گیا۔ ان ملزمان کو طویل مدت تک چلنے والے مقدمات، جیلوں اور ہجرت کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تکفیر کے الزامات کا سامنا کرنے والے ملزمان میں 1279 مسلمان، 782 احمدی، 291 مسیحی، 45 ہندو اور 52 دیگر شامل ہیں۔ سب سے زیادہ الزامات پنجاب میں 1770 ملزمان کے خلاف، سندھ میں 971، خیبر پختونخوا میں 99، آزاد جموں کشمیر میں 55، بلوچستان میں 12، اسلام آباد میں 35 اور گلگت بلتستان میں 7 ملزمان پر الزامات لگائے گئے۔

اپریل 2024 میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران مذہب کا سیاست اور ریاستی امور میں استعمال اور ہجوم کا مذہب کے نام پر تشدد جیسے موضوعات پر گفتگو ہوئی جس میں مقررین نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی، مذہبی تنگ نظری اور تکفیر کے قوانین کے غلط استعمال میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر چند شرپسند عناصر لوگوں کے جذبات کو ابھارتے ہیں اور انہیں پرتشدد کارروائیوں کا حصہ بننے کے لیے اکساتے ہیں۔ لہذا حکومت کو بھی اپنی ترجیح واضح کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کئی بار تشدد پسند تنظیموں کو کالعدم شمار کرتے ہوئے پابندی عائد کی گئی ہے اور کئی بار انہیں سیاسی جماعت کے طور پر اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے سہولت فراہم کی گئی ہے۔

مقررین نے اہانت دین کے قوانین کے غلط استعمال کا جائزہ کے لیے عدالتی انکوائری کمیشن کی ضرورت پر زور دیا جو اپنی انکوائری رپورٹ چھ ماہ کے اندر منظر عام پر لائے نیز قانونی، انتظامی اور تعلیمی اصلاحات سے متعلق سفارشات پیش کرے۔ مزید برآں، حکومت تکفیر کے قوانین کا غلط استعمال کرنے والے مدعیان، لوگوں کو تشدد پر اکسانے والے مجرمان، اور تکفیر کی شکایات کا سامنا کرنے والے ملزمان اور اقلیتی برادریوں کے خلاف حملوں میں ملوث افراد/ہجوم کے خلاف قا نونی کارروائی عمل میں لائیں۔ جو محض الزامات کی آڑ میں ماورائے عدالت قتل اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی جیسے مجرمانہ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔

بشپ جان جوزف کی نظر میں اہانت دین کے قانون کا غلط استعمال اشتعال انگیزی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے مذہب کارڈ کے استعمال کو مذہبی ہم آہنگی میں حائل رکاوٹ قرار دیا۔ بشپ جان جوزف کی قربانی انسانی حقوق اور انصاف کے لیے پُرامن جدوجہد کی شکل میں جاری ہے۔

Facebook Comments HS