فیصل واوڈا کی گفتگو پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس: ’عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان محاذ آرائی ملک کے لیے نقصان دہ ہے‘

ثنا آصف ڈار اور شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام


پاکستان میں سیاست دانوں اور ریاستی اداروں کے درمیان محاذ آرائی کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن گذشتہ کچھ عرصے میں ہونے والے واقعات اور چند سیاستدانوں کی جانب سے عدلیہ مخالف پریس کانفرنسز سے ایسا دیکھائی دینے لگا ہے کہ اب یہ محاذ آرائی سیاست دانوں اور عدلیہ یا یوں کہہ لیجیے کہ عدلیہ اور اسٹیبلشمینٹ کے درمیان بھی موجود ہے۔

بہت سے حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ عدلیہ پر تنقید کرنے والے سیاستدان ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر ایسا کر رہے ہیں۔

اس محاذ آرائی کا انجام کیا ہو گا، اس بارے میں بات آگے چل کر لیکن پہلے ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ حالیہ دنوں میں ایسے کون سے واقعات ہوئے جنھوں نے اس تاثر کو ہوا دی کہ ملک کے دو بڑے ادارے یعنی عدلیہ اور ملکی اسٹیبلشمینٹ کے درمیان معاملات کچھ درست نہیں۔

فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس

سینیٹر فیصل وواڈا نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرس کے دوران نہ صرف ملک کی عدلیہ پر تنقید کی بلکہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار کا نام لے کر ان کو بھی براہ راست نشانہ بنایا۔

پریس کانفرنس کے دوران فیصل وواڈا نے کہا کہ ’جسٹس اطہر من اللہ میرا گمان ہے کہ وہ نہیں ہیں جو شہ سرخیوں کے لیے، میڈیا کی زینت بننے کے لیے فیصلے کرتے ہوں۔ میرا گمان ہے جسٹس من اللہ بزدل آدمی نہیں ہیں، میرا گمان ہے کہ جسٹس من اللہ کسی قسم کے گمان میں نہیں آتے، میرا گمان ہے کہ جسٹس اطہر من اللہ رات کے اندھیرے میں کسی سے نہیں ملتے، میرا گمان ہے کہ کسی پرانے خاص سے جسٹس من اللہ کا کوئی تعلق نہیں، میرا گمان ہے کہ جسٹس اطہر من اللہ کسی سیاسی جماعت کے میسنجر سے نہیں ملتے۔‘

فیصل وواڈا نے تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’سیاست دان اگر دوہری شہریت نہیں رکھ سکتا تو جج کیسے دوہری شہریت کے ساتھ بیٹھے ہیں۔‘

سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کا فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر از خود نوٹس

فیصل واوڈا کی اس پریس کانفرنس پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے لیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ میں جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس نعیم اختر شامل ہوں گے، جو آج (جمعے کے روز) اس از خود نوٹس کی سماعت کریں گے۔

نہ صرف یہ بلکہ گذشتہ روز سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق انٹر کورٹ اپیلوں کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت ملتوی ہونے پر کسی کا نام لیے بغیر اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں پراکسز کے ذریعے دھمکا رہے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’ہمیں کہا جا رہا ہے کہ پگڑیوں کو فٹ بال بنائیں گے۔۔۔‘ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہ ایسا ہو رہا ہے اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔

دوسری جانب جمعرات کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے فیصل واوڈا کے اس خط کا جواب دیا ہے، جو انھوں نے عدالت کو 30 اپریل کو لکھا تھا۔

واضح رہے کہ اس خط میں فیصل واوڈا نے جسٹس بابر ستار کی تعیناتی سے قبل ان کے گرین کارڈ ہولڈر ہونے کی انفارمیشن فراہم کرنے کا ریکارڈ مانگا تھا۔

ہائیکورٹ کے جواب کے مطابق پاکستان کے آئین میں جج بننے کے لیے کسی اور ملک کی شہریت یا رہائش رکھنا نااہلیت نہیں اور کسی بھی وکیل سے ہائیکورٹ کا جج بنتے وقت اس سے دہری شہریت کی معلومات نہیں مانگی جاتیں۔

جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ ’جسٹس اطہر من اللہ نے چھ ججز کے خط پر از خود کیس کی کارروائی میں اس بات کو واضح کیا اور بتایا کہ جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر بحث آیا اور اس کے بعد ہی بابر ستار کو بطور جج مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔‘

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز نے 25 مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کو اپنے ایک خط میں عدالتی امور میں آئی ایس آئی اور دیگر انٹیلیجنس اداروں کی طرف سے مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے، جنھیں موجودہ سیاسی تناظر میں غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔

’آپ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ادارے کون ہوتے ہیں مداخلت کرنے والے‘

اس ساری صورتحال میں گذشتہ روز دو اور پریس کانفرنس بھی ہوئیں، جس میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے بھی عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں جعلی ڈگریوں، دہری شہریت پر ایم این ایز، سینیٹرز کو گھر جاتے دیکھا، عدلیہ جیسے ادارے میں قول و فعل میں تضاد آ رہا ہے، کیا دہری شہریت والے کسی شخص کو عدالت کا جج ہونا چاہیے؟‘

’اگر دہری شہریت پر کوئی شخص رکن قومی اسمبلی نہیں بن سکتا، تو کیا تمام اداروں میں دہری شہریت کے قوانین لاگو ہونے چاہئیں؟ ایک جج دہری شہریت پر عوامی نمائندے کو گھر بھیج سکتا ہے تو خود اس کے لیے یہ پابندی کیوں نہیں؟‘

مصطفیٰ کمال نے یہ بھی کہا کہ ’اب لگ یوں رہا ہے کہ عدلیہ اور فوج کے درمیان کوئی جنگ چل رہی ہے اور صرف فوج ہی نہیں بلکہ سکیورٹی اداروں کو اس میں گھسیٹا جا رہا ہے۔‘

استحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری نے بھی جمعرات کے روز ہی اسلام آباد کے پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بڑے آرام سے آپ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر یہ کہ دیتے ہیں کہ ادارے کون ہوتے ہیں مداخلت کرنے والے کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ اگر یہ ادارے نہ ہوں تو ہمیں باہر سے لوگ آ کر نقصان پہنچا کر آرام سے واپس چلے جائیں، اگر یہ ادارے اس مُلک میں نہ ہوں تو یہاں قانون نام کی کوئی چیز نہ ہو۔‘

عون چوہدری کا کہنا تھا کہ ’رات میں عدالتیں کُھل سکتی ہیں اور فیصلے سُنائے جا سکتے ہیں تو جب کسی ادارے پر اُنگلی اُٹھائی جاتی ہے تو تب بھی آپ ویسے ہی ایکشن لیں اور ویسے ہی فیصلہ کریں۔‘

عون چوہدری نے کہا کہ ’یہاں انصاف اور قانون کا نظام ایسا ہونا چاہیے کہ کوئی اس مُلک کے کسی ادارے پر اُنگلی نہ اُٹھائے۔ یہاں ہمارے مُلک کے ہر شہری کی عزت ہے اور یہاں سب کے لیے قانون یہاں برابر ہونا چاہیے۔‘

’اگر یہ محاذ آرائی برقرار رہی تو ملک میں مارشل لا لگا دیا جائے گا‘

بی بی سی نے اس ساری صورتحال کے حوالے سے چند ماہرین کے سامنے چند سوال رکھے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا چند سیاستدانوں کی جانب سے عدلیہ مخالف بیان کیوں اور کس کی ایما پر دیے گئے ہیں؟

کیا حالیہ واقعات عدلیہ اور ملکی اسٹیبلشمینٹ کے درمیان کسی تصادم کی جانب اشارہ کرتے ہیں اور آخر یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فیصل عرب کا کہنا ہے کہ اگر ججز کی جانب سے کسی ادارے کے اہلکاروں کی طرف سے عدالتی امور میں مداخلت کا الزام عائد کیا گیا ہے تو اس کا سدباب ہونا چاہیے نہ کہ ان ججز کے خلاف سیاست دانوں سے پریس کانفرنس کروا کر ان ججز کی عزت اچھالی جائے۔

انھوں نے کہا کہ جو شخص کسی ادارے کا بینیفشری ہوتا ہے اس کے خلاف نہ کوئی بات کرتا ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی بات سننا پسند کرتا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ فیصل عرب نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ ادارے اپنی آئینی حدود میں نہیں رہتے اور حدود کا تعین آئین نہیں بلکہ آئین پر چلنے والے افراد کرتے ہیں۔

پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چییرمین امجد شاہ ایڈوکیٹ کا کہنا ہے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان محاذ آرائی ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔

انھوں نے یہاں تک کہا کہ اگر یہ محاذ آرائی برقرار رہی تو اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ ملک میں مارشل لا لگا دیا جائے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ عدلیہ نے کھل کر عدالتی معاملات میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا نام لیا جبکہ پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں عدلیہ نے فوجی آمروں کا ساتھ دیا اور اس پر شرمندگی کا اظہار بھی نہیں کیا۔

امجد شاہ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اگر عدلیہ نے اپنے پاؤں جما لیے تو یہ ملک میں اداروں کی مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستانی سیاست دانوں کا کردار بھی کبھی بھی قابل تعریف نہیں رہا اور انھوں نے اپنی حکومت کو دوام بخشنے اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ چند روز کے دوران اعلی عدلیہ کے ججز کے خلاف جو پریس کانفرنس کی جا رہی ہیں اور اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ پریس کانفرنس کرنے والوں کو کن کی آشیرباد حاصل ہے۔

اس ساری صورتحال پر تجزیہ کار نصرت جاوید نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آج کل عدلیہ جس انداز میں بہت زیادہ متحرک ہوئی ہے تو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے سیاستدان یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی جگہ بن رہی ہے۔

’تو وہ اس طرح کے خیالات کا اظہار کر کے لائم لائٹ میں آنا چاہتے ہیں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33095 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments