اس وقت پوری انسانیت ایک وبا کی لپیٹ میں ہے اور ہر ملک کی پہلی ترجیح یہی ہے کہ کس طرح اس بھنور میں سے اپنی قوم کو نکالا جائے اور نقصان بھی کم سے کم ہو۔ ارض پاک پر بھی اس وقت اس موذی وبا کے سائے چھائے ہوئے ہیں جو ہر گزرتے دن گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اپنی کم علمی اور کم عقلی کی وجہ سے میں گراف کی بڑھتی گھٹتی لائنوں پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہوں۔ بہرحال کوشش کروں گا کہ ایک سطحی سوچ کا فرد ہونے کے ناتے میں اپنے ہم خیال لوگوں کی نمائندگی کر سکوں۔
لکھنے بیٹھا ہوں تو سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں سے شروع کروں؟ کس نقطے کو پہلے ڈسکس کروں اور کس کو بعد میں۔ ابھی پرسوں کی ہی بات ہے کہ صوبائی وزیر صحت نے عوام کو جاہل کا لقب عطا فرمایا جس کہ بعد ہر جگہ اسی پر بحث ہونے لگ گئی۔ جیسا کہ مرشد نصرت جاوید فرماتے ہوتے ہیں کہ یہ قوم اندھی عقیدت اور نفرت کے درمیان رہتی ہے تو اس بات کو لے کر بھی عقیدت مندوں نے پورا زور لگانا شروع کر دیا کہ ہاں بھائی ہم ہیں ہی جاہل۔ میں اس وبا کہ ملک میں تشریف لانے سے لے کر اب تک اپنی عقل کل حکومت کے کچھ سنہرے اقدامات کا ذکر کروں گا اور پھر فیصلہ قارئین پر چھوڑ دوں گا۔
Read more