تقسیم کے بنیادی ہتھیار تشدد اور توڑ پھوڑ ہوتے ہیں


یہ دریائے راوی ہے جس کا پانی عاشقوں کی آنکھ سے زیادہ صاف اور اِس کی چراہ گاہیں باغ اِرم سے زیادہ خوشگوار تھیں۔ یہ دریا تہذیبوں کا امین اور رازوں کا مکین ہے۔ یہ دریا گورو نانک جی مہادیو کے جنم استھان ( ننکانہ صاحب) سے لے کر اُن کے دُنیا سے کنارہ کرنے تک (کرتار پور) کی زندگی کا چشم دید گواہ ہے۔ گورو نانک جی مہادیو کی سادہ سی تعلیمات نے ہند کے سماج میں ایک زبردست تبدیلی پیدا کی ہے۔ انہوں نے تمام انسانوں کو مساوی اور برابر قرار دیا ہے۔ اُن کی زندگی کا ایک اہم کام چور، ڈاکو، لٹیرے بابر کی فوج کو گناہ کی بارات سے تعبیر کرنا ہے۔ ہند بالخصوص پنجاب کی دھرتی کے امن و سکون کو سبوتاژ کرنے کیلئے چور، ڈاکو، لٹیرے حملہ آور ہوتے رہے جو صدیوں سے بنی پیار اور محبت کی داستانیں روند ڈالتے تھے۔ اُس پر دہرا ظلم جو ہم پر روا رکھا گیا وہ یہ تھا کہ اِنہی چور، ڈاکواور لٹیروں کو ہیروبنا کر ہمارے سروں پر تھونپ دیا گیا۔ یہ راوی اِن تمام داستانوں کا راوی ہے۔ اِس راوی نے ظلم و بربریت دیکھی ہے پرامن معاشرے پر تشدد ہوتے دیکھا ہے۔ یہ بات ٹی ایس مارٹن اپنی کتاب رنجیت سنگھ میں لکھتا ہے کہ جب گورو نانک جی مہاراج کے چوتھے گورو ارجن جی کو جہانگیر نے قید کیا تو ان سے دو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بولا۔ جس کے جواب میں گورو ارجن جی نے کہا کہ ہم گورو نانک جی مہادیو کے پیروکار ہیں۔ ہمارے پاس جو ہوتا ہے وہ رب کی مخلوق کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کر دیتے ہیں۔ اِن کے جواب میں جہانگیر نے گورو ارجن جی کو قتل کرنے کیلئے چندو شاہ کے حوالے کر دیا۔ چندو شاہ گورو جی کا دشمن تھا۔ اُس نے گورو جی پر تشدد کیا اور قتل سے پہلے ان سے ان کی آخری خواہش پوچھی تو گورو جی نے دریائے راوی میں اشنان کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جو چندو شاہ نے قبول کر لیا اور سخت ترین پہرے میں گورو ارجن جی کو راوی پر لایا گیا۔ گورو جی نے اشنان کیلئے تیاری کی اور نہانے کیلئے دریائے راوی میں ڈبکی لگائی تو پھر نہ ابھرے۔ راوی نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔ اِس کے بعد چندو شاہ کی سپاہ خالی ہاتھ واپس لوٹ گئیں۔ گورو جی پر ہونے والے تشدد کو راوی نے روح تک محسوس کیا ہوگا تب سے اب تک راوی کو صوفی دریا بھی کہا جاتا ہے۔ اِس دریا کے متعلق پنجابی زبان و ادب کے شاعر، ادیب طارق گجر نے لکھا ہے کہ
بھاویں دجلہ فرات وِی پیارے۔۔۔ راوی تیری دے سر تو وارے۔۔۔ جتھے پیار کیتوئی

اگر ہم تشدد کے اعتبار سے دیکھیں تو حال ہی میں منظر عام پر آنے والی کتاب Lahore Partition 1947… 1961 ہے۔ اِس کتاب کا لکھاری راوی کنارے واقع گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ سے وابستہ اسسٹنٹ پروفیسر ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو خالص تاریخ اور تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہے۔ جس کے آباو اجداد ہجرت کے دکھ اور تشدد سے گزر کر لاہور آئے تھے۔ یہ کتاب اُسی دکھ، تکلیف اور تشدد کے احساس کا نتیجہ ہے جو اُس نے گھر میں دادا، دادی، نانا، نانی سے سنے تھے۔ یہ نوجوان اِس اعتبار سے خاصا خوش قسمت ہے کہ جس کو بچپن میں کہانیاں اور پڑھنے کیلئے کتابیں گھر میں ہی دستیاب تھیں۔ یہ گھرانہ خالص علمی گھرانہ ہے جو بچے کہانیاں سنتے کتاب پڑھتے جوان ہوتے ہیں وہ راستوں میں چراغ رکھتے چلے جاتے ہیں تاکہ رستے کے راہی باآسانی منزل تک پہنچ سکیں۔ اِس کتاب میں مصنف نے جو کام تاریخ کے سپرد کیا ہے وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

میں نے یہ کتاب پڑھی نہیں بلکہ سنی ہے۔ تھوڑی بابا کی جان ازابیل سے جبکہ مکمل طور پر عزیزم شیر زمان سے جس کے بعد اِس کتاب پر جی بھر کر باتیں کی ہیں۔ شیر زمان نے تحقیق اور جستجو کیلئے دنیا بھر کا سفر کیا ہے۔ اس نے بچپن میں حضرت باچا خان بابا سے ہاتھ ملایا ہے باچا خان بابا نے تشدد کی جگہ عدم تشدد کا فلسفہ پیش کیا تھا اور اُن کی تحریک، خدائی "خدمت گار تحریک” کے متعلق دُنیا بھر کی درس گاہوں میں پڑھایا جاتا ہے مگر ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ زمین پر انسان کیلئے آسانیاں پیدا کرنے والے ہی زندہ رہتے ہیں جبکہ تشدد، ظلم و بربریت روا رکھنے والے سب کے سب کوڑے کا ڈھیربن جاتے ہے اور بالآخر حرف غلط کی طرح مٹ جاتے ہیں۔ جو امن، محبت اور پیار کا پرچار کرتے ہیں وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں وہ سناتا جا رہا تھا اور راقم الحروف لکھتا جا رہا تھا۔

میں مصنف کو ذاتی طور پر نہیں جانتا، تاہم لاہور میرے دل کے قریب ہے لہٰذا لاہور کی ہر چیز میری دلچسپی کا باعث ہے۔ مقامی کہاوت کے مطابق ’ اگر آپ نے لاہور نہیں دیکھا تو آپ ابھی پیدا نہیں ہوئے، میں پیدا ہوا ہوں، میں نے لاہور دیکھا ہے۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ لاہور کا کون سا پہلو، مصنف مجھے اپنی کتاب میں دکھانے والا ہے۔ دس سال سے زائد کا وقت بیت چلا ہے۔ میں تشدد، پاگل پن، تعصب، غنڈہ گردی سے بھری فلمیں، کہانیاں پڑھنے اور سننے کا حوصلہ کھو چکا ہوں۔ آج سے ٹھیک دس سال پہلے میں نے بہت زیادہ مظالم اور بربریت کی وجہ سے ’ ہوٹل روانڈا ‘ درمیان میں دیکھنا چھوڑ دیا تھا۔ یہ سیریزسچی کہانیوں سے متاثر ہے جو 1990ء کی دہائی میں روانڈا میں پیش آئی تھیں جب ایک ملین سے زائد توتسی نسل کشی میں مارے گئے تھے جس پر اقوام عالم زیادہ تر خاموش ہی رہی تھی۔ میں نے اپنی تمام ہمت اکٹھی کی، خود سے گفت و شنید کی اور اِس کتاب کو چیلنج کے طور قبول کیا اور Lahore Partition 1947… 1961 پڑھنا شروع کر دی اور بالآخر ایک ہفتہ میں یہ کتاب مکمل طور پر پڑھنے میں کامیاب ہو گیا اور مکمل پڑھنے کے بعد کچھ دن سوچتا رہا کہ تشدد انسان کو انسان کے درجے سے کس طرح گرا دیتا ہے۔ یہ زمین پر ہر کسی کیلئے زہر قاتل ہے۔

Lahore @ Partition 1947 … 1961 کتاب کا نام ہے اور یہ وین گارڈ نام کے اشاعتی ادارے سے چھپی ہے۔ یہ کتاب انگریزی زبان میں لکھی گئی ہے اور انگریزی میں ہی چھپی ہے۔ ایک علمی اور تحقیقی مقالہ ہے۔ جس کا مرکزی نقطہ متحدہ ہندوستان کی تقسیم اور اِس کے بعد لاہور ہے۔ اِس تحقیق کے مطابق لاہور سے غیر مسلموں کو نکالنے کیلئے کھلے عام تشدد کا استعمال کیا گیا تاہم تشدد کا ذمہ دار صرف ایک گروہ یا کوئی ایک جماعت نہیں تھی مسلمانوں، ہندووں، سکھوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ایک دوسرے کے خلاف کھلے عام تشدد کا سہارا لیا۔ لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ کے جلنے سے ہندو تاجروں کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اور اِن میں سے بیشتر نے لاہور میں مزید قیام کی امیدیں اور وجوہات کھو دیں۔ اِس میں ہندوؤں اور سکھوں کی پرامن ہندوستان منتقلی بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔۔۔ مسٹر اٹکنز! ایک گورکھا کپتان نے راستے میں شہر کی ہولناکیوں کو دیکھا تھا۔ قابل رحم اور آدھے پاگل ہندوتاجروں نے کپتان کا محاصرہ کر لیا۔

وہ اُس کو پچیس ہزار روپے، اُس کی بیٹی اور بیوی کیلئے زیورات سمیت کچھ بھی پیش کرنے کو تیار تھے اگر وہ اُنہیں اپنی جیپ میں بھاگنے دیتا۔ لاہور کو خون میں غوطہ دیا گیا تھا لاہور جہنم بن چکا تھا۔ اِس کے نتیجے میں دو لاکھ 35 ہزار غیر مسلم چلے گئے اور دو لاکھ  61 ہزار مسلمان لاہور آئے۔ سماجی نتائج کے علاوہ مہاجرین کا تبادلہ، شہر کے اقتصادی اور صنعتی ڈھانچے کیلئے بھی بہت نقصان دہ تھا۔ اِس کتاب میں یہ تمام حقائق، اعداد وشمار اور کہانیاں مل سکتی ہیں۔ میں ٹیکسالی سے جا رہا تھا جب مجھ کو تین چار لوگوں نے گھیر لیا۔ مجھے چھریاں ماریں۔ اُن کے نزدیک میں مر چکا تھا مگر میں بچ گیا۔ میں زندہ ہوں۔ ہندو، سکھ، مسلمان سب نے تشدد کیا۔ اِس کام کو پورا کرنے کیلئے مصنف نے ایک ہزار کے لگ بھگ ایف آئی آرز کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے، مطالعہ کیا ہے پھر جا کے اپنی سوچ وفکر کو تاریخ کے سپرد کیا ہے۔

اِس کتاب کے مطالعہ کے بعد جو بات سامنے آتی ہے کہ دھرتی ماں سے اُٹھا ہوا یہ نوجوان دھرتی ماں کے دکھ کو اپنی روح تک محسوس کرتا دکھائی دیتا ہے۔ تاریخ پر کیا گیا یہ کام تاریخ کے اوراق میں ایک تاریخی کام ہے۔ یہ کتاب ایک مقالہ ہے جس کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے دستاویزات کو پڑھا ہے، پرانے ریکارڈ تلاش کئے ہیں، گواہان کے بیانات قلم بند کئے ہیں اور اِس کام کو تاریخ کے سپرد کرنے تک دن کو رات اور رات کو دن کی طرح گزارا ہے۔ یہ کتاب بتا رہی ہے کہ جن گھروں میں پیار کے دیپ جلائے جاتے تھے آج آگ لگائی جا رہی ہے۔ یہ آگ کیوں لگائی جا رہی ہے توڑ پھوڑ اور تشدد کیوں کیا جا رہا ہے اِس کا جواب ایک نہ ایک دن پوری سچائی کے ساتھ سامنے آئے گا۔

یہ سچائی کا وہ بیان ہے جو ڈاکٹر عدنان طارق کی کتاب سے شروع ہو گا جو ایک دن اُن ہاتھوں تک لے جائے گا جن ہاتھوں نے یہ آگ لگائی تھی اور پھر نہ بجھائی تھی۔ روشن چہرہ اور روشن دماغ اِس نوجوان نے وہ کر دکھایا ہے جو 76 سالوں میں پورا پاکستان مل کر نہیں کر پایا ہے۔ اب پورے پاکستان کا یہ فرض بنتا ہے کہ تقسیم سے لے کر آج تک جو تشدد اور پاگل پن کیا گیا ہے اُس سے فوری رجوع کریں۔

ہمارے پیارے پاکستان میں آج تک تاریخ میں جو بھی پڑھایا گیا ہے، بتایا گیا ہے، اس نے نسلوں کو گمراہ اور تاریخ کو تباہ کیا ہے مگر اِس کتاب میں اِس نوجوان تاریخ دان کا ایک شہرہ آفاق کام یہ ہے کہ پورے مطالعہ میں اُس کو مکمل طور پر غیر جانبدار پایا ہے اُس کا عقیدہ، سیاسی وابستگی، نسلی پس منظر اس کو کسی گروہ، جماعت یا دھڑے کی برائیوں کو نظر انداز کرنے پر مجبور نہیں کر سکا ہے۔ یہ وہ کام ہے جو واقعی حقیقت سامنے لانے والا کام ہے جس کو دُنیا میں پیش کیا جا سکتا ہے اور یہ بتایا جا سکتا ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں بلا کا اعتماد ہے۔ موقع ملے تو شاندار نتائج دیتے ہیں مگر ہماری ریاست اپنے بچوں اور جوان ہوتے شہریوں کو وہ اعتماد دینے سے قطعی طور پر قاصر نظر آتی ہے جو اعتماد دنیا بھر کی ریاستیں اپنے لوگوں کو دیتی نظر آتی ہیں۔ اِس مطالعہ میں ایک اہم بات ملی ہے، کہ تشدد سے کوئی بھی بہتری نہیں آ سکتی۔ جس کے متعلق مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے کہا ہے ’ تشدد خود کو شکست دیتا ہے۔ اِس سے متاثرین میں تلخی اور تشدد کرنے والوں میں وحشت پیدا ہوتی ہے‘۔ اِس دُنیا میں کس کو کیا دینا ہے یہ خدا ہی جانتا ہے مگر خدا نے آپ کو اِس قحط الرجال میں سچ لکھنے، سچ سامنے لانے کا حوصلہ اور ہمت دیا ہے اِس سے بڑھ کر آپ کو اورکیا چاہئے۔

Facebook Comments HS