سٹینفورڈ یونیورسٹی کی کہانی


بیروزگاری سے تنگ اٹلی کا ایک شخص جس نے سُن رکھا تھا کہ امریکہ کی گلیاں سونے سے پَکّی ہیں، اپنے وطنِ مالوف اٹلی کو خیرباد کہہ کر امریکہ جا پہنچا۔ امریکہ اُس کے لیے ایک بالکل نیا جہان تھا۔ کچھ دن امریکہ کی گلیوں میں خوار ہونے اور امریکیوں کے مزاج کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد وہ تھک ہار کر ایک اونچے چبوترے پر بیٹھ گیا اور اس نے لوگوں سے مخاطب ہو کر ایک بات کہی،

”میں تو اس لیے امریکہ آیا تھا کیونکہ میں نے سن رکھا تھا کہ یہاں کی گلیاں سونے سے پختہ کی گئی ہیں۔ مگر جب میں امریکہ آیا تو میں نے تین چیزیں دیکھیں۔ پہلی یہ کہ گلیاں سونے سے پکی نہیں تھی۔ دوسری یہ کہ گلیاں پکی ہی نہیں تھی اور تیسری یہ کہ وہ لوگ مجھ سے توقع کر رہے تھے کہ میں اُن گلیوں کو پکا کروں۔“

امریکیوں نے اپنے وطن کے بارے میں جب یہ عجیب و غریب اور معنی خیز بات سنی تو انھوں نے اس بات کو کہاوت کا درجہ دیا اور نیویارک کے ایک میوزیم میں یہ الفاظ من و عن رقم کر دیے کہ آنکھوں میں حسین خواب سجا کر دوسرے ممالک سے امریکہ آنے والے ہر شخص کو یہ باور کروا دیا جائے کہ یہاں مفت کچھ نہیں ملتا، ہر چیز کی آپ کو ایک قیمت چکانا پڑتی ہے، آپ کو سخت محنت کرنا پڑتی ہے، یہاں کے معاشرتی زندگی میں کوئی ویلیو ایڈ کرنا پڑتی ہے جس کا آپ کو بدل یا معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ آپ یہاں لوگوں کے لیے جتنے مفید اور کارگر ثابت ہوتے چلے جاتے ہیں آپ کی قدر و منزلت میں اسی قدر اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

امریکی قوم بذات خود اپنے ملک و ملت سے کس قدر مخلص اور وفا کیش ہے اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو۔ کیلیفورنیا کے ایک ممتاز صنعت کار لی سٹینفورڈ کا ایک ایک ہی بیٹا تھا جس کی پرورش نازو نعم کے ساتھ ہوئی تھی۔ جب اس کی عمر پندرہ سال ہوئی تو وہ سخت بیمار ہو گیا، اس کا ٹائیفائڈ بگڑتا چلا گیا اور کوئی دوا کارگر ثابت نہ ہوئی۔ بوڑھے صنعت کار کو جب کسی نے مشورہ دیا کہ اس کا علاج اٹلی میں ممکن ہے تو وہ بیٹے کو پہلے نیپلز، پھر روم اور آخر کار فلورنس لے گئے، جہاں لی لینڈ سٹینفورڈ جونیئر اپنی سولہویں سالگرہ سے چند دن قبل داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔

سٹینفورڈ خاندان کے لیے یہ قیامت کا لمحہ تھا کہ ان کا اکلوتا وارث دنیا سے کوچ کر گیا تھا۔ وہ دکھی دل کے ساتھ امریکہ واپس آ گئے۔ اب وہ اپنے بچے کے اعزاز میں کچھ بڑا کرنا چاہتے تھے۔ لی سٹینفورڈ نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ کیلیفورنیا کے بچے ہمارے بچے ہیں اب ہمیں ان کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ یوں انھوں نے ”لی سٹینفورڈ جونیئر یونیورسٹی“ بنانے کا فیصلہ کیا اور چالیس ملین ڈالر کی خطیر رقم اس کام کے لیے مختص کر دی۔

1891 میں علم کے طلبگاروں کے لیے اس عظیم درسگاہ کے دروازے کھول دیے گئے۔ زراعت کی تعلیم سے درس و تدریس کا آغاز ہوا اور ”ہربرٹ ہوور“ پہلے طالب علم کے طور پر انرول ہوئے جو بعد میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اکتیسویں صدر کے طور پر منتخب ہوئے۔ لی سٹینفورڈ کے انتقال کے بعد یونیورسٹی کو ابتدا ہی میں مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا ایسے میں اس کی بیوی جین سٹینفورڈ نے آگے بڑھ کر یونیورسٹی چلانے میں خاصی محنت کی، حتی کہ اس نے اپنے تمام زیورات یونیورسٹی کے فنڈز میں جمع کروا دیے۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی کی تاریخ محض ایک سو تیس سال پرانی ہے مگر یہ کامیابیوں اور کامرانیوں کی ایک شاندار داستان ہے۔ مثال کے طور پر ہیولیٹ اور پیکارڈ سٹینفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر فریڈرک کے شاگرد رہے، جنھوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک چھوٹے سے گیراج میں اپنی کمپنی ایچ پی کی بنیاد رکھی اور اسی گیراج سے سیلیکون ویلی کی ابتدا ہوئی جس نے آئی ٹی کے شعبے میں انقلاب برپا کر کے رکھ دیا۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ہم جگہ ہیں سیکھنے سکھانے کی، دریافت کی، جدت کی، اظہار کی اور گفتگو کی۔

سٹینفورڈ خاندان اگر اس حادثے کی بعد محض گریہ و زاری کرتا رہتا، یا اس کی وفات کے دن ہر سال غرباء و مساکین کو کھانا کھلا کر اپنا فریضہ پورا کرتا رہتا یا اس بچے کی یاد میں ایک شاندار یادگار تعمیر کروا دیتا تو کیا ہوتا، اکیس نوبل پرائز اپنے نام کرنے والے عظیم افراد کی مادر علمی سٹینفورڈ یونیورسٹی نہ بنتی، انٹیل، گوگل، واٹس ایپ، نیٹ فلیکس، ایچ پی، لنکڈ ان، یو ٹیوب، سنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسی کمپنیاں معرضِ وجود میں نہ آتیں۔ سلیکان ویلی کا وجود نہ ہوتا، ڈی این اے دریافت نہ ہوتا، انٹر نیٹ کا بنیادی خاکہ ہی نہ بنتا۔

ہو سکتا ہے یہ سب کچھ کسی اور شکل میں کہیں اور ہوتا بھی سہی مگر اس سب کا سہرا سٹینفورڈ خاندان کے سر نہ جاتا جنھوں نے ایک فطری حادثے کا شکار ہونے کے بعد تعمیری سوچ کو پروان چڑھایا اور ایسی تاریخ رقم کر دی جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

Facebook Comments HS