جنوبی افریقہ کا اسرائیل کیخلاف نسل کشی کا مقدمہ: عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ کیا تھا؟

ڈومینک کیسیانی - نامہ نگار برائے قانونی امور


غزہ
عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل پر غزہ جنگ کے دوران نسل کشی کے الزامات اور رفح میں جارحیت کو ہنگامی بنیادوں پر روکنے کے مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

اسرائیل جنوبی افریقہ کے اس مقدمے کو ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ اور ’اخلاقی طور پر نفرت انگیز‘ قرار دیتا ہے اور جمعے کے روز عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں اپنا جواب جمع کروائے گا۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کے بعد سے آئی سی جے کی جانب سے استعمال ہونے والے الفاظ کا بہت گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور عدالتی فیصلے میں انگریزی کے ایک لفظ ’پلازیبل‘ لفظ ( جس کے اردو زبان میں معنی ’معقول‘ یا ’ممکنہ‘ ہو سکتے ہیں) کے استعمال پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس جنوری میں عالمی عدالت انصاف نے اس معاملے کے حوالے سے ایک عبوری فیصلہ دیا تھا اور اس فیصلے کے ایک پیراگراف کو سب سے زیادہ توجہ ملی۔

اس پیرا گراف میں کہا گیا کہ ’عدالت کے مطابق، حقائق اور حالات یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے کافی ہیں کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے جن حقوق کا دعویٰ کیا گیا اور جن کے تحفظ کی وہ کوشش کر رہا ہے، معقول ہیں۔‘

کچھ قانونی مبصرین سمیت بہت سے لوگوں نے اس کی تشریح کچھ ایسے کی کہ عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ غزہ میں نسل کشی کے بارے میں جنوبی افریقہ کا دعوی معقول ہے۔

عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی یہ تشریح بہت تیزی سے پھیل گئی، جسے اقوام متحدہ کی پریس ریلیز اور بی بی سی سمیت کئی میڈیا اداروں کی کوریج میں بھی دیکھا گیا۔

عالمی عدالت انصاف

تاہم اپریل میں، جوان ڈونگو جو اس فیصلے کے وقت عالمی عدالت انصاف کی صدر تھیں، نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ عدالت نے ایسا نہیں کہا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فیصلے کا مقصد یہ اعلان کرنا تھا کہ جنوبی افریقہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنا کیس عالمی عدالت انصاف میں لائے جبکہ فلسطینیوں کو ’نسل کشی سے تحفظ کے حقوق حاصل ہیں‘ – ایسے حقوق جن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا حقیقی خطرہ لاحق تھا۔

عالمی عدالت انصاف کی سابق سربراہ نے جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں فیصلے کی وضاحت دی۔

عالمی عدالت انصاف کے ججوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ انھیں ابھی یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں کہ نسل کشی ہوئی یا نہیں تاہم انھوں یہ نتیجہ ضرور اخذ کیا کہ جنوبی افریقہ نے جو شکایات کی ہیں، اگر وہ ثابت ہو جائیں تو وہ اقوام متحدہ کے نسل کشی پر کنونشن کے زمرے میں آتی ہیں۔

آئیے اس کیس کے پس منظر کو دیکھتے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس پر قانونی تنازع کیسے سامنے آیا؟

غزہ جنگ

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کو مختلف ممالک کے درمیان تنازعات کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے قوانین جن پر قوموں کے درمیان اتفاق رائے ہے، جیسا کہ نسل کشی کنونشن جیسا ایک اہم اقدام جس پر دوسری عالمی جنگ کے بعد اتفاق کیا گیا تاکہ اس طرح کے قتل عام کو دوبارہ روکا جا سکے۔

گذشتہ برس دسمبر میں جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کہ اس کے خیال میں اسرائیل غزہ میں حماس کے خلاف جاری جنگ میں نسل کشی کر رہا ہے۔

جنوبی افریقہ نے الزام لگایا کہ جس انداز سے اسرائیل نے جنگ کو جاری رکھا، وہ ’قدرتی طور پر نسل کشی‘ کے زمرمے میں آتا ہے کیونکہ جنوبی افریقہ کے کیس کے مطابق اسرائیل ’غزہ میں فلسطینیوں کو تباہ کرنے‘ کا ارادہ رکھتا ہے۔

تاہم اسرائیل نے ان دعووں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’پورے مقدمے میں زمینی حقائق کو غلط انداز میں کیا گیا۔

جنوبی افریقہ کو نسل کشی کے مبینہ الزامات ثابت کرنے کے لیے عدالت میں واضح اور ٹھوس ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔

دوسری جانب اسرائیل اس بارے میں یہ دلیل دیتا ہے کہ اس کے اقدامات ایک خوفناک شہری جنگ میں حماس کے خلاف اپنے دفاع کے لیے تھے، جسے درجنوں ممالک ’دہشت گرد‘ گروپ سمجھتے ہیں۔

اس مکمل کیس کی تیاری اور بحث میں برسوں لگ سکتے ہیں، اس لیے جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف سے کہا کہ وہ اس معاملے پر’عبوری اقدامات‘ کرے۔

یہ حکم امتناعی کے لیے آئی سی جے کی ایک اصطلاح ہے یعنی کسی تنازعے کو روکنے کے لیے جج کی طرف سے ایسا حکم جو حتمی فیصلے تک پہنچنے سے پہلے نقصان کو روکنے کے لیے دیا جائے۔

عالمی عدالت انصاف سے کہا گیا کہ وہ اسرائیل کو حکم دے کہ وہ ’فلسطینی عوام کے حقوق کو مزید نقصان سے بچانے‘ کے لیے اقدامات کرے۔

دو دن تک دونوں ملکوں کے وکلا نے اس حوالے سے دلائل دیے کہ کہ غزہ میں موجود فسلطینیوں کو ایسے حقوق حاصل ہیں جن کا تحفظ عدالت کو کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس حوالے سے 26 جنوری کو جو فیصلہ دیا گیا، اس میں 17 ججوں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا (ان میں سے کچھ ججز نے اختلاف بھی کیا)۔

آئی سی جے نے اپنے حکم میں کہا کہ کارروائی کے اس مرحلے پر عدالت کو اس بات کا تعین کرنے کے لیے نہیں کہا گیا کہ آیا جنوبی افریقہ جن حقوق کا تحفظ چاہتا ہے، وہ معقول ہیں یا نہیں۔‘

’عدالت کے مطابق حقائق اور حالات یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے کافی ہیں کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے جن حقوق کا دعویٰ کیا گیا اور جن کے تحفظ کی وہ کوشش کر رہا ہے، ان میں سے کچھ معقول ہیں۔‘

یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ نسل کشی کنونشن کے تحت غزہ میں موجود فلسطینیوں کو ’معقول‘ حقوق حاصل ہیں، عالمی عدالت انصاف نے تنیجہ اخذ کیا کہ ان حقوق کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، لہٰذا اسرائیل کو نسلی کشی کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔

عالمی عدالت انصاف نے اس حوالے سے فیصلہ نہیں دیا کہ آیا اسرائیل نے نسل کشی کا ارتکاب کیا لیکن کیا آئی سی جے کے الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اسے یقین تھا کہ ایسا ہونے کا خطرہ ہے؟ اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے یہ بحث شروع ہوئی کہ عدالت کا اصل مطلب کیا تھا؟

اپریل میں برطانیہ کی سپریم کورٹ کے چار سابق ججوں سمیت تقربیاً 600 وکلا نے برطانوی وزیراعظم کو ایک خط لکھا جس میں نسل کشی کے ممکنہ خطرے کو حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل کو اسلحے کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔

عالمی عدالت انصاف

اس خط کے جواب میں اسرائیل کے لیے برطانوی وکلا کی تنظیم نے بھی ایک خط لکھا۔ 1300 افراد پر مشتمل اس گروپ نے کہا کہ آئی سی جے نے صرف یہ فیصلہ دیا ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں کو نسل کشی سے محفوظ رہنے کا ’معقول‘ حق حاصل ہے۔

یہ تنازع اس حوالے سے مزید خطوط اور وضاحتوں میں جاری رہا۔

پہلے گروپ کے وکلا نے اسرائیل کے لیے برطانوی وکلا کی تشریح کو ’الفاظ کا کھیل‘ قرار دیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کا صرف ایک علمی سوال سے تعلق نہیں ہو سکتا کیونکہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ تھا۔

اور پھر یہ بحث برطانیہ کی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے قانونی لڑائی کی شکل اختیار کر گئی، جس میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت پر بحث ہوئی۔

برطانیہ کی سپریم کورٹ کے ایک سابق جج لارڈ سمپشن نے کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں (اسرائیل کے لیے برطانوی وکلا کے خط) یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف جو کچھ کر رہی تھی، وہ اس چیز کو تسلیم کرنا تھا کہ غزہ کے رہائشیوں کو نسل کشی کا نشانہ نہ بننے کا حق حاصل تھا۔ میں یہ کہتا ہوں میں اس تجویز کو بمشکل ہی قابل بحث سمجھتا ہوں۔‘

اسرائیل کے لیے برطانوی وکلا کی تنظیم کی نتاشا ہوسڈورف نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے۔

’میں انتہائی احترام کے ساتھ اس بات پر زور دیتی ہوں کہ اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کے ممکنہ خطرے کی تشریح عدالت کے غیر مبہم بیانات کو نظر انداز کرتی ہے۔‘

اس کے ایک دن بعد جوان ڈونگو نے بی بی سی کے ’پروگرام ہارڈ ٹاک‘ میں انٹرویو دیا اور یہ بحث ختم کرنے کے لیے واضح طور پر بتایا کہ عدالت نے کیا کہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’عدالت نے ابھی فیصلہ نہیں دیا اور میں اس چیز کو درست کرنے کی کوشش کر رہی ہوں جو اکثر میڈیا میں کہی جاتی ہے کہ نسل کشی کا دعویٰ معقول تھا۔‘

’عدالتی فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نسل کشی سے محفوظ رہنے کے فلسطینیوں کے حق کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے لیکن اس بارے میں جو کہا جاتا ہے کہ ’یہ نسل کشی کا ایک ممکنہ کیس ہے‘ عدالت کا فیصلہ نہیں۔‘

لیکن کیا اس خوفناک نقصان کا کوئی ثبوت موجود ہے یا نہیں، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے بارے میں عدالت ابھی کوئی بھی فیصلہ کرنے سے بہت دور ہے۔

بی بی سی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33096 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments