’اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں‘


احمد مشتاق کے ساتھ ایک دن – 26 جون 2023ء ۔ امریکا

میں ہوسٹن شہر کے ایک ہوٹل کے باہر ڈرائیو وے کے فٹ پاتھ پر، اپنی کافی اور سگریٹ لے کر بیٹھا ہوں۔ مجھے ایک ایسے شخص کا انتظار ہے جس کو مل کر عمر رفتہ، جو کبھی نہیں لوٹتی، والہانہ انداز میں مجھ سے لپٹ جاتی ہے۔ میں اس کے انتظار میں ساری عمر اسی طرح فٹ پاتھ پر بیٹھ سکتا ہوں۔

تھوڑی دیر بعد ایک گاڑی آ کر رکتی ہے، کار کا اگلا دروازہ کھلتا ہے، میں بھاگ کر اس دروازے کی طرف جاتا ہوں، احمد مشتاق صاحب مجھے دیکھ کر باہر نکلتے ہیں، میں ان سے بغل گیر ہو کر انہیں واپس بیٹھنے کو کہتا ہوں اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ جاتا ہوں، گاڑی ڈاکٹر فیاض کی اہلیہ عذرا چلا رہی ہیں اور وہ ہمیں لنچ پر لے جا رہی ہیں۔

ایک دو دن پہلے احمد مشتاق کو ورٹی گو (Vertigo) ہوا تھا، فون پر بات ہوئی تو کہنے لگے ’یار بس ادھا لفظ پڑھ سکدا آں، باقی نظر نئیں اوندا‘ (یار بس آدھا لفظ پڑھ سکتا ہوں، باقی نظر نہیں آتا۔ ’لیکن آج ان کی طبیعت بہتر ہے اور شاید مجھے دیکھ کر اور بہتر ہو گئی ہے اس لیے کہ جیسے مجھے ان سے ایک گمشدہ لاہور کی خوشبو آتی ہے ویسے ہی شاید انہیں مجھے دیکھ کر اپنا لاہور یاد آتا ہو۔ عذرا ایک باوقار اور خوش مزاج خاتون ہیں، پرسکون اور دھیمے لہجے میں گفتگو، آواز میں ایک گنگناہٹ، اور ایک بھرپور اپنائیت، وہ خاص طور پر احمد مشتاق صاحب کو میرے ہوٹل لے کر آئی ہیں، وہ ہم دونوں کی ملاقات کو یادگار بنانا چاہتی ہیں۔

عذرا ہمیں بندو خان ریسٹورنٹ لے جاتی ہیں۔ اس کے کھلنے میں دس منٹ باقی ہیں، ’چلیں سگریٹ پیتے ہیں،‘ ہم باہر کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں، دن گرم ہے لیکن ہلکی سی ہوا چلتی رہتی ہے، ہمیں لاہور کی گرمی یاد آتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد ریسٹورانٹ کھل جاتا ہے۔ عذرا ہر قسم کی ڈشیں آرڈر کر دیتی ہیں۔ ، اب ہمارے سامنے ایک ایک کر کے دیسی کھانے آنے شروع ہو جاتے ہیں، لسی بھی آ جاتی ہے۔ ہم کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو لاہور میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارا لاہور، پاک ٹی ہاؤس، جہاں شاعر، ادیب، مصور بیٹھتے ہیں، وہی ٹی ہاؤس جہاں میں نے احمد مشتاق صاحب کی اس زمانے کی غزلیں سنی ہیں،

’یہ لوگ ٹوٹی ہوئی کشتیوں میں سوتے ہیں
مرے مکان سے دریا دکھائی دیتا ہے،
اور
رہ گیا مشتاق دل میں رنگ یاد رفتگاں
پھول مہنگے ہو گئے قبریں پرانی ہو گئیں

یہی شہر لاہور ہے جہاں نیشنل کالج اف آرٹس ہے، یہاں شاکر علی بیٹھتے ہیں، کولن ڈیوڈ پڑھاتے ہیں۔ ظہور الاخلاق پڑھتا ہے۔ گورنمنٹ کالج جہاں ڈاکٹر نذیر ایک درویش کی طرح کالج کے مالی کے ساتھ بیٹھ کر گپ لگاتے ہیں، یونیورسٹی جہاں سراج صاحب پڑھاتے ہیں اور مال روڈ جو شام ہوتے ہی کسی طلسماتی خواب میں بدل جاتی ہے

کالج کے زمانے میں میری آوارہ گردی میں ایک پڑاؤ ٹی ہاؤس کا بھی آتا تھا، جہاں مجھے اکثر احمد مشتاق صاحب کی میز پر منیر نیازی، انتظار حسین اور ناصر کاظمی بیٹھے دکھائی دیتے تھے۔ میں بھی کبھی کبھی ان کی محفل میں شریک ہوجاتا تھا جہاں مجھے ان کی شاعری اور مزے کی گپ شپ سننے کا موقع ملتا۔ آج احمد مشتاق صاحب کے ساتھ بیٹھے میرے دھیان میں وہی منظر چل پھر رہے ہیں۔

کھانے کے بعد ہم عذرا اور فیاض کے گھر جاتے ہیں، یہ ایک نہایت خوبصورت گھر ہے، ہم جس کمرے میں بیٹھے ہیں اس کی چھت لاہور کی پرانی کوٹھیوں کی طرح اونچی ہے، بڑی بڑی محرابی کھڑکیاں جہاں سے باہر ہم چھوٹے سے باغ کے خوبصورت درخت اور پودے دیکھ سکتے ہیں۔ عذرا کھڑکیاں کھول دیتی ہیں تا کہ ہم سکون سے کمرے میں بیٹھ کر سگریٹ پی سکیں۔ وہ ہمارے لیے چائے بنانے چلی جاتی ہیں۔ میں جانتا ہوں احمد مشتاق صاحب کو ’انجمن آرائی‘ کی خواہش نہیں اس لیے کہ کوئی ان کی تنہائی کی حفاظت کرتا رہتا ہے۔ ان کے لیے، اداسی اور تنہائی ان کے مہربان دوستوں کی طرح ہیں۔ وہ ان سے گھبراتے نہیں، ان کا استقبال کرتے ہیں۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے آج کے دن میں بھی بچھڑے ہوئے دوستوں اور لاہور کی یادوں سے جنم لینے والی اداسی لے کر ان کی تنہائی کی حفاظت کر رہا ہوں

’یار سارے ای ٹر گئے، منیر، ناصر، انتظار، اے حمید ( یار سارے ہی چلے گئے، منیر، ناصر، انتظار، اشفاق، اے حمید) ان کے لہجے میں کوئی تاسف یا افسوس نہیں، بس ایک عجیب سا ملال ہے۔

’یار اوس زمانے وچ شاعر، مصور، موسیقار ادیب سب ای رل مل کے بیٹھدے سن، بس اک قبیلہ سی، میں تیرا منیر نیازی تے مضمون پڑھیا سی، مینوں چنگا لگا، یار توں توفیق دے بارے کچھ لکھ، بڑا بیبا بندہ سی۔‘

(یار اس زمانے میں شاعر، مصور، موسیقار، ادیب سبھی اکٹھے بیٹھتے اٹھتے تھے، بس ایک قبیلہ تھا۔ میں نے تمہارا منیر نیازی کے بارے میں مضمون پڑھا تھا، مجھے اچھا لگا، یار تم توفیق رفعت کے بارے میں تو کچھ لکھو، بڑا بیبا بندہ تھا۔)

توفیق رفعت میرے بہنوئی تھے جو انگریزی زبان میں شاعری کرتے تھے لیکن ان کی دوستیاں اردو پنجابی ادیبوں اور اس زمانے کے مصوروں سے بہت گہری تھیں جن میں انتظار حسین احمد مشتاق اور شاکر علی بھی شامل تھے۔ یک دم مجھے ان کی اس بات سے محسوس ہوتا ہے وہ اپنے بچھڑے ہوئے دوست توفیق رفعت کو یاد کرنے کا کوئی بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں۔

’مشتاق صاحب مینوں ذرا اوہناں تے لکھن تے جھجک اوندی اے۔‘ (’مشتاق صاحب، ان پر لکھنے سے مجھے ذرا جھجک محسوس ہوتی ہے‘۔)
’او نئیں یار، کچھ تے لکھ، کیا شاعر سی‘۔ (نہیں یار کچھ تو لکھ، کیا شاعر تھا)

چائے کے دوران احمد مشتاق صاحب مجھے امرتسر لے جاتے ہیں جہاں ان کا بچپن اور لڑکپن گزرا تھا۔ یہ تقسیم سے پہلے کی کہانی ہے۔ امرتسر کی گلیاں، لذیذ کھانے، دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی، پھر وہ ایک کلچے بنانے والے سے میرا تعارف کراتے ہیں جو غالب کا عاشق ہے اور گاہکوں کو غالب کی شاعری سناتا ہے اور اس کی نئی نئی تعبیریں کرتا ہے۔ پھر وہ مجھے عطا اللہ شاہ کی جادو بیانی کے بارے میں بتاتے ہیں، خطابت کا ایک دریا اور سننے والوں کا ہجوم۔ پھر درختوں کے جھنڈ، جہاں شام کے جھٹپٹے میں عاشق چھپ چھپ کر ملتے ہیں، کھجور کے درخت جن پر آسیب کا سایا ہے۔ قصوں اور داستانوں سے بھرپور ایک پراسرار اور حیران کرتی ہوئی دنیا۔

احمد مشتاق صاحب بزرگ ہیں لیکن حافظہ جوانوں جیسا ہے، باتیں بھی وہ ایسے ہی کرتے ہیں جیسے وہ کسی زمانے میں ٹی ہاؤس میں بیٹھ کر کیا کرتے تھے، اپنی شاعری کی طرح زیر لب جیسے کوئی سرگوشیاں کر رہا ہو۔ میں ان کی شاعری کا بے حد مداح ہوں۔ لیکن میں ان کو ان کی شاعری کے بارے میں کچھ نہیں پوچھتا یعنی اپ نے پہلا شعر کب لکھا، اپ کو کون سا شاعر پسند ہے، نہ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ امریکا کیوں آئے، آپ نے نیویارک کی کن کن گلیوں میں آوارہ گردی کی، آپ آج کل کیا لکھ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ، میں صرف ان کی باتیں سن رہا ہوں، سینہ شق کر کے، میری ساری حسیں ان کی ایک ایک بات ایک ایک حرکت اور ان کی آواز کو ایسے جذب کرتی ہیں جیسے پیاسی مٹی بارش کے پانی کو۔ آج میں بہت عرصے کے بعد ان کی موجودگی سے سرشار ہو رہا ہوں۔ میرے اندر کئی زمانے گردش کر رہے ہیں۔

’سب سے اچھی شاعری تو اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں ہوئی ہے، ‘ وہ کہیں بے دھیانی میں یہ بات کر جاتے ہیں لیکن مجھے چالیس سال پہلے کی بات یاد آ جاتی ہے، میں ایک نوجوان کالج کا لڑکا ٹی ہاؤس میں جدید شاعری پر ان سے بحث کر رہا ہوں، جدید شاعری کی وکالت اور کلاسیکی شاعری کا تمسخر اڑا رہا ہوں۔ اس گفتگو کے دوران احمد مشتاق صاحب مسکرا کر کہتے ہیں۔ ’مجھے تو جدید شاعری نہیں، کلاسیکی شاعری اچھی لگتی ہے۔‘ مجھے اس وقت یہ بات سمجھ نہ آئی۔ میں نے سوچا ہم تو بیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور احمد مشتاق مجھے انیسویں صدی میں دھکیل رہے ہیں۔ لیکن چالیس سال بعد جب میں نے میر تقی میر پر ’ماہ میر‘ کے نام سے فلم بنائی تو اس کی تحریک غالباً یہی گفتگو تھی۔ میرے چالیس سال اسی بات کو سمجھنے میں گزرے کہ شاعری میں کلاسیک کی کس قدر اہمیت ہوتی ہے اور جسے ہم جدیدیت سمجھ رہے ہیں وہ دراصل نوآبادیاتی جدیدیت ہے، اس لیے کہ اس ’جدیدیت‘ کا غالب کی ’شوخیٔ ایجاد‘ سے کوئی تعلق نہیں۔

کچھ سال پہلے ’ماہ میر‘ ہوسٹن یونیورسٹی میں دکھائی جانے والی تھی، میرے خیال میں احمد مشتاق صاحب کو اس فلم کے بارے میں کچھ علم نہ تھا اس لیے کہ میں نے ان سے پہلے کبھی اس فلم کا ذکر نہیں کیا تھا۔

چنانچہ میں نے ان کو فون کیا اور کہا ’میں نے ایک فلم بنائی ہے جو ہوسٹن یونیورسٹی میں دکھائی جا رہی ہے‘

’ہاں یار مینوں پتہ اے‘ (ہاں یار، مجھے پتہ ہے ) میں حیران۔
مجھے معلوم تھا مشتاق صاحب اپنے گھر سے بہت کم باہر نکلتے ہیں اس لیے میں نے کہا،
’پر تہانوں یونیورسٹی جانڑ دی لوڑ نیں، ایہہ فلم میں تہانوں تہاڈے گھر بیٹھ کے وکھاواں گا‘
( ’لیکن اپ کو یونیورسٹی جانے کی ضرورت نہیں، یہ فلم میں اپ کو اپ کے گھر بیٹھ کر دکھاؤں گا‘ )
’ اوہ نہیں یار میں تے اوہدی ٹکٹ وی خرید لئی اے، میں اوہ یونیورسٹی ہال وچ ای دیکھاں گا‘

(اوہ نہیں یار۔ میں نے تو اس کی ٹکٹ بھی خرید لی ہے، میں اسے یونیورسٹی کے ہال میں ہی دیکھوں گا ) میں مزید حیران۔

شام کو فلم کے بعد لوگوں نے اسے سٹینڈنگ اویشن دی۔ میں نے سٹیج سے دور ہال میں احمد مشتاق صاحب کو بیٹھے دیکھا توان کو سٹیج سے ویلکم کیا اور حاضرین کو بتایا کہ جس فلم کو اپ نے سٹینڈنگ اویشن دی ہے اس فلم کے محرک ہمارے درمیان بیٹھے ہیں۔ اس کے بعد میں نے ان کو چالیس سال پہلے کا وہ مکالمہ سنایا جو لاہور کے ٹی ہاؤس میں ایک کالج کے نوجوان شاعر اور احمد مشتاق کے درمیان ہوا تھا۔

دن ڈھل رہا ہے، میرے واپس جانے کا وقت ہو رہا ہے۔ ہم دونوں خاموش ہیں لیکن ہمارے دل ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہلکی سی جنبش بھی اس پراسرار خاموشی کو درہم برہم کردے گی۔ ہم دونوں کے درمیان یادوں کا ایک دریا بہہ رہا ہے پرسکون اور خاموش، اور میں سوچ رہا ہوں

’اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں‘

تھوڑٰی دیر بعد عذرا کمرے میں داخل ہوتی ہیں اور کہتی ہیں وہ مجھے لے جانے کو تیار ہیں۔ ہم اس سحر بھری خاموشی سے باہر آ جاتے ہیں۔ میں احمد مشتاق صاحب سے گلے ملتا ہوں، جاتے ہوئے وہ اپنے سگریٹ کا پیکٹ میری طرف بڑھاتے ہیں۔

’یار ایہہ سگریٹ توں رکھ لے‘ (یار یہ سگریٹ تم رکھ لو)
’نہیں مشتاق صاحب میرے کول ہے نیں‘ (نہیں مشتاق صاحب میرے پاس ہیں۔)
وہ مسکرا کر کہتے ہیں،
’یار میں تے تیرے لئی پی رہیا ساں، میں کتھے پینے نیں۔‘ (’یار میں تو تمہاری خاطر پی رہا تھا، اب مجھے کہاں پینے ہیں‘)

احمد مشتاق صاحب کی عمر نوے برس ہے۔ میں جب بھی ان کی دی ہوئی اس ڈبی سے ایک سگریٹ پیتا ہوں، اس کے ہر کش کے ساتھ نوے برس جیتا ہوں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments