پاکستان میں موسمیاتی انصاف اور خواتین قیادت!

ایشیا اور افریقہ کا خطہ دنیا کے سب سے زیادہ موسمیاتی تباہی کے شکار علاقے ہیں۔ 1970 سے لے کر 2010، 2022 کے دوراں، اس خطے میں سالانہ سیلاب سے متاثر ہونے والے لوگوں کی اوسط تعداد 30 ملین سے بڑھ کر 64 ملین ہو گئی، اور طوفان کے شکار علاقوں میں رہنے والی آبادی 72 ملین سے بڑھ کر 121 ملین ہو گئی۔ کمیونٹیز، قدرتی ماحولیاتی وسائل کے انتظام کے سماجی کردار، اور دیکھ بھال کی ذمہ داریاں بڑھتے ہوئے آفات کے خطرے کے انتظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خواتین کو با اختیار بنانا کمیونٹیز کی تباہی سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط کرنے کی بہترین حل ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں خواتین خاص طور پر گہری جڑوں والی صنفی عدم مساوات کی وجہ سے موسمیاتی آفات کے اثرات کا شکار ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کی 2022 کی گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس رپورٹ کے مطابق پاکستان صنفی مساوات کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بدترین ملک ہے۔ یہ مایوس کن نتائج ان بدقسمت حالات کی وضاحت کرتے ہیں جن کا پاکستان میں خواتین اب بھی تجربہ کر رہی ہیں چاہے وہ معاشی با اختیاریت کی کمی ہو یا معاشرے میں قائدانہ کردار کے حوالے سے بات ہو۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں خواتین خاص طور پر موجودہ صنفی عدم مساوات اور پدرانہ اصولوں کی وجہ سے موسمیاتی آفات کا شکار ہیں۔ پچھلی دہائی کے دوران، موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات ناقابل تردید اور تیزی سے خطرناک ہو گئے ہیں۔ 2022 میں پاکستان میں، آٹھ ہفتوں سے جاری موسلادھار بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی تھی جس کے نتیجے میں 33 ملین سے زیادہ افراد متاثر ہوئے اور اس کے نتیجے میں ملک بھر میں 1100 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
قدرتی آفات کے اثرات تمام لوگوں کو یکساں طور پر متاثر نہیں کرتے۔ زیادہ تر خواتین، لڑکیاں، معذور افراد، اقلیتیں، مقامی لوگ، نوجوان، اور دیگر پسماندہ کمیونٹیز زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جب قدرتی تباہی آتی ہے تو خواتین اور بچوں کے مردوں کے مقابلے میں 14 گنا زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ آکسفیم کے مطابق 2004 میں بحر ہند کی سونامی کے دوران ہلاک ہونے والے 230,000 افراد میں سے 70 فیصد خواتین تھیں۔
قدرتی آفات کی صنفی نوعیت کے بارے میں 20 سالہ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے معاشروں میں جہاں خواتین کی سماجی و اقتصادی حیثیت یا حصہ داری کم ہے، وہاں قدرتی آفات مردوں کے مقابلے میں زیادہ خواتین کو متاثر کرتی ہے۔ تحقیق یہ بھی پتا چلتا ہے کہ قدرتی آفات مردوں کے مقابلے میں کم عمری میں خواتین کو زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ شرح اموات میں فرق کی وجہ بھی یہ ہے کہ عام طور پر خواتین کی سماجی و اقتصادی حیثیت کم ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں مواقع تک غیر مساوی رسائی اور خطرات سے غیر مساوی ترتیب ہوتی ہے، جس سے وہ قدرتی آفات کا زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔
2022 کے سیلاب کے نقصانات سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ متاثر خواتین اور بچے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں 2022 کے وسط میں شروع ہونے والے تباہ کن سیلاب نے 1,500 سے زائد افراد کو ہلاک کیا، تقریباً 80 لاکھ بے گھر ہوئے، اور لاتعداد ایسے علاقوں میں چھوڑ دیے ہیں جو اب بھی زیر آب ہیں اور پناہ گاہ، خوراک، صاف پانی اور ادویات کی کمی ہے۔ آفت کے دوران، خواتین اور لڑکیوں کو اپنی حفاظت کے لیے اضافی خطرات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مثال کے طور پر، 2010 کے سیلاب نے پاکستان کے صوبہ سندھ میں تقریباً 1.5 ملین افراد کو بے گھر کیا جن میں سے 49 فیصد خواتین تھیں۔ غیر رسمی شعبے اور زراعت میں خواتین کے کردار اور شراکت کو ملک میں پالیسی کی سطح پر خاطر خواہ توجہ اور اقتصادی اہمیت حاصل نہیں ہو سکی ہے، اس لیے جب تباہ کن سیلاب فصلوں اور کھیتوں کا صفایا کر دیتے ہیں، تو خواتین کا روزگار بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
ان خطرات کو مد نظر رکھ کر ”ایکو سہیلی“ کیمپین پاکستان میں خواتین کی زیر قیادت ایک اہم اقدام ہے جو ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، اور موسمیاتی انصاف کے حوالے سے عورت کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے عورتوں کی قیادت کی نمائندگی کر ہے۔
ایکو سہیلی مہم کا مقصد تمام جنسوں، عمروں اور صلاحیتوں کی کمیونٹیز کو با اختیار بنانا، وسیع اثرات مرتب کرنا ہے۔ علم اور وسائل فراہم کر کے، مہم میں شمولیت کو فروغ دیتی ہے، اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہر کوئی ماحولیاتی کوششوں میں حصہ لے سکتا ہے یہ صرف مردوں کی ذمہ داری نہیں بلک دنیا کی بڑی آبادی کا حصہ اس مہم سے پیچھے کیوں ہے۔ خاص کر پاکستان جیسے ملک میں جہاں خواتین کو پہلی ہے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔
وہاں عورتیں اس مہم کی آغاز کر رہی ہیں کیوں کہ عورت ایک ماں بھی ہے ایک بہن بھی ہے ایک جیون ساتھی بھی ہے اور فطرت کو تحفظ دینے والی بھی ہے۔ چپکو تحریک، 1970 کی دہائی میں ہندوستان میں دیہی دیہاتیوں، خاص طور پر خواتین کی طرف سے غیر متشدد سماجی اور ماحولیاتی تحریک، جس کا مقصد درختوں اور جنگلات کی حفاظت کرنا تھا جو حکومت کے تعاون سے کٹائی کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ یہ تحریک 1973 میں اتراکھنڈ کے ہمالیائی علاقے (اس وقت اتر پردیش کا حصہ) میں شروع ہوئی اور تیزی سے پورے ہندوستانی ہمالیہ میں پھیل گئی۔ ہندی لفظ چپکو کا مطلب ہے ”گلے لگانا“ یا ”لپٹنا“ اور درختوں کو گلے لگانے کے مظاہرین کے بنیادی حربے کی عکاسی کرتا ہے تاکہ درخت لگانے والوں کو روکا جا سکے۔ ویسے ہے ایکو سہیلی نے پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھ کر فطرت کے دشمنوں کے خلاف عورتوں کی تحریک کا آغاز کیا ہے۔
قدرتی آفات کے بعد بھی خواتین کو بہت سارے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ ریلیف کیمپوں اور شیلٹر ہومز میں بھی بہت سی خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو صنفی بنیاد پر تشدد، جنسی استحصال، اور ہراساں کیے جانے کا زیادہ خطرہ ہوتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات غیر مساوی طور پر محسوس کیے جاتے ہیں، ان گروپوں میں حاملہ خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے ) کے مطابق 10 نومبر 2022 تک، پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 400,000 سے زائد خواتین حاملہ تھیں، لیکن سیلاب نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا پاکستان میں زیادہ تر پیدائش گھر پر ہوتی ہے، اور تقریباً 10 لاکھ گھر تباہ ہو گئے، بہت سی خواتین کو یہ نہیں معلوم کہ وہ اپنے بچوں کو کہاں جنم دیں گی۔ مثال کے طور پر، پاکستان میں 2010 کے سیلاب کے نتیجے میں، 180,000 سے زیادہ حاملہ اور دودھ پلانے والی مائیں تھیں جنہوں نے مناسب طبی دیکھ بھال، جانچ کی سہولیات اور مطلوبہ غذائیت کے بغیر زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کی۔
2022 کے سیلاب نے پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ صوبہ سندھ میں ایک ہزار سے زائد صحت کی سہولیات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں تھے صوبہ بلوچستان میں صحت کی مزید 198 سہولیات کو نقصان پہنچا ہے۔ سڑکوں اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو ہونے والا وسیع نقصان کلینک اور ہسپتالوں تک رسائی میں مزید رکاوٹ ہے۔ یہ رکاوٹیں نہ صرف بچے کو جنم دینے والی خواتین اور لڑکیوں کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ان پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں جو مانع حمل اور دیگر تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک نے 2010 میں پاکستان بھر میں آنے والے بڑے سیلاب کے بعد صنفی سمیت نقصانات اور ضروریات کا جائزہ لیا۔ یہ تشخیص ریلیف کیمپوں میں رہنے والے بے گھر خواتین اور مردوں کے ساتھ الگ الگ فوکس گروپ مباحثوں سے جمع کیے گئے ڈیٹا پر مبنی تھی، اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ، انسانی ہمدردی کے کارکنوں، گاؤں کے رہنماؤں، اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کے انٹرویوز کے ساتھ اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پاکستان میں پہلے سے موجود صنفی عدم مساوات سیلاب کے بعد بڑھ گئی تھی۔
واٹر ایڈ کی صوبائی کوآرڈینیٹر رحیمہ پنہور، ایک غیر منافع بخش گروپ جو صفائی اور حفظان صحت کے شعبے میں کام کرتا ہے، ان کے مطابق 2022 میں جہاں سیلاب نے تمام کمیونٹیز کو متاثر کیا، وہیں اکثر خواتین کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
قدرتی آفات خواتین کی ذہنی صحت پر کافی حد تک اثر انداز ہو سکتی ہیں، کوئی بھی آفت، جیسے سیلاب، زلزلہ، طوفان، یا وبائی امراض، خواتین کی ذہنی صحت پر نمایاں طور پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں ذہنی صحت کا مسئلہ مردوں کے مقابلے خواتین کے لیے بدتر ہے۔ جب دنیا میں کہیں بھی کوئی آفت آتی ہے، زندہ بچ جانے والی خواتین تشدد، آفت کے بعد کے نفسیاتی صدمے، اور کئی ذہنی صحت کی بیماریوں کا شکار ہوتی ہیں، جیسے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر وغیرہ صدمہ کسی آفت کے بعد دماغی صحت کے منفی اثرات کی سب سے زیادہ عام وجہ ہے۔ ان کی زیادہ اہم سماجی اور ثقافتی کمزوری کے نتیجے میں، آفات کا شکار خواتین مردوں کے مقابلے صدمے کا شکار ہوتی ہیں۔
