صاحب کا کتا سرکاری گاڑی میں نہیں بیٹھ سکتا


آزاد جموں کشمیر میں وہاں کی عوام کچھ زیادہ ہی اپنے حقوق پہچاننے میں آج کل مصروف ہیں۔ بہت سارے واقعات تو بیشتر لوگ ٹی وی پر اور اس سے ہزار گنا زیادہ سوشل میڈیا پر دیکھ چکے ہیں۔ یہ سب عنقریب ہمارے گھٹن زدہ معاشرے میں ہر جگہ ہوتا دکھائی دے گا۔ اس لیے کہ معاشرے میں مسائل اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اب لوگوں کی قوت برداشت جواب دے رہی ہے۔ تین چار برسوں کے فرق سے مہنگائی کئی سو فیصد بڑھ گئی ہے۔ ملک میں موجود ہر ادارہ خدمات کی فراہمی میں مسلسل ناکام اور کرپشن اور ذاتی مفادات کے لیے پھرتیوں میں طاق ہوتا جا رہا ہے۔

اسمبلی سے لے کر عدالتوں تک میں قانون سازی اور انصاف کی جگہ الزامات، شخصی برائی اور دھکم پھیل کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ گزشتہ صرف چار برسوں میں چینی، گندم، کھاد، ادویات اور کئی دیگر ضروری اشیا کی مد میں عوام کو درجنوں بار لوٹا گیا اور اس بے دردی سے لوٹا گیا کہ دنیا بھر میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اور یہ کام مسلسل سرپرستی میں جاری ہے۔ حکومت میں شامل یا حکومت کی مدد سے اتنے زیادہ مافیاز بن چکے ہیں جو دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔

مگر مجال ہے کہ اس کے خلاف کوئی بول سکے یا کوئی عدالت اس کا راستہ روک سکے۔ لاکھوں پاکستانیوں کو گھر اور پلاٹ کا خواب دیکھا کر ہزاروں لوگ لوٹ کر پیسہ ہضم کرچکے ہیں۔ مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ کراچی، لاہور، پنڈی، اسلام آباد، گجرانوالہ، فیصل آباد، پشاور غرض ہر شہر میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اور کمپنیاں غریب لوگوں سے ان کی جمع پونجیاں لے کر ڈکار گئیں ہیں مگر حکومت اور عدالت کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ دوائیوں کی مد میں سینکڑوں دو نمبر ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں خود ساختہ بحران پیدا کر کے بلیک مارکیٹنگ کر کے دوائیوں کی قیمتیں ہزار گنا بڑھا کر لوگوں کو لوٹ رہی ہیں مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔

ایرانی تیل سولہ روپے میں خرید کر لوگوں کو دو سو اسی روپے کا فروخت کیا جا رہا ہے مگر کسی عدالت اور حکومت نے اس کا نوٹس نہیں لیا، ملک کے قانون کے حساب سے کم از کم اجرت مقرر ہے، مگر پرائیویٹ سیکٹر کو چھوڑیں حکومت کے اپنے ادارے اس کی پیروی نہیں کرتے اور لاکھوں لوگ مقرر کردہ اجرت سے چار گنا کم پر نوکری کر رہے ہیں، مگر نہ کسی حکومت کو تشویش ہوئی نہ کسی عدالت کو پتہ چلا کہ یہ انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔

اس عمل سے معاشرتی نظام خراب ہو رہا ہے، لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں، خودکشی کر رہے ہیں۔ مگر یہ عام انسان ہیں ان کے حقوق کہاں ہوتے ہیں، اس ملک میں صرف جج، سیاست دان، بیوروکریٹس اور طاقتور لوگ ہی انسان ہیں، جن کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر سوموٹو ایکشن لیا جاتا ہے۔ ٹی وی اخبارات اس کی تشہیر کرتے ہیں اور ملک کا تمام نظام اس ایک چھوٹی سی بات کو ڈیفینڈ کرنے یا اس کی تردید کرنے میں لگ جاتا ہے۔ ملک میں جس نوعیت کی جمہوریت رائج ہے اور جس قماش کے لوگ اس جمہوریت کے نتیجے میں مستفید ہو رہے ہیں اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی، ہر پارٹی نے بدزبان اور بداخلاق مرد و خواتین کو ترجمان بنایا ہوا ہے جو روز ٹی وی پر بیٹھ کر ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں کہ شرفا کے بچوں نے شاید پوری زندگی میں وہ گفتگو نہ سنی ہو، یہ مرد و خواتین مسلسل پارٹیاں بدلتے بھی رہتے ہیں، کل یہ جس کو گالیاں نکال رہے تھے آج ان کی مدح سرائی کرتے نظر آتے ہیں۔

مگر مجال ہے کہ کوئی اس جمہوری نظام میں ان پارٹیوں سے پوچھ سکے کہ بھائی کیا ملک میں تعلیم یافتہ ماہرین، سنجیدہ اور باوقار مردو خواتین کا وجود ختم ہو گیا ہے جو ان بھانڈوں کو آپ نے نمائندگی کے لیے چُنا ہے۔ مگر شاید اس گٹر میں گرنے کے لیے واقعی کوئی اعلی تعلیم یافتہ اور عزت دار گھرانوں کے مرد و خواتین کا ملنا ممکن ہی نہیں۔ یعنی اس ملک میں اخلاقیات کا جو معیار ہے اس کا اندازہ رات اٹھ بجے سے لے کر دس بجے تک تمام ٹی وی چینلز اور اب تو سوشل میڈیا کی پوسٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں شرح سود بائیس فیصد ہو اور ملک کا سارا نظام اندرونی اور بیرونی قرضوں پر چل رہا ہو اس کے انتظام سنبھالنے والوں کی عیاشیاں دیکھیں تو شاید عرب ممالک کے شیوخ بھی شرما جائیں۔ صدر، وزیر اعظم، گورنرز، وزرائے اعلیِ، وزرا، مشیروں، اسمبلیوں اور سینٹ کے سپیکرز اور چیئرمینوں، بیوروکریٹس اور دیگر کار سرکار میں اختیار رکھنے والوں کے لیے ہی سارے قرضے لیے جا رہے ہیں۔ ورنہ جتنے قرضے لیے گئے ہیں اگر ان کا پاکستان میں مواصلات، صحت، تعلیم اور صنعتی ترقی میں استعمال ہوتا تو اس وقت ہم دنیا کی پانچویں بڑی اکانومی بن چکے ہوتے۔

مگر ایسا نہیں ہوا لیکن ہم امارات میں گیارہ ارب ڈالرز کے صرف گھر اور جائیدادیں خریدنے میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ضرور آئے ہیں۔ اس فہرست میں ترکی، آذربائیجان، ورجن آئی لینڈ، کیمن آئی لینڈ، آئل آف مین، لکسمبرگ، سنگاپور، ماریشس، سویٹزرلینڈ، پانامہ، اسپین، پرتگال، امریکہ کی ریاستوں، انگلستان، آسٹریلیا اور درجنوں دیگر ملکوں میں جو جو کچھ پاکستان کی اشرافیہ پاکستان سے لوٹے گئے کالے دھن سے خرید چکی ہے اور خرید رہے ہیں اگر اس کی تفصیلات سامنے آ گئیں تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔

یہ ایک ایسے ملک سے لوٹے گئے جہاں ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے سکول نہیں جا سکتے، جہاں ساٹھ فیصد لوگوں کو پانی کا صاف پانی میسر نہیں ہے، جہاں سالانہ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سات گنا زیادہ سیلاب آتے ہیں، جہاں چند ہزار لوگوں نے اپنے مفاد کے لیے ملک کے سرحدی علاقوں کی ساری آبادی کو سمگلنگ پر لگا دیا ہے۔ جہاں منشیات اتنی عام ہے کہ سرعام استعمال کی جاتی ہے اور جہاں اسلحہ اتنا زیادہ ہے کہ اس کا تصور دنیا کا کوئی ملک نہیں کر سکتا، اور اسلحہ کی فروخت سرعام ہوتی ہے اور اب تو سوشل میڈیا ایپس پر بھی لاکھوں لوگ اسلحہ فروخت کرنے اور ترسیل کا کاروبار کر رہے ہیں۔

اس ملک میں غریب سے ٹیکس لیا جاتا ہے اور امیر کو غریبوں سے جمع کیے گئے پیسوں سے سبسڈی دی جاتی ہے۔ اس ملک میں لوگ بجلی نہ ہونے سے پریشان ہیں اور آئی پی پییز کو بجلی نہ پیدا کرنے کی مد میں یعنی کپیسٹی چارجز کے مد میں بھی کھربوں روپے دیے جاتے ہیں۔ عام آدمی کی زندگی یہاں اتنی مشکل ہو گئی ہے کہ یا تو وہ خودکشی کرے گا یا چوری کرے گا۔ ایسے میں جب وہ دیکھتا ہے کہ صاحب کا کتا پروٹوکول میں کروڑوں روپے کی سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر سیر کرنے جاتا ہے تو اس کی دل پر کیا گزرے گی۔

آزاد جموں کشمیر میں تو بڑے سرکاری افسر کے گاڑی سے ایک کتے کو عوام نے اُتار لیا ہے۔ اب یہ سلسلہ رُکے گا نہیں اس لیے کہ انقلاب فرانس کے باقاعدہ شروع ہونے سے کچھ عرصہ پہلے ملکہ کے کتے شاہی بگھی میں پیرس کی سیر کو جاتے تھے۔ ایک دن بھوک سے تنگ فرانسیسوں کی ایک جماعت نے ان کتوں کو بگھی سے نیچے اتار دیا اور احتجاج کیا کہ ان کے پیسوں پر کتے سیر کرتے ہیں اور وہ بھوکے مر رہے ہیں جس کی بازگشت پیرس کے شراب خانوں اور ریسٹورانوں میں کئی ہفتے تک زیر بحث رہی، علمی حلقوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ جب امیر اور غاصب کا کتا ناقابل برداشت ہو جائے تو جلد ہی مالک کا نمبر بھی آ جاتا ہے۔

اس لیے کہ فرانسیسی معاشرے میں پالتو کتوں کی بہت زیادہ اہمیت تھی۔ لوگوں کی امارت کا اندازہ ان کے کتوں سے لگایا جاتا تھا۔ جس دن بگھی سے کتے اُتار لیے گئے تھے اس دن کے بعد یہ معمول بن گیا تھا کہ جہاں کسی سرکاری عہدہ دار اور بادشاہ کے خاندان کا کوئی کتا کسی بھی سرکاری بگھی میں نظر آ جاتا اسے اُتار لیا جاتا اور اس پر فرانس کے غریب خوشیاں مناتے، ناچتے گاتے اور ان کتوں کو ساتھ لے کر جلوس نکالتے تھے۔ پھر ایک دن فرانسیسوں نے کتوں کو چھوڑ کر کتوں کے مالکوں کو پکڑ لیا اور اس کا جو نتیجہ نکلا اس کو لوگ انقلاب فرانس کہتے ہیں۔

ہم میں اور فرانسیسوں میں ایک بہت بڑا فرق یہ ہے کہ ہم کتوں سے پیار بھی نہیں کرتے اور جب جذبات میں آتے ہیں تو ناچتے گاتے اور خوشیاں بھی نہیں مناتے، آگ لگا دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ معاشرے اور وسائل کو اختیار کے طاقت میں لوٹنے والے کتے سے مالک تک آنے کا انتظار کیے بغیر اپنا قبلہ درست کر لیں۔ پھر نہ کہیں کہ کسی نے بتایا نہیں، معاشرے میں کوئی استاد یا پھر تاریخ کا طالب علم نہیں تھا جس نے خبردار نہیں کیا۔

ملک میں منشیات کے عادی افراد میں جس تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور ملک میں غربت کی شرح جس تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے اگر اس کو نہ روکا گیا تو اگلے چند برسوں میں کسی بھی گھر کا دروازہ اور کھڑکی سلامت نہیں رہے گی یا تو لوگ اکھاڑ کر لے جائیں گے یا پھر غصے اور ہیجان میں جلا ڈالیں گے۔ مہنگائی، لافانیت، سیاسی عدم استحکام، کرپشن، طبقاتی نظام، مذہبی جنونیت، فرقہ واریت، استحصالی نظام و معاشرہ، سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور انگریزوں کا سڑا ہوا نو آبادیاتی نظام، سرکاری اور ریاستی سرپرستی میں وسائل پر صرف اشخاص کا قبضہ اس ملک کو جس طرف لے کر جا رہے ہیں۔

وہ راستہ تباہی کا ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ایسا جہاں جہاں ہوا اور جس جس نے بھی کیا ہے، ان میں سے کسی کو بھی طبعی موت نہیں آئی۔ یا وہ دار پر کھینچے گئے یا گلیوں میں گھسیٹے گئے۔ جو اختیار آپ کو ملا ہے اس کی قدر کریں اور اسے لوگوں کی سہولت، قانون کی عمل داری اور ملک کی فلاح کے لیے استعمال کریں۔ لوگ آپ کے کتوں کو بھی ہار پہنائیں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہی لوگ پاگل کتوں کی طرح آپ کو نوچ کھائیں گے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت ملک میں ریبیز کے انجکشن دستیاب نہیں ہیں۔

Facebook Comments HS