ہم تحریروں میں ملیں گے (میقات ہشتم 24)

جی سی یونیورسٹی لاہور کا پی جی گیٹ جو کہ ڈی سی آفس کے روبرو اور میٹرو سٹیشن کے پہلو میں ہے، اس گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی ایک ڈبہ نما ہال کمرے سے شور و غل کا ایک طوفان ہماری سماعتوں کے استقبالیے کو ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ یہ ہال نما کمرہ جو کہ اہل جی سی یو کی بھوک پیاس مٹانے میں ہر وقت مصروف عمل رہتا ہے اس سے اشتہا انگیز خوشبوؤں کی مہک کم اور شور و غوغا کی آوازیں زیادہ نمایاں ہو رہی ہوتی ہیں۔ عرف عام میں یہ پی جی کیفے کے نام سے مشہور ہے۔
اب دو قدم آگے بڑھیے۔ بلکہ ذرا ٹھہریے۔ بس ایک ہی قدم اٹھا لیجیے۔
اب سامنے دیکھیں گے تو آپ کو ایک دیو قامت عمارت سر بکف نظر آئے گی۔ اس کا تعارف کچھ یوں ہے کہ جی سی یو کی تاریخ میں یہ پی جی بلاک کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس عمارت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ اس کی بنیادوں ہی میں علم و ادب کا ایک جہان آباد ہے۔ یعنی اس کی بنیادوں میں آباء کا خون نہیں، بلکہ اسے آباء کی دانش سے سینچا گیا ہے۔ یقین نہیں آتا تو چلیے اس عمارت میں داخل ہو کر سب سے پہلے اس کے تہہ خانے میں ایک نظر دوڑا لیجیے۔ یہاں موجود لائبریری میں صرف کتابوں کی صورت علم و ادب کا جہان آباد نہیں ہے بلکہ کمپیوٹر لیب کی موجودگی بھی اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ اگر کتابوں سے کچھ تشنگی باقی رہ گئی ہے تو اسے ایک کلک سے دور کر لیجیے۔ یعنی اس عمارت کی تعمیر کرتے ہوئے دور جدید کے تقاضوں کو بھی بخوبی مد نظر رکھا گیا ہے۔
اب تہہ خانہ کی فسوں انگیز فضا سے ذرا باہر نکل کر پی جی بی کے زینوں کا سہارا لیتے ہوئے بلندی کی طرف قدم بڑھاتے جائیں۔ گراؤنڈ فلور پر کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ طلبہ اور فلاسفی ڈیپارٹمنٹ کے منطقی رونق افروز ہوں گے۔ مزید زینے چڑھیں تو آپ کی نظروں کا مرکز پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے ماہر سیاسیات ہوں گے۔ آپ زینوں کی چڑھائی دیکھتے ہوئے مزید بلندی کی طرف قدم بڑھاتے جائیں تو آپ خود کو اردو ڈیپارٹمنٹ کی آغوش میں پائیں گے۔ اس سے اوپر جانے کو زینے انکاری ہوں گے کہ آپ بلند ترین مقام پر پہنچ چکے ہیں لہذا اتنی ہی بلندی پر اکتفا کیجیئے۔
اس شعبے میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلی چیز جو آپ کو نظر آئے گی وہ اس بلندی سے زمین کی پستی کو جھانکتے طلبا کی مختصر سی فوج ہو گی۔ آپ کو یہ طلبا ریلنگ کو تھامے زمین کی گہرائی میں کچھ تلاش کرنے کی جستجو میں مگن نظر آئیں گے لیکن وہ تلاش کیا کر رہے ہیں اس کا جواب شاید وہ خود بھی نہ دے پائیں۔ دراصل یہ زمین کی تہہ میں چھپے رازوں کو جاننے کی لاشعوری کوشش ہوتی ہے اور اس کوشش میں وقت کا وہ قلیل عرصہ بھی بیت جاتا ہے جو کسی لیکچر کے انتظار میں بہرحال شعبے میں ہی گزارنا پڑتا ہے بصورت دیگر آپ کو تین منزلیں زوال پذیر ہو کر اگلے لیکچر کے لیے واپس اتنی ہی بلندی پر آنے کے لیے ان گنت زینوں کی چڑھائی کے کٹھن مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔
البتہ ان میں سے کچھ طلبا نیچے کھڑی گاڑیوں کی قطار کو دیکھتے ہوئے انتہائی سنجیدگی سے غور فکر میں مصروف ہوتے ہیں کہ اس یونیورسٹی میں کس درجے کی ملازمت اختیار کرنے سے کون سی گاڑی لینے کا انسان اہل ہو سکتا ہے۔ اور پھر اس پر بھی باقاعدہ تبصرہ کیا جاتا ہے کہ آیا صرف اس ایک نوکری سے ایسی گاڑی لی جا سکتی ہے یا کوئی اور کاروبار بھی اختیار کرنا پڑتا ہے۔ مختصر یہ کہ یونیورسٹی کی جانب سے یہ حصہ غالباً بغیر اتنی دور اندیش پلاننگ کے بطور پارکنگ لاٹ استعمال ہوتا ہے لیکن اس شعبے کے طلبا کے لیے یہ ایک بڑی موٹیویشن کا کام انجام دیتا ہے۔
کچھ طلبا اس مادیت پسندی سے قدرے فاصلہ بنائے ہوئے علم و ادب کے خزانوں کی کنجی تلاش کرنے میں سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ایسی ہی ایک منزہ ہستی 2020 سے 2024 سیشن کے آٹھویں سمیسٹر سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ محترمہ اسم با مسمی ہیں لہذا یہ بتانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ ان کا نام بھی منزہ ہی ہے۔ ان کا شوق مطالعہ اور ادبی ذوق قابل دید ہے۔ اردو ادب تو ایک طرف انگریزی ادب بھی خود کو ان کی پہنچ سے دور نہیں رکھ سکتا۔
اب ذرا اسی سیشن کے کچھ اور طلبا کو جاننے کی کوشش کریں تو ان میں ایک نام اویس کا ہے جو علم و ادب کے میدان میں اپنا لوہا منوانے کے اس قدر درپے ہے کہ ہر پانچویں روز اس کا کوئی نا کوئی تخلیقی کارنامہ منظر عام پر آیا ہوتا ہے۔ افسانہ نویسی ہو یا مضمون نگاری، مزاح کا میدان ہو یا خطوط نویسی یہ صاحب ہر صنف میں دخل اندازی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ ان کی تحریریں مکمل ہوتی ہیں جبکہ باتیں ادھوری۔ بلکہ اب تو ان کی تحریریں بھی اسی عادت کی زد میں ہیں، لہذا پچھلے کچھ عرصے سے یہ ہستی ادھورے خط شائع کروانے میں مگن ہے۔
تنقید نگاری ہو یا نظم کا میدان ان میں کوئی نیا انقلاب لانے کا بیڑا فاران اٹھائے نظر آتا ہے۔ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی تشریح و تفہیم بھی ان صاحب کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔
انھی میں ایک شخصیت نقوی صاحب کی ہے جو ادب کو سائنسی بنیادوں پر پرکھنے کے درپے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ ہمہ وقت کسی شاعر یا ادیب کی تخلیق کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے اس میں سے سائنسی شعور برآمد کرنے کی سعی میں مصروف نظر آتے ہیں۔
آخری مغل بادشاہ کی ہم نام ایک ہستی مابعد جدیدیت کی الجھنوں کو سلجھانے کی تگ و دو میں رہتی ہے۔ ان صاحب کا ایک شغف مختلف مذاہب کی منطق کو سمجھنے کی کوشش بھی ہے۔
یہاں ایک ہستی خضر کی بھی ہے۔ ارے نہیں بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھانے والے خضر کا ذکر نہیں ہو رہا بلکہ یہ بھی اسی میقات سے تعلق رکھنے والی ایک انسانی مخلوق ہیں۔ خضر نامی شخصیت دراصل وہ اللہ کا بندہ ہے جو دوران لیکچر اشعار کا تڑکا لگا کر لیکچر کو خوشگوار بنانا خوب جانتا ہے۔ ایک تہائی لیکچر گزرنے کے بعد کلاس میں تشریف لانے والے یہ صاحب جس اعتماد سے کلاس میں داخل ہو کر بیٹھتے ہی کوئی چٹکلہ یا پھڑکتا ہوا کوئی شعر سنا کر لیکچر کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ہمیں احساس ہونے لگتا ہے کہ دراصل یہ صاحب لیٹ نہیں آئے بلکہ ہم غلطی سے وقت سے پہلے تشریف لے آئے تھے۔
صرف یہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سی نابغہ روزگار شخصیات ہیں جو نہ صرف یہ کہ اپنی منشا سے شعبہ اردو ادب میں تشریف لائیں ہیں بلکہ یہاں آنے کا حق بھی ادا کر رہی ہیں۔ آپ مس منشا کو ہی دیکھ لیجئیے کہ اپنی پوری جانفشانی سے افسانوی ادب کی پرتیں کھول رہی ہیں پھر وہ ادب اردو زبان کا ہو یا کسی اور زبان کے ادب سے ترجمہ شدہ ہو۔ محترمہ ادب کی زبان کے حوالے سے تفریق کرنے کے حق میں نہیں ہیں لہذا وہ کسی بھی خطے کے ادب کا مطالعہ یکسر غیر جانبداری سے کرتی ہیں۔
انسان کو جس قدر راحت اپنی فلٹر شدہ خوبصورت تصاویر کو دیکھ کر ملتی ہے شاید ہی کسی اور منظر کے نظارے سے ملتی ہو۔ اس حس کی تسکین کا انتظام راحت میاں نے لے رکھا ہے لیکن ساتھ ہی خود سے یہ وعدہ بھی کر رکھا ہے کہ کبھی تصاویر مطلوبہ ہستی کو نہ بھیجیں گے۔ لہذا پورا میقات ہشتم گواہ ہے کہ انھوں نے ان حضرت کو کبھی وعدہ خلافی کرتے نہیں پایا۔ پس ثابت ہوا کہ محترم ادبی ذوق تو رکھتے ہی ہیں لیکن ساتھ ہی اخلاقیات کے اعلیٰ درجے پر بھی فائز ہیں۔
اب اگر میں خود کا تعارف کرواؤں تو مجھ نا چیز کے بارے میں یہ افواہ گزشتہ چار سال سے گردش کر رہی ہے کہ میں وہ شخصیت ہوں جو مطالعہ تو کرتی ہے لیکن سب سے چھپ کر۔ لکھتی تو ہے لیکن سب سے چھپا کر۔ اب خدا جانے میں نے چھپ کر ایسا کون سا معرکہ سر کر لینا ہے جس سے باقی سب محروم رہ جائیں گے۔ البتہ میں خود اپنی شخصیت کا وہ معتبر روپ تلاش کر رہی ہوں جو باقی سب کو تو مجھ میں نظر آ رہا ہے لیکن مجھ سے تاحال پوشیدہ ہے۔
مختصر یہ کہ ہمیں ’اقرا‘ کی جو نصیحت خدائے واحد کی طرف سے کی گئی تھی ہم نے اسے بھی پلے باندھ لیا اور گزشتہ چار سال سے اسے ساتھ ساتھ لیے پھر رہے ہیں۔
خیر یہ تھی 2020 تا 2024 سیشن کے میقات ہشتم کے لطیف سے جذبات رکھنے والے طلبا سے ایک سرسری ملاقات۔ بخدا یہاں لطیف کا لفظ میں نے میرب لطیف کی نسبت سے استعمال نہیں کیا بلکہ یہ اپنے حقیقی معنوں کی نسبت استعمال ہوا ہے۔ اب اگر اس سے آپ کے ذہن میں ان محترمہ کا خاکہ آ رہا ہے تو بھی کچھ برا نہیں کیوں کہ بلاشبہ محترمہ اس میقات کی ایک متحرک رکن ہیں اور شعبے کا سالانہ اعشایہ کروانے میں ان کا اتنا ہی ہاتھ ہے جتنا اردو میں افسانہ نگاری کی ابتدا کرنے میں پریم چند کا ہاتھ تھا۔

