مہوشاں

مہوشاں ماریہ مہوش خان بنگش کی نظموں اور اختراعات پر مبنی شاعری کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں چھوٹی بڑی اسی تک نظمیں ہیں اور سات الگ سے اختراعات ہیں گو کہ وہ بھی نثری نظم کی طرح نثری ٹوٹے یا نثرم ہی ہے جس میں باقاعدہ ادبی تخلیق موجود ہے جنھیں ماریہ مہ وش الگ سے اختراعات سے تعبیر کرتی ہیں۔
اس مجموعے میں تمام نظمیں اپنی اپنی جگہ بہت اچھی ہیں لیکن میری نظر میں زندگی سے رخصتی کی درخواست، کورے کاغذ جیسی زندگی، دیوار گریہ، آوارہ خیال، شب یلدا، تمھارے کمرے کی کھڑکی، انویٹیشن، دوسرا امتحان، ردی، کمہار کا چاک، ناراض ہمزاد، صنف نازک، قبر سے پہلے، کافی اور وقت، ہمزاد کی یک طرفہ جنگ اس مجموعے کی منتخب نظمیں ہیں۔
زندگی سے رخصتی کی درخواست نظمیہ موضوع کے لحاظ سے بالکل تازہ ہے اس کے مندرجات بہت دل کو چھو لینے والے ہیں اور ایک لمحے کے لئے قاری کو سکول کے زمانے میں لے جاتے ہیں جب وہ سکول میں رخصتی کے لئے درخواست دیا کرتے تھے لیکن زندگی سے رخصتی کا یہ درخواست سماج اور سماجی نفسیات کے فلسفے سے ماخوذ ہے جو ہر سماج اشنا کو اپیل بھی کرتی ہے اور دلیل بھی فراہم کرتی ہے۔ کورے کاغذ جیسی زندگی، یہ ایک بہت ہی اچھی نظم ہے۔
یہ نظم پڑھنے کے بعد مجھے پشتو ادب کے مایہ ناز افسانہ نگار پروین ملال کے افسانے ( سپینے پانڑے ) کورے صفحات یا کورے کاغذ کی یاد آئی جو ان کے افسانوں کے مجموعے کا ٹائٹل افسانہ بھی ہے۔ ماریہ می وش اور پروین ملال دونوں ایک ہی جیسے تجربے سے گزری ہیں لیکن ایک نے یہ اظہار نظم میں کیا اور دوسری نے افسانے میں۔ دیوار گریہ نظم روزمرہ زندگی کے مشاہدات اور تجربات پر مبنی ہے، لیکن اس نظم میں صوت کے ساتھ جو بصری سہولت کاری ہے یا جو محاکاتی فن یا محاکاتی تخلیق ہے وہ اس نظم کا اصل حاصل ہے۔
آوارہ خیال نظم میں جو ابتدا ہی میں میری نظروں کا بیتاب لمس کی جو ترکیب ہے قاری پر واضح کرتا ہے کہ یہ نظم شاید لکھی ہی اس ترکیب کے لئے ہے۔ شب یلدا نظم ایک نفسیاتی اور خصوصی طور پر ناس ٹیجلیاتی نظم ہے، شب یلدا پر فارسی اور پشتو ادب میں بہت کچھ لکھا اور تخلیق کیا گیا ہے اور اس نظم سے ملتا جلتا خیال پشتو کی جدید غزل کے روح رواں حمزہ شنواری اپنی ایک غزل کے ایک شعر میں اس طرح بیان کرتے ہیں۔
ڈیرو شپو تہ راشہ چے د یو بلہ خبر شو
جانانہ پہ یو شپہ د ڈیرو شپو خبرے نہ شی
ترجمہ : بہت ساری راتوں کے لئے آ جاؤ جاناں
ایک رات میں کئی راتوں کی باتیں پوری نہیں ہو سکتی۔
تمھارے کمرے کی کھڑکی، یہ نظم سماجی قضئے، طفلانہ کجروی یا جووینائل پیوریلٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ نظم فن کے لبادے میں بہت کچھ لپیٹ دیتی ہے جو پردے کے پیچھے بھی اس طرح نظر آ رہا ہوتا یے جس طرح دیکھنے والا دیکھنا چاہتا ہو۔ انویٹیشن نظم میں خود کو مدعو کرنا، یہ ہم تخلیق کاروں کی طرف سے اکثر نظموں میں دیکھتے ہیں کہ خود کو آواز دینا، خود کا جنازہ پڑھنا، خود کے موت کا اعلان کرنا، خود سے خفا ہونا، خود سے باتیں کرنا، یہ سب شاعری کی آزمودہ روایتیں ہیں اور ان روایتوں کے پیچھے برسوں برسوں کے جسمانی و روحانی اور نفسیاتی بندھن ہیں جو الگ ہو ہی نہیں سکتے بلکہ گلے لگی تنہائی کی طرح خود سے لپٹی ہوئے ہوتے ہیں۔
دوسرا امتحان ایک سماجی اور گردا گرد ماحول کی بنیاد پر کھڑے محبت کے جذبے کا ایک نفسیاتی سوال ہے جو لاینحل تو نہیں لیکن اس کا فارمولا بھی کوئی ٹھوس نہیں اور یہ ریاضی کا مسلمہ اصول ہے کہ جہاں فارمولا ٹھوس نہ ہو وہاں سوال کا جواب درست ہوہی نہیں سکتا البتہ سطحی یا باڈی کے مشق کے نمبر پھر بھی مل جاتے ہیں۔ ردی بہت اچھی نظم ہے جس میں لفظوں کے بیوپاری اکثر نئے نئے الفاظ ڈھونڈتے، کھوجتے اور خریدتے ہیں لیکن یہاں ردی گرد تخیل کے قبا کا مول لگا کر ردی کو بھی انمول کر دیتا ہے۔
کمہار کا چاک کے مندرجات بہت ہی نئے، پرکشش اور پر اثر ہیں، نئی تراکیب خصوصی طور پر من کا باغی کمہار جانے کب سے معبد کے دروازے پر بیٹھا ہے پشتو جدید ترین لہجے کے شاعر ممتاز اورکزئی کے شعری مجموعے زہ پہ چاک پروت یم، میں چاک پر پڑا ہوا ہوں کی جانب توجہ مبذول کراتی ہے اور پھر بنگش اور اورکزئی قبیلے اتنے جڑے ہوئے بھی ہوں تو یہ عجیب اتفاق اور بھی عجیب دکھنے لگتا ہے۔ ناراض ہمزاد دراصل خود سے سوال کے پیچھے سماج پر وہ طنز ہے یا طنز کے وہ زناٹے دار طمانچے ہیں جو ہم آئے دن اس سے سامنا کرتے رہتے ہیں۔
صنف نازک اور قبر سے پہلے یہ دونوں نظمیں ایک دوسرے کے سیکینڈر اور پروپوزر ہیں اور یہ حال، ماضی اور مستقبل کا منظرنامہ ہے جو صرف بیاں ہی نہیں عیاں بھی کرتا ہے۔ کافی اور وقت ایک چھوٹی سی نظم ہے۔ باطن میں یہ بہت گہری اور گیرائی پر مبنی لائف سٹائل کے ان تجربات پر لکھی ہوئی ہے جو ہر کسی کو میسر نہیں اس لئے ہر کسی کے لئے شاید پراثر بھی نہیں، ہمزاد، خود کلامی یا دو روحیں مہوش کی نظموں کا خاصہ ہے جو ہمیں ان کی نظموں میں تکرار سے ملتی ہیں اور ان کی نفسیات اور حیات کا حصہ ہیں۔
مہوشاں نظمیں اور اختراعات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ پڑھنا ان نظموں سے تعلق رکھتا ہے اگر کوئی ایک بار اس کا عادی ہو جائے اور یہی ان نظموں اور اختراعات کی خوبی اور خاصیت ہے جو قاری کو پڑھنے پر آمادہ کراتے ہیں۔

