طالب علم صرف امتحان پاس کرنے کو محنت سمھجتے ہیں
جب میں یونیورسٹی میں تھا تو ہم لوگ اکثر اس بات پر ڈسکشن کرتے تھے کہ کون سے شعبے کی پڑھائی زیادہ مشکل ہے۔ مجھے اب تک یہ بات سمجھ آئی ہے کہ ہمارے یہاں پر لوگ کسی شعبہ کی پڑھائی کا اندازہ اس کے مضمون کو سیکھنے سے نہیں لگاتے ہیں کہ اس شعبے کے مضمون کو سمجھنا کتنا مشکل ہے یا ان کے مضمون کو سمجھنے کے لیے کافی پڑھنا پڑتا ہے، لوگ اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگاتے ہیں کہ اس شعبے میں ڈگری لینا کتنا آسان یا مشکل ہے۔
میں اپنی بات کو تھوڑا واضح کرتا ہوں۔
جیسے ہمارے یہاں پر لوگ طبیعات، کیمیا، ریاضی، حیاتیات کی ڈگری کو نہ اہمیت کے قابل سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس کو حاصل کرنا کوئی بڑی بات سمجھتے ہیں کیونکہ بچے آرام سے صرف امتحان والے دن کالج جا کر ان مضامین میں ڈگریاں لے لیتے ہیں، نہ ہی پڑھنا پڑا اور نہ ہی کچھ سیکھنا پڑا (اگر یہ مضامین اتنے ہی آسان ہیں تو ہمارے لوگ اس میں کچھ کر کیوں نہیں پا رہے ہیں، ہمارے لوگ تو ویسے بھی ہر چیز میں آسان راستہ ہی تلاش کرتے ہیں ) ۔
اسکے بعد کمپیوٹر سائنس کے پروگرام کو طالب علم ان (اوپر بیان کیے گئے مضامین) کے مقابلے میں مشکل مانتے ہیں کیونکہ اس کے پروگرام زیادہ تر لوگ یونیورسٹی سے کرتے ہیں جس کے لیے انہیں صرف امتحان والے دن کے علاوہ یونیورسٹی میں اپنی حاضری بھی لگانی ہوتی ہے۔
اسکے بعد انجینئرنگ کو لوگ ان پروگرامز سے زیادہ مشکل مانتے ہیں کیونکہ بہت بڑی تعداد میں بچے اس میں آتے ہیں اور اچھی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے انہیں انٹرمیڈیٹ میں بھی پڑھنا پڑتا ہے اور پھر داخلہ امتحان کی بھی تیاری کرنی ہوتی ہے (پڑھنے سے مراد رٹا لگانا ہوتا ہے ) ، یونیورسٹی میں حاضری بھی لازمی ہوتی ہے۔
پھر اس کے بعد کو لوگ میڈیسن کو اس سے بھی زیادہ مشکل کہتے ہیں کیونکہ میڈیسن کی سیٹس بہت محدود ہوتی ہیں اور بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے وہاں پر بچوں کو انٹرمیڈیٹ اور داخلہ امتحان میں بہت محنت کرنا پڑتی ہے سیٹ حاصل کرنے کے لیے۔
پھر باری آتی ہے CA یا ACCA کی اس کو لوگ میڈیسن کی پڑھائی سے بھی زیادہ مشکل مانتے ہیں کیونکہ اس کے امتحانات اوپر (مین ادارے ) سے آتے ہیں اور وہاں پر ہی چیک ہوتے ہیں، پڑھانے والا استاد آپ کی اس میں کوئی مدد نہیں کر سکتا ہے (لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے مضامین سمجھنے میں مشکل ہیں یا نہیں، بس وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے امتحان پاس کرنا مشکل ہے یا آسان) ۔
اب اگر جدید دنیا کی طرف دیکھا جائے تو اس کے بارے میں، میں نے سنا ہے کہ وہاں کے ذہین ترین بچے طبیعات، کیمیا، ریاضی میں جانا پسند کرتے ہیں کیونکہ یہ مضامین زیادہ مشکل ہوتے ہیں اور ان کے لیے زیادہ ذہانت چاہیے ہوتی ہے، فرق وہی آ جاتا ہے لرننگ کا کیونکہ وہاں کے بچوں کو پتا ہے کہ ان کا کوئی بھی شعبہ ہو اس کو سیکھ کر، سمجھ کر پڑھنا ہو گا اپنے اندر صلاحیتیں پیدا کرنا ہوں گی تو وہ تب ہی کامیاب ہوں گے ۔
ہمارے یہاں پر بچوں کی ایک بڑی تعداد آرٹس اور کامرس میں جاتی ہے یہ بول کر کہ یہ سائنس کے مقابلے میں آسان مضامین ہوتے ہیں لیکن انٹرمیڈیٹ میں ٹاپ پوزیشن ہولڈر میں ان کے بجائے سائنس کے طالب علموں کا نام سرفہرست ہوتا ہے اور ان کے نمبرز بھی ان سے زیادہ ہوتے ہیں، بھئی اگر یہ آسان ہے تو بچوں کے اس میں نمبرز کیوں زیادہ نہیں آ رہے ہیں؟ اور ہمیں ان شعبوں میں بھی کوئی ترقی یا اچھا کام ہوتا ہوا بھی نظر نہیں آ رہا ہے، وجہ یہاں پر بھی وہی ہے کہ آرٹس یا کامرس کی ڈگریاں بچوں کو آسانی سے مل جاتی ہیں اکثر کوئی مقابلے کے امتحانات بھی نہیں ہوتے ہیں بس امتحان والے دنوں میں پیپر دیے اور ڈگری لے لی۔
نتیجہ ساری بات کا یہ ہے کہ لرننگ یا پڑھنا تو ہر مضامین میں ہی مشکل ہوتا ہے، نسبتاً ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی مضمون زیادہ مشکل ہے یا کوئی کم ہے لیکن محنت تو ہر شعبے میں ہی کرنا ہوتی ہے۔
یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے۔


