گل حسن کلمتی: جپسی ہو تو ایسا ہو
گل حسن اپنا تعارف جپسی کرایا کرتے۔ مشرق میں خانہ بدوشی کئی ہزار سال پرانا سلسلہ ہے۔ لیکن اس قدر محنتی، دھرتی سے محبت کرنے والا اپنے آپ کو خانہ بدوش کہہ کر کیا بتانا چاہتا تھا؟ اس سوال کا کھوج ہی میری یہ تحریر ہے جس کے محرک نڈر و بے باک گل رحمان پالاری ہیں جن کا کہا نہ ماننا ویسے ہی ہے جیسے کسی استاد کی بات ٹالتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔
گل حسن کلمتی سے میری پہلی ملاقات 2014 میں ہوئی۔ یہ شاید کراچی انڈیجینس رائٹس الائنس کی سپر ہائی وے پہ واقع ایک ہوٹل میں میٹنگ تھی۔ میرے لیے کراچی انڈیجینس کا لفظ پہلے ہی چونکا دینے والا تھا۔ ہم مہاجرین کی اولاد اپنے بچپن میں بھی جن کچھی، میمن وغیرہ سے ملتے وہ بھی ہندوستانی ہی قرار پاتے۔ البتہ گل حسن کے پاس کراچی کی مقامی آبادی کی ایک مفصل تعریف موجود تھی۔ وہ جو کہ تقسیم سے پہلے سے کراچی کے باسی تھے، ملیر، گڈاپ، کونکر سے لے کر لیاری تک یہ ان سب کو اوون کرتے۔
اس پہلی ملاقات میں گل حسن نے کراچی کے انڈیجینس افراد کو یکجا کرنے اور انہیں اوپر لانے سے متعلق عزم کا اظہار کیا، یہ بھی بتایا کہ وہ کیسے انٹر میٹرک میں بہتر کارکردگی دکھانے والے انڈیجینس طلبہ کے لیے انعامی تقاریب منعقد کر کے ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ میرے لیے یہ پہلو چونکا دینے والا تھا کہ اب کراچی کے اندر اصل کراچی والوں کے کوٹہ کی ہی کوئی تحریک بننے جا رہی ہے۔ میں تب تک یہ نہ جانتا تھا کہ گل حسن کتنے علمی آدمی ہیں اور یہ جو ہم انہیں انڈیجینس میں دیکھ رہے ہیں یہ ان کی سرگرمیوں کا بہت چھوٹا پہلو ہے۔ البتہ کراچی انڈیجینس رائٹس الائنس، جس میٹنگ میں میری پہلی ملاقات ہوئی، اسی میٹنگ میں بحریہ ٹاؤن کے قبضے کے خلاف ایک تحریک بھی بننے جا رہا تھا۔ تب انڈیجینس رائٹس کی سالانہ ممبر شپ فیس کا بھی پتہ چلا جو کہ دس ہزار تھی۔ میرے استفسار پر گل حسن نے وضاحت کی کہ جو لوگ سیریس ہوں گے وہی رکن بنیں گے۔
بہرحال اگلی ملاقات ہوئی صفوراً گوٹھ کے ایک آفس میں، جو بعد میں معلوم ہوا کہ کسی سلیم نامی پولٹری کنگ کا دفتر تھا، جہاں وسیع صوفوں کے بیچ یہ گفتگو ہوئی کہ کیسے بحریہ مخالف تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا۔ میں ٹھہرا پریس ریلیز لکھنے والا کامریڈ تو میں نے یہی خدمات پیش کر دیں۔ میرا ماننا تھا کہ اوپینین میکرز کی نظر میں بحریہ ٹاؤن ترقی کی علامت ہے اور اگر ان کے سامنے ملیر کی اس تباہی کا اصل لانا ہے تو وہ سندھی اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی ہونا چاہیے۔
اور جو کر پایا وہ یہ تھا کہ بحریہ ٹاؤن پر ان کی کتاب کا سندھی سے انگریزی میں ترجمہ کر ڈالا۔ اسی دوران کراچی پریس کلب نے بحریہ ٹاؤن مخالف پریس کانفرنس نہ کرنے دی تو گل حسن بہت پریشان تھے۔ اس کا متبادل نیشنل ہائی وے پر، شاید ٹھٹہ پریس کلب میں ایک بڑی میٹنگ کی صورت ہوا جس میں کئی قوم پرست تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور شاید یہی وہ لمحہ تھا کہ کراچی انڈیجینس سندھ انڈیجینس بن گئی۔ کراچی کی شناخت کا علم اٹھانے والے اب سندھ کی شناخت تلے آ گئے۔ مجھے لگتا ہے کہ گل حسن کے لیے یہ تبدیلی جہاں پسندیدہ نہ تھی وہیں یہ ان کے لیے ناگزیر بھی تھی۔ اور پسندیدہ نہ ہونے کی وجہ ہم سیاسی گروہوں کے افراد کی جانب سے کسی مشترکہ جدوجہد میں اپنا رنگ ڈالنے سے بڑھ کر ساتھ دینے کی شرط کی صورت بننے لگتی ہے۔
گل حسن یونیورسٹی کے زمانے میں ڈی ایس ایف یا لیفٹ کی سیاست سے روشناس ہوئے تو اُسی اسی کی دہائی میں لیفٹ کے اندر اور باہر سے قوم پرستی بھی ابھر رہی تھی۔ یوں جب یہ یونیورسٹی سے فارغ ہوئے تو سندھی قوم پرستی کی طرف مائل ہوئے اور پھر کافی کچھ کرنے کے بعد کنارہ کش ہو گئے۔ شاید یہ کافی کچھ کر لینے کا تجربہ ہوتا ہے جو گل حسن جیسا آدمی لکھنے پڑھنے اور تحقیق کی جانب مائل ہوتا ہے۔ البتہ جو سیاسی تجربہ گل حسن کا رہا اسی کا خدشہ تھا کہ بحریہ ٹاؤن مخالف ایک سے کئی محاذ بنے اور جب 6 جون 2021 بحریہ احتجاج جو اچانک سہراب گوٹھ سے بحریہ گیٹ منتقل اور جلاؤ گھیراؤ میں بدل دیا گیا تو گل حسن کی اتنے سالوں کی محنت یوں رائیگاں جاتی نظر آئی۔
جوانی کے دور میں جو کچھ آدمی جھیل جاتا ہے اسے ادھیڑ عمر میں جھیلنا اکثر بلاوجہ اور اکارت نظر آتا ہے، میری ان سے 6 جولائی کے بعد کی ملاقاتوں میں گل حسن یکسر تبدیل انسان نظر آئے، جیسے دانشور انقلاب کی گونج سن کر سہم جاتے ہیں ویسا تو نہیں تھا مگر بحریہ ٹاؤن تحریک پھر ان کی زبانی کبھی سننے کو نہ ملی۔ میرے جیسے کارکن اسی پریشانی میں تھے کہ ایک دانشور جو کئی سالوں سے تحریک میں پیش پیش ہے یہ اس مار دھاڑ، گرفتاری، کچہری سے ڈپریس ہو گیا تو بہت برا ہو گا۔
اسی کارن کئی بار کونکر اور پھر کلفٹن دہشت مخالف عدالت میں ان کی پیشی پر پہنچا بھی۔ ایک پرانی روایت ہے کہ ریاست مقدمات اور جیلوں میں ساتھیوں کو گھسیٹے تو ساتھیوں کو ان کے ساتھ کھڑا نظر آنا چاہیے، بس اسی کو نبھانے کی کوشش تھی۔ البتہ گل حسن اب تک اپنا رستہ بدل چکے تھے۔ گل رحمان پالاری اور دیگر دوستوں کے ساتھ سسی کی وات اور پھر کلمت کا سفر اور ساتھ ساتھ فیس بک پر اپنی جوانی سے لے کر حال تک کی سرگرمیوں کی یادیں ایک جانب ان کی بیماری اور دوسری جانب اپنی شناخت کے مسئلہ پر لوٹ جانے کے آثار تھے۔
شناخت، ایسا لگتا ہے کی شاید تمام تر جدوجہد کا حاصل ہے۔ ہم کون ہیں، ہمیں کیسے لوگ یاد رکھیں گے اس کی فکر اکثر دانشوروں کو گھائل کر دیتی ہے۔ لیکن گل حسن کے نزدیک اپنی شناخت کی پہچان دراصل ایک ایسا عمل تھا جس میں اپنے اطراف میں ہونے والی تبدیلیوں میں چیلنج اور ترقی دونوں کی شناخت بھی لازم تھی۔ کونکر جو کوئی پہلی بار جائے تو گل حسن اسے کونکر اسکول اور کالج ضرور دکھاتے۔ ایک بار میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کلمتی بلوچ ہیں لیکن لکھتے سندھی میں ہیں تو کہنے لگے بچپن سے اس مقامی سرکاری اسکول میں سندھی ہی پڑھائی جاتی ہے، بلوچی نہیں۔
اس لیے یہاں سب لوگ سندھی ہی میں کلام کرتے ہیں۔ پھر یہ کلمتی کلمتی کیسے رہتے ہیں، شادیاں خاندان میں ہوتی ہیں تو جیسے عشق میں خاندانی رکاوٹوں سے گھائل فرد کے تاثرات ہوتے ہیں وہی گل حسن کے ہوتے۔ روایت اور جدیدیت کا ایک خوبصورت ملاپ جس میں اصرار ترقی پسندی پر رہتا۔ (ویسے یہ لفظ ترقی پسندی مجھے اکثر پریشان بھی کرتا ہے۔ ) گڈاپ اور اطراف کی میری جانکاری کا سہرا تو گل حسن کو ہی جاتا ہے کہ ان کی بدولت یہ علاقہ دیکھا اور پھر کچھ دوست بنے اور کچھ کام کیا۔ اسی علاقے میں بلوچ کیوں ہیں، سندھی باہر اور گھر میں بلوچی کیوں ہے، جداگال ایران سے کیوں لوٹے اور اب ان کی مبہم شناخت کیوں ہے یہ سب اسی اُٹھ بیٹھ میں سمجھ آئی، یا شاید نہیں آئی! قوم پرست سیاست کا اثر کتنی بار اور پیپلز پارٹی کا اثر اس علاقے میں کیونکر ہے یہ وہیں جا کر گل حسن سے ہی سمجھ آ سکتا ہے۔
گل حسن نہ ہوتے تو شاید ہم کراچی کو وہی سمجھتے جو ہمیں بچپن سے اووروں نے بتایا ہے۔ ان کی بحریہ ٹاؤن پر کتاب کے ترجمے کے دوران میں دراصل پہلی بار یہ جان پایا کہ کس طرح ہندوستان سے ہجرت کرنے والوں نے دراصل کراچی کے گوٹھوں پر ہی اپنی ہاؤسنگ اسکیمیں بنائی ہیں۔ کیوں یہ قریب ایسے ہی ہے جیسے اسرائیلی گزشتہ 75 سال سے فلسطین پر قبضہ کر رہے ہیں۔ ترقی کا ہمارا مارکسی بیانیہ دراصل ہر قسم کی سرمایہ دارانہ ترقی کو مزدور اور محکوم کی بربادی سمجھتا ہے لیکن کیسے بظاہر ایک دربدر مہاجر قوم (جبکہ ان کا قوم ہونا بھی سمجھ سے بالا ہے ) ، نہ جانے کیونکر، سرمایہ داری میں مقام حاصل کرنے کے لیے وسائل پر قبضہ کرتی ہے اور مقامی آبادی کو کوسوں دور دھکیل کر انہیں پسماندہ اور اپنے آپ کو پڑھے لکھے قرار دیتی ہے یہ بحریہ ٹاؤن اور کراچی کی ترقی جیسی کتاب کے مطالعہ سے ہی جانا جا سکتا ہے۔
گل حسن جس طرح کراچی کی مقامی آبادی کے ایجنڈے کو آگے لاتے ہیں وہ کمال کا کام ہے۔ اعداد و شمار، قوانین، ریاستی مفادات پر سے پردہ چاک کرنے میں انہیں کمال مہارت حاصل تھی۔ البتہ ترقی کی ان کی تعریف نے مجھے خاصہ مشکل میں ڈالا۔ کراچی کی ترقی کو گل حسن انگریز دور کی ترقی تک محدود کر دیتے ہیں۔ ان کی اکثر تصانیف میں پارسیوں، گوان، ہندووں اور انگریزوں کی کراچی میں بلدیاتی ترقیاتی کاموں کو اجاگر کرنے میں جو مقصد پوشیدہ ہے وہ اس تاثر کو چیلنج کرنا ہے کہ کراچی کی ترقی مہاجرین کی مرہون منت ہے۔
اور یہ تاثر یقیناً درست بھی نہیں کہ تقسیم سے پہلے کراچی کچھ نہ تھا۔ قبضہ گیر، چاہے وہ کولونیل ہوں یا نسل پرست تعصب پسند اشرافیہ کے طور پر نظر آنے والے، یہ دونوں ہی مقامی آبادی کو کچل کر بہروپ بھرتے ہیں کہ یہ تھے ہی پسماندہ اور جاہل ہم نے انہیں محکوم و بے دخل کر کے ان پر احسان کیا، انہیں سویلائز کیا۔
یہاں تک تو میں گل حسن سے سہمت ہوں کہ اس کولونیل مائنڈ سیٹ کو ایکسپوز کیے بغیر یہ ممکن ہی نہیں، یہ کہ تعصب کو پیچھے دھکیلا جائے اور انسانیت کو آگے لایا جائے۔ لیکن گل حسن کی انگریزی میں کراچی پر کتاب میں جہاں کراچی کی تاریخ ہے وہاں جیسے ہی آپ گزشتہ تیس سال تک پہنچتے ہیں تو ایم کیو ایم کا پوری شہری زندگی پر جبر اس حد تک گل حسن پر اثر انداز ہے کہ یہ کراچی میں ہونے والی تقسیم کے بعد تمام تر پیش رفت سے انکاری نظر آنے لگتے ہیں۔
کراچی میں بہت کچھ ہے۔ یہاں جہاں تعصب ہے وہیں یہاں یکجہتی کی ہزاروں تحاریک اور احتجاج بھی ہیں۔ یہاں جہاں تارکین وطن ہیں وہیں اُنہیں ویلکم کرنے والی ایک کے بعد دوسری تیسری چوتھی نسل ہے۔ گل حسن کا کراچی دراصل انگریز دور کا چھوٹا شہر ہی رہا۔ جبکہ کراچی تقسیم کے بعد مرکز بنا تو یہ بہت جلد ایک بڑا میٹروپولیٹن شہر بن گیا۔ لندن، پیرس، نیویارک، سڈنی، دلی، کلکتہ، کولمبو، تہران جیسا میٹروپولیٹن جہاں لاکھوں افراد کام کرنے آتے ہیں، بستے ہیں، روزگار کی خاطر عمارات تعمیر کرنے، راہگزر بنانے، سروسز فراہم کرنے اور نہ جانے کیا کیا کرنے میں لگ جاتے ہیں اور یہی مکسچر ان میں تعصب اور اسی مکسچر سے ابھرنے والی تحریکیں ان میں اپنے اندر کا اصل انسان ابھار لاتی ہیں۔
سرمایہ داری ایک ناہموار نظام ہے۔ اس میں ترقی جتنی ناہموار ہے اتنی کسی اور نظام میں نہ تھی۔ سرمایہ داری کی نفی کو کارل مارکس نے سوشل ازم کہا تھا، یعنی ایسا نظام جس میں ہر کسی کو اس کی ضرورت کے مطابق ملے گا۔ سرمایہ داری کا مرکز سرمایہ جمع کرنا ہے اور یوں محنت کرنے والوں سے ان کی محنت کی اصل اجرت سے انکار ہی سرمایہ جمع کرنے کا رستہ ہے۔ اور اس نا انصافی سے استحصال اور مزید سرمائے کے لیے سرمایہ کاری سے ناہموار ترقی پیدا ہوتی ہے۔
کراچی جیسے شہر میں کئی ہزار کھرب کا سرمایہ تقسیم کے بعد سے لگ چکا ہے۔ لیکن ریاست اور سرمایہ دار اشرافیہ اس قدر لوٹ مار کرتی ہے کہ کراچی کی ترقی اس کی پسماندگی میں غرق ہوتی نظر آتی ہے۔ اس لوٹ مار میں نہ رنگ ہے، نہ نسل ہے، نہ قوم ہے، بلکہ سندھی پنجابی مہاجر پختون اشرافیہ اور نو دولتیے سب شامل ہیں۔ کراچی کے اطراف شہر بنجر اور ویران ہو چکے ہیں اور کراچی کے مضافات جیسے گڈاپ و کونکر کراچی کے مرکز کی شدید مقناطیسی جیسی کشش سے اپنا روپ رنگ ثقافت سماجیات سب کا حلیہ بگڑوا چکے ہیں۔
کونکر میں کھیتی کے علاوہ روزگار نہیں، تعلیم محدود، وسائل انتہائی محدود اور ریاست کی ساری سرمایہ کاری نجی ٹھیکہ داروں اور ملک ریاض جیسے غاصبین کی ترقی کے لیے مختص ہے۔ ملک ریاض کہ جس کے حواری تمام تر شناخت کا مجموعہ یعنی اشرافیہ ہے۔ یوں یہاں نوجوان کچھ زمین پاس ہونے کے باوجود شہر دھکیلے جاتے ہیں، یونیورسٹی اور پھر ایک شدید ایلینیشن پیدا کرنے والی نجی یا سرکاری نوکری یا بے روزگاری کے بعد پھر سے دیہات کی طرف لوٹتے ہیں۔
ان میں جدیدیت کی کشش اور پھر اپنے قصبات اور اقوام کی پسماندگی انہیں مسلسل تحاریک، جڑت، انتشار، قوم پرستی، عمومی یکجہتی، دانشوری، آرٹ اور تاریخ کی کھوج کے جیسے گرداب میں پھنسا دیتی ہے۔ کبھی ان کی زندگی یک سمتی، کبھی بے سمتی اور کبھی شاہکار پیدا کرتی نظر آتی ہے۔ سرمایہ داری کا دباؤ اتنا شدید ہے کہ ہم کیا ہیں اور کیوں ہیں یعنی شناخت کے سوال کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے انسان آوارہ، ٹھرکی اور لاپروا نظر آتا ہے اور یوں جپسی۔ سرمایہ داری کی ترقی سے متاثر یہی کہتے ہیں کہ پسماندگی کا حل مزید سرمایہ داری ہے، بیشک اس کا نتیجہ بے سروسامانی کیوں نہ ہو، بود و باش، رسم و رواج کا خاتمہ ہی کیوں نہ ہو۔
سرمایہ داری سے پیدا ناہموار ترقی تمام تر تعصبات کی جڑ ہے، جنگیں اس کی بدترین شکل۔ ناہموار ترقی کے خلاف مزدور طبقہ کی جدوجہد ہی دراصل ناہمواری کا خاتمہ کر کے سماج بھر کی ضرورت کے مطابق پیداوار کرنے کا نظام تعمیر کر سکتی ہے اور یہی سماج میں رسم، رواج، بود و باش کو بحال کر سکتا ہے۔ کارل مارکس نے ایک مبہم انداز میں دیہی کمیون سے براہ راست کمیونزم کا خاکہ پیش کیا۔ البتہ یہ روسی انقلابی لیون ٹراٹسکی ہی تھا جس نے 1905 اور 1917 کے انقلابات کے تجربات سے جو نچوڑ حاصل کیا وہ کامریڈ سرتاج خان کی نظر میں جاگیرداری سے براہ راست سوشل ازم میں جانے کا انقلاب تھا۔
اس انقلاب میں جاگیرداری سے سرمایہ داری کے سفر کی ضرورت بھی نہ تھی اور ایک پسماندہ سماج میں اس دو مرحلہ سفر کے امکانات بھی نہ تھے۔ یہ تو نیولبرل ازم یعنی مارکیٹ پر مبنی سرمایہ داری ہے جس نے دیہات کو تباہ و برباد کر کے انقلابی امکانات کا بیڑہ غرق کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے کمیونسٹ دوست، کہ جو اسٹالن ازم کے سرمایہ مقابلے کے لیے سرمائے کا ایک ملک میں ارتکاز کے حامی رہے، وہ سرمایہ داری سے گزرنے کو آج بھی ناگزیر سمجھتے ہیں۔ گل۔ حسن انہی دانشورانہ اثرات کے گرداب میں کبھی۔ دیہات، کبھی شہر اور کبھی ان سب سے دور بیاباں میں اپنے حال کا جواب تلاش کرتے رہے۔ یہ تو ہو گیا میرا سوشل ازم کا۔ پروپیگنڈا۔
گل حسن اپنے اندر کا انسان، اپنی شناخت کی تلاش میں بار بار کئی جہتوں میں سامنے لاتے رہے۔ اور ہر بار ان کی کوششوں میں مجھ جیسے پریس ریلیز لکھنے والے ان کی ہوشرباء صلاحیتوں سے سیکھتے گئے۔ جپسی ہو تو ایسا ہو!

