اصحابِ تخیل و اصحابِ عمل
انجینئر عمارت کا نقشہ بناتا ہے جب کہ معمار اس کے عین مطابق عمارت کھڑی کرتا ہے، دونوں کے باہمی تعاون و اشتراک سے ہی تاج محل کھڑا ہوتا ہے ؛ صاحبان تخیل و صاحبان عمل کے بیچ بھی یہی تعلق اُستوار رہے تو کار ہائے نمایاں سر انجام دیے جا سکتے ہیں۔
ترقی یافتہ اقوام کی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے ہاں تقسیمِ کار کا بہترین اور مثالی بندوبست ہے۔ زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں ایک طرف ”تھنک ٹینکس“ اپنے کام میں مگن رہتے ہوئے افکار، خیالات، تصورات اور نظریات وضع کرنے میں مصروفِ عمل رہتے ہیں تو دوسری طرف میدانِ کارزار کے جری سپاہی انہی افکار و نظریات کو روبہ عمل لانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتتے، کوئی کسر نہیں چھوڑتے جس کے نتائج اُن اقوام کی ہر شعبہ زندگی میں برتری کی صورت، رہتی دنیا دیکھتی چلی آ رہی ہے۔
پسماندہ و غریب اقوام اُن کے دست نگر رہتی ہیں جن کی اکثریت اپنی پسماندگی و درماندگی کو ایسے اسباب سے منسوب کرتی ہیں جو فی الواقع اسباب نہیں بلکہ نتائج ہوتے ہیں۔ جہاں سبب نتیجہ اور نتیجہ سبب گردانا جائے وہاں گنگا الٹی ہی بہتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ شعور و ادراک کے در وا کیے جائیں، افکار تازہ سے جہانِ تازہ کی تسخیر کی راہیں دریافت کی جائیں اور شعبہ جاتی سطح پر زندگی کے ضابطے نہ صرف طے کیے جائیں بلکہ اُن پر عملداری یقینی بنائی جائے۔
ارسطو و افلاطون جیسے ہر فن مولا قصہ پارینہ ہو گئے، اُن کا زمانہ بھی بیت گیا اور ان کے جیسوں کا استثنا بھی نایاب ہو چکا، اب زمانہ تخصص کا تقاضا کرتا ہے جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین پیدا کیے جاتے ہیں اور اُن سب کے باہمی اشتراک تخیل و عمل سے ہی زندگی کو درپیش گونا گوں مشکلات کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔
ترقی کا راستہ کٹھن، صبر آزما اور دشوار تو ہوتا ہے پر اس راستے کی منزل اتنی حسین اور پر کشش ہوتی ہے کہ مسافر اگر رخت سفر باندھ لے تو عازم سفر ہونے میں تامل نہیں کرتا؛ دشواریوں کو خاطر میں نہیں لاتا، ڈگمگاتا نہیں، پر عزم رہتا ہے، منزل پر پہنچنے کا جذبہ اُس کی حرکت کو تیز تر رکھتا ہے۔
افراد ہوں یا اقوام؛ جستجو، جذبہ، لگن، محنت، جُہد مسلسل اور عمل پیہم ترقی کے سفر کے لیے اگر زاد راہ ہیں تو تخصص، اشتراک عمل اور ربطِ باہم منزل کے حصول کی عملی و موثر ترکیب!


