پختون خواہ کے وسائل: شمس مومند کی تصنیف
یہ کتاب کل 118 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں پختون خواہ کے آبی ذخائر اور وسائل، معدنیات، جنگلات، تجارت، انسانی وسائل سمیت سیاحت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ مقدمہ میں افراسیاب خٹک لکھتے ہیں کہ یہ کتاب پڑھ کر ذہن میں تین سوال ضرور پیدا ہوتے ہیں
● کہ اتنے قدرتی وسائل ہونے کے باوجود صوبے میں صنعتی ترقی کیوں نہیں ہوئی؟ یعنی خام مال، مزدور اور بجلی پختون خواہ کے ہو اور صنعت دوسرے صوبوں میں ہو؟
● پختون خواہ کا سٹریٹجک جغرافیہ بڑی طاقتوں کے مفادات کی جنگوں میں استعمال ہوتا ہے وہی جغرافیہ علاقائی امن اور بین الاقوامی تجارت اور ٹرانسپورٹیشن کے لیے استعمال کیوں نہیں ہوتا؟
● سی پیک میں پختون خواہ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں کیا گیا ہے؟
شمس مومند پختون خواہ ایک تعارف میں اگر ایک طرف سیاسی اور جغرافیائی تعارف کیا ہے تو دوسری طرف معاشی بنیادوں پر تعارف کیا ہے صفحہ 25، 26 پر لکھتے ہیں کہ اگر پختون خواہ کے لوگ کچھ بھی نہ کریں صرف چین، ہندوستان اور وسط ایشیائی ممالک کو تجارت کے لیے ریل اور سڑکیں فراہم کریں تو شاید پاکستان اور افغانستان کے پشتونوں کو انڈسٹری لگانے کی ضرورت باقی ہی نہ رہے۔
آبی وسائل پر لکھتے ہیں کہ پورے ملک کے پانی کا انحصار پختون خواہ کے پانی پر ہیں۔ یہاں پانی کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ جیسا کہ آبشار، جھیل، پہاڑوں پر برف کے گلیشئر وغیرہ۔ دریائے نیلم، کمہار اور دریائے جہلم کے آدھے ذرائع بھی پختون خواہ کے ہیں۔ خیر آباد کے مقام پر دریائے اباسین (دریائے سندھ) میں 93 ہزار ایکڑ فٹ پانی بہتا ہے جو پاکستان کے تمام آبی وسائل کا 65.49 فیصد ہیں۔ یاد رہے کہ صرف ہمالیہ سے 19 دریا نکلتے ہیں۔ تمام اعداد و شمار لگانے کے بعد مصنف اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ملک کا 70 فیصد پانی پختون خواہ کا ہے۔
1947 سے 1991 تک پورا ملک یہ پانی اپنی مرضی سے استعمال کرتا رہا۔ 1991 میں ارسا ( indus river system regulatory authority) کے نام سے چاروں صوبوں کے درمیان پانی کے تقسیم کا طریقہ کار وضع کیا گیا۔ جس میں پختون خواہ کو صرف 8 فیصد حصہ دیا گیا۔ پنجاب 47، سندھ 42 اور بلوچستان کو صرف 3 فیصد حصہ دیا گیا۔ وفاقی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ پانی کے اس حق کو استعمال میں لانے کے لیے ہر صوبے میں ایک نہری نظام کا پراجیکٹ مکمل کرے گا۔ پختون خواہ کے سوا تینوں صوبوں میں مکمل ہے۔ جس کی وجہ سے پختون خواہ اب اس 8 فیصد پانی سے بھی استفادہ نہیں کر سکتا۔
1991 سے 2014 تک صوبائی حکومت کے اندازے کے مطابق اس کی مالیت 112 ارب روپے ہے لیکن اس کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل نے نہیں دی۔ پختون خواہ میں نہری نظام نہ ہونے کی وجہ سے 65 فیصد زراعت ٹیوب ویل یا بارانی پانی پر ہیں۔ ڈی آئی خان میں بننے والا نہری نظام 30 سال سے زیر التوا ہیں۔ کیونکہ وفاق فنڈ فراہم نہیں کر رہا۔ انڈس ریور کے دائیں جانب بننے والی یہ نہر 2 لاکھ 80 ہزار ایکڑ زمین سیراب کرے گا۔ اسی چشمہ کے مقام سے پنجاب کے لئے بھی نہر نکالی گئی ہیں جس سے 2 لاکھ 40 ہزار ایکڑ زمین سیراب ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ کرم تنگی ڈیم، گومل زام ڈیم اور دیگر نہروں کی تفصیل دی ہے۔
مصنف نے پن بجلی پر کافی تفصیل دی ہے۔ جس میں تعمیر اور زیر تعمیر hydro power پر روشنی ڈالی ہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ پختون خواہ میں صرف واپڈا کے زیر انتظام 5570 میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہیں۔ جو پاکستان میں پن بجلی کے کل پیداوار کا 50 فیصد ہیں۔ اس کے علاوہ واپڈا کے زیر تعمیر پختون خواہ میں ایسے منصوبے ہیں جو 6 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کریں گے۔ پاکستان میں پن بجلی پیداوار کی صلاحیت 69 ہزار میگاواٹ ہے جس میں 30 ہزار پیداوار کی صلاحیت صرف پختون خواہ کی ہے۔
اس کے علاوہ سمال ہائیڈل ڈیوپلپمنٹ آرگنائزیشن جو 1986 میں بنائی گئی۔ جس کا مقصد بہتے پانی پر پاور سٹیشن کا قیام اور بجلی پیدا کرنا تھی۔ انہوں نے 07 پاور سٹیشن قائم کیے جس سے 161 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ پیڈو کے مطابق ان پاور سٹیشن کی تعداد بڑھا کر 2030 تک 2 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرے گی جو سالانہ 50 ارب روپے ریونیو پیدا کرے گی۔ اس کے علاوہ پختون خواہ کے مختلف علاقوں کی ہائیڈرالوجی سٹڈی مکمل ہو چکی ہیں جہاں بہتے پانی سے 2 ہزار میگا واٹ بجلی کی مزید پیداوار ممکن ہے۔ پچھلے سال پختون خواہ کی بجلی کی کل ضرورت 3300 میگا واٹ تھی۔ جبکہ پختون خواہ کو صرف 1700 میگاواٹ بجلی فراہم کی جاتی رہی۔
مصنف نے اے این جی قاضی فارمولا کے تحت اور آئین کے دفعہ 161 دو کے تحت پختون خواہ کو خالص منافع دینے پر تفصیلی بحث کی ہے۔ جس میں سیاسی حکومتوں کے منفی رویوں اور صوبے کے ساتھ جاری ظلم پر بھی بات کی ہے۔ یاد رہے کہ 2016 اور 17 تک ہمارا تخمینہ 128 ارب روپے ہے لیکن اس کو مسلسل دبایا جا رہا ہے۔ اس پر صدر پاکستان، قانونی تفصیل اور مشترکہ مفادات کونسل کی آراء کو زیر بحث لایا ہے یاد رہے کہ پختون خواہ وفاق کو بجلی 1 روپے 10 پیسہ پر دیتا ہے۔ جس کا صرف 2015، 16 کا 18 ارب 70 کروڑ بنتے ہیں۔ جس میں سالانہ 5 فیصد اضافہ بھی ہو گا۔ جبکہ صوبائی حکومتوں کا مطالبہ ہے کہ خالص منافعہ 8.9 روپے فی یونٹ بنتا ہے وفاق کو چاہیے کہ قاضی فارمولا کے مطابق پختون خواہ کو 918 ارب روپے ادا کرے۔
این ایف سی ایوارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا ہے جس کے نتیجہ میں صوبے کا 19 اعشاریہ 6 فیصد بنتا ہے یوں صوبے کا صرف 2023، 24 کا حصہ 262 ارب بنتا ہے لیکن وفاق نے 123 ارب دیا ہے۔ 25 ویں ترمیم کے مطابق وفاق صوبے کو سالانہ 3 فیصد این ایف سی ایوارڈ یعنی 100 ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ جو فاٹا کے ترقی پر خرچ ہو گا۔ 2018 سے 23 تک 5 سو ارب بنتے تھے جس میں وفاق نے صرف 103 ارب دیے ہیں۔
پختون خواہ میں روزگار بڑھانے کے لیے صوبائی حکومت نے پیڈو کے 161 میگاواٹ بجلی سستی قیمت پر دینے کی رضامندی ظاہر کر دی۔ ٹینڈر کرایا گیا۔ جس کے لیے 77 کارخانے کوالیفائی کر گئے۔ تو پنجاب کے بڑے سرمایہ داروں نے اس پر کیس کر کے اس کو رکوا دیا۔ کیونکہ اس طرح سستی بجلی کے پیچھے پنجاب سے بڑے کارخانے پختون خواہ منتقل ہو جاتی۔ اس طرح این ایف سی ایوارڈ کے مطابق صدر پانچ سال کے لیے صوبوں کے درمیان پانچ قسم کے ٹیکسز تقسیم کرتا ہے جس کے مطابق پنجاب کو 20 کھرب جبکہ پختون کو 670 ارب روپے ملتے ہیں۔
معدنی وسائل کے حوالے سے افغانستان فرام کولڈ وار ٹو گولڈ وار کا حوالہ دے کر لکھتا ہے کہ ”صرف فاٹا میں دس ہزار ملین ٹن ماربل، پانچ ملین ٹن میگنیز، دس ملین ٹن کرومائٹ، اکیاسی ملین ٹن کوئلہ، 35 سے 50 ملین ٹن تانبہ، چھ ملین ٹن نرم پتھر، دو سو ملین ٹن جپسم، پانچ ملین ٹن کوارٹرز، اور تقریباً 200 ملین ٹن گرونائٹ کے ذخائر موجود ہیں۔ چترال اور مالاکنڈ میں پانچ قسم کے ذخائر موجود ہیں۔ جس میں 50 اقسام کے صرف ماربل ہیں۔
زمرد، یاقوت، پکھراج اور دیگر قیمتی پتھر کے ذخائر موجود ہیں۔ اس میں حامد میر کا شمالی وزیرستان دورہ اور 22 ہزار ٹن تانبا کا چین منتقل ہو جانے کا حوالہ اور تفصیل دیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ اگر معدنیات سے ترقی ہوتی تو افریقہ دنیا کا مالدار ترین خطہ ہوتا لیکن ایسا نہیں۔ ٹیکنیکل ادارے بنانے ہوں گے۔ ہم ان معدنیات اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے بربادی کا شکار ہے۔
آئین کے دفعہ 158 میں لکھا ہے کہ جس صوبے میں تیل، گیس کا کنواں موجود ہے پہلا حق ان کا ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں اپنے صوبے میں موجود گیس کا صرف 10 فیصد پائپ لائنوں میں فراہم کیا جاتا ہے۔ نگران وزیر اعلی کو کوٹ کیا ہے کہ پختون خواہ قومی خام تیل کا 50 فیصد سے زیادہ پیدا کرتا ہے۔ پختون خواہ 2 اعشاریہ 2 بلین بیرل تیل یعنی 35 کروڑ لیٹر تیل سالانہ پیداوار ہے۔ اور گیس 46 ٹریلین کیوبک فٹ کی وصولی کا امکان ہے۔
2025 میں تیل 1 لاکھ 35 ہزار بیرل تیل اور 2 ہزار ملین کیوبک فٹ گیس یومیہ ہوگی۔ جس سے دو سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ اور سو ملین ڈالر سے زائد کے منافع کی توقع ہے۔ یاد رہے کہ پختون خواہ میں 31 بلاکس ہے جس میں صرف 2 پر کام ہو رہا ہے جس سے ملک کا 50 فیصد سے زائد کا پختون خواہ پیداوار دے رہا ہے۔
اس طرح فیڈرل اکسائز ڈیوٹی فنانس ایکٹ 2010 کے ذریعے 10 روپے فی ایم ایم ٹی یو فیکس کیا گیا تھا۔ جو سالانہ 1 اعشاریہ 3 ارب بنتا ہے اس پر 14 سال سے نظر ثانی نہیں کی گئی۔ حالانکہ اس کے مطابق یہ قیمت 22 روپے فی ایم ایم ٹی یو بنتی ہیں۔ 14 سال ہو گئے آئین کی اس شق پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس طرح پختون خواہ اپنے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ در آمد شدہ آر ایل این جی کی مد میں جو پنجاب کو اپنی قیمت سے کم پر دیا جا رہا ہے۔ اس کے قرضے بھی غریب پختون خواہ سے وصول کیے جاتے ہیں۔ پختون خواہ کو ایل پی جی گیس کی رائلٹی پائپ لائن گیس کے مطابق شمار کرتا ہے حالانکہ ایل پی جی پائپ لائن گیس کے 10 گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی ہے۔
مصنف لکھتا ہے کہ پختون خواہ میں 186 بلین ٹن کوئلہ موجود ہے جس میں صرف 4 بلین ٹن کوئلہ معلوم ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں 117 ڈالر فی ٹن کے حساب سے کوئلہ فروخت ہو رہی ہیں۔ پاکستان کے پاس ماربل کے ذخائر 292 بلین ٹن ہے۔ جس میں 290 بلین ٹن ماربل کے ذخائر پختون خواہ میں ہیں۔ قیمتی پتھروں اور جواہرات کے ضمن میں لکھتا ہے کہ پختون خواہ میں 2006 رپورٹ کے مطابق 2568 ٹن بیریٹ، 85 ٹن کورنڈم پیدا کیا گیا۔ 2006۔ 7 کے مطابق صوبے میں 416 ٹن کوارٹز پیدا ہوا۔ سوات میں 70 ملین قیراط زمرد کے ذخائر موجود ہے۔ مردان میں 9 ملین قیراط گلابی پکھراج اور کوہستان میں 10 ملین قیراط پیرائڈوٹ کے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دسیوں قیمتی پتھروں کی تصاویر اور پختون خواہ میں اس کی پیداوار کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
جنگلات کے حوالے سے لکھتا ہے پختون خواہ میں پاکستان کا 45 فیصد جنگلات ہے۔ جن کے ساتھ پختون لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ تفصیل میں صرف اور صرف شوال جنوبی وزیرستان میں سالانہ 6 ارب روپے کے چلغوزے کی پیداوار ہے۔ ضرب عضب آپریشن کے بعد اس میں کافی کمی آئی ہیں۔ مصنف نے بہت تفصیلی انداز میں سیاحت پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ 2021 کی عید الفطر کے پانچ دنوں میں پختون خواہ میں 25 لاکھ لوگوں نے شمالی علاقے جات کا وزٹ کیا ہے۔
جس نے صوبے کو 4 ارب ریونیو فراہم کیا۔ اس طرح 2023 عید الفطر سے لے کر 14 اگست تک 60 لاکھ لوگ سیاحت سے لطف اندوز ہوئے۔ اس قدر خوبصورت موسم اور سرسبز و شادابی رکھنے کے باوجود ہم ماحول کو بہتر رکھنے اور سیفٹی کے حوالے سے 141 میں سے 130 اور 138 ویں نمبر پر ہے۔ سیفٹی نہ ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی سیاح پختون خواہ کا رخ نہیں کرتے۔ سالانہ پاکستان میں 50 لاکھ غیر ملکی سیاح آتے ہیں اگر پختون خواہ میں ہوٹلوں کی سیفٹی کو یقینی بنائے تو اس میں مزید بلکہ بے تحاشا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی سیاحت یعنی بدھا کے مجسموں اور دیگر مذاہب والوں کی پختون خواہ میں آمد کو اگر ہم یقینی بنائے تو اس سے صوبے کو اور ملک کو کافی ریونیو مل سکتا ہے۔
اس طرح مارخور کی شکار کے لائسنس فروخت کرنے میں صرف 2021 میں 57 لاکھ 5 ہزار ڈالر کی آمدنی ہوئی تھی۔ اس طرح پختون خواہ میں دیگر جانوروں کے شکار پر آمدنی کی تفصیل بھی دی ہے۔ زراعت کے حوالے سے کافی تفصیل سے کام لیا ہے۔ کہ پختون خواہ میں 80 فیصد لوگ دیہی ہیں۔ جن میں اکثر زراعت سے وابستہ ہیں۔ اس میں تمباکو، چلغوزے، شفتالو، اخروٹ، توت، آم، مالٹا، گنا دسیوں میواجات اور سبزیوں کی تفصیل ہے۔ صرف تمباکو میں پختون خواہ 44 ارب روپے سالانہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں حصہ ڈالتا ہے۔ اس طرح تمام سبزیوں اور میواجات کی تفصیل دی ہے۔ اس طرح اسلحہ سازی سمیت کئی کاروبار اور صنعتوں کا تفصیلی انداز میں جائزہ لیا ہے۔


