انجینئر مرزا پر فتویٰ اور عوام کی آراء


دارالعلوم دیوبند، یو پی بھارت نے حال ہی میں پاکستانی مذہبی اسکالر انجینیئر محمد علی مرزا کے بارے میں ایک فتوی جاری کیا جس میں مرزا کے مسلمانوں کے سب سے بڑے مذہبی گروہ اہل سنت (حنفیہ، مالکیہ، شوافع، حنابلہ) سے اخراج اور برات کا اعلان کیا گیا ہے۔ مذکورہ فتوے کی بازگشت سوشل میڈیا پر بھرپور سنی گئی جس پر ہر صاحب فکر نے اپنے علم، فہم اور بصیرت کے مطابق اظہار رائے کیا۔

ان آراء میں جو باتیں بہت مشترک اور تسلسل کے ساتھ دیکھی گئیں ان میں کچھ یہ ہیں ؛
۔ انجینیئر محمد علمی مرزا کے علمی اعتراضات کا جواب دینے کے بجائے فتوی دینا بلاجواز ہے
۔ مذکورہ فتوی ظاہر کرتا ہے کہ روایتی مذہبی علماء کے پاس جواب کے بجائے صرف بے بسی ہے

۔ فتوے بازی کا یہی طرز مذہب بیزاری کا سبب ہے اگر اسی طرح سب کو دین سے نکال دیا جائے تو پھر دین میں رہے گا کون؟

۔ اگر مذہب کو زمانے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی طرز نہ اپنائی گئی تو مذہب متروک ہو جائے گا تب کسی مذہب پسند کو شکوے کا حق نہیں

۔ سعودی عرب کی جدیدیت پر مبنی پالیسی ویژن 2030 مذہب کی جدید عملی شکل ہے جسے عالم اسلام بالخصوص برصغیر کے مسلمانوں کو سمجھنا چاہیے

۔ یہ مذہبی اسکالر اور مولوی ملحدوں کو جواب نہیں دے پاتے اس لیے آپس میں ہی چونچیں لڑاتے رہتے ہیں

ان آراء پر بات کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ایک بار پھر یہ بات واضح کر دی جائے کہ مذکورہ فتوی ایک اجماعی فیصلہ ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انجینیئر محمد علی مرزا نے علمی تسلسل سے خود کو علیحدہ کر لیا ہے۔ یہ فتوی کسی کے ایمان یا عقائد پر نہیں بلکہ طریقے سے ہٹ جانے پر دیا گیا ہے سو اسے فتوے بازی پر قیاس کرنا اور تکفیری عمل کا تسلسل قرار دینا درست نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ طریقہ مذہب کا بنیادی حصہ ہے یا اتنا ضروری ہے کہ اس سے ہٹ جانے پر فتوی لگایا جائے؟

جس طرح تمام علوم کے حاصل کرنے اور مستند ہونے کا ایک ضابطہ ہے اسی طرح اسلام کا بھی ایک ضابطہ ہے۔ اسلام کوئی ارتقائی علم نہیں کہ دریافت کیا گیا اور اب اساطیر نے جو دریافت کیا وہ قدیم ہو گیا نئے لوگ اس سے اچھی تحقیق کر کے اسے اور اچھا دریافت کر لیں گے بلکہ اسلام حضور ﷺ پر مکمل طور پر ”نازل“ ہوا جن سے وہ صحابہ کو منتقل ہوا پھر وہاں سے تابعین پھر تبع تابعین اسی طرح اگلی نسلوں کو، یعنی علم کے منتقل ہونے کا ایک تسلسل ہے اور یہی تسلسل پشت در پشت اور سینہ بہ سینہ آج ہم تک پہنچا ہے۔

اس لحاظ سے عقلی طور پر خود فیصلہ کیا جائے کہ مذہب کون سا اصل یا اصل کے قریب تر ہو سکتا ہے؟ جو اس طرح متصل انتقال پر مبنی ہے یا جو محض قرآن کا اردو ترجمہ اور کچھ کتابیں پڑھ کر اس پر اپنی عقلی رائے سے تراش لیا جائے؟ جبکہ کتابوں میں درج مذہب بھی بیشتر اسی طرح ہی پہنچا ہے، سوائے ان کتب کے جو اسی طرح اس راستے سے ہٹ کر تحریر کی گئیں لہذا ان کی قبولیت کا معیار بھی وہی ہے جو ایسے لوگوں کا ہے۔

جہاں تک فتوے پر گمراہ قرار دینے کا سوال ہے تو وہ بھی اسی تناظر میں ہے یعنی اس راستے پر رہتے ہوئے اصل مذہب پر قائم رہنے کا امکان اس سے ہٹ جانے سے کہیں زیادہ ہے لہذا ہٹ جانے والا گمراہی کے قریب تر ہو سکتا ہے اور جو اعلی اعلان ان اصولوں سے نہ صرف احتراز کرے بلکہ مذہب کی ایک نئی تعبیر پیش کرے جس کا ماخذ صرف اس ایک شخص کا فہم ہو تو اس گمراہی میں کیا تشکیک رہ جاتی ہے؟

مذکورہ فتوی کسی قسم کی بے بسی، علمی کمزوری یا جہالت نہیں جیسا کہ تاثر بہت سے ذہنوں میں پایا جاتا ہے۔ اگر اسے علمی کمزوری اور بے بسی قرار دیا جائے تو چند سال قبل پانی سے گاڑی چلانے والے ڈھکوسلہ باز آغا وقار پر جو تنقید ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور ڈاکٹر عطاء الرحمان وغیرہ نے کی وہ ان کی علمی بے بسی اور کمزوری تھی؟ تمام سائنسی شخصیات کا یہی کہنا تھا کہ جو اصول آغا وقار بتا رہا ہے وہ ”سائنسی اصول نہیں“ گویا ایک لحاظ سے انہوں نے سائنسی روش سے ہٹ جانے پر آغا وقار پر گمراہی کا فتوی لگایا تھا۔ جہاں مذکورہ سائنس دانوں نے علمی توجیہ اور دلیل سے اپنی بات ثابت کی اور آغا وقار کو غیر سائنسی طرز اپنانے پر جھوٹا قرار دیا اسی طرح مذہبی علماء نے مرزا کے طریقے پر اسی منطقی دلیل کے ذریعے اعتراض کیا اور اسے راستے سے ہٹا ہوا قرار دیا۔

جہاں تک بات ہے مذہبی علماء کے جواب دینے کی تو وہ ہمیشہ سے دیتے آئے ہیں جن میں ایسے دقیق، علمی اور مدلل جواب بھی ہیں جن کا آج تک ان مذہبی اسکالروں یا ان کے پیش روؤں سے جواب نہیں بن سکا۔ انجینئر تو طفل مکتب ہے، اس خطے میں پیدا ہونے والی دو ڈھائی سو سال پرانی مذہبی شخصیات کو جواب انہی کے زمانے میں عنایت کر دیے گئے تھے جن کے جواب آج تک نہیں موصول نہ ہو سکے۔

اس کے برعکس مرزا کی روش بھی آج کل کے دیگر ایسے ہی خود ساختہ مذہبیوں والی ہے کہ وہ اپنی بات تو ببانگ دہل اور چار سو کہتے ہیں لیکن جواب سننے کی یا تو ہمت نہیں رکھتے یا اس پر یہ بھونڈی دلیل دیتے ہیں کہ اگر وہ اسی کام میں لگ گئے تو اپنا کام نہیں کر سکیں گے جبکہ ان کو جواب دینے والوں نے اس میدان میں ان سے کہیں زیادہ کام کیا ہے پھر بھی وہ ایسے لوگوں کا محاسبہ کرنا بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں جو تنقید تو کرتے ہیں لیکن جواب سے بھاگتے ہیں، جس کا مظہر مرزا کا یہ کہنا ہے کہ میں فلاں سے بات نہیں کروں گا بلکہ اس کے بجائے فلاں اگر مجھ سے بات کرے تو میں اسے جواب دوں گا۔ حالانکہ مجھ جیسے عامی کا بھی یہ حال ہے کہ جو بھی بات میرے محدود علم اور سمجھ سے مطابقت نہیں رکھتی اس پر تحقیق کے بعد اپنی بساط اور اوقات کے مطابق جواب دینے میں تامل نہیں کرتا کیونکہ مباحثہ سے ہی سوچنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے لیکن اس کی اہمیت بھی وہی سمجھتا ہے جس کو اس کی ضرورت ہو۔

اگر یہ فتوی مد نظر رکھا جا سکتا ہے تو اپنی تسلی کے لیے مرزا کو دیے گئے دیگر جوابات بھی ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں، آرام نہ آنے کی صورت میں غامدی، مولوی اسحاق، امین یوسف اصلاحی، حمید الدین فراہی، وحید الدین خان اور مودودی سمیت بہت سے لوگوں کو دیے گئے علمی جوابات بھی ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں جن میں سے اکثر کے جوابات تاحال ان شخصیات یا ان کے پیش روؤں سے موصول نہیں ہوئے۔

اسلام کے حوالے سے سعودی عرب کے گزشتہ اور موجودہ زمانے کی مثال بہت ہی ناقص اور غیر متعلقہ ہے کیونکہ ان سب اقدامات کا مذہب سے قطعی کوئی تعلق نہیں۔ آل سعود کو اپنی بادشاہت مضبوط کرنے کے لیے مذہب کا سہارا لینا پڑا کیونکہ تب ان کی عوام مذہب پسند تھی لہذا بظاہر ”اسلام کا نفاذ“ کیا گیا۔ چونکہ نفاذ اسلام مقصد نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے عوام کو راضی رکھ کر بادشاہت کو قائم رکھنا تھا لہذا کسی قسم کی مذہبی آزادی بھی اس سلسلے میں گوارا نہیں کی گئی اور کٹر بلکہ شدت پسندی پر مبنی عبداللہ ابن وہاب کے نظریات کو عوام پر تھوپا گیا جس کی مخالفت اسی دارالعلوم دیوبند کے علماء نے اس وقت بھی کی تھی۔

وقت کے ساتھ ساتھ چونکہ اب سعودی عرب کے عوام موجودہ زمانے سے ہم آہنگی کی وجہ سے اس جکڑ بندی کو پسند نہیں کرتے لہذا بادشاہت کی بقا کا تقاضا ہے کہ عوام کے موجودہ خیالات اور پسند و ناپسند کا خیال رکھا جائے سو ”محمد بن سلمان کا ویژن“ متعارف کیا گیا جس میں شامل مذہبی جدیدیت کی بھی اسی دارالعلوم دیوبند اور اس کے ہم خیال مدارس اسی طرح مخالفت کر رہے ہیں۔ مذہب کے لحاظ سے سعودیہ کی مثال دینے والوں کو برصغیر کے مذہبی علماء کی اس پر پہلے اور اب کی جانے والی تنقید کو بھی لازمی مدنظر رکھنا چاہیے کیونکہ ایسا نہ کرنا بہت بڑی خیانت ہوگی۔

جہاں تک الحاد اور ملحدوں کا سوال ہے تو مرزا، غامدی اور ان جیسے دیگر وہ لوگ جو اس سے پہلے اس سلسلے میں کام کر چکے ہیں وہ کبھی بھی الحاد کو موضوع بحث نہیں بنائیں گے جس کی وجہ ”ملحدین سے شکست کا خوف“ نہیں کیونکہ ملحدین کو ملنے والے جوابات ہر زمانے میں دستیاب ہیں جنہیں ملاحظہ کیے بغیر ”فتح و شکست“ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

اس اعراض کی وجہ دراصل یہ ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ”علمی کاوشیں“ عوام بالخصوص منطقی اور سائنسی ذہن رکھنے والوں میں پسند کی جاتی ہیں جو کسی حد تک درست بھی ہے سو اگر یہ ملحدین کو چیلنج کریں گے تو ان کو پسند کرنے والا یہ واحد طبقہ بھی ان سے احتراز کرنے لگے گا۔ اس سلسلے میں وضاحت کے لیے غامدی کے خاص شاگرد حسن الیاس کا تذکرہ اہم ہے جو خود بھی ایک باقاعدہ مستند عالم ہیں لیکن ایک نشست میں وہ ملحدین کا مقدمہ اتنا غلط بتا رہے ہیں جس پر ملحدین بھی حیران ہیں۔

الحاد خالصتاً عقلیت اور منطقیت پر منحصر ہے جس کا اگر اسی پیرائے میں جواب دیا جائے تو ایک علم پسند ملحد فوری طور پر بات کو سمجھ جاتا ہے لیکن اس قسم کے ملحدین کی ہمارے معاشرے میں ویسے ہی کمی ہے جیسے مسلمانوں میں عمل پسند افراد کی۔ پاکستانی ملحد دو چار چھ باتوں میں ہی اپنی باتوں کا جواب عموماً پا لیتے ہیں جس کے بعد وہ بھی متشدد مزاج مولویوں کی طرح زبان درازی پر اتر آتے ہیں جس کا اگلا مرحلہ صرف دشنام طرازی اور مغلظات کا ہوتا ہے جسے بیشتر مذہبی عالم اختیار نہیں کرتے البتہ نہایت معذرت کے ساتھ، پنجاب میں ہر طبقہ میں اس کا بہت رواج ہے بلکہ اسے پسند بھی کیا جاتا ہے اور کہیں کہیں اسے جوابی دلیل کے بطور قبول بھی کیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS