کھیل کھیل میں

پاکستانی قوم کھیلوں سے پیار کرنے والی قوم ہے۔ کھیل ہمارے خون میں شامل ہے۔ کرکٹ ہو یا ہاکی، سکوائش، فٹبال ہو یا پولو، کبڈی، تیراکی یا دوڑ، کھیل جو بھی ہو ہم بڑے رغبت اور شوق سے کھیلتے ہیں۔ اس کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ پاکستان کتنے ہی عرصے سے کھیلوں کے مقابلوں میں اپنا لوہا بین الاقوامی سطح پر منوا رہا ہے۔ سکوائش ہو یا کرکٹ، ہاکی ہو یا بلیئرڈ، کبڈی یا دیگر کھیلیں، پاکستان ورلڈ چیمپئن رہا ہے۔
کھیلوں کے مقابلہ جات کسی بھی قوم کے عزم و ہمت، جوش و جذبہ اور قومی پہچان کو ظاہر کرتے ہیں۔ خاص طور پر بین الاقوامی مقابلوں میں کھیل صرف کھیل ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کی ایک بین الاقوامی سطح پر اہمیت ہوتی ہے۔ آپ کے کھلاڑی اپنی ٹیم کو ہی نہیں اپنے ملک، اپنی ثقافت، اپنی تاریخ اور اپنے قوم کے نمائندہ ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر کھیل کی بہت اہمیت ہے۔ کھیلیں سفارت کاری اور بین الاقوامی تعلقات میں حکومتوں کے لیے ایک اسٹریٹجک آلے کے طور پر اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ نرم طاقت (سافٹ پاور) نرم تا اثر (سافٹ امیج) کے لیے ایک طریقہ کار کے طور پر کام کرتی ہیں جس سے قوموں کو عالمی سطح پر اپنی ثقافتی اقدار اور قابلیت کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اچھے کھیل سے کسی بھی ملک کے عالمی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوتا ہے۔
میدان میں جیت یا ہار بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس کا بین الاقوامی اور سفارتی سطح پر بہت اثر ہوتا ہے۔ اگر آپ کی ٹیم جیتتی ہے تو نہ صرف اس کا آپ کی قوم پر بہت مثبت اثر ہوتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک نسبتاً مثبت تا اثر ابھرتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر لوگ اس ملک کے بارے میں، کھلاڑیوں کے بارے میں، ثقافت کے بارے میں، تاریخ کے بارے میں اور کلچر کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کی سیاحت میں اضافہ ہوتا ہے۔
جب جب پاکستان نے کھیلوں میں بین الاقوامی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، تب تب اس کا ملک پر بہت اچھا اثر ہوا ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں اس کا فائدہ دکھائی دیا ہے۔
مہنگائی، بیروزگاری، نفس نفسی، نفرت اور بد امنی کے اس دور میں کھیلیں انتہائی اہم ہیں۔ کھیلوں کے فروغ کے لیے حکومت اور نجی اداروں کو بڑھ چڑھ اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
گزشتہ دنوں پاکستان کی ہاکی ٹیم 13 سال بعد جب ملائشیا میں کھیلے گئے اذلان شاہ کپ کے فائنل میں پہنچی تو قوم میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ حب الوطنی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اگرچہ فائنل پاکستان جاپان سے نہ جیت سکا لیکن مقابلہ تقریباً برابر رہا اور فیصلہ پلینٹی سٹروکس پر ہوا۔ اسی طرح سے پاکستان کی والی بال ٹیم نے سینٹرل ایشیا والی بال ٹورنامنٹ جیت کر قوم میں خوشی کی ایک لہر پیدا کر دی۔ اس سے نہ صرف نوجوان کھیلوں کی طرف راغب ہوں گے بلکہ قوم کے اندر کچھ کر گزرنے کا احساس پیدا ہو گا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نجی شعبے کو بھی کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنا کام کرنا چاہیے اور حکومت کو بھی کھیل اور کھلاڑیوں کی بھرپور سرپرستی کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے نہ صرف آپ کے ملک کا نام روشن ہو گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بین الاقوامی تعلقات میں ہمارا سافٹ امیج اور سافٹ پاور ابھر کر سامنے آئے گی۔

