بنیادی حقوق جاننا ضروری ہے


یہ بہت سادہ اور آسان سی بات ہے۔ ہر انسان انصاف، امن، محبت، مساوات اور خوشحالی کا طلب گار ہے۔ ظلم، نا انصافی، بدامنی، نفرت اور غربت کو برا سمجھتا ہے۔ معاشرے میں تمام قانون، ادارے اور ضابطے اسی لیے بنائے جاتے ہیں کہ انسانوں کو انصاف، امن اور خوشحالی مل سکے اور بدامنی، نا انصافی اور محرومی کا راستہ روکا جا سکے۔ تاکہ ہر انسان کی زندگی سہل ہو سکے۔ یہی انسانی بنیادی حقوق ہیں۔

انسان نے اپنا سفر پہاڑوں، جنگلوں اور غاروں سے شروع کیا تھا۔ جس میں نہ کو سہولیات اور نہ ہی کوئی انسانی حقوق تھے۔ انسان طاقت کے بل پر پورے کا پورا علاقہ قبضہ کر لیتا۔ انسان کو بھیڑ بکروں کی طرح بیچ دیا جاتا۔ یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ آج ہم اس اصول کو جنگل کا قانون کہیں تو غلط نہیں ہو گا۔

جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول کے نتیجے میں انسانی معاشرے میں بہت سی بنیادی ناانصافیوں نے جنم لیا۔ معاشرے میں افراد اور گروہوں نے اجتماعی انسانی وسائل پر ناجائز قبضہ کر کے انسانوں کی اکثریت کو ان کے جائز حصے سے محروم کر دیا۔ اس طرح معاشرے میں امیر اور غریب طبقات وجود میں آئے۔ امیر یافتہ افراد اور گروہوں نے وسائل پر اپنا غاصبانہ قبضہ بر قرار رکھنے کے لیے انسانوں میں اونچ نیچ کے تصورات پیدا کیے۔ جس میں رنگ، نسل اور جنس جیسی پیدائشی خصوصیات کو آڑ بنا کر انسانوں کو بنیادی ضروریات سے محروم کیا گیا اور انھیں ترقی اور فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رکھا گیا۔

جس کے نتیجے میں کارل مارکس کی تحرک دنیا بھر میں سامنے آئے۔ مگر انسان اور انسانی معاشرے نے اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ مذہبی، سیاسی، انقلابی اور اقتصادی تحاریک نے انسانی حقوق میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان تحاریک میں 1215 میں برطانوی کے کنگ جان نے انسانی حقوق تسلیم کیے ۔ 1688 ءکے برطانوی انقلاب، 1776 ءمیں امریکہ کا اعلانِ آزادی، 1789 فرانسیسی انقلاب، 1917 انقلاب روس اور 1948 ء کو اقوام متحدہ نے متفقہ طور پر انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ منظور ہوا۔

پہلی جنگ عظیم ( 1914۔ 1919 ) اور دوسری جنگ عظیم ( 1939۔ 1945 ) نتیجے میں یورپ نے ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کو عملی طور پر تسلیم کیا۔ اور یوں پورا یورپ ایک امن کا گہوارہ بن گیا۔

دوسری طرف پاکستان کو بنے 76 سال ہو گئے۔ مگر آج تک نہ جمہوریت کا پتہ چلا اور نہ ہی آمریت کا۔ سیاسی جماعتیں آج کے اس جدید دور میں امن، انصاف، خوشحالی اور بنیادی سہولتوں کی بنیاد پر عوام سے ووٹ لیتے ہیں۔ مگر انصاف، امن، خوشحالی، تعلیم اور صحت تو ریاست کی اولین ذمہ داری ہے جو ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کا کام تو ملک کے لیے قانون سازی کرنا ہوتا ہے۔ قانون سازی تو دور کی بات ہے ان کو قانون کا پتہ نہیں۔

یہ تو کمیشن، پوسٹنگ اور تبادلوں میں اپنے 5 سال پورے کرتے ہیں۔ اور ہر الیکشن میں یہی بنیادی سہولتوں کا ڈھول پیٹ کر عوام سے ووٹ لیتے ہیں۔ ریاست کے اندر ایک اور ریا ست، ہر ادارے کے اندر ایک اور ادارہ اور ہر صوبے کے اندر ایک اور صوبہ کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں۔ جس سے لاقانونیت، آمریت، نا انصافی، بدامنی، نفرت، غربت، عدم مساوات، مادہ پرستی میں اضافہ ہوا اور مراعات یافتہ افراد اور گروہوں نے وسائل پر اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ عام آدمی کو اپنے حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ ہر شخص انفرادی اور اجتماع طور پر ملک کو حقیقی معنوں میں جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اور اپنے بنیادی حقوق جو ہمیں آئین اور قانون دیتا ہے اسے جاننا ضروری ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments