ڈلیوری تو نارمل تھی مگر!


آپا ایک مہینہ ہسپتال رہ کر گھر آ گئیں لیکن یہ وہ آپا نہیں تھیں۔ وہ بدل چکی تھیں ایک نحیف و نزار عورت کے روپ میں اور پیٹ کے ساتھ لٹکی ہوئی ایک تھیلی ہمہ وقت ساتھ تھی جس میں پاخانہ جمع ہوتا رہتا تھا۔

یہ تو ہم بتا ہی چکے ہیں کہ اوزاری زچگی کی وجہ سے ویجائنا اور بڑی آنت میں زخم بنے جنہیں ڈاکٹر نے اناڑی پن سے سی کر گھر بھیج دیا۔ لیکن شاید پھٹنے والی جگہ بہت زیادہ تھی اور تکنیکی طور پہ ٹھیک سے سلائی بھی نہیں ہوئی تھی سو ٹھیک طریقے سے جڑ نہ سکی اور ٹانکے بار بار ٹوٹتے رہے۔ ٹانکے ٹوٹنے کی وجہ سے زخم پھر سے کھل جاتا اور خون نکلنا شروع ہو جاتا۔

بے تحاشا خون کی بوتلیں، ان گنت دوائیاں اور تین آپریشنز کے بعد ڈاکٹرز نے فیصلہ کیا کہ ان کی پاخانے والی نالی میں سوراخ بنا کر اسے پیٹ سے باہر لٹکا دیا جائے۔ اس آپریشن کو کلاسٹومی کہتے ہیں۔ اس میں پاخانہ مقعد سے خارج ہونے کی بجائے پیٹ سے نکلی ہوئی بڑی آنت سے نکل کر پلاسٹک کے ایک بیگ میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ جب بیگ بھر جائے تو اسے اتار کر دوسرا بیگ لگایا جاتا ہے۔

کلاسٹومی کا مقصد یہ تھا کہ ویجائنا اور گرد و نواح کے مضروب علاقے میں لگے ٹانکے جڑ سکیں اور انفیکشن ٹھیک ہو سکے۔

آپا کو اس حال میں دیکھنا ایک مشکل امر تھا۔ وہ بے حد کمزور ہو چکی تھیں اور نفسیاتی طور پہ بہت اپ سیٹ بھی کہ یہ سب کیوں ہوا؟

کیوں کا جواب اس وقت کسی کے پاس نہیں تھا۔

آپا جب تک ہسپتال رہیں، نرسیں ان کا بیگ تبدیل کرتی رہیں لیکن مسئلہ تب ہوا جب وہ گھر آ گئیں۔ سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ بیگ کون تبدیل کرے گا؟

بیگ میں جمع ہوتا پاخانہ مائع شکل میں تھا سو بیگ جلد ہی بھر جاتا اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی۔ اس کے لیے ایک نرس ہمہ وقت چاہیے تھی۔

چوبیس گھنٹے کے لیے نرس؟ کہاں سے لاتے؟

سو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ہمارا اعلان تھا کہ ہم کریں گے بیگ تبدیل۔ اس اعلان میں ہمارے ساتھ شریک ہوئے ہمارے منجھلے بھائی اور بہنوئی۔ یعنی تینوں میں سے جو بھی پاس ہو گا وہ ضرورت پڑنے پہ بیگ تبدیل کرے گا۔

یہاں ایک اور مشکل آن پڑی۔ دن کے وقت بھائی اور بہنوئی تو جاب پہ جاتے ہی تھے، ہم بھی گھر نہیں ہوتے تھے۔ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ ہم ان دنوں ایک سکول میں پڑھا رہے تھے۔ صبح سات بجے نکلتے اور دو ڈھائی بجے واپس آتے۔ بھائی اور بہنوئی کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔

اب کیا کریں؟

ترکیبوں کا حل ہمیشہ ہماری پوٹلی میں ہوتا تھا سو نکال لیا اس کا حل بھی۔ سب سے پہلے ہم نے یہ دیکھا کہ اگر صبح ساڑھے سات بجے بیگ تبدیل کیا جائے تو وہ بھرنے میں کتنی دیر لگاتا ہے؟ دو تین دن کے بعد اندازہ ہوا کہ لگ بھگ گیارہ بجے دوسرے بیگ کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ یہ حساب لگاتے ہی ہم اچھل پڑے۔ لیں جی ہو گیا مسئلہ حل۔ گیارہ بجے کے لگ بھگ سکول میں بریک ہوتی تھی۔ سو اس وقت بھاگم بھاگ ہم گھر آئیں گے، بیگ تبدیل کریں گے اور پھر واپس سکول۔

یہ سنتے ہی سب کی جان میں جان آئی۔

بیگ تبدیل کرنے کے لیے ایک ٹرے بنائی گئی۔ ایک سٹیل کا پیالہ جس میں صاف کرنے والا محلول، پٹیاں، پٹیوں کو پکڑنے والے اوزار، دستانے، گندی پٹیوں کو رکھنے والا لفافہ اور بیگ۔ اس کے علاوہ ایک پرانی چادر اور موم جامہ جو آپا کے بستر پہ بچھایا جاتا تاکہ بستر گندا نہ ہو۔

سکول جا کر ہم نے یہ پلان بتایا اور یہ بھی کہ اگر اس کی اجازت نہ ملی تو ہم نوکری چھوڑ دیں گے۔ سکول والے جھٹ مان گئے کہ آخر ایسی ٹیچر کہاں سے ملتی جو حال کی نرس اور مستقبل کی ڈاکٹر تھی۔

سکول سے گھر پہنچنے میں تقریباً پندرہ منٹ لگتے۔ امی ٹرے تیار رکھ کر بیٹھی ہوتیں، آپا کے بستر پہ موم جامہ اور چادر بچھائی جا چکی ہوتی۔ ہم آندھی طوفان کی طرح گھر میں داخل ہوتے، آپا کے کمرے میں جاتے، بیگ تبدیل کرتے اور پھر یہ جا وہ جا۔

اگلا بیگ دوپہر میں تبدیل ہوتا جب ہم گھر واپس آ جاتے۔ شام اور رات میں یہ ذمہ داری بھائی اور بہنوئی شیئر کرتے۔

ہماری نستعلیق آپا بیگ تبدیل کرواتے وقت ہر بار آبدیدہ ہوتیں۔ انہیں اس بات کا شدید رنج تھا کہ بول و براز جیسے نجی معاملات گھر والوں کے سامنے عیاں ہیں۔ جب بیگ تبدیل ہو رہا ہوتا، پاخانے سے اٹھنے والی بو تو ہوتی ہی۔ بعض اوقات بیگ اتارنے کے بعد دوسرا بیگ لگانے سے پہلے جب ہم بڑی آنت کو روئی سے صاف کر رہے ہوتے، اچانک پاخانے کا خروج ہو جاتا۔ آپا رونے لگتیں اور ہم آپا کو تسلی دینے کے لیے ہنسنے لگتے۔

آپا۔ کیا ہوا؟
یہ۔ یہ۔ اتنا گندا کام۔ وہ روتے ہوئے کہتیں۔
ارے ہم کون سا دستانوں کے بغیر کر رہے ہیں؟ ہم کہتے۔
اور بو بھی تو ہے۔ وہ سسکیاں لیتیں۔

اوہو۔ آپ کو علم ہے کہ میری ناک تیز نہیں ہے۔ وہ جو ہر وقت سائنوسائٹس رہتا ہے نا اس نے بو، خوشبو سب ختم کر دی ہے۔ ہم اطمینان دلواتے۔

پھر بھی۔ ہے تو پاخانہ ہی نا۔ وہ کہتیں۔

بس کریں نا آپا، ہم ڈاکٹر بنیں گے تو علم نہیں کس کس کا پاخانہ دیکھنا پڑے گا؟ آپ کی تو گھر والی بات ہے نا۔ پاخانے کا origin ایک ہے۔

وہ روتے روتے ہنس دیتیں۔ توبہ تم سے باتوں میں کوئی نہیں جیت سکتا۔

جسمانی، ذہنی اور جذباتی ٹراما تو تھا ہی، معاشی ٹراما بھی شامل تھا آپا کے آنسوؤں میں۔ پے درپے آپریشنز کی فیسیں اور اب یہ بیگ اور نہ جانے کیا کچھ۔ آپا اور بہنوئی کی تنخواہیں تو تھیں ہی، ابا اور بھائیوں کی مدد دامے درمے سخنے تھی۔

آپا کی بیٹی امی کے ہاتھوں میں پل رہی تھی۔ جب کبھی آپا بہتر محسوس کرتیں امی اسے لے کر آپا کے پاس کچھ دیر بیٹھتیں۔ آپا اسے گود نہیں لے سکتی تھیں، ڈر تھا کہ پیٹ پہ لگے بیگ اور آنت کو ضرب نہ پہنچ جائے۔

یاد رہے کہ اس وقت ہمیں بہت سی باتوں کی سمجھ نہیں آئی تھی۔ ڈاکٹر بننے اور گائنی کے معاملات سے گزرنے کے بعد ہمیں اندازہ ہوا کہ ہوا کیا تھا؟ آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک پڑھا لکھا گھرانا جو ڈاکٹری سے نابلد ہو، نہیں جان سکتا کہ مریض کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

ہم یہ کہانیاں اسی لیے لکھتے ہیں کہ گائنی کی بنیادی سمجھ بوجھ ہر عورت و مرد کو ہو اور وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔ ہمارا گائنی فیمنزم!

پھر کیا ہوا؟
باقی آئندہ!

Facebook Comments HS