سیاسی بحران کا ایپی سنٹر


اگر ملک کے موجودہ سیاسی بحران کو عالمی تناظر میں رکھ کر سمجھنے کی کوشش کریں تو ہم زیادہ حقیقت پسندانہ فیصلوں کے قریب پہنچ سکتے ہیں، جس طرح غزہ کی جنگ نے خطہ پہ سایہ فگن گہرے جمود کو توڑ کر مڈل ایسٹ کی سیاسی حرکیات کو بدل دیا، اسی طرح یوکرین کی جنگ نے بھی یورپ کے زوال کی رفتار تیز کر دی، اس وقت نیٹو کا فوجی اتحاد آخری سانسیں لے رہا ہے، یوکرین کے محاذ پہ امریکہ، افغانستان کی مانند ایک اور شکست سے بچنے کی خاطر اپنی ترجیحات کی از سر نو تشکیل میں سرگرداں ہے۔

بالکل ایسے جیسے افغانستان سے پسپائی نے پاک، امریکہ تعلقات کے حقیقت کو یکسر بدل دیا اور اسی تغیر کی بدولت پہلی بار مغربی اشرافیہ نے یہاں ”حکمرانوں پہ حکمرانی“ کے نیو نو آبادیاتی تصور سے باہر نکل کر مقامی سیاسی قوتوں کو فوج کے متبادل کے طور پر دیکھنا شروع کیا، قبل ازیں وہ فوج ہی کو یہاں کے پچیس کروڑ عوام کو ذہنی اور جسمانی طور پہ کنٹرول کرنے کے حتمی ٹول کے طور پہ استعمال کرتے رہے، جیسا کہ حال ہی میں سابق امریکی وزیر خارجہ مائک پیمپیو نے اعتراف کیا کہ ”امریکہ صرف فوج کو ہی پاکستان کی حقیقی قومی قیادت سمجھتا ہے“ ۔

لاریب، بسا اوقات تقدیر ظاہرہ طور پہ غیر مربوط واقعات کی مدد سے کرداروں کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کی مرضی کے بغیر انہیں ان دیکھی تباہی میں پھنسا دیتی ہے۔ جیسے تقدیر نے افغانستان سے امریکی افواج کی پسپائی کے نتیجہ میں ہماری مقتدرہ اور امریکہ کے مابین قائم اُس روایتی گٹھ جوڑ کو توڑ دیا، پون صدی سے جس نے ہمارے مقدر کو لپیٹ رکھا تھا، اسی تفریق کے اثرات ہمیں، چکی کے دو پاٹوں کی مانند عوام کے حق حاکمیت کو کچلنے والی، عدلیہ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تیزی سے بڑھتی خلیج میں دکھائی دیتے ہیں۔

اگرچہ ہماری ڈیپ سٹیٹ اب بھی امریکہ کے ساتھ تجدید تعلقات کی خاطر ہاتھ پاؤں مار رہی ہے مگر بظاہر یہی لگتا ہے کہ پاک فوج اور امریکہ کے مابین تعلقات کی بحالی ممکن نہیں ہو پائے گی، چنانچہ پاکستانی مقتدرہ ملک کے سیاسی نظام پہ گرفت مضبوط رکھنے کی خاطر عدلیہ کے ساتھ بگڑے تعلقات کو سنوارنے کی کوشش ضرور کرے گی، شاید اسی لئے وہ منحرف ججز کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریزاں ہیں، اگرچہ عدلیہ میں بیٹھے چند ججز فوج کے ساتھ مل کر ملک کی حاکمیت اعلی پہ تسلط قائم رکھنے پہ اندر سے آمادہ ہیں لیکن عدلیہ کے اجتماعی ڈھانچہ میں نت نئے تجربات ان کی آرزووں کے راہ میں حائل ہیں، یہ عین ممکن ہے کہ قاضی فائز عیسی کی ریٹائرمنٹ کے بعد اعلی عدلیہ کے ججز مقتدرہ کے ساتھ مل کر دوبارہ ملکی اقتدار اعلی پہ تصرف پانے کوشش کریں تاہم حالات شاید دوبارہ انہیں پرانی بندوبست استوار کرنے کی مہلت نہ دیں کیونکہ ہمارے ذیشان ججز اب آزاد اور غیرجانبدار عدلیہ کے متمنی نہیں رہے بلکہ وہ سیاسی نظام پہ ایک ایسے سیاسی کلٹ کی بالادستی میں مفاد تلاش کرتے ہیں، جو ان سے مکمل جانبداری کا متقاضی ہے، یہی ججز ان کے حق میں اگر فیصلے دیں تو وہ ستائش کرتے ہیں، فیصلہ برعکس آئے تو سوشل میڈیا کے ذریعے ٹرولنگ کر کے ججز اور ان کے خاندانوں کی زندگی اجیرن بنا دیتے ہیں۔

قصہ کوتاہ، امریکہ اور فوج کے درمیان روایتی گٹھ جوڑ کے علاوہ عدلیہ کا فوج کے ساتھ مل کر آئینی نظام کو غیر موثر رکھنا ہی دراصل ہمارے قومی بحران کا ایپی سنٹر تھا لیکن اب یہ تکون ٹوٹ چکی ہے۔ چنانچہ ملک کی بالغ النظر سیاسی قیادت کے لئے یہی وہ بہترین لمحہ ہے کہ وہ میدان عمل میں اتر کر عوام کے حق حاکمیت کی بحالی ممکن بنائے، مقصد کے حصول کی خاطر ان کے لئے ایسے موافق حالات شاید پھر کبھی نہ پیدا ہوں، بالخصوص نواز شریف جیسے سنجیدہ، باضمیر اور بزرگ لیڈر کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھ کر قوم کو حقائق بتائیں۔

بلاشبہ نواز شریف کی کل کی تقریر ایسے ہی احساسات سے لبریز تھی جو مستقبل کے حوادث کی نشاندہی اور فیصلہ کن جنگ کے ارادوں کے غماز نظر آتے تھے۔ نواز شریف سمجھ چکے ہیں کہ بحران سے نمٹنے کی خاطر حکومت اور سیاسی جماعتوں کو اہم مسائل بارے بروقت فیصلہ لینا پڑیں گے کیونکہ نہایت تیزی کے ساتھ صورت حال غیر واضح اور غیر مستحکم ہوتی جا رہی ہے، سوچنے، مشورہ کرنے اور فیصلوں کے نفاذ کا وقت انتہائی محدود ہے۔ رواں بحران میں رہنماؤں کو ایسے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑے گا جن سے انہیں عام طور پہ نمٹنے کا کوئی تجربہ نہیں، مثال کے طور پر ایمرجنسی کا نفاذ، فوج کی مہلک طاقت کے استعمال یا سوشل میڈیا کے پُرفتن عہد میں شہری آزادیوں کو محدود کرنا تاہم بحران سے متعلق فیصلہ سازی خطرات سے لبریز ہونے کے باوجود ناگزیر ہو چکی ہے۔

لاریب، کسی بھی لیڈر کو اس کی رہبرانہ قوت کا احساس ہی ذمہ داری اور اپنی شخصیت سے آگاہی کا ادرک بخشتا ہے اور یہی اس کی اصل قوت محرکہ ہے جو مایوسی کی تاریکیوں میں بھٹکتے عوام کی دستگیری کا وسیلہ بنتی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ہمہ جہت بحران کے نتیجہ میں کنفیوژن اور اضطراب کا اندرونی تجربہ اس حد تک شدت اختیار کر چکا ہے کہ مقابلہ کرنے کے آزمودہ طریقے بھی ہمیں ناکام بنا رہے ہیں، نفرت انگیز جذباتی نعرے اور بیکار طرز عمل (سوشل میڈیا پہ عمرانی مہمات) نہایت تیزی کے ساتھ قبولیت عام کا درجہ پا رہا ہے۔

جس کے نتیجہ میں ذہنی انتشار اور خلجان میں مبتلا پوری نوجوان نسل نفسیاتی الجھنوں، کمزور کردار، خوف، غصہ، تلخی، نا امیدی اور بے بسی کی تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارتی نظر آتی ہے۔ اگر ہم پلٹ کے دیکھیں تو گزشتہ 45 سالوں پہ محیط پراکسی جنگجووں کی بدولت معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی مفقود اور فرقہ ورانہ کشیدگی دو چند ہوتی گئی، جس نے سماجی نظم و ضبط کو تہ و بالا کر دیا بلکہ نفرتوں کا زہر تہذیب و ثقافت کی تہہ تک پہنچ گیا، ریاستی پالیسی کے تحت لشکروں اور مسلح جتھوں کی تشکیل کے باعث مغربی سرحدات پہ نسلی تعصبات اور مذہبی دہشتگردی کی خونخوار لہروں نے دو صوبوں کے بنیادی ڈھانچہ کو تباہ اور انتظامی اتھارٹی کو غیر موثر بنا دیا۔

داخلی طور پہ گہرے سیاسی اختلاف کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام سنگین تر ہوتا گیا۔ معاشرے کے بدنام کرداروں کی ریاستی مناسب تک رسائی اور اعلی ترین سطح پہ بدترین کرپشن کے باعث اقتصادی نظم و ضبط دگرگوں ہونے سے معاشی بحران نے عام آدمی کا جینا دوبھر بنا دیا۔ معاشی ابتری، سیاسی عدم استحکام اور سماجی و اخلاقی زوال کی بدولت قوم مضمحل ہوتی گئی۔ قحط الرجال کے اس عہد میں مجموعی ریاستی اتھارٹی کے کمزور ہو جانے سے ادارہ جاتی ڈھانچہ میں کھنچا تانی بڑھتی جا رہی ہے، فوج، عدلیہ، انتظامیہ اور پارلیمنٹ میں جاری کشمکش کے نتیجہ میں اداروں کے مابین کوارڈینشن کا وسیلہ بننے والی کتاب آئین بھی اپنا اثر کھو چکی، الجھنوں اور مصائب کا بہاؤ ایک ہی وقت میں ہونے والے بہت سے مسائل کی وجہ سے آتش فشاں بن کر قومی سلامتی کی نزاکتوں پر یک دم گہرا اثر ڈال رہا ہے گویا ہم ہمہ جہت بحران کے دہانے پہ آن کھڑے ہیں۔

محققین اگلے چند برسوں میں معاشی و سیاسی بحران کے مزید گہرا ہونے کی پیشگوئی کر رہے ہیں یعنی روزانہ ابھرنے والے واقعات کے تسلسل سے مصائب کا مومینٹم بڑھتا جائے گا۔ ستم بلائے ستم یہ کہ ہمارے ارباب اختیار ان پیچیدہ مسائل کو کسی بحران کے حصے کے طور پر دیکھنے کی بجائے صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے لئے انتہائی خود غرضی اور بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پیچیدگیوں کو اپنے لیے سنہری موقع کے طور پہ استعمال کرنے پہ کمربستہ ہیں۔

اس وقت ملک کی سیاسی قیادت کو بے معنی مفاہمت کا راگ الاپنے کی بجائے آگے بڑھ کر مرض کے لاعلاج ہونے سے پہلے چارہ گری کر لینی چاہیے، بحران کا جواب دینے میں جتنا زیادہ وقت لگائیں گے یہ اتنا بدتر ہوتا جائے گا، موجودہ ہمہ جہت بحران تباہی کے موڑ کی طرف اشارہ ہے۔ ہم بحران کی وجوہات، رفتار، پیچیدگیوں اور مرکز کا علم تو رکھتے ہیں لیکن ہماری اجتماعی قومی قیادت میں بحران سے نمٹنے کا ارادہ مضمحل اور جرات کا فقدان ہے۔

مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف قومی سطح کے وہ واحد لیڈر ہیں جن کا قد کاٹھ اور مقام و مرتبہ اس لائق ہے کہ پوری قوم اس کی قیادت میں متحد ہو سکتی ہے، اِس لحاظ سے بھی وہ خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے کے علاوہ انہیں وراثت میں بہت بڑی صنعتی امپائر ملی، آغاز شباب میں مقدر نے انہیں لیلیِٰ اقتدار سے ہم آغوش کر دیا، وہ دو بار پنجاب جیسے بڑے صوبہ کے وزیر اعلی اور تین دفعہ ملک کے وزیراعظم رہے، قدرت نے انہیں لمبی عمر، بے پناہ شہرت، دولت، عزت اور طویل اقتدار سے نوازا، اب انہیں صرف عزت کی موت چاہیے اور قوم کی خاطر جان کی بازی لگا کر وہ ایسی حتمی کامیابی بھی حاصل کر سکتے ہیں جو عظیم لوگوں کی آخری خواہش ہوتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ

بیا تا کار این امت بسازیم، قمار زندگی مردانہ بازیم
چناں نالیم اندر مسجد شہر، کہ دل در سینہِ مُلا گدازیم


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments