انڈیا اور پاکستان میں صوبوں کے نام تبدیل کر دیں
نقاد حضرات ادب کو دو حصّوں میں تقسیم کرتے ہیں، پاپولر ادب اور کلاسک ادب۔ پاپولر ادب تو مرضی کی تصوراتی دنیا میں لے جاتا ہے تاہم انڈیا اور پاکستان میں لکھے جانے والے اردو کلاسک ادب کا بڑا حصّہ ”وچھوڑے“ (بچھڑنے کے غم) کے گرد ہی گھومتا ہے۔ سعادت حسن منٹو نے اپنے افسانوں میں کچھ انسانوں کے اندر موجود بھیڑیے کو برِصغیر کی تقسیم کے دوران سامنے آنے کو بیان کیا تو انتظار حسین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا لکھا ہوا سارا لٹریچر ہی ناسٹلجیا کے گرد گھومتا ہے۔ خیر۔
”اکبر آ! جڈّاں لوٹی پئی تاں اساں چھوٹے چھوٹے حاسے۔ لُٹ مار کرن آلاں تاں مرداں کُوں چھریاں تے کلہاڑیاں دے نال وڈھ دِتا تے عورتاں کُوں اغوا کر تے گِھن گئے۔ ہر پاسے ایویں خون ہی خون ہا۔ یاد کر یندے سے تے بس رووَن آندا اے“ (اکبر! جب انڈیا اور پاکستان بنے تو ہم چھوٹے چھوٹے تھے۔ لوٹ مار کرنے والوں نے چھریوں اور کلہاڑیوں کے وار سے مَردوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے اور عورتوں کو اغوا کر کے لے گئے۔ ہر طرف خون ہی خون تھا۔ اس وقت کو آج بھی یاد کرتے ہیں تو رونا آتا ہے ) بڑی بوڑھیاں گزرتے وقت کی داستان سناتیں۔
تعصب، لسانیت، قومیت اور مذہب، زبان، نسل اور رنگت کی بنا پہ ایک دوسرے سے نفرت ہر دور میں جنگوں کو جنم دیتی رہی اور جنگیں لاکھوں کروڑوں معصوم انسانوں کی زندگیاں کھا گئیں۔ سال 2021 میں راقم نے ایک اردو افسانہ بعنوان ”کِھلے تھے جو گلاب مرجھانے کے لیے“ لکھا تھا جو فیس بک پہ وولر اردو ادبی فورم کشمیر کے افسانہ ایونٹ میں شامل ہوا تھا۔ اُس میں ایک جگہ افسانے کا ایک مرکزی کردار عصبیت اور جنونی نفرت کو اس طرح سے بیان کرتا ہے۔
”دادا کہتا تھا جب سرحد کے اُس پار سے ایک لُٹا پٹا خاندان گاؤں میں پہنچا اور انھوں نے بتایا کہ اُس دیس میں ان کے سامنے ان کی عورتوں کی آبروریزی کی گئی اور پھر درندے انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔ اُسی وقت گاؤں کے نوجوانوں نے گاؤں میں دو سو سال سے رہنے والے دوسرے مذہب کے گھرانے کی بہو اور اُس کی کم سن بیٹیوں کو اُٹھایا اور ان کو کماد کے کھیتوں میں لے گئے۔ گھنٹوں وہاں سے چیخ و پکار کی آوازیں آتی رہیں لیکن ”تقدس“ کی وجہ سے کوئی بھی ان کی مدد کو تیار نہ ہوا۔ بچیاں تو کھیت میں ہی مردہ پائی گئیں۔ ان کی ماں نے باہر آ کر کنویں میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی ”۔
احباب! راقم سمجھتا ہے کہ انسانوں کے درمیان نفرت کو فروغ دے کر معصوم انسانوں کی خونریزی کرانے والوں کا مائنڈ سیٹ دولت، قبضے اور توسیع کی نہ ختم ہونے والی خواہش اور جبر کو مسلط کرنے کی نفسیات کے گرد گھومتا ہے۔ اس طرح کا مائنڈ سیٹ رکھنے والے عناصر ہر مذہب، ہر زبان اور ہر نسل میں پائے جاتے ہیں جن کی تگ و دو کا مقصد ہی انسانوں کے امن و سکون کو تباہ و برباد کرنا ہوتا ہے۔
پنڈت ہو، پادری ہو، مُلا ہو، جو بھی ہو تم
انسانوں کا خون بہاؤ، تم انسان ہو کیا ہو
پردے میں لِبرلز، سوشلسٹ، سرمایہ داری کے
جنگوں کی آگ بھڑکاؤ، تم انسان ہو کیا ہو
نامِ رنگ، نامِ نسل، نامِ زباں تقسیم کیوں ہے
نسلوں کو تم بہکاؤ، تم انسان ہو کیا ہو
ہیں بکھری لاشیں کشمیر و یمن، شام و افغانستان
بے گناہوں پہ بم گراؤ، تم انسان ہو کیا ہو
سمجھے اکبر میاں جھوٹا تم کو ، جھوٹے ہو تم
نامِ سچ جھوٹ پھیلاؤ، تم انسان ہو کیا ہو
راقم کا خیال ہے کہ انڈیا، پاکستان، لاطینی امریکہ اور افریقہ میں زبان اور قومیت کی بنیاد پہ صوبوں اور ریاستوں کے نام رکھنے جانے کا عمل بھی نفرت اور تعصب کو فروغ دینے کی ایک وجہ بن جاتا ہے جو آگے چل کر ان صوبوں کی عوام کے درمیان آپس کی لڑائی اور نفرت کو جنم دیتا ہے۔ ان خطّوں کی حکومتوں کے لیے اکبر شیخ اکبر کی تجویز ہے کہ آپ اپنے اپنے ممالک میں صوبوں اور ریاستوں کے پرانے نام تبدیل کر دیں۔ نئے نام ایسے ہوں جن سے قومیت، زبان اور نسل کی بُو نہ آتی ہو۔ بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے صوبوں اور ریاستوں کے نئے نام گنتی کی بنیاد پہ رکھیں۔ مثلاً صوبہ ون، صوبہ ٹو یا ریاست تھری، ریاست فور۔ خیر۔
انڈیا اور پاکستان کے لیے تو راقم کی تجویز یہ بھی ہے کہ آپ پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام پہ منتقل ہو جائیں۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلٰی کے عہدے ختم کر دیں اور ان کی جگہ صدرِ مملکت اور گورنر کو ارکانِ اسمبلی کی بجائے براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب کیا جائے۔ اس طرح سے آپ نہ صرف اپنی معاشی کمزوریوں پہ قابو پا لیں گے بلکہ غربت کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
چونکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی بہت زیادہ ایڈوانس ہو چکی ہے لہذا آپ بھی اپنے سرکاری اداروں میں پرانے اور روایتی بیوروکریٹک سسٹم کا خاتمہ کر کے سارے سسٹم کو ڈیجیٹلائزڈ کر دیں۔ انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے کے مریضوں اور طلبا پہ ویزے کی پابندی یا تو ختم کر دیں یا نرم کر دیں۔
پاکستانی کپڑے کی انڈیا میں بہت مانگ ہے وہ دبئی کے راستہ انڈیا پہنچتا ہے۔ انڈیا کے گرم مصالحے اور اجناس دیگر ممالک کے راستے پاکستان آ رہے ہوتے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو تجارتی رعایتیں دے کر بھی اپنے عوام کی غربت اور بے روزگاری کو ختم کر سکتے ہیں۔ تجاویز تو بہت ہیں۔ پھر سہی۔


