سات جنم: ناول یا ہمارے زوال کی کہانی
وہ ایک مصنف سے ملاقات اور کتاب کے اجرا کی تقریب تھی۔
ایک مختلف تقریب جس میں ادیب خال خال تھے مگر اسلام آباد کلب کا ملٹی پرپز ہال موجودہ اور سابق بیوروکریٹس سے چھلک رہا تھا۔
کتاب پر بات کرنے والے ہم تین تھے اور چوتھے شکیل جاذب جو ناظم ہو گئے تھے۔ ان چاروں میں، میں اکیلا تھا جو اکثریتی شمار قطار میں نہ آتا تھا۔ شکیل جاذب، ظفر حسن رضا، ڈاکٹر وحید احمد نے ساری کہانی کھول کر رکھ دی اور بتایا کہ کیسے اس ملک اور اس کے اداروں کے زوال کی کہانی اس ناول میں گوندھ لی گئی تھی۔ مصنف کی باری آئی تو انہوں نے اپنی کتاب سے وہ منتخب حصے سنائے کہ اب تک کہی گئی باتوں کی تصدیق ہوتی چلی گئی؛ حتی کہ آخری اقتباس میں شاہراہ دستور پر ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ بھی سنوا دی۔ اب مجھے بتا دینا چاہیے کہ وہ مصنف جس کے لیے کلب کی لائبریری اور لٹریری کمیٹی نے یہ تقریب سجائی تھی ؛ شفقت نغمی تھے ؛ جی، سابق فیڈرل سیکرٹری اور سابق چیف آپریٹنگ افسر پاکستان کرکٹ بورڈ، جو ایک انگریزی ناول کے بعد اردو ناول کے بھی مصنف ہو کر اپنے ساتھیوں سے مختلف ہو گئے تھے۔
مجھے سب سے آخر میں کچھ کہنا تھا اور لگتا تھا کہ میرے کہنے کو کچھ بچا ہی نہ تھا مگر سامعین پر نظر پڑی تو کئی بیورو کریٹ ادیب یاد آ گئے اور یوں مجھے اپنی بات کہنے کا سرا مل گیا۔ قدرت اللہ شہاب کی بات ہوئی اور ایوبی عہد کی افسر شاہی کے بڑے نمائندے کی بڑی کتاب ”شہاب نامہ“ کی بھی۔ شہاب صاحب کے بارے میں مشفق خواجہ نے لکھا تھا کہ ان کی تین خامیاں تھیں: ممتاز مفتی، ابن انشا اور اشفاق احمد۔ میں نے کہہ دیا کہ ”شہاب نامہ“ کو میں نے زیادہ تر فکشن کی کتاب سمجھ کر پڑھا کہ اس میں جابجا محض رنگ آمیزی نہیں، ملاوٹ کا گماں بھی ہوتا ہے۔
مجھے یہ بھی کہنا پڑا تھا کہ جب آپ با اختیار ہوتے ہیں اور اپنا اختیار کسی کی خوشنودی کے لیے معطل رکھتے ہیں۔ اچھے مشورے دے سکتے ہیں مگر نہیں دیتے اور ملک کو درست راہ پر ڈالنے کے لیے درست فیصلے حاصل کر سکتے ہیں مگر مصلحتیں آڑے آجاتی ہیں تو عمدہ اور دلگداز نثر اور اعلیٰ فکشن بھی سچ کو پرے نہیں دھکیل سکتا۔ یوں بات بنتی نہیں، چاہے کتاب کے آخر میں دعائیں اور وظائف ہی کیوں نہ ڈال لیے جائیں۔ مختار مسعود کی نثر کا میں تب سے قتیل ہوں ؛ جب ”آواز دوست“ پڑھی تھی اور ان کی ذات اور معاملات کے کچھ ذاتی مشاہدات ایسے رہے ہیں کہ ان کی قامت میری نظر میں بہت بلند رہی ہے۔
مختار مسعود کی ہر کتاب کو میں پڑھتا گیا ؛ ”سفر نصیب“ ، ”لوح ایام“ اور آخر میں ”حرف شوق“ ؛ لہذا ان کا ذکر کیا تو میرا دل محبت سے مہک رہا تھا۔ کچھ اور تخلیق کار بیوروکریٹس کا ذکر بھی ہوا اور مسعود مفتی کی کتاب ”دو مینار“ کی طرف دھیان چلا گیا تو کہا کہ انہوں نے تو بیوروکریسی کی ایک حد تک وکالت کی تھی۔ مسعود مفتی کا کہنا تھا کہ شروع میں یہ قاعدے قانون کی پاس دار تھی بعد میں عسکریت، ملا اور جاگیردار سیاست دانوں نے انہیں اپنی راہ پر لگا لیا تھا۔ میں نے یہاں اضافہ کیا ؛ گویا ہم بھی اس انہدام کے ذمہ دار ہیں۔ لیجیے یہاں تقریب میں کہا سنا روکتا ہوں اور وہ سطریں عرض کیے دیتا ہوں جو اب شفقت نغمی کے ناول کا حصہ ہیں :
”میں بلا خوف ِتردید کہہ سکتا ہوں کہ شفقت نغمی کا “ سات جنم ”ایک بالکل مختلف ناول ہے۔ مختلف اور انوکھا۔ اس میں محض اور صرف ماجرا نویسی کا ہنر نہیں آزمایا گیا، بیانیے کو ایک خاص سطح پر برتا گیا ہے۔ جی، اُس سطح پر جہاں ایک جادو سا ہوجاتا ہے ؛ حقیقت خواب میں اور خواب حقیقت میں بدل جاتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ رکتا نہیں، بار بار ہوتا ہے۔ کہنے کو یہ علاقہ چھچھ کے ایک گاؤں بہبودی کے ایک شخص محمد خان کی اس کے پرکھوں سے چلی آتی ایک کہانی ہے مگر جوں جوں کہانی آگے بڑھتی ہے نہ تو بہبودی ایک گاؤں رہتا ہے نہ محمد خان محض ایک شخص؛ تاریخ، تہذیب، مذہب، سیاست، ہجرت، انسانی رویے سب کچھ کہانی کے اندر تحلیل ہو کر بھیدوں بھری زندگی کو نئے رخوں سے کھولنے لگتے ہیں۔
ناول کے متن کی پیشکش کا قرینہ بھی دلکش ہے۔ ایک باب سے دوسرے باب میں داخلے پر قاری کا استقبال کچھ اقتباسات سے ہوتا ہے؛ آسمانی صحائف سے، ادب و تاریخ کی کتب سے، کسی شاعر کی بیاض سے یا پھر کسی پلیٹ فارم پر چسپاں پوسٹر سے؛ اس حیلے سے وہ کہانی کا دائرہ وسیع کر لیتے ہیں۔ کہانی میں جولیا، سکندر اور جیسمین جیسے کردار آ کر تہذیبی تصادم اور مذہبی شدت پسندی جیسے موضوعات کو لے آتے ہیں اور مرکزی کردار کے حکومتی باگ ڈور سنبھالنے سے یہاں کا سیاسی تماشا بھی اپنے عروج کو پہنچ جاتا ہے۔
شفقت نغمی کے ہمہ جہت مطالعے، زندگی بھر کے تجربے اور باریک بیں مشاہدے نے بیانیے کے اندر رچ بس کر اسے بہت امیر اور دیالو بنا دیا ہے۔ بیانیے کی یہ تیکنیک، کہانی کے اندر واقعاتی ترتیب میں انسانی زندگی کے مضحک پہلوؤں کو ساتھ لے کر چلتی ہے اور زبان کا لطف ایسا ہے کہ وہ پڑھنے والے کو اپنے کلاوے میں بھر کر رکھتا ہے اور کہیں رکنے نہیں دیتا۔ اگرچہ یہ شفقت نغمی کا اردو میں پہلا ناول ہے مگر انہوں نے جست لگا کر کہیں آگے قدم رکھا ہے۔ مجھے یقین ہے یہ“ سات جنم ”عام قاری اور فکشن کے خاص قاری، دونوں میں مقبول ہو گا۔“
تقریب کے آخر میں سوال جواب کا سیشن تھا۔ پوچھا گیا کہ ناول میں ان خرابیوں اور بد اعمالیوں کی نشاندہی کر دی گئی ہے جو اس ملک میں ہر سطح کے زوال کا سبب ہو گئی ہیں مگر اس سے نکلنے کی راہ کیا ہوگی؟ شفقت نغمی نے کہا مجھے جو سوجھا لکھ دیا۔ میں نے اضافہ کیا ؛ ہم اس صورت حال سے تب تک نہیں نکل سکتے جب تک سب ادارے اپنی اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام نہ کریں گے۔ سوال ہوا، یہ ادارے اپنی حدود میں کیسے لوٹ پائیں گے؟ یہ ایسا سوال تھا جو ہمارے کچھ کہنے سے پہلے حاضرین کی سرگوشیوں میں دب گیا تھا اور ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہ گئے تھے۔


