چند روز کینکون (میکسیکو) میں ساحل سمندر پر


سہ پہر ڈھلتے ٹورنٹو ائر پورٹ سے کینکون، میکسیکو، جانے والا ہوائی جہاز اپنی پوری بلندی پہ پرواز کر رہا تھا۔ جنوب کی جانب بڑھتے جہاز میں دائیں طرف کی کھڑکی والی نشست پہ بیٹھے اچانک سورج کی چمکتی کرنیں چہرے پہ محسوس ہوئیں تو موندی آنکھیں کھول نیچے جھانکنا شروع کیا۔ نیچے شاید یو ایس اے کی وسطی شمالی ریاستیں ہوں۔ دور دور تک پھیلے جنگلوں کے درمیان کچھ کھلی جگہ کوئی حویلی سی لگتی۔ لکیر نظر آتی راہیں دھوپ میں عجب منظر دکھا رہی تھیں مگر کہیں ندی نالے دریا یا جھیل ہوتی تو پینتیس چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر بھی سورج کی شعائیں منعکس ہوتیں جھلمل کرتی چاندی سی دکھلا جاتیں۔ میں محو ہو چکا تھا۔

ہوائی سفر کی توفیق ملے کوئی باسٹھ برس گزر چکے۔ پاکستان اور بیرون پاکستان مغرب کی طرف سینکڑوں سفر کیے ۔ نیچے ہر سو میدانوں اور پہاڑوں پہ پڑی برف کے نظارے۔ افغانستان کے رنگ بدلتے منفرد نظاروں والے کھائیاں اور چوٹیاں دکھاتے پہاڑ۔ بنجر، آباد، ریگستانی علاقوں سے ترکی کے قریب سے یک دم جنت نظیر سر سبز علاقے جھیلیں، سمندر، روسی علاقے سے گزرتے لندن جاتے پی آئی کے جہاز۔ آئرلینڈ کا بالکل مختلف منفرد رنگ کا سبزہ، امریکہ اور کینیڈا کے زمین پہ پھیلے رنگ اور چمکتی جھیلیں، گھنٹوں لگاتار سمندر کے اوپر سے گزرنا یا نیچے سوائے گھنے، بکھرتے، رنگ بدلتے بادلوں کی رونق۔ سب ہی دل پہ نقش ہوئیں مگر شاید یہ پہلا اتفاق تھا کہ ڈھلتا چمکتا سورج بالکل کھڑکی کے متوازی نظر آ رہا ہو اور نیچے مطلع بھی صاف ہو اور سورج کی کرنیں کبھی آنکھوں میں ٹھنڈک پیدا کرنے والے نظارے دکھلائیں اور دوسرے لمحے پانی سے منعکس ہوتی نارنجی عنابی رنگوں سے نگاہوں کو اپنی مستی دکھائیں۔

اب دور مغرب میں ایک موٹی سی بادلوں کی لکیر نظر آ رہی تھی۔ اب تو نیچے ہر طرف بادلوں کا راج ہو گا۔ مگر چند منٹ بعد نظارہ بدل چکا تھا۔ بادلوں کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں فضا میں روشنی منعکس کرتے چمکتے، ہلکے سنہری، سنہرے ہلکے نارنجی اور کالے بادلوں کے ٹکڑوں سے رنگوں کی پھوار پھینکنا شروع تھیں۔ مانو جیسے ساحل سمندر پہ ڈوبتے سورج میں رنگ برنگی سیپیوں مونگوں اور موتیوں کی چادر بچھی ہو۔ سورج مزید ڈھل چکا تھا اور ہلکے، گہرے، سرمئی، کالے، اونچے نیچے ہوتے بادلوں کے ٹکڑے ڈوبتے سورج کی کرنوں کی موسیقی لئے رنگوں کی پھوار میں مست رقصاں تھے۔ نیچے جھیل یا سمندر لہرئے سے چاندی سونے جیسی کرنیں اگلنا شروع تھے۔ یہ نظارے جو قدرت نے میرے لئے مسخر کیے ۔ میرے لئے عجب نعمت تھی۔ اور میں مکمل مسحور تھا کہ کبھی فلموں بھی یہ کچھ نہ دیکھا تھا۔

جہاز نے بلندی کم کرنا شروع کر دی تھی اور اب جہاز انہی بادلوں میں سے گزر نیچے آتے رنگین غبار میں اڑتا غبارہ نظر آتے بادلوں سے نیچے آ چکا تھا سورج غروب ہو چکا تھا اور شام کے دھندلکے میں دائرے بناتا میکسیکو کے سمندر کا ساحل چمک رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں ہم جہاز سے اتر لاؤنج میں پہنچ کینکون شہر کے اس خوبصورت ائر پورٹ کے نظارے لے رہے تھے۔

بڑے ہال میں چیکنگ اور کسٹم کلیرنگ کے بعد سامان لینے والے لاؤنج میں آ گئے۔ آنے والے مہمانوں کا رش، باہر جہازوں سے اتر اس لاؤنج تک آتے مسافروں کی نہ ختم ہوتی قطاروں نے جہازوں کی آمد و رفت اور ٹرمینلز بتاتے کمپیوٹر سکرین کی طرف متوجہ کیا تو انگلیاں موبائل فون پہ گوگل میں گھس گئیں۔ میکسیکو کے اس جنوبی ساحل کے شہر کی کل آبادی دس لاکھ ہے۔ مگر سیاحت سے کمائی کرنے والے اس شہر کے ائر پورٹ پہ روزانہ تقریباً پانچ سو پروازیں اترتی اور روانہ ہوتی ہیں۔

انگلیوں نے پاکستان کا رخ کیا تو دل ڈوب گیا۔ بائیس کروڑ آبادی کے اس ملک کے تمام ائر پورٹ ملا کے کل شاید سات سو پچاس پروازیں اترتی اور روانہ ہوتی ہیں یا فضا میں پرواز کرتی ہیں۔ اور جب یہ نظر پڑا کہ دو اڑھائی کروڑ ( پورے صوبہ اونٹاریو کی آبادی اس سے شاید کچھ کم ہے اور رقبہ پاکستان سے کچھ زیادہ ہی ہو شاید ) آبادی کے شہر کراچی کے جناح انٹر نیشنل ائر پورٹ پہ اندرونی بیرونی کل ایک سو پچاس کے قریب ملک کے اندر بیرون ملک، ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی پروازیں روزانہ ہیں تو دل ڈوب سا گیا۔

کہ یاد ہے کہ کتے کا خطاب پانے والے غاصب ایوب خاں کے دور میں جب کہ پورے ملک ( مغربی پاکستان ) کی آبادی چار کروڑ سے کم تھی یہی کراچی ائر پورٹ آج سے کئی گنا بین الاقوامی ائر لائنز کا پسندیدہ اور انٹرنیشنل پروازوں کے لئے وہی حیثیت رکھتا تھا جو آج دوبئی چھین چکا اور اس وقت ملکی سے بہت زیادہ بیرونی ائر لائنز کے جہاز اترتے اور تعداد پروازوں کی بھی یقیناً بہت زیادہ تھی۔

یاد رہے ٹورونٹو ائر پورٹ کوئی پچاس لاکھ کی آبادی ہی کو فیڈ کرتا ہے اور روزانہ دو ہزار سے زائد پروازیں تقریباً ایک سو اسی منازل تک جاتی آتی ہیں۔

کوئی ایک گھنٹہ بعد ریزارٹ کی بھجوائی چھوٹی سی آرام دہ بس میں سوار ائر پورٹ سے باہر نکل رہے تھے۔ چاروں طرف دلکش و دلفریب عمارتوں کے وسط یا سڑک کنارے انتہائی خوبصورت سبزۂ و باغات تھے جن میں پام اور ناریل کے علاوہ استوائی علاقوں کے ہر قسم کے درخت و سبزہ عمارتوں سے نکلتی رنگ برنگی روشنیوں میں روپ دکھاتے پچیس سنٹی گریڈ میں کچھ خنک ہو چکی مرطوب سی تیز چلتی ہوا کراچی کے ساحلوں کی یاد دلا گئی اور صرف ”کاش“ ہی کا لفظ زبان پہ آ سکا۔

بس روشنیوں میں ڈوبے کینکون شہر کی نئی شاہراہوں نئی آبادیوں اور قدیم آبادی والے علاقوں کی تنگ مڑتی گھومتی سڑکوں سے گزرتے اب دونوں طرف انتہائی چھوٹے قد کے درختوں جھاڑ یوں سے بھر پور انتہائی گھنے جنگلوں کے درمیان سے گزرتی تنگ سی، کہیں اچھی کہیں بری، گھومتی مڑتی سڑک سے گزر ریزارٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ( ریزارٹ یعنی تفریحی قیام گاہیں سیاحوں کے لئے خصوصی طور پر محفوظ بہت بڑے رقبوں پہ ہزاروں مسافروں کے اعلیٰ معیار کے ہوٹل ہیں جن کے پیکیج میں عموماً ہوائی آمدورفت، رہائش خورد و نوش سمیت ہر سہولت مہیا ہوتی ہے ) ، ۔

ڈرائیور ٹوٹی، پھوٹی انگریزی میں ہمیں شہر کی معروف عمارات شاپنگ سنٹرز اور نئے پرانے علاقوں کے متعلق بتاتا رہا تھا اور اب میکسیکو کی مشہور و معروف امن و امان، اغوا برائے تاوان اور ڈرگ مافیا کے ہمارے خوف کو دور کرنے کے لئے سیاحت کے علاقے میں خصوصی حفاظتی انتظامات اور جگہ جگہ پولیس چوکیوں کے متعلق بتاتا کوئی ایک گھنٹہ سفر کے بعد ہمیں ہمارے مطلوبہ ریزارٹ کے استقبالیہ ہال کے سامنے اتار رہا تھا اور تفریح گاہ کا چوک و چوبند عملہ ہمارا استقبال کرتے سامان ٹرالی پہ رکھ اپنی رہنمائی میں استقبالیہ ہال کے اندر لے جا رہا تھا۔

دروازے کے قریب پہنچتے ہی سب سے آگے والے نے زور سے تالی بجانا شروع کی۔ ساتھ ہی ہال کے اندر سے تالیوں کی گونج سنائی دی۔ ہال کے اندر موجود تمام مسافر، مہمان اور عملہ کھڑے ہو نئے مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے اور چاروں طرف سے اور چھت سے رنگ برنگی روشنیوں کی پھوار بلکہ برسات ہو رہی تھی۔ اور موسیقی کی دلفریب استقبالیہ دھنیں سحر پھیلا رہی تھیں۔

استقبالیہ پہ کاغذی کارروائی مکمل ہوتے ویٹر ہمیں ہمارے کمروں تک پہنچانے آ گیا۔ استقبالیہ میں ہر فرد کی کلائی پر راکھی بندھن جیسے ایک منکا سا لگے بند کو باندھ دیا گیا۔ یہی ہماری شناخت، یہی ہر سہولت، تفریح گاہ کا پاس اور یہی کمرے کی چابی تھا جو سینسر کے آگے گھمانا پڑھتا۔ اور ہر وقت پہننا لازم۔ ہمارا اب بھوک اور تھکاوٹ سے برا حال تھا دس بجنے والے تھے اور ویٹر بتا رہا تھا کہ کھانے کے ہال میں داخلہ ساڑھے دس تک ہی ہے۔

سامان رکھتے ہی واپس بھاگے اور برآمدے اور وسیع ڈائننگ ہال سے گزرتے کھانے والے وسیع ہال میں جہاں چاروں طرف بوفے کھانے کا انتظام تھا، پلیٹیں تھامے اپنے ذائقہ اور حدود کے اندر کے کھانے ڈھونڈ رہے تھے۔ انواع و اقسام کے کھانے ان پر لگے لیبل سے پہچانے جاتے۔ ایک طرف بیکری اور سویٹ ڈشیں، کہیں پھل وغیرہ۔ جلدی میں اپنے معیار کے مطابق جو ملا پیٹ بھر کھایا اور کمروں میں آ گھسے۔ اور اب ہم کمرے کا جائزہ لینے کی ہمت کر رہے تھے۔

فائیو سٹار ہوٹل کا معیار رکھنے والے اس ریزارٹ کے ایک بلاک میں تیسری منزل پر ہمارا کمرہ ایک مکمل اپارٹمنٹ جیسی سہولیات سے مزین تھا۔ بالکونی سے باہر جھانکا تو سامنے روشنیوں کے درمیان انتہائی مہارت سے بنے اور خوبصورتی سے ڈیزائن کردہ اعلیٰ دیکھ بھال ظاہر کرتے باغات کا سلسلہ تھا جن کے درمیان بچوں اور بڑوں کی تفریح کے لئے مختلف تعمیرات اور راہداریاں موجود تھیں تینوں اطراف رہائشی بلاک تھے، جو، جیسے کہ بعد میں پتہ چلا، آپس میں راہداریوں سے مربوط بھی تھے۔

بائیں نظر اٹھائی تو کوئی تین چار سو میٹر پہ سمندر کی لہریں روشنیوں میں چمکتی نظارے دکھا رہی تھیں۔ دیر تک وہاں بیٹھے خنک ہوا کے جھونکوں اور سامنے اس میں لہراتے خوبصورت پودوں اور قسم و اقسام کے درختوں کی ٹہنیوں کو جھومتے دیکھتے رہے۔ صبح نماز پڑھتے ہی میں پھر بالکنی میں آ بیٹھا۔ جلد ہی مختلف بلاکوں سے نکلتے مرد و زن، بچے بوڑھے زیادہ تر نیکر اور شارٹس میں ملبوس ساحل سمندر کی طرف جاتے اور کچھ سمندر یا جگہ جگہ بنے نہانے کے تالابوں میں گھسے نظر آنے شروع ہوئے۔

بیگم کو کھینچ کھانچ ہم بھی سمندر کا نظارہ کرنے نکل کھڑے ہوئے۔ اتنے سے فاصلے میں دو تین سوئمنگ پول بچوں بڑوں کے نظر آئے دور والی بال اور ٹینس کورٹس نظر آرہے تھے ان تالابوں اور سمندر کنارے ریت پر قطار میں بیسیوں لیٹنے بیٹھنے اور دھوپ کا مزا لینے والی فولڈنگ گدے پڑی چارپائیاں سمجھ لیں پڑی تھیں۔ سیاح سامنے سٹور سے نہانے کے بڑے تولیے لا ابھی سے ان پہ بچھا اور ساتھ اپنا کوئی بیگ، چپل، یا تھیلا رکھ دن بھر سمندر اور دھوپ انجوائے کرنے کے لئے قبضہ کر کے واپس جا رہے تھے۔

ساحلی ریت پہ چلنا مشکل تھا۔ چپلیں ایک جگہ ٹکائیں، اور گیلی ریت پہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کھینچنا شروع کیا، کہ وہ پیدائشی پانی کا کیڑا ہیں اور آج تک سمندر جھیل نہر دریا کے پانیوں کو اپنے قدموں سے سرفراز نہیں کیا۔ سامنے بادلوں میں سے زمین سے اوپر اٹھتی کرنیں جھانکنے لگیں تو سمندر کی لہریں سنہری چمکتے روپ دھارے ناچتے نظر آئیں۔ ریت شروع ہونے کی لائن پر پام، پپیتے، ناریل اور کچھ سایہ دار درختوں کی قطاریں اپنی ٹہنیاں تیز چلتی سمندری ہوا میں جھالر بناتے جھو متی اور اوپر کبھی کبھار مرغابیوں، اور دوسرے چھوٹے بڑے پرندے اپنے گیت گاتے گزرتے عجیب فسوں پیدا کر رہے تھے۔

سات برس قبل دسمبر میں ڈومینیکن ری پبلک کے علاقے پنٹا کانا میں ساحل سمندر کے ایسے ہی نظاروں سے محظوظ ہو چکا تھا مگر وہاں کی صبحیں اور شامیں سمندر کی جانب رخ سے طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے نظارے دکھانے سے محروم تھیں۔ میں گھٹنوں سے رانوں تک پانی میں چلا جاتا اور نظاروں کو موبائل میں قید کرتا اور بیگم ریت پہ چلتی بڑھتی آتی۔ صبح کے وقت لہریں تیز اور زور دار تھیں اور ریت پہ لگے بورڈ اس وقت نہانے کو منع کر رہے تھے اس لئے بہت کم لوگ نہا رہے تھے البتہ سیر کرتے بے شمار تھے۔

سمندر پر نظر دوڑائی تو ہم گویا ایک دائرہ نما خلیج کے وسط میں تھے۔ دائیں طرف جیسا کہ بعد میں پتہ چلا ایک خاکنائے قسم کی ڈیڑھ دو کلو میٹر چوڑی کئی کئی کلو میٹر سمندر کے اندر جاتی خشکی کی پٹی تھی۔ گوگل چھاننے سے انکشاف ہوا کہ یہاں پچیس تیس سے سوا ڈیڑھ سو ایکٹر تک کے رقبے پر محیط تینتیس کے لگ بھک ریزارٹ اور ان گنت ہوٹل ہیں۔ ہم ریزارٹ کی حدود تک سیر کرتے دوسرے راستے سے قیام گاہ ڈھونڈتے واپس آچکے تھے اور چوتھی منزل پہ مقیم بچوں کے پیغام پر ناشتہ کے لئے جانے پہ تیار ہو رہے تھے۔

ناشتہ کے لئے جاتے دائیں نظر پھراتے کہیں دوپہر سے شام تک کھلنے والا برگر ہٹ نظر آ رہا تھا، ادھر سہ پہر کھلنے والا اٹالین کھانے والا ریسٹورنٹ تھا آگے میکسیکن کھانے والا ریسٹورنٹ تھا۔ کھانے کے ہال کے قریب ہندوستانی کھانے کا دعویٰ کرتا ریسٹورنٹ تھا۔ ان سب میں اگر چہ کھانا تو ہمارے پیکج میں تھا مگر پیشگی ریزرویشن لازم تھی۔ مشروبات اور سنیکس کے سٹال جا بجا تھے مگر سب سے اور سب زیادہ دلفریب مختلف سٹائلز میں بنے بار روم تھے، ظاہر ہے شجر ممنوعہ تھے۔

کھانے کے ہال کے کچن کا سماں اب بدل چکا تھا جگہ جگہ باورچی یا شیف اپنے چولہوں کے سامنے انتہائی تیزی سے مہمانوں کی فرمائش کے مطابق ناشتہ تیار کر رہے تھے۔ دو تین جگہ انڈا فرائی یا آملیٹ آپ کی خواہش اور ذائقہ اجزاء کے مطابق بن رہا تھا، کہیں پیزا سٹال، کہیں وافل اور پین کیک، کہیں جوس وغیرہ اور ناشتہ کا ہر قسم کا سامان بیکری کیک ڈرائی فروٹ سینکڑوں اقسام میں موجود تھے۔ مگر سب سے حیران کن عملہ کی مستعدی اور پھرتی تھی۔

جتنی دیر میں ہم انڈا توڑ فرائی پین میں ڈالتے ہیں وہ چار مہمان فارغ کر دیتے۔ ناشتہ کے بعد پورا خاندان پورے ریزارٹ کو گھوم کر دیکھنے نکلا بچوں نے اپنی پسند کے تفریحی اڈوں کو دیکھا۔ راہیں ذہن نشین کیں، مختلف کھیلوں کارٹونوں کنسرٹ ڈراموں میوزک پروگراموں کا انتخاب کیا دوپہر کا کھانا اسی طرح انواع و اقسام پر مشتمل نوش کیا اور آرام کے لئے کمروں میں آ گھسے۔ میرے دل ناداں کا جھمیلا یہ ہے کہ تیرہ سنٹی گریڈ سے کم ہو یا پچیس چھبیس سے اوپر، میرا باہر کھلی فضا میں پھرنا نا قابل برداشت ہوتا ہے۔

لہٰذا اگلے چند روز تو دن تو یوں گزرتا کہ باقی سب تو اپنا وقت کہیں تالاب میں تیراکی یا ہوا بھری ٹیوب یا ربر کی کشتی کا لطف لیتے، یا بچوں بڑوں کی درختوں سبزہ اور خوش کن نظاروں سے بھر پور کھیلوں ورزش گاہوں اور پانی کے اندر یا باہر بنی تفریحی دلچسپیوں کی جگہوں پر مزا لیتے، جگہ جگہ بنے سٹالز سے اپنے پسند کے مشروب، سنیکس وغیرہ کا چسکا آزماتے۔ لیکن میں درجۂ حرارت بڑھتے کمرے میں آ جاتا۔ شام کو اور سماں ہوتا۔

کہیں چھوٹی اور بڑی عمر کے لئے بچوں کے لائیو یا سکرین پر کارٹون کہانیاں اور خوش کرنے کے پروگرام ہوتے جن میں ان کو شامل بھی کیا جاتا، کہیں جوانوں کے لئے کنسرٹ، ڈانس اور دوسری تفریح کے، کہیں میکسیکو کے ثقافتی ورثہ اور قدیم رسم و رواج کے مظاہرے ہو رہے ہوتے اور کہیں ریزارٹ میں آئے مہمان گروپ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے نظر آتے۔ بوڑھوں کے لئے بھی پروگرام تھے یہ سب اوپن ائر تھے اور پانچ چھ لان ان دلچسپیوں کے لحاظ سے بنے سٹیجوں کے لئے مخصوص تھے۔ ہر شام ہر ایک کی سجاوٹ اور ترتیب پروگرام کی نوعیت کے مطابق مختلف ہوتی۔ کرسی میز کی سجاوٹ اور نزدیک تازہ بنتے بار بی کیو قسم کے متنوع سامان خورد و نوش کا مزا ان پروگراموں کے لطف میں مزید رس بھرتا۔

میری شام سمندر کنارے یا خوبصورت سبزہ زاروں کی سیر کرتے گزرتی اور رات کے کھانے کے بعد بچوں کے ساتھ ان کی تفریحات میں شامل ہوتا۔ صبح نماز کے بعد ساحل سمندر پر پاؤں دھنستی ریت، یا پانی کی لہروں کی پہنچ میں آئی گیلی ریت یا سمندر کی ہلکی اونچی لہروں میں کمر تک کھڑے ہوکے ان کے دھکوں کا مزا لیتے ہلکے اڑتے بادلوں کی پیچھے سے طلوع ہوتے آفتاب کی کرنیں چوم کے رنگ بدلتے ان بادلوں اور سمندر کی لہروں کا مزا لیتے گزرتی۔

جب کہ بیگم کو ٹخنے ٹخنے تک دھنستے پاؤں چلاتے میرے پیچھے آتے یا گیلی ریت پہ کائی سے بچ کے چلنے تک ساحل پہ لگے ناریل، پام، پپیتے اور دوسرے درختوں کے تیز ہوا سے لہراتے اپنے سُر نکالتے پتوں اور ان پہ بیٹھے یا اڑتے اور چہچہاتے پرندوں کا لطف ملتا۔ بچے ایک آدھ دن کے علاوہ عموماً بعد میں ساحل سمندر کا مزا لیتے۔ تیز اچھلتی لہروں کی یہ صبحیں دور تک جا تیرنے والوں کو تو پابندی کے باعث محروم رکھتیں تاہم بچے جوان بوڑھے لڑکے لڑکیاں نہانے کے لباس ( جوان لڑکیوں اور خواتین میں نہانے کے لباس میں فیشن اور سائز کا جیسے فیشن شو اور مقابلہ ہو رہا ہوتا ) میں ہر طرف ان چھلکتی لہراتی رقص کرتی لہروں میں نہاتے نظر آتے بس خود میں مگن نظر آتے۔ کبھی کسی قسم کی بھی ہمارے معیار سے بھی ناگوار حرکت، چھیڑ چھاڑ، یا انداز نہ تھا۔

اس روز آسمان بالکل صاف تھا اور لہریں زیادہ بپھری ہوئیں۔ سورج نکلنے سے ان لہروں پہ ہوتے رنگوں کے رقص کا عالم نرالا تھا اور میں بار بار گھٹنوں سے اوپر پانی میں رکتا چلتا ان مناظر کا لطف لیتے کبھی فوٹو اور کبھی ویڈیو بنا رہا تھا۔ ایسے میں اچانک وہ لمحہ آ گیا کہ لگا جیسے میرے آگے قیامت اور پیچھے موت ہے۔ اڑتی چہچہاتی ترتیب سے جاتی درختوں کے اوپر سے گزرتی مرغابیوں کی ویڈیو بناتے ساتھ رنگی بدلتی اچھلتی لہر کی ویڈیو بنا کے ہٹا ہی تھا کہ دائیں جانب کی لہر سے ایک اٹھارہ انیس برس کی ہر لحاظ سے انتہائی خوبصورت انتہائی مختصر بکینی پہنے لڑکی نمودار ہوئی۔

دور سے مجھے مخاطب کرتے میرے موبائل فون کی طرف اشارہ کرتے وقت پوچھا۔ میں فون کو کھول کے ابھی وقت دیکھ بھی نہ پایا تھا کہ وہ میرے کندھے سے لگی آگے کھڑی جھک کے خود وقت دیکھ رہی تھی۔ ”اوہ سات بج چکے، مجھے تو دیر ہو گئی“ بڑبڑاتی وہ جا چکی تھی۔ مگر مجھے لگا کہ اب تو موت آ گئی کہ بیگم چند قدم ہی پیچھے آ رہی تھیں۔ ایک لحظہ میں یاد آیا آج تو چپل بھی اس نے ہاتھ ہی میں پکڑی ہوئی ہے۔ خوف سے تھرتھراتے پیچھے دیکھا تو بیگم کی توجہ ابھی مرغابیوں کے اڑتے غول کی طرف تھی، البتہ بیٹا نزدیک کھڑا میری بد حواسی پہ مسکرا رہا تھا۔

اگلی سہ پہر پورٹر ہمارا سامان اب ریزارٹ سے واپس ائر پورٹ پہنچانے والی بس میں رکھ چکے تھے اور دنیا کے بکھیڑوں سے تقریباً الگ چند دن بھرپور ذہنی تازگی کا احساس لئے گزار ہم ریزارٹ سے باہر کے نظارے اب دن کی روشنی میں لینے میں محو تھے۔ ریزارٹ کے باہر گھومنے جانے کے خواہشمندوں کو ان کی اپنی ذمہ داری پر، باقاعدہ تحریری اقرار لے کر جانے کی اجازت دی جاتی ہے کہ باہر ہر قسم کے مافیا کے ہتھے چڑھنے، اور امن و امان کی ان خوبیوں سے واسطہ پڑنے کا ڈر ہے جو کوئی ایک دہائی قبل تک کے پاکستان سے ہمیشہ یہاں زیادہ تھیں مگر اب ہمارے ملک نے اسے بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

لہٰذا ہماری ہمت نہ پڑی تھی۔ ریزارٹ سے باہر نکلتے سڑک کے دونوں طرف کاریں اور دیگر سواریاں پارک تھیں۔ تب یاد آیا کہ ہم نے ریزارٹ کے اندر تو کوئی کار یا کار پارکنگ دیکھا ہی نہیں۔ یہ صورت حال ہر ریزارٹ کے باہر تھی۔ ایک ایک کلو میٹر تک یہ پارکنگ پہنچی ہوئی تھی۔ یہ حفاظت کا سرکاری اقدام ہے اور ریزارٹ کی ٹرانسپورٹ قرب و جوار کے ملکوں اور اندرون ملک سے اپنی کار وغیرہ پہ آنے والے مہمانوں کو ان کی کار پارک کی جگہ سے لے جانے اور چھوڑ جانے کی ذمہ دار ہے۔ کینکون شہر کی آبادی شروع ہونے تک ان ہی چھوٹے قد کے درختوں کے انتہائی گھنے جنگلات دن کے وقت الگ حسن لئے تھے۔

کینکون ائر پورٹ کے ٹورونٹو کی پرواز والے لاؤنج میں بیٹھے پھر میری انگلیاں گوگل پر تھیں۔ دس لاکھ سے کچھ زائد آبادی والے پورے سیاحتی علاقے میں پانچ سال قبل چونسٹھ لاکھ سیاح آئے تھے۔ اور یہاں ساڑھے بائیس ارب امریکن ڈالر اس شعبہ نے زر مبادلہ کے اکٹھے کیے تھے۔ ( منافع نہیں، کل ریوینیو ) ۔ مجھے یاد آیا کہ میرے ملک کا کل زر مبادلہ ہی اس سے تیسرے حصے لگ بھگ ہے وہ بھی زیادہ تر دوسروں کی امانت، اور اس کے اللے تللے کرتے حکمران ایک ارب ڈالر کے زر مبادلہ، وہ بھی قرضہ دوسرے ملکوں کے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھ منتیں کرتے، ہر شرط منظور کرتے لینے میں کامیاب ہو ہفتوں جشن مناتے رہے اور، دعاوی کے مطابق اتنے ہی گندم سکینڈل میں جیبوں میں جا چکے۔

دنیا میں ساتواں مقام حاصل کر چکے اس سیاحتی علاقہ کے ہر دس میں سے ایک فرد سیاحت کے شعبے سے مستقل روزگار میں ہے یا بالواسطہ اس سے منسلک شعبہ سے روزی کما رہا ہے۔ اور ہم کراچی کے ساحل کے نزدیک ایک ویران جزیرہ کو سیاحت کا اربوں ڈالر کمانے والے مرکز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ذاتی انا اور سیاسی چپقلش کی وجہ قبر میں دفن کر جشن تباہی مناتے دھمال ڈال رہے ہیں۔

ہوائی جہاز کی کھڑکی سے رات کے اندھیرے میں کینکون، روشنیوں کا شہر، اور اس کے گرد پھیلے سیاحتی مقامات رنگ اگلتے نظر آ رہے تھے۔ اور میں یاد کر رہا تھا کہ ساٹھ کی دہائی میں رات کو کراچی ائر پورٹ پر اترتے جہاز کی کھڑکیاں ”روشنیوں کا شہر“ کہلاتے اور عروس البلاد کا خطاب پائے شہر کا نظارہ کراتی تھیں۔ بادلوں سے اوپر جاتے جہاز سے اب نیچے اندھیرے اور کہیں ٹمٹماتے چراغ نظر آرہے تھے اور میرے ذہن میں پاک ارشاد گونج رہا تھا۔ ”لیس للانسان الؔا ما سعی ’“

کاش میری قوم کے رہنماؤں اور بڑھکیں مارتے حکمرانوں کو کبھی اس قول کے سبق کا ادراک ہو جائے۔

Facebook Comments HS

One thought on “چند روز کینکون (میکسیکو) میں ساحل سمندر پر

  • 22/05/2024 at 9:56 صبح
    Permalink

    Great 👍 column sheikh sb. Felt like I was there and looking with my eyes. Abrar

Comments are closed.