اسکول کا آخری امتحانی پرچہ اور جہاد بالقلم

جہاد بالقلم کیسے کیا جاتا ہے، دشمن کی چالوں کو کیسے ناکام بنایا جاتا ہے۔ اس کے لیے نہ تو فوجی مشقیں دیکھنے اور نہ ہی کسی جنگ کے میدان میں جانے کی ضرورت ہے۔
آخری امتحانی پرچے والے روز کسی بھی تعلیمی ادارے کی دیواروں اور طلبا کے یونی فارم پر قلم کے نقش اور اس کی تاثیر دیکھی جا سکتی ہے۔
یہ وہ دن ہے، جب طلبا اسکول کے نظم کو قلم کی نوک پر رکھ دیتے ہیں۔ آئیے ہمارے ساتھ، ہم آپ کو جہاد بالقلم کا ایک منظر دکھائے دیتے ہیں۔
آج اسکول کے آخری امتحانی پرچے والے روز، بچوں اور ان کے والدین نے سکھ کا سانس لیا ہے، مگر اساتذہ اور انتظامیہ کی جان پر بنی ہوتی ہے، فوج کے تازہ دم دستے چوکس کر دیے گئے ہیں۔ اسکول میں پڑھنے والے طلبا و طالبات کو شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ یوں لگتا ہے، طلبا کے بھیس میں دہشت گرد آخری پرچہ حل کرنے کو کمرۂ امتحان میں گھس آئے ہوں۔
ان دستوں کے سپہ سالار، سی آئی اے کی اطلاع پر دہشت گردوں کے ممکنہ حملوں کے پیش نظر عین اس وقت جب یہ دہشت گرد، امتحانی پرچوں پر اپنے نوک قلم سے اساتذہ کے اذہان کا امتحان لینے کے لیے ناقابل فہم جوابات لکھ رہے ہیں، اس وقت مختلف دستوں کے سپہ سالار ان کے بیگ کی جیبوں، اور ان کے کونے کھدرے ادھیڑ کر ہر طرح کے نیلگوں اور سیاہ آبی سیال سے بھری چھوٹی چھوٹی شیشیاں اور ہتھیار ایک تھیلے میں بھر رہے ہیں۔ کچھ عادی اور اشتہاری مجرمان اس وقت کنکھیوں سے ساری کارروائی بادی النظر میں دیکھ رہے ہیں، مختلف دستے اچانک کمرۂ امتحان میں داخل ہوتے ہیں۔
ہر دہشت گرد کی پینٹ اور شرٹ کی جیبوں سے اضافی مشتبہ آبی ہتھیاروں کی دیگر املاک قبضے میں کر کے ان کے عزائم کو خاک میں ملا نے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پیپر ختم ہونے کی بیل بجتے ہی ان سے پیپر لے کر میز پر رکھ دیے جاتے ہیں، دہشت گردوں کے چہروں سے عزائم واضح ہیں۔ ان کی آنکھیں جہاد بالقلم کے جذبے سے چمک رہی ہیں۔ وہ بند انگلیوں کے ساتھ انگوٹھے بلند کر کے ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ ایک سراغ رساں ٹیم تیزی سے اندر داخل ہوتی ہے، ان کے ہاتھوں میں ڈسپوزیبل گلاس ہیں۔
کچھ خالی اور کچھ میں پانی بھرا ہوا ہے۔ دہشت گردوں کو بلند آواز سے ہینڈز اپ کہہ کر کھڑے ہونے کا اشارہ کرتے ہیں۔ اور بڑی تیزی سے ایک ایک کی پینٹ، شرٹ کی جیبوں اور جرابوں سے ہتھیار برآمد کر کے، ان کے اندر سے نیلا اور سیاہ تخریبی مواد ایک خالی گلاس میں بھر دیا جاتا ہے اور پانی سے بھرے ہوئے گلاس سے ان کے آبی ہتھیار کو سیال نکال کر صاف کیا جاتا ہے، یوں سارے ہتھیار ناکارہ کرنے کے بعد لڑکیوں کی باری آتی ہے اب لگتا ہے کہ دہشت گرد پسپائی اختیار کر چکے ہیں۔ دہشت گردوں کی سہولت کار لڑکیوں کے پاس سے بھی چند ممنوعہ آبی ہتھیار برآمد ہوتے ہیں۔
اور اسی پر کارروائی ختم نہیں کی جاتی۔ جیسے ہی آخری بیل بجتی ہے، بچوں کو ہذیانی انداز سے سیدھا گیٹ کے راستے کی جانب دھکیلا جاتا ہے۔ جیسے اسکول میں بم رکھے جانے کی اطلاع ملی ہو۔ ہر باتھ روم کے دروازے پر ایک سخت گیر محافظ کا پہرہ ہے۔ بچہ اپنی ٹانگوں کو بھینچ کر کتنی ہی تکلیف ظاہر کرے، بے رحم محافظ کو ذرا ترس نہیں آتا۔ آنکھوں کو بھنوؤں پر چڑھائے، ٹریفک کانسٹیبل کی طرح، اپنے ہاتھ لمبے کر کے اپنی انگلی واپسی کے راستے پر اکڑائے ہوئے ہے۔
ایک ایک کر کے سارے دہشت گرد اسکول سے باہر نکال دیے جاتے ہیں۔ شکست خوردہ دہشت گردوں کے چہروں پر مایوسی ہے، وہ شکستہ انداز سے آہستہ آہستہ اپنی اپنی گاڑیوں اور وین کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ منتظمین، اساتذہ کو ستائشی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن یہ کیا! گیٹ سے باہر گئے دہشت گرد نعرے لگاتے ہوئے اسکول میں داخل ہوتے ہیں، ان کے ہاتھوں میں سیال مادہ سے بھرے ہتھیار ہیں اور اسکول کی دیواریں، بچوں کے چہرے، کپڑے ہولی کے رنگ میں رنگ گئے ہیں، اور انتظامیہ کے چہرے نیلگوں سیاہی سے نہیں بلکہ خوف سے نیلے پڑ گئے ہیں۔
بچوں کو سالانہ امتحان ختم ہونے کی خوشیاں مبارک

