کیا عمران خان کی سیاست دوبارہ سے عروج پا سکتی ہے؟
گیلپ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف نے الیکشن 2024 ء میں 1 کروڑ 85 لاکھ ووٹ حاصل کیے جو کہ گزشتہ الیکشن 2018 ء کی نسبت سے 10 لاکھ 70 ہزار زیادہ ہیں۔ یاد رہے کہ خان صاحب کی حکومتوں (مرکزی و صوبائی) کا قبل از وقت بھیج دیا جانا، سانحہ 9 مئی اور خان صاحب کی قید و بند کے ساتھ پارٹی کے دوسرے لیڈران اور کثیر تعداد میں کارکنان کی گرفتاریاں اور ”توبہ تائب“ اور انتخابی نشان یعنی بلا کے چھن جانے اور طاقتور اداروں کی مخالفت کے باوجود حاصل شدہ ووٹوں کی تعداد میں اضافہ اور ایک صوبہ میں حکومت بنا لینے سے کیا یہ اخذ یا گمان کیا جا سکتا ہے کہ آنے والے اوقات میں خان صاحب کی سیاست دوبارہ سے عروج پکڑ سکتی ہے۔
اس ضمن میں تحریک انصاف کے کارکنان خاصے پر امید ہیں اور انہیں ہونا بھی چاہیے۔ رہا ”دوبارہ سے عروج“ کا سوال تو اس سے پہلے پہلے والے عروج کا از سر نو جائزہ یا تجزیہ کرنا پڑے گا یعنی عروج اور زوال کے اسباب کو باریکی سے دیکھنا پڑے گا اس کے بعد تجزیہ اور نتائج کو نظریہ ضرورت، جدلیات، منطق اور ارتقائی اصولوں کی روشنی میں پرکھ کر مستقبل کے حالات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ویسے تو پاکستان اور خاص طور پر خان صاحب کے سیاسی حالات یا سیاق و سباق کے اندر کسی کے مستقبل کا بہترین اندازہ شاید علم جفر، جنتر، جنم کنڈلی، زائچہ، جوتش، بھوش بھوانی وغیرہ کی روشنی میں لگایا جا سکتا ہے مگر راقم چونکہ ان علوم سے قطعی ناواقف ہے اور اس کے لیے پیشگی معذرت کا طالب ہے۔
خان صاحب پاکستان کرکٹ کے کامیاب کپتان اور بہترین آل راونڈر مانے جاتے تھے۔ اس کے بعد کینسر ہسپتال اور جامعہ نمل کی کامیابی سے ان کی پہچان میں مزید اضافہ ہوا۔ اپنے بے پناہ سٹارڈم یا شہرت و مقبولیت کے باوجود خان صاحب سیاسی میدان میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ سیاست کے میدان میں خان صاحب کو اپنا آپ کو منوانے میں 22 سال لگے۔ پھر اچانک آخر کیا ہوا کہ خان صاحب کی سیاست کو پر لگ گئے۔ یار لوگوں کے نزدیک ان کے عروج میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار رہا ہے۔
پاکستان میں عجیب رواج ہو چلا ہے کہ جو بات سمجھ نہ آئے اسے فوری طور پر فوج یا امریکہ کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ فوج اگر خان صاحب کو لیڈر بنا سکتی تو جنرل پرویز مشرف کے دور سے بہتر دور کون سا ہو سکتا تھا اور مشرف صاحب کی ذاتی دلچسپی بھی خان صاحب کو ہی لیڈر بنانے میں تھی۔ ہم ارتقائی اعتبار سے معروضی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ خان صاحب کو کامیاب لیڈر بنانے میں پشتون قوم پرستی کے رجحانات نے اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان میں ہمیشہ سے صوبوں کے درمیان حکومتی عہدوں کے لیے رسہ کشی ہوتی رہی ہے۔ کبھی وزیر اعظم سندھ سے اور صدر پنجاب سے وغیرہ۔ پشتون عوام کے دل و دماغ میں پشتون وزیر اعظم دیکھنے کی خواہش مدتوں سے اندر ہی اندر مضبوط ہوتی رہی۔ پشتون عوام کا ہمیشہ مسئلہ رہا کہ ان کی لیڈر شپ جو کہ بلوچستان کے پشتون علاقوں اور صوبہ پختون خواہ سے تعلق رکھتی تھی اور عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) ، عبدل صمد خان اور محمود خان اچکزئی کی پارٹی پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کی شکل میں تھی۔
یہ پختون قوم پرست پارٹیاں نہ تو آپس میں متحد تھیں، نہ کوئی قومی تشخص اور بڑے ووٹ بینک کی مالک تھیں۔ ہمارے پشتون بھائیوں نے ان سے مایوس ہو کر کسی بہتر متبادل کی تلاش شروع کر دی جو بالآخر عمران خان صاحب پر منتج ہوئی۔ جوں جوں خان صاحب کا ووٹ بینک بڑھتا گیا اسی تناسب سے ان روایتی پارٹیوں کے ووٹ بینک میں کمی واقع ہونا شروع ہو گئی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پشتون نوجوان نسل جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہونا شروع ہو گئی اور پشتون روایتی پارٹیوں کے ”چھابے“ خالی اور برج الٹ گئے۔
ہم پنجابی ہوتے ہوئے بھی صدق دل سے یقین رکھتے ہیں کہ سیاسی شعور کے معاملے میں ہمارے پشتون بھائی پاکستان بھر میں سب سے آگے ہیں۔ افغان جنگ کے دوران صوبہ خیبر پختون خواہ کی کل آبادی کے برابر افغان مہاجرین صوبہ میں وارد ہو گئے۔ مقامی آبادی نے ناصرف ان مہاجرین کو پنے ہاں پناہ دی بلکہ نہایت فراخ دلی اور تدبر سے باقی ماندہ معاشی و معاشرتی مسائل کو بھی حل کیے رکھا یہ روایت آج بھی جاری و ساری ہے۔ جس وقت ہمارے پنجاب کے لوگ خان صاحب کے عروج کا ذمہ دار فوج یا ایجنسیوں کو ٹھہراتے ہیں اس وقت ہمیں انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمارے پشتون بھائیوں کے اتحاد و قربانی کی نفی کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر تمام پنجابی اور سندھی اپنے صوبہ سے وزیر اعظم کی خواہش رکھتے ہیں تو پشتونوں کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ بھی اعلیٰ سیاسی عہدوں کے حصول کی دوڑ میں شامل رہیں۔ چاروں صوبوں میں منقسم پشتونوں نے آخر کار پاکستان کی تاریخ کا پہلا پشتون وزیر اعظم یعنی عمران خان کو منتخب کروا ہی لیا۔
آج وطن عزیز کی ہر لحاظ سے ناگفتہ بہ صورتحال کے ذمہ دار سندھی اور پنجابی حکمران ہی ہیں۔ ہمارا گمان ہے کہ ان مشکلات سے ملک کو کوئی پشتون لیڈر ہی نکال سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ صوبائی و نسلی عصبیت سے پاک، پشتون روایات کا امین اور ذمہ دار قومی سوچ کا مالک ہو جو دوسرے صوبوں کو بھی اپنے ساتھ رکھ سکے۔ جو لیڈر شپ اپنے نام ساتھ خان لگائے، یورپی تمدن کی دلدادہ ہو اور خیالی قلعوں کی تعمیر کرے وہ ملک و قوم کو بحران سے نہیں نکال سکتی۔ ایسی صورت حال میں پھر یہی ہو گا۔ زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا اور کافر سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں۔ اصغر خان مرحوم بھی اسی قسم کا ناکام اور نامکمل تجربہ تھے۔
خان صاحب کے عروج کا سبب بیشک ہمارے پشتون بھائی تھے لیکن ان کے ساتھ ساتھ ہمارے پنجابی بھائی جو میاں برادران اور بھٹو خاندان کی سیاست سے تنگ تھے وہ بھی خان صاحب سے جا ملے۔ سیاست کی دنیا میں حب علی اور بغض معاویہ کے رشتے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
اپنے زوال کے لیے خان صاحب خود ہی کافی تھے جس کا اعتراف انہوں نے بار ہا اپنی تقاریر اور انٹرویوز میں کیا ہے اس لیے ہمیں اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں البتہ اتنا عرض ضرور کہے دیتے ہیں کہ پنجاب میں اگر تھانیدار کسی پنچھی کو کسی بھی وجہ سے نہ پکڑ سکے تو کوئی قابل گرفت بات نہیں لیکن قابو شدہ پرندہ اگر ”تتر“ ہو جائے تو پھر اس تھانیدار کی حاضری پولیس لائن میں ہی لگتی ہے اور اس سے پہلے اس کی پیٹی مع پتلون کے اتار دی جاتی ہے۔
آج کے دن تک کی سیاسی صورتحال یہ کہ تحریک انصاف الیکشن لڑ کر خاصی بہتر شکل میں قومی اسمبلی، خیبر پختون خواہ کی صوبائی اسمبلی میں حکومت اور دوسری صوبائی اسمبلیوں میں موجود ہے۔ انتخابی نشان اور مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے جدوجہد جاری ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ خان صاحب اپنے کچھ معتمد ساتھیوں سمیت جیل یاترا پر ہیں۔ ابھی چند دن پہلے خبر آئی کہ خان صاحب کی ایک کیس میں ضمانت اور ایک کیس میں رہائی ہو گئی ہے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کے لیے یہ خوش خبریاں ہو سکتی ہیں لیکن ہمارے جیسے ان پڑھ کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ایک سال کے عرصہ میں دو کیسوں میں بریت اور خان صاحب پر دو سو سے زیادہ کیس ہیں۔ آگے کا حساب کرنے کی ہم میں بالکل ہمت نہیں۔
اس وقت خان صاحب اور تحریک انصاف کے لیے اولین ترجیح خان صاحب کی جیل سے رہائی ہونی چاہیے اور شاید ہے بھی۔ لیکن قانونی کیسوں سے بریت کی رفتار اگر یہی رہتی ہے اور شاید رہے بھی کیونکہ تحریک انصاف اب عوامی پارٹی کم اور وکلاء کی جماعت زیادہ بن چکی ہے۔ وکلاء حضرات خان صاحب کی رہائی کے لیے قانون کے دائرے سے باہر تو نہیں جا سکتے نا۔ پارٹی وکلاء نے ملکی میڈیا پر بیشمار دفعہ اعادہ کیا ہے کہ وہ میرٹ پر خان صاحب کو تمام کیسوں سے رہائی دلا دیں گے۔ میرٹ پر فیصلہ لینے میں ٹائم اور پیسہ تو لگتا ہی ہے۔
ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے جب میاں صاحبان کے ستارے گردش میں تھے۔ اس دوران انہوں نے میڈیا اور قانونی لڑائی میں جس طرح پیسہ بہایا اس سے ہمیں خطرہ ہو چلا تھا کہ کہیں میاں صاحب دوبارہ سے غریب نہ ہو جائیں۔ وہ تو شکر ہے کہ چھوٹے میاں صاحب نے ”موقع“ سے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ اور اب انہیں کچھ ملے یا نہ ملے کم از کم قانون اور میڈیا کی مد میں اٹھنے والے اخراجات کے معاملے میں اب ماشاء اللہ بچت ہی بچت ہے۔
”ہمارے قانونی سسٹم کے متعلق بڑوں اور سیانوں کا فرمان ہے کہ جو شخص کیس جیتا سو ہارا اور جو کیس ہارا سمجھو فوت ہوا“ ۔
قانونی چارہ جوئی کے علاوہ خان صاحب کے پاس رہائی کے ضمن میں دو ہی آپشن بچتے ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا یا پاکستان کے مجموعی حالات کچھ اس طرح کے ہو جائیں کہ دنیا بھر کے تھنک ٹینک سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اس طرح سے پھیر دے کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ درپیش مسائل کے حل کے لیے صرف اور صرف خان صاحب ہی کستوری اور امرت دھارا کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس طرح کی صورت حال میں خان صاحب کی فوری رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔
اس سے اگلی آپشن پر دوران قید و بند بھٹو صاحب (مرحوم) نے بھی غور کیا تھا۔ ایک ملاقات کے دوران انہوں نے محترمہ نصرت بھٹو سے کہا کہ ان کی رہائی کے لیے پارٹی کو متحرک کیا جائے تو جواب میں محترمہ نے افسوس سے کہا کہ آپ اپنے پیچھے کوئی بالشویک پارٹی چھوڑ کر نہیں آئے۔ اس روایت کا بیشمار جگہوں پر حوالہ دیا جاتا ہے اب یہ کس حد تک مصدقہ ہے اس بارے ہم وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ مگر ہم تحریک انصاف کے بارے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس جماعت کا بالشویک پارٹی، حزب جمہوری پارٹی ایران یا پاسداران انقلاب سے دور تلک کا بھی واسطہ نہیں۔
خان صاحب کی سیاست میں دوبارہ سے ابھار خان صاحب کی جیل سے جلد از جلد رہائی سے مشروط ہے۔ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ رہائی کے بعد ہی پتہ چلے گا۔


